جنتر منتر کے احتجاجی مظاہرے میں محمد جنید کی خدمات
’تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن – وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے‘
ازقلم:عبدالعزیز
1971عیسوی کی بات ہے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاںؒ) بنگلہ دیش کے دورے کے بعد کلکتہ تشریف لائے تھے۔ مولانا علی میاں سے خاکسار نے ایک انٹرویو لیا تھا۔ یہ انٹرویو بہت سے اخباروں میں ایک بار نہیں کئی بار شائع ہوا ہے۔ حضرت مولانا سے میں نے ایک سوال کیا تھا کہ ’’آپ جماعت اسلامی ہند اور تبلیغی جماعت میں رہے ہیں اور اب دونوں جماعتوں کو چھوڑ کر اپنی تشکیل کردہ جماعت ’حلقۂ پیام انسانیت‘ کے ذریعے اتحاد، انسانیت کے پیغامات عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر ان دو جماعتوں میں کیا کمی تھی؟ ‘‘ مولانا موصوف نے جواب دیا کہ ’’جہاں تک تبلیغی جماعت کا تعلق ہے تو وہ غیر مسلم دنیا کو خطاب کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ جماعت اسلامی ہند سیاست زدہ ہوگئی ہے۔ ‘‘ جب میں نے موصوف کو بتایا کہ جماعت اسلامی خدمت خلق کے ذریعے غیر مسلم آبادی تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ تو مولانا نے فرمایا کہ ’’خدمت خلق کے ذریعے واقعی غیر مسلم آبادی کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔‘‘ اپنے متعلق بتاتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ’’دورانِ سفر جب اپنے آس پاس بیٹھے ہوئے مسافرین کو پھل وغیرہ دیتے ہیں یا ہمارے معتقدین جو کچھ اسٹیشنوں پر لاکر مجھے دیتے ہیں اسے مسافروں میں تقسیم کرتے ہیں تو وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔‘‘
خدمت خلق ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمل یا وہ کردار ہے جس کا متبادل کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی۔ اردو کے مشہور شاعر حفیظ میرٹھی نے سچ کہا ہے ؎ ’’تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن – وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے‘‘۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے ؎ ’’صفِ جنگاہ میں مردانِ خدا کی تکبیر- جوشِ کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز‘‘۔
محمد جنید جنتر منتر میں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاجی مظاہرہ جب سے دہلی کے ’جنتر منتر‘ میں شروع ہوا ہے میڈیا میں خاص طور پر سوشل میڈیا میں محمد جنید کے نام کا کافی چرچا ہے۔ موصوف اپنی ٹیم کے ساتھ مظاہرین کی روز و شب خدمت کر رہے ہیں۔ پانی، ناشتہ اور کھانا ہر ایک کو اپنی استطاعت کے مطابق دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی اس خدمت سے نہ صرف ان کا نام روشن ہورہا ہے بلکہ ملت اسلامیہ کا نام بھی روشن ہورہا ہے۔ مظاہرے میں مسلمانوں یا مسلم نوجوانوں کی شرکت نہیں کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہتوں کی طرف سے مسلم نوجوانوں کو نصیحت کی گئی تھی کہ اس مظاہرے میں شرکت نہ کریں کیونکہ اگر وہ شرکت کریں گے تو ان کے نام کی وجہ سے ہی انھیں پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔ ان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ مسلم نوجوانوں نے بھی محسوس کیا کہ ان کی شرکت سے فائدے کے بجائے نقصان ہوسکتا ہے۔ اس وقت ہندستان میں سیکڑوں مسلم نوجوان پس زنداں اس لئے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور ان کے نام سے بھی مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ ایک دَلت تعلیم یافتہ نوجوان لڑکی نہا بھارتی نے جو اس مظاہرے میں شروع دن سے حصہ لے رہی ہے اور اپنے ’این جی او‘ کے ذریعے مظاہرین کی خدمت بھی کر رہی ہے ایک بار نہیں کئی بار انٹرویو دیتے ہوئے نہایت بے باکی اور دلیری سے کہا ہے کہ ’’ہندو اور مسلمان کے نام سے فرق پڑتا ہے۔ دیکھئے اگر میرا نام مسلمانوں جیسا ہوتا تو مجھے اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے کر دیا جاتا۔ کنہیا کمار کا نام ہندووانہ ہے اس لئے وہ جیل سے باہر ہیں۔ عمر خالد کا نام اسلامی نام ہے اس لئے وہ جیل میں ہے۔ ہمارے ملک میں نام سے بہت فرق پڑتا ہے۔‘‘کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی اسی طرح کی باتیں کہی ہیں۔ ‘‘
احتجاجی مظاہرے میں ایک نعرہ جو بہت زیادہ گونج رہا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ہندو مسلم کی سیاست نہیں چلے گی، نہیں چلے گی‘‘۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی- بھائی بھائی‘‘ جیسا نعرہ بھی اکثر و بیشتر لگایا جارہا ہے۔
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جو لوگ جنتر منتر میں مظاہرے کر رہے ہیں وہ دہشت گردوں کی بی ٹیم ہیں۔‘‘ دھرمیندر پردھان اس لغو بات کے خلاف ملک بھر میں رد عمل ہورہا ہے۔ اتنا بڑا جھوٹ اور وہ بھی سفید جھوٹ سنگھ پریوار کا کوئی شخص ہی بول سکتا ہے۔ جنترمنتر میں جو نوجوان جمع ہیں وہ پر امن مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں فتنہ پھیلانے ، ہنگامہ اور بدنظمی کرنے کے لئے گودی میڈیا کے اینکر اور بی جے پی کے کارکن آتے رہتے ہیںمحض اس لئے کہ مظاہرے کو بدنام کیا جائے اور وزیر تعلیم یا ان کے رفقاء مظاہرین کو دہشت گرد کہہ سکیں۔ مودی، شاہ یا بی جے پی کے دیگر افراد کسان آندولن کے موقع پر کسانوں کو خالصتانی اور پاکستانی کا الزام دیتے تھے۔ سنگھ پریوار کی یہ نئی نہیں بلکہ پرانی عادت ہے کہ جو سنگھ پریوار کا نہیں ہے وہ ملک دشمن اور ملک دشمن ہے۔ یہ بی جے پی کے لوگ اکثر و بیشتر یہ کہتے رہتے ہیں۔
بی جے پی یا سنگھ پریوار کے لوگوں کے غلط سلط نعرے کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے لیکن جنید کی خدمات کا اثر ہندو مرد اور خواتین پر پڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک عمر دراز خاتون سنیتا سہارنپور سے جنتر منتر صرف محمد جنید سے ملاقات کے لئے آئی اور جنید کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اور اسے شاباشی دیتے ہوئے کہاکہ ’’بیٹے میں سہارن پور سے 180 کیلو میٹر کا سفر طے کرکے صرف تم سے ملنے کے لئے آئی ہوں۔‘‘ خاتون نے کچھ اس انداز سے ہمدردانہ لب و لہجے میں کہاکہ محمد جنید کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ شخص آنسوؤں کو چھپانے کے لئے اپنے رومال سے پونچھنے لگا۔ سنیتا ایک ماں کی طرح جنید کو بیٹا کہتے ہوئے پیٹھ تھپتھپائی۔ وہ جیسے جیسے جنید کی پیٹھ تھپتھپا رہی تھی ویسے ویسے جنید کی آنکھوں سے آنسو موتی بن کر زمین پر گرتے رہے۔ یہ منظر ایک ایسا منظر تھا جو غیر مسلم آبادی کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خدمت خلق کا یہی وہ کام تھا جو خاکسار نے مولانا علی میاںؒ سے کہا تھا۔ مولانا نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہزاروں تقریروں اور تحریروں ، کتابوں اور نصیحتوں چاہے انسانیت کے عنوان سے ہو چاہے کسی اور عنوان سے ہو اس کا اثر اتنا نہیں پڑتا جتنا کہ غریبوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی اور تعاون سے پڑتا ہے۔‘‘
قرآن و حدیث میں ’حقوق العباد‘ کی ادائیگی پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورۂ البلد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوارگزار گھاٹی؟کسی گردن کو غلامی سے چھڑانایا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ)آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلقِ خدا پر) رحم کی تلقین کی۔‘‘(آیت:12-17)
ان آیات میں نیکی کے جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے بڑے فضائل رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں۔ مثلاً ’فَکُّ رَقَبَۃٍ‘ (گردن چھڑانے)کے بارے میں حضورؐ کی بکثرت احادیث روایات میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے ایک حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میںآزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، پاؤں کے بدلے پاؤں، شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)۔ حضرت علی بن حسین ؓ (امام زین العابدین) نے اس حدیث کے راوی سعد بن مرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابو ہریرہؓ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے قیمتی غلام کو بلایا اور اسی وقت اسے آزاد کردیا۔ مسلم میںبیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کیلئے ان کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام شعبیؒ نے اسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صدقے پر مقدم رکھا ہے۔
مساکین کی مدد کے فضائل بھی حضورؐ نے بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہؓ کی یہ حدیث ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: ’’بیوہ اور مسکین کی مدد کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا۔ (اور حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ) مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضور ؐ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ لے اور وہ جو پے در پے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے۔ ‘‘(بخاری و مسلم)
یتامیٰ کے بارے میں تو حضورؐ کے بے شمار ارشادات ہیں۔ حضرت سہل بن سعدؓ کی روایت ہے کہ ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کرے، جنت میں اس طرح ہوں گے ۔ یہ فرماکرآپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھاکردکھایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا ‘‘ (بخاری)۔ حضرت ابوہریرہؓ حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ’’مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے نیک سلوک ہورہا ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے برا سلوک ہورہا ہو۔‘‘(ابن ماجہ، بخاری فی الادب المفرد)۔ حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ حضور ؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیرا اس بچے کے ہر بال کے بدلے جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اس کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ نیک برتاؤ کیا وہ اور میں جنت میں اس طرحہوں گے۔ اور یہ فرما کر حضور ؐ نے اپنی انگلیاں ملا کر بتائیں (مسند احمد، ترمذی)۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سرکار رسالتمابؐ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں شامل کیا اللہ نے اس کیلئے جنت واجب کردی اِلایہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھا ہو جو معاف نہیں کیا جاسکتا ‘‘ (شرح السّنّہ)۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا‘‘ (مسند احمد)۔ (تفہیم القرآن،جلد:6)
سورۂ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلئے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میںاپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموںپر ، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کیلئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں جبکہ عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔ ‘‘ (آیت:177)
قرآن و حدیث میں انسان کا انسان کے کام آنے اور اس کے ساتھ ہمدری اور محبت کا رویہ اپنانے اور اس کی ضرورت اور اس کے مسائل کے حل کرنے پر کافی زور دیا گیا ہے۔ یہی وہ چیز تھی جس نے اسلام کی طرف عام انسانوں کو کھینچا اور بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ آج جو مسلمان پائے جاتے ہیں خاص طور پر جومدرسوں سے فارغ ہوئے ہیں ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے حقوق کا حصہ اجاگرہے اور وہ اسی حصے پر زیادہ زور دیتے ہیں اور ان کا سارا معاملہ عبادت کے مسائل سے جڑاہوتا ہے۔ انسانوں کے مسائل سے ان کا تعلق ایک حد تک ختم ہوگیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آدھا اسلام پیش کرنے سے اسلام کی کشش جاتی رہی۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ پتہ چلتاہے کہ نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بھی آپ کی دلچسپی کا بہت بڑا حصہ انسانوں کے مسائل کو جزوی یا کلی طور پر حل کرنے میں صرف ہوتا رہا ۔ نبوت سے پہلے آپ کی رفیق حیات حضرت خدیجہ ؓ نے گواہی دی ہے کہ غار حرا میںجب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ؐ کانپتے اور لرزتے ہوئے حضرت خدیجہؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے‘‘۔ اس پر حضرت خدیجہ ؓ نے فرمایا :’’ہرگز نہیں، آپؐ خوش ہوجائیے خدا کی قسم آپؐ کو اللہ تعالیٰ رسوانہ کرے گا۔آپؐ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادارلوگوں کو کماکردیتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں، نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں‘‘۔
آنحضرت ؐ نے اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کی بھی تعریف کی ہے جو لوگ مسلمان نہیں تھے لیکن اپنے نیک کارناموں کی وجہ سے مشہور تھے۔ مثلاً آپؐ نے نوشیرواں عادل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں خوش نصیب ہوں کہ نوشیرواں عادل کے زمانے میں پیدا ہوا۔‘‘یہ واقعہ بھی مشہور ہے جب آنحضرت ؐ کومعلوم ہوا کہ جنگ کے دوران گرفتار شدگان میں حاتم طائی کی بیٹی بھی شامل ہیںتو آپؐ حاتم طائی کی بیٹی کے پاس تشریف لے گئے اسے رہائی دی اور ایک شخص کے ساتھ حفاظت کے طور پر آپؐ نے ان کو اپنے آبائی وطن بھیج دیا۔ حاتم طائی کے قصے میں بہت سی ایسی چیزیں ملتی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ انسانیت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے۔ جب انہیںمعلوم ہوا تھا کہ نوفل نام کا ایک بادشاہ ان کی سلطنت پر قبضہ کرنے آرہا ہے تو انہوں نے تخت و تاج چھوڑ کر جنگلوں میںپناہ لی۔ ایک پیڑ کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ پیڑ کے نیچے ایک بوڑھا اور بوڑھی اپنی تنگ دستی کا رونا رو رہے تھے۔ بوڑھا یہ کہہ رہا تھاکہ اگر حاتم ان کے ہاتھ آجاتا تو نوفل نے جو انعام و اکرام کا اعلان کیاہے وہ ان لوگوں کے ہاتھ آجاتا۔ حاتم نے پیڑ سے اتر کر زبردستی دونوںکو نوفل تک لے جانے پر رضا مند کرلیا۔ جب نوفل کو سارا واقعہ معلوم ہوا کہ حاتم اس لئے نوفل کے پاس آیا ہے کہ بوڑھے اور بوڑھیا کو مدد پہنچانا مقصود ہے تو وہ اس قدر متاثر ہوا کہ حاتم کو گلے لگا لیا اورحاتم کو تخت و تاج سونپ کر اپنی سلطنت کی طرف چلا گیا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068