اتوار. جون 28th, 2026

رام مندر میں مہاچوری یا مہا ڈکیتی ؟ بی جے پی اور آر ایس ایس کی رام بھکتی یا دیش بھکتی؟

رام مندر میں مہاچوری یا مہا ڈکیتی ؟ بی جے پی اور آر ایس ایس کی رام بھکتی یا دیش بھکتی؟

رام مندر میں مہاچوری یا مہا ڈکیتی ؟
بی جے پی اور آر ایس ایس کی رام بھکتی یا دیش بھکتی؟

ازقلم:عبدالعزیز

رام اور رام مندر کے نام پر چوری کا قصہ پرانا ہے۔’رتھ یاترا‘ کے بعد ہی سے بابری مسجد کے گرانے اور رام مندر کی تعمیر کے جذبات کو برانگیختہ کرنے سے ہی چندہ جمع کرنے کی شروعات ہوگئی تھی۔ اس وقت بھی اس کا چرچا تھا کہ نام نہاد دیش بھکتوں نے قومی اور عالمی پیمانے پر کروڑوں روپئے کا چندہ جمع کیا اور اسے ہڑپ کرگئے۔ اس چندہ چوری سے رام مندر کے اندولن پر کوئی آنچ نہیں آئی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ پانچ سو سالہ ’بابری مسجد‘ کو گرانے اور رام مندر کی تعمیر کرنے کا جوش و جذبہ اس قدر ابھارا گیا تھا چندہ چوری کرنے اور ہڑپنے والے کو لوگوں نے نظر انداز کردیا۔ میڈیا پر ایک حد تک قبضہ بھی ہوگیا تھا، تو میڈیا نے بھی اس کا چرچا کرنے سے پرہیز کیا۔ آج کی طرح سوشل میڈیا کا زمانہ بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے معاملہ دب کے رہ گیا۔ بابری مسجد کا انہدام کرنے والے فرقہ پرستوں کی نظر میں ہیرو بن گئے۔
پی وی نرسمہا راؤ اس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے اور کلیان سنگھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے۔ دونوں کی ملی بھگت سے ایل کے اڈوانی کی سربراہی میں آسانی سے دن دوپہرے بابری مسجد منہدم کردی گئی۔ جن لوگوں نے بابری مسجد کے اندر رات کے اندھیرے میں مورتی رکھی تھی ان کے خلاف اجودھیا تھانہ میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جن لوگوں نے بابری مسجد گرائی تھی ان پر مقدمہ ضرور چلایا گیا مگر انھیں بالآخر کلین چٹ دے دی گئی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نامہ میں مسجد میں مورتی رکھنے کو غیر قانونی لکھا گیا اور مسجد گرانے کو بھی مجرمانہ فعل سے تعبیر کیا گیا۔ یہاں تک بھی فیصلہ میں درج کیا گیا کہ بابری مسجد کے نیچے پہلے سے مندر نہیں تھا۔ ان سب کے باوجود سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین ان مجرموں کو سونپ دی جنھوں نے بابری مسجد گرائی تھی۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جسے ظلم عظیم سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے ججوں نے رام مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنانے کی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی جو سنگھ پریوار کے مکھیا ہی نہیں تھے بلکہ رام مندر کے اندولن میں بھی اپنے گرو ایل کے ایڈوانی کے ساتھ پیش پیش تھے دے دی۔ انھوں نے اپنے لوگوں کو ٹرسٹی بنایا اور اپنے خاص الخاص چمپت رائے کو ٹرسٹ کا چیئرمین مقرر کیا۔ لوک سبھا کے الیکشن کے موقع پر بی جے پی نے یہ نعرہ بھی دیا کہ ’جو رام کو لائے ہیں اُن کو ووٹ دیا جائے‘۔ رام اور رام مندر کے نام پر بھاجپا نے آر ایس ایس کی مدد سے اپنی سیاسی دکان چمکانے کی ہر طرح سے کوشش کی۔ اسے اقتدار تک پہنچنے میں کامیابی بھی ملی۔ رام مندر بننے کے بعد اجودھیا میں زمین کا گھوٹالہ بھی سامنے آیا۔ ایسا ایسا واقعہ رونما ہوا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ جو زمین دو کروڑ روپئے میں خریدی گئی وہی زمین ٹرسٹ والوں نے ایک گھنٹہ بعد 18 کروڑ میں خریدی۔ رام مندر کے آس پاس کی بستیوں، دکانوں یہاں تک کہ مندروں کو مسمار کرکے اجودھیا کو اسمارٹ سٹی بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایئر پورٹ بھی بنایا گیا۔ چندہ چوری یا ڈکیتی کا قصہ کیسے منظر عام پر آیا؟ کہا جاتا ہے کہ سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے دو افراد جو مندر کے چندے کی دیکھ بھال یا رقموں کے گننے کی ڈیوٹی پر لگے ہوئے تھے، جب چمپت رائے سے چندہ چوری کا ذکر کیا تو انھیں ہی ہٹا دیا گیا۔ ان دونوں نے اس راز کو سینے میں دبائے رکھا لیکن ایک مہینہ پہلے سوشل میڈیا نے راز فاش کردیا۔
راز فاش ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے چڑھاوا چوری کا ذکر کچھ اس طرح کیا کہ یہ بات آناً فاناً ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر پارٹی نے اس چوری کو چوری کہنے کے بجائے ڈکیتی سے تعبیر کیا۔ عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ جو زمین گھوٹالے کو ثبوتوں کے ساتھ پریس کانفرنسوں کے ذریعے ایک بار نہیں کئی بار پیش کیا تھا وہ چڑھاوا گھوٹالے کو بڑی مستعدی سے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔ ان کے پیش کرنے سے بات بڑے پیمانے پر پھیلتی گئی۔ لوگوں کا یقین بھی بڑھتا گیا۔ اروند کجریوال دہلی سے لکھنؤ آئے۔ رام مندر کے درشن کے لئے بھی گئے۔ درشن کے بعد انھوں نے جو پریس کانفرنس کی اس میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ’رام مندر میں چندہ چوری نہیں بلکہ مہا ڈکیتی ہوئی، اور یہ ڈکیتی چندہ چور پارٹی نے کی ہے۔ اس پارٹی کے چندہ چوروں کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے اور اس پارٹی کا بائیکاٹ ہونا چاہئے‘۔ انھوں نے یوگی ادتیہ ناتھ کو بھی چوکنا رہنے کے لئے کہا کہ انھیں بھی ہٹانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ان کو اس پاپ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ مجرموں اور ڈکیتوں کو سخت سے سخت سزا دلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اروند کجریوال نے دو اہم باتوں کا بھی ذکر کیا۔ ایک بات تو کہی کہ ’جو فرضی ایس آئی ٹی بنائی گئی ہے اس کے ممبران بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ ایسی فرضی اور مجرموں پر مشتمل ایس آئی ٹی بڑی بڑی شخصیتوں کو بچانے کی کوشش کرے گی اور صرف چھوٹے لوگوں کی پکڑ دھکڑ کرکے قصہ تمام کردے گی‘۔
کانگریس کے ایم پی راجیو شکلا نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’جنرل الیکشن میں نعرہ تھا کہ ’رام کو جو لائے ہیں ان کو ووٹ دیا جائے‘ اور جو اب رام مندر میں نوٹوں، ہیرے جواہرات اور سونے چاندی کی جو چوری ہوئی ہے اس کی ذمہ داری کیا ان پر نہیں ہے جو رام کو لائے ہیں اور جنھوں نے ٹرسٹ کے لوگوں کو ممبر مقرر کیا ہے۔ ان کا اشارہ تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے آدمی چمپت رائے کے ذریعے ایک ایک چیز کا پتہ تھا جو کچھ رام مندر میں ہورہا تھا۔ یہ رقم،سونا چاندی اور ہیرے جواہرات کی چوری میں کتنے لوگ شامل ہیں نریندر مودی کو معلوم ہے۔ جب بھی ایس آئی ٹی بنائی جاتی ہے تو اس سے پہلے ایف آئی آر درج ہوتی ہے، لیکن ایک ایسی ایس آئی ٹی بنی جس نے ایف آئی آر درج کئے بغیر ہی چھان بین کا ناٹک شروع کردیا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بڑے بڑے ڈکیتوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور چھوٹے چھوٹے چور یا ڈکیت کو کچھ دنوں تک جیل میں رکھ کر معاملے کو دبا دیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اتر پردیش میں ساٹھ ستر ایس آئی ٹی کی تشکیل ہوئی لیکن کسی بھی ایس آئی ٹی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
رام مندر کے چندے اور چڑھاوے کی چوری کے پورے قصے کو چوروں کی تفصیل کے ساتھ کانگریسی لیڈر دگ وجئے سنگھ نے شروع سے لے کر آخر تک بتایا اور جن دو لوگوں نے سب سے پہلے یہ راز فاش کیا ان کی ویڈیو کا بھی ذکر کیا یہ ان کے ’انسٹاگرام‘ پر موجود ہے جو لوگ دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے چندے کی چوری اور ڈکیتی کے اس قصے کو شروع سے لے کر آخر تک بتایا اور جو چمپت رائے یا ان کے ساتھ دیگر ذمہ دار تھے ان کے سیاہ کارنامے پر بھی روشنی ڈالی۔
حقیقت تو ہے کہ ’گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘۔ اگر سنگھ پریوار کے دو ممبران کے دل کے پھپھولے سینے کے داغ سے نہ جلے ہوتے تو شایدچوری یا ڈکیتی کا راز فاش نہیں ہوتا۔ اگر بابری مسجد گرانے اور رام مندر کے اندولن سے لے کر آج تک کا جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ رام مندر کے قصے میں بڑے سے لے کر چھوٹے کردار تک سب کے سب مجرم ہیں جنھیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ بابری مسجد ان مجرموں کا پیچھا کرتی رہے گی ۔ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کیفر کردار تک آج نہیں تو کل ضرور پہنچائے گا۔ نام نہاد دیش بھکتوں کی دیش بھکتی اور رام بھکتی بھی بے نقاب ہوگئی۔
کانگریس کے دگ وجئے سنگھ نے بالکل صحیح کہا ہے کہ آر ایس ایس یا بی جے پی کارام اور سناتن دھرم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ سب اقتدار کے بھوکے ہیں اور جو کچھ بھی یہ لوگ کر رہے ہیں محض اپنی اقتدار کی بھوک مٹانے کے لئے۔ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ بھاجپا اور آر ایس ایس کے اندر بھی کشمکش جاری ہوگئی ہے۔ جنھیں چندے یا چڑھاوے میں حصہ نہیں ملا وہ چندہ چوروں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ کوئی دبے لفظوں میں کہہ رہا ہے تو کوئی ببانگِ دہل چوروں اور ڈکیتوں کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ کوئی نہیں کہہ رہا اور نہ کہہ سکتا ہے کہ بی جے پی یا آر ایس ایس پر چوری اور ڈکیتی کا الزام محض اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران لگا رہے ہیں بلکہ اب اپنے اور بیگانے سبھی میدانوں میں آگئے ہیں۔ سادھو اور سنتوں کی ٹیم بھی مندر کے چندے کی چوری کو بے نقاب کرنے میں پیش پیش ہے۔الہ آباد کے ایک اچاریہ نے یہ شک و شبہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ’جو لوگ چور ہیں وہی چوروں کی تفتیش کر رہے ہیں تو چوروں کو سزا ملنا ممکن نہیں ہے‘۔ کانگریس لیڈر راجیو شکلا نے رام مندر میں چوری اور ڈکیتی کی انکوائری عدلیہ کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکلا اور کجریوال دونوں نے ٹرسٹ کو تحلیل کرکے سیاسی لیڈروں کو شامل کرنے کے بجائے مذہبی لوگوں کو شامل کرنے کی مانگ کی ہے۔
اس وقت پورے ہندستان میں لوگ غلط حکمرانی کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ پیپر لیک کے خلاف کانگریس اور کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے مظاہرے ہورہے ہیں۔ صرف NEET کے پیپر ہی لیک نہیں ہورہے ہیں بلکہ دیگر امتحانات کے پیپر بھی لیک ہورہے ہیں۔ مہاراشٹر سے خبر آئی ہے کہ ایک امتحان کا پیپر لیک ہوا ہے۔ Leakیا Leakage انگریزی کے الفاظ ہیں، جس کے معنے نکلنے کے ہیں لیکن حقیقت میں یہ بھی چوری کے معنی میں ہی لیا جائے گا، کیونکہ امتحان سے پہلے امتحانی پرچوں کی چوری اور خرید و فروخت بھی وہ چوری ہے جو کسی طرح بھی قابل معافی نہیں ہے۔ چوری کرنے والے تو اپنی جیب گرم کرتے ہیں لیکن بہت سی لڑکیاں اور لڑکے جو رات دن امتحانات کی تیاری کرتے ہیں پیپر لیک کی وجہ سے خود کشی تک کرلیتے ہیں۔ نیٹ پیپر کی چوری کی وجہ سے پندرہ سے بیس لڑکے اور لڑکیوں نے خودکشی کرلی ہے۔ جس کے گھر کا چراغ بجھ گیا ہے اس کے گھر جاکر اس کے چشم و چراغ کے جانے کے بعد اس کے گھر والوں کی حالت ہوگی اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
مودی اور شاہ جس طرح سیاسی پارٹیوں کو توڑنے اور ان کے ایم ایل اے اور ایم پی کو ڈر دکھاکر یا لالچ دے کر خرید و فروخت کر رہے ہیں وہ بھی ایک طرح سے سیاسی ڈکیتی ہی ہے۔ یہ چوری اور ڈکیتی کا قصہ طویل ہے۔ بھاجپا یا آر ایس ایس کے لوگ نہایت بے شرمی کے ساتھ یہ سب کر رہے ہیں ۔ دستور، جمہوریت ، انسانیت ان کے نزدیک ایک بے معنی سے بات ہوکر رہ گئی ہے۔ قانون کی حکمرانی قریب قریب دم توڑ چکی ہے۔ انتخابات کا معاملہ بھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ووٹ دینے والے بھی کیسے اپنا نمائندہ چنیں یہ مسئلہ بھی درپیش ہے۔ یہ سب ملا کر دیکھا جائے تو راہل گاندھی کی بات درست ثابت ہورہی ہے کہ ’اب روایتی انداز سے چوروں اور ڈکیتوں کو شکست نہیں دی جاسکتی بلکہ غیر روایتی انداز سے مزاحمت کرنی ہوگی‘۔ ساری اپوزیشن پارٹیوں کو مل کر مزاحمت کرنی ہوگی جب ہی چوری یا ڈکیتی ختم ہوگی۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے