بزمِ ادب (مسقط ) میں ’’ایک خوشبو بکھیرتی شام ‘‘کامیابی سے ہمکنار
ممبئی:۔یکم جولائی (راست) بزمِ ادب کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار ادبی نشست بروز سنیچر۲۰؍جون ۲۰۲۶؍کو تاج ریسٹورنٹ، مقام غبرا کے ہال میں منعقد ہوئی۔ اس ادبی محفل میں بزمِ ادب کے شعراے کرام، اہلِ قلم اور ذوقِ ادب رکھنے والے سامعین نے شرکت کی۔ نشست علم و ادب، تہذیب اور شعری ذوق کی دل آویزمسرورکن فضامنعقد ہوئی۔بزمِ ادب کی بنیاد۲۰۱۷؍میں اس عزم کے ساتھ رکھی گئی تھی کہ دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کے فروغ، ادبی روایت کے تحفظ اور نو مشق شعراے کرام کی رہنمائی کے لیے ایک باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جہاں وہ سینئر اہلِ قلم کی صحبت میں اپنے فنی ذوق کو نکھار سکیں۔ گزشتہ نو برس سے بزمِ ادب باقاعدگی کے ساتھ باقاعدہ ماہانہ یا دو ماہ کے وقفے سے ادبی نشستوں کا انعقاد کر رہی ہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اپنی مؤثر خدمات انجام دے رہی ہے۔نشست کے آغاز میں جناب حبیؔب ندیم صاحب نے بزمِ ادب کے اغراض و مقاصد، اس کے قیام کے پس منظر اور ادبی سرگرمیوں پر مختصر مگر جامع اظہارِ خیال سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نظامت کے فرائض کے لیے جناب مقصود بیگ (رہبر) صاحب کو دعوت دی، جنہوں نے اپنے خوب صورت لب و لہجے اور برجستہ انداز میں عمدہ نظامت کے ذریعے پوری محفل کو ابتدا سے اختتام تک نہایت خوش اسلوبی سے مربوط رکھا۔شعری نشست کا آغاز ڈاکٹر محمد اطہر خان صاحب کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس سے حاضرین پر روحانی کیفیت طاری کر دی۔اس ادبی نشست کی صدارت جناب طفیل احمد صاحب نے فرمائی۔نشست میں مہتاب عالم (مشک) صاحب، رضوانہ زاہد صاحبہ، ڈاکٹر محمد معیز الدین صاحب، سیمی کماری صاحبہ، شیکھر آنند صاحب، مقصود رہبر صاحب، ڈاکٹر واحد خان صاحب، حبیب ندیم صاحب، محی الدین وارث صاحب اور آخر میں صدرِ محفل جناب طفیل احمد صاحب نے اپنا منتخب اور معیاری کلام پیش کیا۔ شعراے کرام نے غزل، نظم اور نعت کے ذریعے اعلیٰ شعری ذوق، فکری پختگی اور زبان و بیان کی خوب صورتی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ حاضرین نے ہر عمدہ شعر پر دل کھول کر داد و تحسین سے نوازا، شروع سے آخر تک شعری محفل خوشبوے سخن سے مہکی مہکی رہی۔محفل کے اختتام پر جناب محی الدین وارث صاحب نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے صدرِ محفل، تمام شعراے کرام، مہمانانِ گرامی،جملہ سامعین اور بزمِ ادب کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بزمِ ادب آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔بعد ازاں شرکائے نشست کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جہاں اہلِ قلم و ادب کو باہمی ملاقات، ادبی تبادلۂ خیال اور خوشگوار رفاقت کے لمحات میسر آئے۔یہ نشست اس حقیقت کی روشن مثال تھی کہ دیارِ غیر میں بھی اردو زبان و ادب کا چراغ اہلِ ذوق کی مخلصانہ کاوشوں سے پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہے، اور بزمِ ادب گزشتہ نو برس سے اس چراغ کی روشنی کو نسلِ نو تک منتقل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔