اسرائیل کے انتخابات 2026: کیا بنیامین نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھ پائیں گے یا اپوزیشن نئی حکومت بنائے گی؟

اسرائیل کے انتخابات 2026: کیا بنیامین نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھ پائیں گے یا اپوزیشن نئی حکومت بنائے گی؟
israels-2026-elections-benjamin-netanyahu-retain-power-opposition-form-a-new-government

اسرائیل کے انتخابات 2026: کیا بنیامین نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھ پائیں گے یا اپوزیشن نئی حکومت بنائے گی؟
نیتن یاہو، گادی آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کے درمیان سیاسی مقابلہ، انتخابی امکانات اور حکومت سازی کی کوششیں

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

اسرائیل کے آئندہ عام انتخابات اسرائیلی سیاست کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ سوال کی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر اقتدار بچا لیں گے؟ یا اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر نئی حکومت تشکیل دیں گی۔ اس سوال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نیتن یاہو 2020 سے رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات پر بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اور وہ اسرائیل کے پہلے موجودہ وزیرِاعظم ہیں جن پر فردِ جرم عائد ہوئی۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے ناقدین کا الزام ہے کہ انہوں نے غزہ کی جنگ کو طول دے کر عدالتی کارروائی اور ممکنہ سزا سے بچنے کا راستہ نکالا۔ جنگ کو طول دیا اور ایران جنگ کے دوران مارچ میں ان کا مقدمہ معطل رہا۔ انہوں نے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست بھی دے رکھی ہے، جس پر صدر کا کہنا ہے کہ پہلے عدالت سے باہر کسی سمجھوتے کی کوشش ہونی چاہیے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو انتخاب ہار کر وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہو گئے تو ان کا سب سے بڑا سیاسی سہارا ختم ہو جائے گا، مقدمہ پوری قوت سے آگے بڑھ سکتا ہے اور سزا کی صورت میں انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ یہ مقابلہ صرف دو شخصیات یا دو جماعتوں کا نہیں، بلکہ ملک کی سلامتی، غزہ کی جنگ، 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے حالات، حکومتی پالیسیوں اور مستقبل کی سیاسی سمت کا بھی ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل میں عوام براہِ راست وزیرِاعظم کو نہیں چنتے۔ ووٹر 120 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ، یعنی کنیسٹ (Knesset) کو منتخب کرتے ہیں، اور وزیرِاعظم وہی بنتا ہے جو کم از کم 61 ارکان کی حمایت سے حکومت بنا لے۔ اسی لیے سب سے زیادہ ووٹ لینا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں ہوتا۔ نیتن یاہو دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ (Likud) کے رہنما اور اسرائیلی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ہیں۔ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سلامتی اور انٹیلی جنس نظام پر سخت سوالات اٹھے، پھر ایران کے ساتھ جنگ ہوئی جس میں اسرائیل کو زبردست نقصان پہنچا ایرانی میزائلوں نے تباہی مچا دی، غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کی رہائی اور حکومتی فیصلوں پر ملک بھر میں بحث جاری رہی۔ مخالفین انہیں ان واقعات کی ذمہ داری پر گھیرتے ہیں، جبکہ عدالتی اصلاحات اور گہری سیاسی تقسیم بھی ان کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ پھر بھی انہیں کمزور سمجھنا سیاسی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا، کیونکہ لیکوڈ، دائیں بازو کی جماعتوں اور انتہا پسند مذہبی گروہوں کا اتحاد انہیں واپسی کا موقع دے سکتا ہے۔ وہ اب بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں، مگر ان کی کامیابی اتحادی جماعتوں کی نشستوں اور پارلیمانی اکثریت پر منحصر ہوگی۔
اپوزیشن کی صفوں میں گادی آئزن کوٹ اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہیں اور اپنی جماعت یاشار (Yashar) کے ذریعے خود کو نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ فوجی پس منظر کے باعث انہیں قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا تجربہ حاصل ہے، اور وہ ان ووٹروں کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں جو نیتن یاہو حکومت سے مطمئن نہیں مگر مضبوط قیادت کے خواہاں ہیں۔ ان کی کامیابی کا بڑا دار و مدار اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر ہے، لیکن مختلف نظریات اور ترجیحات رکھنے والی جماعتوں کے درمیان قیادت، حکومتی پروگرام اور اتحادیوں پر اتفاقِ رائے آسان نہیں ہوگا۔ اگر وہ اپوزیشن کو متحد کر کے عوامی حمایت کو پارلیمانی نشستوں میں بدل سکیں تو حکومت کی تبدیلی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ نفتالی بینیٹ سابق وزیرِاعظم ہیں اور دائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دائیں بازو کے ان ووٹروں کو اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں جو نیتن یاہو کی قیادت سے مطمئن نہیں، اور نیتن یاہو کے بعض سیاسی و نظریاتی حامیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ حکومت سازی کے مرحلے میں ان کی جماعت کی نشستیں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اگر نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے محروم رہ جائے۔ وہ خود وزیرِاعظم بنیں یا کسی متبادل حکومت میں کردار ادا کریں، دونوں صورتیں ان کی پارلیمانی طاقت پر منحصر ہوں گی۔ یائیر لاپید یش عتید (Yesh Atid) کے سربراہ ہیں اور پہلے بھی وزیرِاعظم رہ چکے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے مختلف دھڑوں کے درمیان رابطے اور تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے وہ خود سب سے مضبوط امیدوار نہ بنیں، لیکن مخلوط حکومتوں کی سیاست میں کسی جماعت کی پارلیمانی طاقت اکثر رہنما کے ذاتی امکانات سے زیادہ معنی رکھتی ہے، اس لیے ان کی جماعت کی نشستیں اور دوسرے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی بہت اہم ہوگی۔
دستیاب جائزوں کے مطابق انتخابات 27 اکتوبر 2026 کو ہونے ہیں۔ 12 اکتوبر کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک جائزے میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 54.1 نشستیں اور نیتن یاہو مخالف صہیونی اتحاد کو 49 نشستیں ملنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ 120 رکنی کنیسٹ کی ممکنہ نشستیں ہیں، ووٹوں کا فیصد نہیں، اور اپوزیشن کے اس حساب میں عرب قیادت والی جماعتیں شامل نہیں تھیں۔ یعنی کسی کے پاس بھی 61 نشستوں کی واضح ضمانت نہیں تھی۔ نیتن یاہو کو اکثریت کے لیے مزید حمایت درکار ہوگی اور اپوزیشن کا اتحاد بھی اضافی جماعتوں کا محتاج رہے گا۔ تمام سروے ایک جیسی تصویر پیش نہیں کرتے؛ کچھ میں اپوزیشن کا امکان بہتر دکھائی دیتا ہے اور کچھ میں نیتن یاہو آگے ہیں۔ نتیجہ صرف بڑی جماعتوں کی مقبولیت سے طے نہیں ہوگا بلکہ چھوٹی جماعتوں کی کارکردگی، انتخابی حد عبور کرنے والی جماعتوں اور انتخاب کے بعد ہونے والے معاہدوں سے بھی طے ہوگا۔ سروے کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ووٹروں کی ترجیحات بدل سکتی ہیں اور چند نشستوں کا فرق پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ نیتن یاہو کی سب سے بڑی طاقت ان کی سیاسی تنظیم، تجربہ اور دائیں بازو و مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، اور وہ سکیورٹی پالیسیوں کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنا سکتے ہیں۔ مگر 7 اکتوبر کے بعد سلامتی کی ناکامی، جنگ کے نتائج اور یرغمالیوں کے معاملے پر عوامی ناراضی ان کے خلاف جا سکتی ہے۔ ان کے لیے جیتنے کا مطلب صرف سب سے زیادہ نشستیں لینا نہیں بلکہ حکومت سازی کے لیے ضروری حمایت جمع کرنا بھی ہے۔ اپوزیشن کے لیے سب سے اہم راستہ اتحاد ہے، لیکن یہ اتحاد محض نیتن یاہو کی مخالفت پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسے مشترکہ پروگرام اور سب کے لیے قابلِ قبول قیادت بھی چاہیے، اور یہ طے ہونا باقی ہے کہ سربراہی کون کرے گا، دفاع اور خارجہ پالیسی کیسے چلے گی اور مذہبی جماعتوں کے مطالبات سے کیسے نمٹا جائے گا۔ اگر یہ اختلافات ختم نہ ہوئے تو نیتن یاہو کم نشستوں کے باوجود اقتدار بچا سکتے ہیں۔ عرب جماعتیں بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں، اگر نہ نیتن یاہو 61 نشستوں تک پہنچیں اور نہ اپوزیشن؛ مگر یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کتنی نشستیں جیتتی ہیں، مشترکہ حکمتِ عملی اپناتی ہیں یا نہیں، اور دوسری جماعتیں ان کی حمایت قبول کرتی ہیں یا نہیں۔ اسرائیلی سیاست میں یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے اسے حکومت سازی کا یقینی راستہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کوئی اتحاد 61 ارکان کی حمایت حاصل نہ کر سکے تو حکومت سازی طویل ہو سکتی ہے اور معلق پارلیمنٹ یا دوبارہ انتخابات کا امکان بھی رہتا ہے۔ تاہم سروے میں واضح اکثریت نظر نہ آنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دوبارہ انتخابات لازماً ہوں گے، کیونکہ جماعتیں نتائج کے بعد بھی اتحاد بنا لیتی ہیں۔
موجودہ حالات میں تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا امکان نیتن یاہو کی واپسی کا ہے، بشرطیکہ لیکوڈ اور اس کے اتحادی اکثریت کے قریب پہنچ کر اضافی حمایت حاصل کر لیں۔ دوسرا امکان اپوزیشن کی نئی حکومت کا ہے، اگر آئزن کوٹ، بینیٹ، لاپید اور دوسری جماعتیں نشستیں بڑھا کر ایک قابلِ عمل اتحاد بنا لیں؛ ایسی صورت میں آئزن کوٹ یا کوئی اور قابلِ قبول رہنما حکومت کی قیادت کر سکتا ہے۔ تیسرا امکان معلق پارلیمنٹ اور سیاسی تعطل کا ہے، اگر دونوں دھڑے 61 نشستیں حاصل نہ کر سکیں اور چھوٹی جماعتوں سے معاہدہ بھی نہ ہو پائے۔ مجموعی طور پر نیتن یاہو اب بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں، مگر اقتدار بچانا ان کے لیے یقینی نہیں۔ آئزن کوٹ اپوزیشن کے اہم چیلنجر ہیں، جبکہ بینیٹ اور لاپید حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سروے بتاتے ہیں کہ دونوں بڑے دھڑوں کے لیے اکثریت حاصل کرنا آسان نہیں، اور مختلف جائزوں میں فرق کے باعث کسی ایک فریق کی جیت کا قطعی اعلان قبل از وقت ہوگا۔ اصل فیصلہ اس پر ہوگا کہ انتخابات کے بعد کون سا اتحاد کنیسٹ کے 120 میں سے کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل کرتا ہے۔ یہی طے کرے گا کہ نیتن یاہو اقتدار میں واپس آتے ہیں، اپوزیشن حکومت بناتی ہے، یا اسرائیل ایک بار پھر سیاسی تعطل اور نئے انتخابات کی طرف جاتا ہے۔ ایک آخری بات، جو سب سے زیادہ پریشان کن ہے: غزہ اور غربِ اردن میں ہونے والی ہلاکتیں اور تباہی اسرائیل کی انتخابی بحث کا کوئی مرکزی موضوع نہیں بن پاتیں۔ مرکزی دھارے کی مہم میں زیادہ زور اسرائیل کی سلامتی، یرغمالیوں اور اتحادوں کی سیاست پر رہتا ہے، اور فلسطینیوں پر گزرنے والی قیامت پر بات کرنے والی آوازیں کم اور کمزور ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی سیاست میں سخت گیر اور انتہا پسند رجحانات، خصوصاً انتہائی دائیں بازو اور آبادکار تحریک سے جڑے حلقے، بہت مضبوط ہو چکے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں اسرائیل کا اہل غزہ اور اہل غرب اردن والوں کے خلاف ظلم و ستم نا انصافی جاری رہے گی مغربی دنیا امریکا یورپ اسرائیل کی مدد کرتے رہیں گے اس پاس کے عرب ممالک خاموش تماشائی بنے رہیں گے جن ممالک کے سفارتی تعلقات اسرائیل سے ہیں وہ برقرار رہیں گے اجتماعی طور پر طاقتور مسلم ممالک کوئی پالیسی بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے