ڈپٹی نذیر احمد، ان کا ناول "مراۃ العروس” کے بابِ اوّل کا تنقیدی جائزہ

ڈپٹی نذیر احمد، ان کا ناول "مراۃ العروس” کے بابِ اوّل کا تنقیدی جائزہ

ڈپٹی نذیر احمد، ان کا ناول "مراۃ العروس” کے بابِ اوّل کا تنقیدی جائزہ
(خواتین کی تعلیم و تربیت گھریلو نظم و نسق اور اخلاقی اقدار کے نقط نظر سے)

✍️از قلم : ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت

اُردو ادب میں ڈپٹی نزیر احمد مشہور و معروف ناول نگار گزرے ہیں. مراۃ العرس ان کا پہلا ناول ہے.انہیں شمس العلماء کا خطاب ملا تھا.اُردو ناول کی تاریخ میں "مراۃ العروس” کو اولین اصلاحی اور مقصدی ناول کی حیثیت حاصل ہے۔ اس ناول کے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد نے معاشرتی اصلاح، بالخصوص خواتین کی تعلیم و تربیت، گھریلو نظم و نسق اور اخلاقی اقدار کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ناول کا پہلا باب پورے قصے کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور قارئن کو ان کے حالات و کرداروں سے روشناس کراتا ہے جس میں ناول کی پوری کہانی استوار ہوتی ہے۔

بابِ اوّل میں ناول نگار نے ایک ایسے معزز مگر متوسط طبقے کے مسلمان گھرانے کا تعارف کراتے ہیں جہاں دو بیٹیاں، اکبری اور اصغری، اپنے والدین کی شفقت میں پرورش پا رہی ہیں۔ بظاہر دونوں ایک ہی ماحول میں پروان چڑھتی ہیں، لیکن ان کی طبیعت، عادات، مزاج اور تربیت میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی فرق آگے چل کر ناول کا مرکزی موضوع بنتا ہے۔ ناول نگار ابتدا ہی سے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں محض خاندانی حیثیت یا دولت نہیں بلکہ صحیح تعلیم، عمدہ تربیت اور اخلاقی اقدار بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
ناول کی کہانی میں اکبری بڑی بیٹی ہے، مگر وہ لاڈ پیار کی وجہ سے ضدی، سست، بے پروا، فضول خرچ اور تعلیم سے بے رغبت ہے۔ اسے نہ گھریلو کاموں میں دلچسپی ہے، نہ مطالعے کا شوق اور نہ ہی ذمہ داری کا احساس۔ وہ ہر کام دوسروں کے سہارے کرنا چاہتی ہے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کو ہی زندگی کا مقصد سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس اصغری کم عمری ہی سے نہایت سمجھ دار، باادب، محنتی، کفایت شعار اور سلیقہ مند ہے۔ وہ اپنی والدہ سے گھریلو امور سیکھتی ہے، بزرگوں کا ادب کرتی ہے، چھوٹوں سے محبت سے پیش آتی ہے اور علم حاصل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ اس کے کردار میں سنجیدگی، بردباری اور ذمہ داری کا احساس نمایاں ہے۔

نزیر احمد نے بابِ اوّل میں دونوں بہنوں کے کرداروں کو اس مہارت سے متعارف کراتے ہیں کہ قاری ابتدا ہی میں ان کی شخصیتوں کے فرق کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اکبری کی بے ترتیبی اور اصغری کی سلیقہ مندی محض انفرادی صفات نہیں بلکہ اس دور کے معاشرتی رویوں کی علامت ہیں۔ نذیر احمد اس تقابل کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اچھی تربیت انسان کی زندگی کو سنوار دیتی ہے، جبکہ غفلت اور لاڈ پیار انسان کو ناکامی کی طرف لے جاتے ہیں۔

ناول کے اس باب میں والدین کے کردار کی اہمیت بھی نمایاں کی گئی ہے۔ ناول نگار نے نہایت لطیف انداز میں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر بچپن میں بچوں کی اصلاح نہ کی جائے تو بعد میں ان کی غلط عادتیں زندگی بھر کے لیے مسائل پیدا کر دیتی ہیں۔ اسی لیے وہ والدین کو نصیحت کرتے ہیں کہ بیٹیوں کی تعلیم کو غیر ضروری نہ سمجھیں بلکہ انہیں دین، اخلاق، گھریلو انتظام اور معاشرتی آداب سے آراستہ کریں تاکہ وہ مستقبل میں ایک کامیاب بیٹی، بیوی اور ماں ثابت ہوں۔

ناول کے بابِ اوّل میں ڈپٹی نذیر احمد کا اسلوب نہایت سادہ، رواں، دل نشین اور اصلاحی ہے۔ وہ خشک نصیحت کے بجائے کرداروں اور واقعات کے ذریعے اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ ان کی زبان عام فہم ہونے کے باوجود ادبی حسن سے بھرپور ہے۔ مکالمے حقیقت سے قریب ہیں اور روزمرہ زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں، جس سے قاری خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ یہی خصوصیت "مراۃ العروس” کو اردو ادب کا ایک زندہ جاوید اور مؤثر ناول بناتی ہے۔

ناول کے پہلے باب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ عورت صرف گھر کی زینت نہیں بلکہ پورے خاندان کی معمار ہوتی ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ، باشعور، بااخلاق اور سلیقہ مند ہو تو گھر امن، محبت اور خوش حالی کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ جہالت، سستی اور بے تدبیری کا شکار ہو تو پورا خاندان مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اس لیے نذیر احمد نے ابتدا ہی سے دونوں بہنوں کے کرداروں کو ایک آئینے کی مانند پیش کیا ہے تاکہ قاری اچھے اور برے طرزِ زندگی کا فرق بخوبی سمجھ سکے۔

اختتام : نذیر احمد کا ناول”مراۃ العروس” کے پہلے باب میں اصلاحی نقط نظر سے خواتین کے لیے نصیحت آموز درس ہے. ناول کے فکری اور اصلاحی لحاظ سےخواتین کی تعلیم تربیت و کردار کو مضبوط کرنا ناول نگار کا بنیادی مقصد ہے۔ اس میں اکبری اور اصغری کے متضاد کرداروں کے ذریعے تعلیم، و تربیت،اخلاق، سلیقہ، کفایت شعاری اور گھریلو نظم و نسق کی اہمیت کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ یہی باب قاری کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ قوموں کی ترقی کا آغاز گھر کے ماحول سے ہوتا ہے، اور گھر کے ماحول کی تعمیر میں دینی، تعلیم ، اصلاحی و عصری تعلیم ضروری ہے، جو باکردار خواتین کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی فکر نے "مراۃ العروس” کو اردو ناول کی تاریخ میں مقبولیت حاصل ہے اسی وجہ اس ناول کو انعام بھی حاصل ہوا تھا اردو کے دیگر ناولوں میں اس کی اہمیت و افادیت بہت ذیادہ ہے.

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے