Breaking
جمعہ. جون 12th, 2026

جرائم کی آگ پر سیاسی روٹیاں اور عالمی بدنامی

جرائم کی آگ پر سیاسی روٹیاں اور عالمی بدنامی

جرائم کی آگ پر سیاسی روٹیاں اور عالمی بدنامی

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ ۹؍ سال قبل اترپردیش کو جرائم سے پاک کرنے کا نعرہ لگا کر آئے تھے۔ انہوں نے جرائم پیشہ لوگوں کو بڑی دھمکیاں دیں مگر کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ یومیہ ۸ سے زیادہ انکاونٹرس کے باوجود کوئی ان سے ڈر کر نہیں دیتا ۔ اب مرتا کیا نہ کرتا انہوں نے جرائم کے اندر ہندو مسلم سیاست شروع کردی۔غازی آباد میں سوریا چوہان کے قتل پر وہ منافرت پھیلا ہی رہے تھے کہ اچانک غازی آباد سے ہی چراغ تیاگی کے قتل کی خبر آگئی۔ اس کو دبانا مشکل تھا کیونکہ وہ عالمی سطح کا معذور کھلاڑی تھا ۔ اس کے بعد ہی میرٹھ کی رہنے والی کبڈی کھلاڑی انوشکا پال کا قاتل شیام دھنکڑ ڈیڑھ ماہ کے بعد گرفتار ہوگیا ۔ اس خبر کو کسی طرح دبایا جارہا تھا کہ دہلی کے عثمان پورہ سے ابھیشیک کے قتل کا معاملہ سامنے آگیا ۔ ابھی وہ خبر چل ہی رہی تھی کہ جہانگیر پورہ میں ارباز کا قتل ہوگیا۔ اتفاق سے غازی آباد دہلی سے سٹا ہوا ہے اورراجدھانی دہلی امیت شاہ کے تحت کام کرنے والی پولیس کے قابو سے باہر ہے۔ ہندوستان کا دارالخلافہ پوری دنیا میں کرائم کیپٹل بن گیا ہے۔ جرائم سے سماج کو پاک کرنے کے بجائے حکومت اگر اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے لگے تو یہ کڑوا کریلا نیم چڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ہورہا ہے۔ ملک میں جرائم کی تعداد اور سنگینی شتر بے مہار ہوچکی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نربھیا کی عصمت دری اور قتل کے بعد نعرہ لگایا تھا کہ ’بہت ہوا ناری پر اتیاچار، اب کی بار مودی سرکار‘ ۔ اس نعرے کی قلعی تیرہ سال بعد انوشکا پال کے قتل نے کھول دی ۔ اترپردیش فی الحال خواتین پر جرائم کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اتفاق سے ملک کےان پانچوں صوبوں میں جہاں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم درج کیے گئے ہیں بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے خواتین پر ظلم کے معاملے میں ڈبل انجن سرکار پیش پیش ہے اور کیوں نہ ہو جہاں برج بھوشن سنگھ جیسے مجرموں کو سرکاری تحفظ حاصل ہو ۔ اس کو ٹکٹ سے محروم کرنے کفارہ بیٹے کو ٹکٹ دے کر ادا کیا جائے خواتین مظالم سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ ایک ایسا صوبہ جہاں کلدیپ سنگھ سینگر جیسے بی جے پی اپنےرکن اسمبلی کو سرکار ضمانت دلواتی ہے ۔ اس نے نہ صرف ایک خاتون کی عصمت دری کی بلکہ اس کے والد کو جیل کے اندر قتل بھی کروادیا۔ اس کے باوجود اس ہندو ابلہ ناری کی ہمدردی میں یوگی کا خون نہیں کھولا اور اس نے سینگر کی ضمانت کا راستہ صاف کردیا یہاں تک کے جب مظلومین نے عدالت سے گہار لگائی کہ اگر اس درندے کو کھلا چھوڑنا ہے تو انہیں جیل میں بند کردے۔ تب جاکر عدلیہ نے ضمانت منسوخ کی ۔ ایسے یوگی کے راج میں بیچاری انوشکا کی کیا بساط؟
دنیایہ سب دیکھتی ہے۔اسی تفریق وامتیاز کے سبب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی سالانہ رپورٹ نےگزشتہ ماہ ایک بار پھر ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتِحال پرتشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اس رپورٹ میں امریکی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ ہندوستان کو مذہبی آزادی کے متعلق تشویشناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اس بابت کمیشن نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسِس وِنگ (را) سمیت چھ اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے ۔ یہ سنگھ کے سو سال کی کمائی ہے کہ اقتدار اور امریکی غلامانہ دوستی کے باوجود یہ سفارش ہاتھ آئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہندوستانی وزارتِ خارجہ نےحسبِ عادت اس رپورٹ کو ’سیاسی ایجنڈے پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے مگر اس سے حقائق نہیں بدلتے۔اس رپورٹ میں ایسے اداروں سے متعلق افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمدکرنے اور اُن کے امریکہ داخلے پر پابندی کی بات بھی کی گئی ہے۔
مذکورہ بالا رپورٹ حالیہ برسوں میں ہندوستان کے اندر مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین اور اقدامات میں اضافہ پر تنقید کی ہے جو ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ کمیشن نے ایف سی آر اے، یو اے پی اے، سی اے اے اور این آر سی کے ساتھ ساتھ وقف (ترمیمی) ایکٹ کی مثال بھی دی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ قوانین بالخصوص مسلم اور مسیحی برادریوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے مطابق ’کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب (اینٹی کنورژن) کے قوانین کو سخت بنایا گیا ہے، طویل قید کی سزاؤں کا نفاذ ہوا ہے، اور گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم کے تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔‘ رپورٹ میں مہاراشٹر، اوڈیشا (اڑیسہ) اور اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جہاں وشوا ہندو پریشد جیسی کچھ سخت گیر ہندو تنطیموں کو اس تشدد سے جوڑا گیا ہے۔اتفاق سے ان تمام صوبوں میں ڈبل انجن سرکار اقتدار میں ہے۔امریکہ میں مذہبی آزادی کے کمیشن نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے امریکی حکومت کو آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 6 پر عمل درآمد کرتے ہوئےہندوستان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کے حالیہ نیدر لینڈز دورے پر وہاں کے وزیر اعظم نے اس پر اعتراض کردیا اور پھر سے صفائی دینی پڑی۔
نیدر لینڈز سے وز یر اعظم نریندو مودی اٹلی میں جارجیا میلونی کو میلوڈی چاکلیٹ کھلانے نہیں بلکہ اسرائیل کو فوجی گریڈ کا اسٹیل پہنچانے والے ضبط جہازوں کو چھڑانے کی خاطر گئے تھے۔ میلونی نے مودی کے ساتھ سیلفی تو کھینچی مگر اپنے اسرائیل مخالف موقف میں لچک پیدا کرنے سےا نکار کردیا۔ کاش کے مودی کو معلوم ہوتا کہ اٹلی کی حکومت موت کے سوداگروں سے ساز باز نہیں کرتی ۔ جارجیا میلونی نے بذاتِ خود غزہ میں نسل کشی کے بعد اسرائیل کے ساتھ سارے طویل مدتی دفاعی اور عسکری تعاون کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ ان کی دردمندی ہے اور دوسرے عوامی اور بین الاقوامی دباؤبھی ہے۔ اٹلی کی بندرگاہوں پر مزدور یونینوں اوربی ڈی ایس کے کارکن اسرائیل کے حق میں ہونے والی جنگی ترسیلات کو روکنے کے لیے مسلسل احتجاج کرکے دباؤ بناتے رہتے ہیں ۔ اس لیےجارجیا میلونی سمیت دیگر نیٹو (NATO) رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امدادی قافلوں اور بین الاقوامی کارکنوں پر کیے جانے والے حملوں کے ردعمل میں اسرائیل سے سخت دوری اختیار کررکھی ہے۔ مودی جی اسرائیل جیسے مجرم اعظم کے چکر میں پورے یوروپ کو دور کرکے جب دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں تو لوگ ہنستے ہیں۔
ہندوستان کی خود مختاری کا یہ عالم ہے کہ پچھلے دنوں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان آکر اعلان کیا کہ ہندوستان کے توانائی فراہمی کو وسعت دینا چاہتے ہیں ۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ امریکہ نہ تو یہ چاہتا ہے ہندوستان ایران اور روس سے تیل خریدے بلکہ خلیجی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی تیل درآمد کرے ۔ اِ دھر روبیو واپس گئے اور اُدھر بغیر کسی اعلان کے وینزویل کی صدر ہندوستان آدھمکیں ۔ فی الحال وینزویلا کے تیل پر امریکہ قبضہ ہے اور سارے سودے نیویارک میں ہوتے ہیں ۔ اس طرح امریکہ کے توسط سے وینزویلا کے تیل کی فراہمی کا راستہ صاف ہوگیا۔ یہ تیل ظاہر ہے بازار بھاو سے ملے گا مگر فاصلے کی وجہ سے اس کے پہنچنے میں نہ صرف وقت زیادہ لگے گا بلکہ کرایہ اور بیمہ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا ۔ اس کی قیمت ہندوستان کے عوام برداشت کریں گے یا سرکاری خزانے میں ٹیکس کی کٹوتی سے چکائی جائے گی۔ ہر دو صورت میں نقصان ہندوستان کا ہوگا لیکن کیا مجال ہے اس کے خلاف مودی جی کچھ بولیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور تجارتی معاہدے امریکہ میں طے ہوتے ہیں اور ملک امریکہ کی ایک نوآبادیات بن گیا ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم مودی کے قائد ونایک دامودر سارکر کی روایت کو آگے بڑھارہے ہیں جوبرطانیہ کے اطاعت گزار اور فرمانبردار تھے ۔
آر ایس ایس نے اس کلنک کو اپنی پیشانی سے مٹانے کی خاطر امریکہ میں کام کرنے والے معروف ادارےکی خدمات ۳۳؍ کروڈ روپئے دےکر حاصل کی مگر اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ مودی سرکار اور سنگھ پریوار کو لیپا پوتی کے بجائے اپنا رویہ مبنی بر انصاف کرنا پڑے گا۔ ملک کی شبیہ سے بڑا مسئلہ جرائم کے پھلنے پھولنے کا ہے۔ اس کو نمٹنے میں اگر بھید بھاو ہوگا اور اس پر سیای روٹیاں سینکی جائیں گی تو جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا رہے گا۔’لگے گی آگ تو ارباز کے ساتھ ابھیشیک، چراغ ، انوشکا اور سوریا بھی زد میں آئیں گے اور ان کو مارنے والے اسد ، نکی ، شیام ،سوربھ اور یش جیسے نوجوان ہوں گے ۔ ان کوجرم کرنے سے روکنا اور اس کا شکار ہونے والوں کو تحفظ فراہم کرنا سرکار اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے لیکن جانبداری اور ناز برداری کے سبب اس کا الٹا کیا جارہا ہے ۔ا ن پانچ واقعات میں مرنے اور مارنے والا ایک ایک مسلمان ہے ۔ باقی چار مقتول اور قاتل ہندو ہیں ۔ اس طرح یوگی کا اسیّ اور بیس والے فارمولے پر عمل توہورہا ہے مگر خشکی و تری میں زعفرانی سیاستدانوں کے طرز عمل سے فساد برپا ہوگیاہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے