"محمد علی جوہر یونیورسٹی” قانون یا سیاست؟
(متعدد ممالک میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملات میں اصلاح کا موقع دیا جاتا ہے)
ازقلم: افتخاراحمدقادری
جب کسی قوم کو کمزور کرنا مقصود ہو تو اس کے تعلیمی مراکز نشانے پر آتے ہیں۔ کسی یونیورسٹی کے گرد قانونی، انتظامی یا سیاسی طوفان اٹھتا ہے تو لاکھوں خواب، ہزاروں خاندانوں کی امیدیں اور ایک پوری نسل کے علمی اعتماد پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی چالیس میں سے اڑتیس عمارتوں کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے پندرہ دن کے اندر انہیں منہدم کرنے کا حکم ایک ایسا معاملہ ہے جس نے قانونی، تعلیمی، آئینی اور سیاسی سطح پر بے شمار سوالات کو جنم دے دیا۔ اس کارروائی کے بعد صرف یہ بحث نہیں ہو رہی کہ آیا عمارتیں قانونی تقاضوں کے مطابق تعمیر ہوئی تھیں یا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات ہزاروں طلبہ کے مستقبل، تعلیمی ماحول اور معاشرے کے اعتماد پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ اس کے مطابق مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی چالیس عمارتوں میں سے صرف دو عمارتیں یعنی میڈیکل کالج اور ایک اکیڈمک بلاک باقاعدہ نقشہ منظور کراکر تعمیر کیے گئے تھے جبکہ باقی اڑتیس عمارتیں بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر ہوئیں۔ اتھاریٹی نے اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲۷ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر یونیورسٹی خود مقررہ مدت میں انہدام نہیں کرتی تو انتظامیہ خود کارروائی کرے گی اور اس کا تمام خرچ بھی ادارے سے وصول کیا جائے گا۔ قانونی اعتبار سے یہ مؤقف اپنی جگہ موجود ہے اور اگر واقعی تعمیرات متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہیں تو قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن عمارتوں پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہ اس وقت تعمیر کی گئی تھیں جب متعلقہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق سنگن کھیڑا گاؤں کو ستمبر ۲۰۲۴ء میں آر ڈی اے کی حدود میں شامل کیا گیا اس لیے اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں پر بعد میں نافذ ہونے والے قواعد کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر یہ ایک ایسا قانونی نکتہ ہے جس کا فیصلہ عدالت ہی کر سکتی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ہی بار بار کیوں نشانے پر آتی ہے؟ گزشتہ کئی برسوں سے اس ادارے کے خلاف زمین کی لیز، تعمیراتی اجازت، سرکاری اراضی، مالی معاملات اور دیگر مقدمات سامنے آتے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم خان کی گرفتاری کے بعد سے یونیورسٹی مسلسل سرکاری کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی لیے ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ قانونی کارروائیوں کے پیچھے سیاسی عوامل بھی کار فرما ہیں جبکہ حکومت مسلسل یہ کہتی آئی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی ضابطوں سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر واقعی قانون سب کے لیے یکساں ہے تو کیا ریاست بھر میں موجود ہر اس ادارے کے خلاف بھی اسی شدت سے کارروائی ہو رہی ہے جہاں تعمیراتی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو حکومت کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے لیکن اگر مختلف اداروں کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو پھر جانبداری کے الزامات کو مکمل طور پر رد کرنا آسان نہیں رہتا۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر حکومت کو زیادہ شفافیت کے ساتھ عوام کو مطمئن کرنا ہوگا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ موجودہ وقت میں ملک متعدد ایسے سنگین اور عوامی مسائل سے دو چار ہے جو حکومت، پارلیمنٹ اور ریاستی انتظامیہ کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں لیکن ان تمام بنیادی مسائل کے باوجود بار بار تعلیمی اداروں کے گرد ہی تنازعات کا دائرہ وسیع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ آخر اس وقت ملک کی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ کیا ایسے مسائل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے جو کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں یا پھر ایسے تنازعات پر جن کے اثرات پہلے ہی تعلیمی نظام کو عدم استحکام سے دو چار کر رہے ہیں؟ ملک میں آج بھی پیپر لیک کا مسئلہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہا ہے، مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے سے برسوں کی محنت لمحوں میں برباد ہو جاتی ہے، بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر نوجوانوں کو مایوسی و اضطراب میں مبتلا کر رہی ہے، جنتر منتر پر مختلف طبقات کے دھرنے اور احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ متعدد گروہ اپنی شکایات کے ازالے کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں، تعلیمی بے ضابطگیاں، امتحانی نظام کی خامیاں اور تقرریوں میں تاخیر بھی مستقل تشویش کا باعث ہیں، اسی کے ساتھ سرکاری محکموں میں لاکھوں خالی اسامیاں برسوں سے پُر نہیں ہو رہیں، مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، کسانوں کے مسائل اور فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، خواتین کے خلاف جرائم اب بھی سنگین سماجی چیلنج ہیں، سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صحت کے شعبے میں بنیادی سہولتوں کی کمی دیہی علاقوں میں اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی خامیاں تعلیم کے معیار کو متاثر کر رہی ہیں، اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی فیسیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے دشواریاں پیدا کر رہی ہیں، مسابقتی امتحانات کے نتائج میں تاخیر ہزاروں امیدواروں کے کیریئر کو متاثر کرتی ہے، عدالتوں میں مقدمات کا انبار انصاف کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، آلودگی پینے کے صاف پانی اور ماحولیاتی بحران جیسے مسائل بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے علاوہ شہری بنیادی ڈھانچے، ٹریفک، عوامی نقل و حمل، دیہی ترقی، مہارت پر مبنی تعلیم، نوجوانوں کی ہنرمندی، چھوٹے کاروباروں کی مشکلات اور معاشی سست روی جیسے موضوعات بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔ ایسے حالات میں جب قوم ان بنیادی مسائل کے حل کی منتظر ہو تو تعلیمی ادارے ہی بار بار تنازعات کے مرکز کیوں بن رہے ہیں؟ اگر کسی ادارے کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہے تو یقیناً قانون اپنا راستہ اختیار کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی اولین ترجیح ایسے عوامی مسائل کا حل بھی ہونی چاہیے جو کروڑوں شہریوں کی زندگی، روزگار، تعلیم اور مستقبل سے براہِ راست وابستہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں کئی تعلیمی ادارے قانونی کارروائیوں، زمینی تنازعات، منظوریوں کی جانچ اور انتظامی مداخلت کا سامنا کر چکے ہیں۔ اگرچہ ہر معاملے کے اپنے الگ حقائق ہوتے ہیں مگر جب ایسے واقعات کی تعداد بڑھنے لگتی ہے تو عوامی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا سب سے مضبوط ستون اس کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے یونیورسٹی کیمپس سے گزرنے والی سڑک کو عوامی راستہ قرار دینا بھی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری سڑک ہے اور عوام کو اس پر آمد و رفت کا مکمل حق حاصل ہے جبکہ یونیورسٹی سے وابستہ حلقے اسے ادارے پر مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کا ایک اور مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر واقعی یہ سڑک سرکاری ریکارڈ میں عوامی راستہ ہے تو حکومت کا اقدام قانونی تصور کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اس معاملے میں بھی کوئی تنازع موجود ہے تو پھر اس کا فیصلہ بھی عدالتی سطح پر ہونا چاہیے۔ ایک مہذب جمہوری معاشرے میں قانون کی حکمرانی بنیادی اصول ہے لیکن اسی کے ساتھ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر کارروائی نہ صرف قانونی ہو بلکہ اس کا تاثر بھی غیر جانبدارانہ ہو۔ قانون کی طاقت صرف سزا دینے میں نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنے میں ہوتی ہے۔ اگر قانون کا استعمال منتخب افراد یا مخصوص اداروں کے خلاف ہو تو انصاف پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ہاں اگر واقعی تعمیراتی بے ضابطگیاں موجود تھیں تو کیا انہدام ہی واحد راستہ تھا؟ کیا جرمانہ، نقشے کی بعد از منظوری، ریگولرائزیشن یا دیگر قانونی متبادل موجود نہیں تھے؟ دنیا کے متعدد ممالک میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملات میں سب سے پہلے اصلاح کا موقع دیا جاتا ہے اور انہدام کو آخری چارہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہوں تو وہاں کسی بھی سخت کارروائی سے پہلے تعلیمی نقصان کا بھی مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔ لہذا! آج حکومتوں کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ اپنے ہر اقدام کو اتنا شفاف بنانا بھی ہے کہ اس پر غیر ضروری شبہات پیدا نہ ہوں۔ اگر تمام متعلقہ ریکارڈ، منظوریوں کی تفصیلات، نوٹس، سماعتوں اور فیصلوں کو عوام کے سامنے واضح انداز میں رکھا جائے تو تنازعات کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔ آج محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ اس بڑے سوال سے جڑا ہوا ہے کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے ساتھ ریاست کا تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہیے؟ کیا حکومت کا کردار صرف نگرانی اور قانون نافذ کرنے تک محدود ہونا چاہیے یا اسے ایسے اداروں کی بقا، ترقی اور تعلیمی استحکام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے؟ دونوں ذمہ داریاں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ آج عدالتیں ایسے تمام تنازعات کے حل کا سب سے معتبر آئینی فورم ہیں۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اپنے مؤقف میں حق بجانب ہے تو اسے عدالت سے انصاف ملنا چاہیے اور اگر انتظامیہ واقعی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے تو پھر قانون کے مطابق اصلاح یا مناسب کارروائی ہونی چاہیے لیکن کسی بھی صورت میں اس تنازعے کا حل جذبات، سیاسی بیانات یا میڈیا ٹرائل نہیں بلکہ آئینی اور عدالتی عمل ہی ہے۔ لہذا! حکومت، عدلیہ، تعلیمی ماہرین اور یونیورسٹی انتظامیہ مل بیٹھ کر ایسا راستہ تلاش کریں جس میں قانون کی بالادستی بھی برقرار رہے اور ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔ اگر کسی تعمیر میں واقعی قانونی خامی موجود ہے تو اس کی اصلاح کے تمام ممکنہ راستوں پر غور ہونا چاہیے۔ اگر انہدام ناگزیر ہو تو بھی اسے اس انداز میں انجام دیا جائے کہ تعلیمی نظام کم از کم متاثر ہو اور ساتھ ہی ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو اپنی قانونی دستاویزات، تعمیراتی منظوریوں، زمین کے ریکارڈ اور انتظامی معاملات کو ہر وقت مکمل طور پر درست رکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں ابتدا ہی سے رہنمائی، اصلاح اور شفاف کارروائی کو ترجیح دے تاکہ برسوں بعد اچانک انہدام جیسے سخت اقدامات کی نوبت نہ آئے۔ یہ درست ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے کا حتمی فیصلہ عدالتیں کریں گی لیکن اس تنازع نے یہ واضح کر دیا کہ قانون اور تعلیم کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں قانون کی حکمرانی بھی غیر متزلزل ہو اور علم کے چراغ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہیں۔ اگر ان دونوں میں توازن قائم نہ رہا تو نہ صرف ایک ادارہ متاثر ہوگا بلکہ پورا تعلیمی ماحول عدم اعتماد، بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہو جائے گا۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یو.پی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com