1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک غریب ہندوستانی تمل خاندان میں پیدا ہونے والی ناوی پِلے امسال نوبیل امن انعام جیت کر ایک تاریخ رقم کردی ۔ ان کی اس عظیم کا میابی پر ساری دنیا کے امن پسند لوگ خوشیاں منا رہےہیں حالانکہ اس پر سب سے زیادہ خوشی ہندوستانیوں اور حکومتِ ہند کو ہونی چاہیے تھی لیکن مودی سرکا گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔ ناوی پلے نے اسی جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف زبردست تحریک چلائی جہاں سے گاندھی جی نے اپنی سیاسی و سماجی زندگی کا آغاز کیا تھا ۔ناوی پلے شدید مشکلات کے دور میں چائے بیچنے کے بجائےقانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1967 میں وہ جنوبی افریقہ کے صوبے نیٹال میں اپنا نجی قانونی ادارہ قائم کرنے والی پہلی غیر سفید فام خاتون تھیں۔جنوبی افریقہ کی عدالت کے علاوہ انہوں نے روانڈا کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل (ICTR) کی صدر بنیں جہاں سو دن کے اندر لاکھوں لوگوں کی نسل کشی کردی گئی تھی ۔ اس کے بعد انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جج کی حیثیت سے بھی کام کرنے کا موقع ملا اور اس ذمہ داری کو انہوں نے خوب اچھی طرح ادا کیا۔وہ اب بھی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں بطور ایڈہاک جج کے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
بین الاقوامی انصاف کے حوالے سے 2021 سے 2025 تک انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقے (بشمول مشرقی یروشلم) اور اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے ‘آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن’ کی سربراہی کی ہے۔ وہ ‘نسل کشی کی روک تھام کے کنونشن’ کے تحت گیمبیا کی جانب سے میانمار کے خلاف دائر مقدمے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں ‘ایڈہاک جج’ (عارضی جج) کے طور پر بھی خدمات انجام دی چکی ہیں۔ ٹرمپ کو اگر اس حقیقت کا علم نہیں ہے تو کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ نرگسیت کا شکار اس شخص کو اپنے سوا کوئی نہیں دکھائی دیتا مگر مودی نے بھی ہندوستان کے تمل نسل سے تعلق رکھنے والی جنوبی افریقی ناوی پلے سے طوطا چشمی نظریں پھیر کر کمال تنگ نظری کا ثبوت دیا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی پہلی غیر سفید فام خاتون جج رہی ہیں ۔ سنگھ پریوار کے اندھے بھگتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب انہوں نے نوبیل انعام حاصل کرکے ساری دنیا میں ہندوستان کا بھی نام روشن کردیا ہے۔ زعفرانی ٹولہ میں اگر رتیّ بھر ظرف ہوتا تو وہ ایک روایتی قسم کا پیغام ہی دے کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتے لیکن اپنے آقاون کی ناراضی کا خوف ان کے پیروں کی زنجیر بن گیا ۔
نوبیل انعام کے تعلق سےٹرمپ کو ایک سالانہ دورہ پڑتا ہے کیونکہ ان کے پیشرو صدر براک اوبامہ اس سے نوازے جاچکے ہیں۔ اپنی صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً ہر سال اس اعزاز کے نہ ملنے پر اپنی مایوسی اور خفگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس بارناروے اور نوبیل کمیٹی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے فرمایا ’یہ ناروے اور ان تمام لوگوں کے چہرے پر ایک نہ مٹنے والا داغ ہے جنہوں نے اتنا شرمناک اور رسوا کن فیصلہ کیا ہے‘۔ اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر نے متعدد عالمی تنازعات کا ذکر کے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی اور جنوبی کوریا، جاپان اور شمالی کوریا، جبکہ چین اور تائیوان کے درمیان جنگوں کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔ کاش کہ وہ ایران کا بھی ذکرکرتے جو انہوں نے خود شروع کی اور بری طرح پسپا ہوگئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غصے کی حالت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’چند جمہوریت دشمن اور انسانی تہذیب کے حقیقی دشمنوں پر مشتمل شدت پسند نظریہ دانوں نے نوبیل امن انعام کی ساکھ کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیا ہے۔ اور ہم یہ بات بھولیں گے نہیں، ناروے۔‘ ناوی پلے کےتناظر میں جب اس جملے پر غور کریں تو معمولی ترمیم کے بعد یہ ہو بہوخود ٹرمپ اور ان کے شاگردوں پر صادق آتا ہے۔ یہ مکالمہ حقیقت میں اس طرح ہونا چاہیے کہ ’چند جمہوریت دشمن اور انسانی تہذیب کے حقیقی دشمنوں اور شدت پسند نظریہ کے حاملین کو بے نقاب کرنے والی خاتون کو نوبیل امن انعام سے نواز کر اس کی ساکھ میں بے شمار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس لیے نوبیل انعام کمیٹی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ناروےزندہ باد۔‘
نارویجن نوبل کمیٹی نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئےپلے کی ہمت، دیانت داری اور بین الاقوامی قانونی نظام کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا ۔ کمیٹی کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب بین الاقوامی قانون اور اس کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ان لوگوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پائیدار امن کا انحصار انصاف، احتساب اور قانون کی حکمرانی کے احترام پر ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس موقع پر ناوی پلے کی پذیرائی کرتے ہوئےکہا: "انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ‘قانون کی طاقت’ کو ‘طاقت کے قانون’ پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے اور انسانی حقوق کا تحفظ ہی ناانصافی کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہے۔” نوبل امن انعام ملنے پر ناوی پلے کو مبارکباد دیتے ہوئے، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انہیں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی علمبردار اور انصاف کے لیے ایک غیر متزلزل اور آزاد آواز قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایوارڈ ان تمام لوگوں کے لیے بھی خراجِ تحسین ہے جو بین الاقوامی قانون، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ، نیز امن، انصاف اور انسانی وقار کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے لوگ اگر نیتن یاہو، ٹرمپ اور مودی کی آنکھوں میں نہ کھٹکیں تو اس پر حیرت ہونی چاہیے کیونکہ جس جبر و انصافی کے خلاف ناوی لڑ رہی ہیں اس کا منبع و مرجع یہی تری مورتی ہے۔
یہ حسن اتفاق ہے آپریشن ’طوفان الاقصی‘اور غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی کے تین سال پورے ہونے پر جبکہ بینجمن نیتن یاہو اپنے سیاسی وجود کی حتمی لڑائی لڑ رہا ہے، اس موقع پر جنوبی افریقہ کی نامور حقوقِ انسانی کی کارکن اور جج نوی پلائی کو سال 2026ء کے نوبل امن انعام سے نوازا گیا ۔ یہ ریاست اسرائیل کے لیے ایک زبردست سیاسی اور اخلاقی جھٹکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اپنی محرومی کے صدمے سے نکلیں تو ان پر یہ انکشاف ہوگا کہ بین الاقوامی عدل و انصاف کو کمزور کرنے اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے عزائم کو دبا نے کے لیے کی جانے والی امریکی انتظامیہ کی تمام تر سازشیں ناکام ہوچکی ہیں ۔یہ اعزاز اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ناوی پلے نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں (بشمول مشرقی بیت المقدس) اور اسرائیل کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کے فرائض انجام دیئے تھے۔ اس کمیشن نے ستمبر 2025ء میں اپنی جاری کردہ رپورٹ میں واضح طور پر اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا بھیانک جرم کیا ہے۔یہ انعام عدل و انسانی حقوق کی ایک طویل جدوجہد کا اعتراف اور بین الاقوامی احتساب کا طالب ہے۔ اس کے ذریعہ عالمی مجرموں کا تعاقب کرکے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ناوی پلے نے صہیونی بیانیے کی چولیں ہلا دی ہے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تو ناوی پلے کی اس عظیم کامیابی کو نظر انداز کردیا مگر اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے انہیں بہترین خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس کے مطابق ناوی پلے کا نوبل امن انعام جیتنا بین الاقوامی انصاف کے سفر میں ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ یہ اس بات کا بین الاقوامی اعتراف ہے کہ قابض ریاست نے فلسطینی عوام کے خلاف ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایسے میں جس شخصیت نے ساری دنیا کے سامنے نہایت بیباکی وجرأتمندی سے یہ انکشاف کیا وہ یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ حماس نے ٹرمپ جیسے خود ستائی میں مست لوگوں کو یاد دلایا کہ ناوی پلے نہ صرف جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کا دفاع کیا بلکہ روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی صدارت بھی کی۔ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ان کےتحفظِ انسانی حقوق اور بین الاقوامی مجرموں کے احتساب کی خاطر کی جانے والی جدوجہد کا آئینہ دار ہے۔حماس نے غزہ کی بابت بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کے حقائق پر مبنی نتائج کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مجرموں کو کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔ اس نے بین الاقوامی برادری سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس ظالمانہ نظام کا خاتمہ ہو۔پی ایم مودی نے نہ سہی تو جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوزا نے بھی ناوی پلے کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تکریم دراصل ان کی شجاعت، دیانت داری اور پوری زندگی انصاف کے لیے وقف کیے جانے والے عزم کی سچی معراج ہے۔ عالمی دباو کے باوجود حق اور راستی کی راہوں پر نہایت مستقل مزاجی سے گامزن ناوی پلے پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
آئینِ جوانمرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی