کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر مسلسل ایک دل سوز خبر گردش میں ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان کے صوبہ آسام کی سرزمین ایک مرتبہ پھر تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ سینکڑوں مرد خواتین بچے اور نوجوان لقمۂ اجل بن گئے بےشمار مویشی اور بے زبان جانور بھی موت کی آغوش میں چلے گئے ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے جبکہ کھیت کھلیان مکانات اور روزگار کے ذرائع پانی کی نذر ہو کر تباہی کی ایک دردناک داستان رقم کر گئے۔ سینکڑوں بستیاں زیرِ آب سڑکیں منقطع ہیں یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے مزید یہ صرف ریاست کی تباہی کی داستان نہیں ہے بلکہ پوری امت کے لیے ایک ایسا پیغام ہے جسے سننے سمجھنے اور اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
ایک مسلمان کا مزاج یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہر حادثے کو اتفاق یا فطری عمل سمجھ کر نظر انداز کر دے بلکہ وہ ہر واقعے میں اللہ ربّ العزت کی حکمت اور اپنے لیے نصیحت تلاش کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بارہا سابقہ اقوام کے واقعات اس لیے بیان فرمائے ہیں کہ اہلِ ایمان ان سے عبرت حاصل کریں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اللہ ربّ العزت کی طرف رجوع کریں۔
آسام کا اس دردناک حادثہ سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئیے اور ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا چاہئیے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اللہ ربّ العزت کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیا گناہوں کو معمول بنا لیا نمازوں سے غفلت برتنے لگے حلال و حرام کی تمیز ماند پڑ گئی اور دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ آخرت کی فکر ہی باقی نہ رہی۔ ایسے حالات میں ایک مؤمن کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ توبہ و استغفار کو اپنا سرمایہ بنائے اپنے رب کے سامنے جھک جائے اور اس کی رحمت کا امیدوار بنے۔
سیلاب سے متاثرہ ہمارے بھائی بہن بھی اس آزمائش میں صبر و استقامت کا دامن تھامیں۔ یقیناً اللہ ربّ العزت کا ہر فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا ہے اور صبر کرنے والوں کے لیے وہ ایسے اجر کا وعدہ فرماتا ہے جس کا اندازہ دنیا میں ممکن نہیں مصیبت کے لمحات شکوہ و شکایت کے نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت سے تعلق مضبوط کرنے کے ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ایسی آزمائشوں کے بعد بھی چند دن افسوس کرتے ہیں چند تصویریں کھینچتے ہیں کچھ امدادی اعلانات کرتے ہیں پھر سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صرف راشن ہی نہ پہنچایا جائے بلکہ قرآن کی آواز دعا کی کیفیت ذکر کی محفلیں اور دین کی تعلیم بھی پہنچائی جائے تاکہ یہ آزمائش اللہ ربّ العزت کی رضا اور ہدایت کا ذریعہ بن جائے۔
اسی کے ساتھ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے متاثرہ بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں لیکن امداد وہاں پہنچے جہاں واقعی ضرورت ہو اور دیانت دار افراد و اداروں کے ذریعے پہنچے کیونکہ ہر آفت کے موقع پر کچھ ایسے لوگ بھی سامنے آجاتے ہیں جو انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اپنے مفادات کی تجارت شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے عناصر پسندوں سے ہوشیار رہنا بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
آسام کا یہ سیلاب وہاں رہنے والوں کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا درد ہے۔ آج اگر ہم نے اس واقعے سے سبق نہ حاصل کیا اپنے رب کی طرف رجوع نہ کیا اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر نہ کی تو ممکن ہے کل یہی آزمائش کسی اور خطے کا مقدر بن جائے۔
جب میں نے حالیہ سیلاب کی حقیقی صورتِ حال اس کی ہولناک تباہ کاریوں اور متاثرین کی دردناک داستانوں کا بغور جائزہ لیا تو دل دہل گیا آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور بدن لرز اٹھا۔ انسانی جانوں کا ضیاع بے شمار خاندانوں کا بے گھر ہونا معصوم بچوں کی بے بسی اور ہر طرف پھیلی تباہی کا تصور ہی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اللہ ربّ العزت آسام کے تمام متاثرین کی غیبی مدد فرمائے جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے بے گھر خاندانوں کو جلد از جلد آسودگی نصیب فرمائے اور ہم سب کی مکمل حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔
8235703061