آج کل سخت گرمی کا موسم چل رہا ہے۔ رطوبت بھی اتنی زیادہ ہے کہ بندہ پسینہ پسینہ ہو جائے۔ نہ دن کو چین ہے نہ رات کو نیند۔ ایسے میں اگر بارش ہو جائے، دو دن بارش کے بعد موسم یکدم ٹھنڈا ہو جائے، ایسا ٹھنڈا کہ اوڑھے بغیر نیند نہ آئے، تو کیا کہنے۔ موسم کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب چاہے گرمی ہو، جب چاہے بارش ہو۔ موسم تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، انسان بس دعا ہی کر سکتا ہے۔ مگر بھارت میں کسی بھی ریاست کی تقدیر مرکزی حکومت پر منحصر ہوتی ہے۔ جسے چاہے خوب فنڈنگ کرے، جسے چاہے کم کرے۔ کسی ریاست میں الیکشن سے پہلے اسکیمیں پاس کرے اور کسی میں روک دے۔ جہاں ڈبل انجن یا ٹرپل انجن کی سرکار ہو، وہاں کی تو نکل پڑی، پیسوں کی بارش بھی ہو سکتی ہے۔ تمل ناڈو میں بہت سارے بل گورنر صاحب کے پاس زیرِ التوا رہے، وہاں کی سرکار کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ آگے کیا ہوا، آپ جانتے ہیں۔ لگتا ہے ایسا ہی کچھ معاملہ اب 4 مئی کے بعد سے مغربی بنگال میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک اسکیم کو منظوری ملتی جا رہی ہے۔
مئی 2026 میں مغربی بنگال میں سیاسی تبدیلی کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق متعدد اعلانات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث بہت سے سیاسی مبصرین ان پیش رفتوں کو ریاست میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری مہم قرار دے رہے ہیں۔ بی جے پی کی قیادت میں سوویندو ادھیکاری کی حکومت قائم ہونے کے بعد ریلوے میں بڑے پیمانے پر توسیع، بحری ترقی، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور صنعتی نمو سے متعلق منصوبوں پر گفتگو اور عملی پیش رفت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سب سے اہم اعلانات (میڈیا کے مطابق) میں ریلوے کے بڑے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ریلوے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا ہے، جن کا مقصد ریاست کو مشرقی بھارت کا ایک بڑا نقل و حمل اور مواصلاتی مرکز بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں کولکاتا میٹرو کے لیے 60 جدید ترین ٹرینیں متعارف کرائی جائیں گی، مختلف میٹرو کوریڈورز کی توسیع کی جائے گی، جبکہ ریاست بھر کے 102 ریلوے اسٹیشنوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ شمالی بنگال، شمال مشرقی ریاستوں اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے نئی ریلوے لائنوں، لائن ڈبلنگ اور صلاحیت میں اضافے کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں۔ وارانسی تا سلی گڑی مجوزہ ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کو بھی مستقبل میں مشرقی بھارت کے سفری اور اقتصادی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہونے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران بحری شعبہ بھی خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں، سربانند سونووال نے حال ہی میں کولکاتا میں وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری سے ملاقات کی، جس میں 2031 تک نافذ کیے جانے والے 19,209 کروڑ روپے کے مجوزہ بحری سرمایہ کاری منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس سرمایہ کاری پروگرام میں کولکاتا اور ہلدیا بندرگاہوں کی توسیع اور جدید کاری، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی ترقی، لاجسٹکس مراکز کا قیام، جہاز سازی اور جہازوں کی مرمت کی عالمی معیار کی سہولیات، دریا کنارے ترقیاتی منصوبے، کروز سیاحت کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور بندرگاہوں سے وابستہ صنعتی کلسٹرز شامل ہیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ان منصوبوں سے آئندہ چند برسوں میں 62 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس روڈ میپ میں بالاگڑھ ملٹی موڈل لاجسٹکس ہب کی ترقی بھی شامل ہے، جبکہ مغربی بنگال کو مشرقی بھارت کا سب سے اہم بحری اور لاجسٹکس گیٹ وے بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ریاستی حکومت ایک نئے گہرے سمندری بندرگاہ (ڈیپ سی پورٹ) کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے اور مختلف بڑی انفراسٹرکچر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ مزید صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ ریلوے اور دیگر سرکاری ادارے ان میڈیا رپورٹس میں کتنی سچائی ہے اور کتنی نہیں، اس پر وضاحت پیش کر سکتے ہیں، ورنہ عوام یہی سمجھیں گے کہ ترقیاتی منصوبوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
سیاسی اعتبار سے ان پیش رفتوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بی جے پی رہنما ان منصوبوں کو "ڈبل انجن سرکار” کے تصور کا عملی ثبوت قرار دیتے ہیں، جس کے تحت مرکز اور ریاست دونوں میں ایک ہی سیاسی اتحاد کی حکومت ہونے سے منصوبوں کی منظوری، فنڈز کی فراہمی، زمین کے حصول اور انتظامی معاملات میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے ترقیاتی منصوبے زیادہ تیزی سے مکمل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کو ایسی ترقیاتی معاونت یا مدد کسی بھی حکومت کے دور میں ملنی چاہیے تھی، آخر کیوں نہیں ملی؟ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی منصوبے برسوں سے زیرِ غور تھے اور حالیہ اعلانات کو مکمل طور پر نئے منصوبوں کے بجائے پہلے سے موجود تجاویز پر عمل درآمد کی رفتار میں اضافے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم سیاسی تشریحات سے قطع نظر، واقعات کی ترتیب اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے چند ہی ہفتوں کے اندر بڑے ریلوے منصوبوں، بحری سرمایہ کاری، لاجسٹکس مراکز، صنعتی ترقیاتی پروگراموں اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے سلسلہ وار اعلانات سامنے آئے ہیں۔ اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو مغربی بنگال کی معیشت، روزگار، صنعت، سیاحت اور نقل و حمل کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست کی تقدیر ہی بدل سکتی ہے۔ بھارت دستور کے مطابق ایک وفاقی (فیڈرل) ڈھانچہ رکھتا ہے جس میں سبھی ریاستوں کو برابر کا حق حاصل ہے۔ مرکز کو سبھی ریاستوں کو ان کی جائز ضرورتوں کے مطابق ان کا جائز معاشی حصہ دینا چاہیے، خواہ کسی ریاست میں حزبِ اختلاف کی حکومت ہو یا مرکز میں برسرِ اقتدار بی جے پی کی۔ سبھی کو ملک کی ترقی میں برابر کا حصہ دار سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کسی ریاست کے ساتھ ایسا نہیں ہو رہا تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو اس پر بات کرنی چاہیے، پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہونی چاہیے اور جو بھی مناسب فورم میسر ہو وہاں اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے، تاکہ کسی غریب ریاست کو احساسِ محرومی نہ ہو اور نہ ہی یہ تاثر پیدا ہو کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ملک کی ترقی میں سبھی برابر کے حصہ دار ہیں۔