Breaking
جمعرات. جولائی 2nd, 2026

خلفاء راشدین کا اہل بیت ؓسے رشتہ عقیدت

خلفاء راشدین کا اہل بیت ؓسے رشتہ عقیدت

خلفاء راشدین کا اہل بیت ؓسے رشتہ عقیدت

ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

اہل بیت اطہار ؓ رسول اللہؐ کا مبارک گھرانے کو کہاجاتا ہے،اہل بیت اطہار وہ مبارک گھرانا ہے جسے رسول اللہؐ سے خاص نسبت حاصل ہے، یہ نہایت پاکیزہ گھراناہے ،یہ وہ گھرانا ہے جس میں جبریل امینؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر نازل ہوتے تھے اور یہی وہ مبارک اور برگزیدہ گھرانا ہے جس میں کلام الٰہی کا نزول ہوتا تھا،یہ گھرانا امت مسلمہ کے سروں کا تاج اور آنکھوں کا سرما ہے ، اس گھرانے سے امت مسلمہ کے ہر فرد کا اٹوٹ روحانی تعلق ہے بلکہ اس گھرانے سے محبت وعقیدت ایمان کی اساس وبنیاد ہے ، زمانہ نبوت سے لے کر آج تک امت مسلمہ اہل بیت اطہارؓ سے محبت رکھتی ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک رکھتی رہے گی کیونکہ امت مسلمہ جانتی ہے کہ اہل بیت اطہار کا رسول اللہؐ کے ساتھ خاص رشتہ ہے اور رسول اللہؐ سے سچی محبت کے لئے ان نفوس قدسیہ سے محبت کرنا ضروری ہے، اہل بیت اطہار وہ مبارک ہستیاں ہیں جن سے محبت اور والہانہ تعلق رکھنے کی خود رسول اللہؐ نے تعلیم فرمائی ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرما ئی ہیں اور مجھ سے محبت کرو اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو (ترمذی: ۳۷۸۹)،سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میری اہل ( گھروالوں) کے لئے بہترین ہے( حاکم فی المستدرک: ۵۳۵۹)،سیدنا عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی (زیادہ) محبوب نہ ہو جاؤں اور میرے اہل بیت ( اس کے نزدیک)اسکے اہل خانہ سے (زیادہ) محبوب نہ ہو جائیں اور میری اولاد اسے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجائے اور میری ذات اس کے نزدیک اپنی ذات سے (زیادہ) محبوب نہ ہو جائے( طبرانی فی المعجم الکبیر: ۶۴۱۶)،مذکورہ احادیث مبارکہ کے علاوہ کتب احادیث میں خصوصیت کے ساتھ اہل بیت اطہار کے فضائل ومناقب ذکر کئے گئے ہیں اور ان سے محبت اور تعلق کی خصوصی تعلیم وترغیب دی گئی ہے ، اسی وجہ سے اہل بیت اطہارؓ سے محبت وعقیدت اور ادب واحترام کرنا ہر مسلمان پر لازم بلکہ ایمان کا جزو ہے ،امت مسلمہ میں کوئی بدبخت ہی ہوگا جو گھرانہ نبوت سے محبت وعقیدت نہ رکھتا ہو اور ان کا بغض اپنے سینہ میں چھپائے پھرتا ہو،ایسے شخص کا نہ ایمان معتبر ہے اور نہ ہی اس کے اعمال معتبر ہیں ، یہ ایسا بد بخت شخص ہے جسے حوض کوثر سے دھتکارا جائے گا اور اس پر ذلت ورسوائی ڈالی جائے گی۔
صحابہ کرامؓ اور خصوصاً خلفاء راشدینؓ اہل بیت اطہار اور خانوادہ نبوت سے بے حد محبت وعقیدت رکھتے تھے ،اہل بیت اطہار ؓ کا بے حد احترام اور مکمل خیال رکھتے تھے ،یہ حضرات اچھی جانتے تھے کہ اہل بیت اطہارؓ کو ن ہیں ، انہیں کس سے نسبت حاصل ہے اور اس نسبت کا کس طرح خیال رکھاجاتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر اہل بیت اطہارؓ کے مقام ومرتبہ سے کون وقف ہو سکتا ہے،یہ بات مسلم ہے کہ اہل بیت اطہار سے محبت وتعلق دراصل رسول اللہؐ کی محبت وقربت کا زینہ ہے ،ان مبارک نفوس سے محبت کے بغیر رسول اللہؐ سے محبت کا تصور ناممکن ہے،صحابہ کرامؓ کے اوصاف میں سے ایک خصوصی وصف یہ ہے کہ وہ نہ صرف رشتوں اور قرابت کا لحاظ رکھتے تھے بلکہ وہ تو انسانیت کی بنیاد پر ہر انسان سے محبت والفت کا مظاہرہ کرتے تھے ،صحابہ کرامؓ اہل بیت اطہارؓ کے چھوٹے سے چھوٹے بچے کا احترام کرتے تھے اور ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے اپنے تعلق اور وابستگی کا اظہار کیا کرتے تھے ، کتب تاریخ وسیر گواہ ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے تو اہل بیت اطہارؓ کا اپنے رشتوں سے بڑھ کر خیال ولحاظ کیا ہے اور ہمیشہ اپنے رشتوں پر ان مبارک نفوس کو ترجیح دی ہے اور عملی طور پر خانوادہ نبوت کے تقدس کا اس قدر پاس ولحاظ رکھا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ہے، صحابہ کرام ؓ تو اہل بیت اطہارؓ کی محبت کو نفلی عبادتوں سے افضل سمجھتے تھے ،جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ اٰل رسولؐ کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
خلافت راشدہ کے دور ہی میں اسلام سے دشمنی رکھنے والوں نے اسلام کے مضبوط قلعہ میں دراڑیں ڈالنے اور امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشوں کا جال بننا شروع کیا اوربالآخر ایک گروہ کی شکل اختیار کرلی ، ان سازش رچنے والوں نے اہل بیت اطہارؓ سے محبت وعقیدت کا منافقانہ اظہار کرتے ہوئے رسول اللہؐ کے تربیت یافتہ اور اہل بیت اطہارؓ کے سب سے بڑے مداح صحابہ کرامؓ پر شدید تنقید کرنا شروع کردیا اور ان پر اہل بیت اطہارؓ سے بغض وعداوت رکھنے اور ان کے حقوق ضائع کرنے کا الزام لگایا حالانکہ سچائی اس کے بالکل برعکس ہے ، چہ جائے کہ کسی بھی صحابی سے اہل بیت اطہار ؓ کی ادنیٰ درجہ کی بے ادبی کا تصور کیا جائے کسی ایک ادنیٰ درجہ کے مسلمان سے بھی اہل بیت کی شان میں گستاخی کا تصور بلکہ وہم وگمان بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام اور خصوصاً خلفاء راشدینؓ نے پوری امت کو اہل بیت اطہارؓ سے عملی محبت وعقیدت اور ان سے والہانہ تعلق کا درس دیا ہے اور خلفاء راشدینؓ نے اپنے اپنے دور خلافت میں جس طرح اہل بیت اطہار ؓ کے حقوق کا خیال کیا تھا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ہے ،خلفاء راشدینؓ اہل بیت اطہار سے کیسی محبت رکھتے تھے اور کس طرح سے ان کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھتے تھے ان میں سے چند کی جھلکیاں دیکھئے ۔
خلیفہ اول اور یار غار سیدنا صدیق اکبرؓ اہل بیت اطہار کا بے حد احترام اور ان کا خیال رکھتے تھے ،ایک موقع پر ان نفوس قدسیہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! رسول اللہؐ کے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں سے صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے ( بخاری: ۳۷۱۲)،ایک موقع پر صدیق اکبرؓ نے لوگوں سے اہل بیت اطہارؓ کا مقام ومرتبہ اور رسول اللہؐ سے ان کی نسبت وتعلق بتاکر ان کے احترام کو ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: رسول اللہؐ کے احترام کے پیش نظر اہل بیت کا احترام کرو ( بخاری: ۳۷۱۳)،سیدنا عقبہ بن حارث ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے ہم کو نماز عصر پڑھائی ،پھر آپؓ اور سیدنا علی مرتضیٰؓ چل دئے راستے میں سیدنا حسن بن علیؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور فرمایا: میرے ماں باپ قربان! (اے حسن آپ) رسول اللہؐ کے ہم شکل ہو ،(حضرت سیدنا) علیؓ کے ہم شکل نہیں ہو (یہ بات سن کر) اس وقت سیدنا علی مرتضیؓ مسکرارہے تھے ( سنن الکبریٰ: ۸۱۶۱)،خلیفہ دوم ،پیکر عدل سیدنا فاروق اعظمؓ اپنے ساتھی اور خلیفہ اول کی طرح اہل بیت اطہار سے اپنی قلبی محبت وعقیدت کا اظہار فرماتے تھے ،ایک موقع پر آپؓ خاتون جنت جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اللہ کی قسم!آپ سے بڑھ کر میں کسی کو رسول اللہؐ کا محبوب نہیں دیکھا اور قسم ہے اللہ کی آپ کے والد محترم ( رسول اللہؐ) کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز نہیں ہے( مستدرک : ۴۷۸۹)، سیدنا فاروق اعظمؓ ایک مرتبہ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ اتنے میں سیدنا علی مرتضیٰؓ اپنے دونوں شہزادوں کے ساتھ سامنے آگئے (جونہی ایک دوسرے پر نظر پڑی) سیدنا علی مرتضیٰؓ کے فاروق اعظم ؓ کا ہاتھ پکڑ لیا اور دونوں شہزادے بھی دائیں بائیں کھڑے ہوگئے ،اتنے میں فاروق اعظمؓ پر روپڑے ،سیدنا علی مرتضیٰؓ نے وجہ دریافت کی تو فاروق اعظمؓ نے فرمایا: اے علی! مجھ سے زیادہ رونے کا حقدار کون ہے؟ مجھے اس امت کا والی مقرر کردیا گیا ہے میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں ،اب مجھے معلوم نہیں فیصلہ درست ہوتا ہے یا غلط ،سیدنا علی مرتضیٰؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! آپ عدل وانصاف سے کام لیتے ہیں ،مگر اس کے باوجود سیدنا فاروق اعظم ؓ کے آنسو بند نہیں ہوئے ،ایک جانب سے شہزادہ سیدنا حسنؓ نے بھی آپؓ کے عدل وانصاف کی تعریف کی مگر فاروق اعظمؓ بدستور روتے رہے اور پھر دوسرے شہزادہ سیدنا حسینؓ نے بھی آپؓ کے عدل وانصاف کی تائید فرمائی تو فاروق اعظمؓ کے آنسو تھم گئے ،پھر دونوں شہزادوں سے فرمایا : اے میرے دونوں بھتیجو! کیا تم اس بات پر گواہ بنو گے؟ دونوں شہزادوں نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو سیدنا علی مرتضیؓ نے فرمایا: تم دونوں اس پر گواہ بن جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات پر گواہ ہوں(ازالۃ الخفاءـ: ۱۰۴/۱)،سیدنا فاروق اعظمؓ نے اپنے دور خلافت میں جب فتوحات کا سلسلہ بڑھنے لگا اور ایک جگہ سے مال غنیمت آیا تو اس میں سے صحابہؓ کے حصے مقرر فرمائے ،اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کے لئے تین ہزار درھم اور قرابت رسولؐ کی وجہ سے سیدنا علی ؓ اور حسنین کریمینؓ کے لئے پانچ پانچ ہزار درھم مقرر کئے(البدایہ والنہایہ۷۰۷)، ایک موقع پر فاروق اعظمؓ کچھ کپڑے تقسیم فرمارہے تھے ،ان کپڑوں میں حسنین کریمین ؓ کی شایان شان کوئی کپڑا نہ تھا ،سیدنا فاروق اعظمؓ نے ان دونوں شہزادوں کے لئے یمن سے کپڑے منگواکر انہیں دیا تب جاکر آپؓ کو خوشی ہوئی(تاریخ اسلام للذہبی: ۱۰۱) ۔
خلیفہ سوم پیکر حیاء سیدنا عثمان بن عفانؓ نے اپنے دونوں ساتھیوں کی طرح اہل بیت اطہار سے حد درجہ محبت وتعلق رکھتے تھے اور دور خلافت سے پہلے اور اپنے دور خلافت میں بھی ان کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے،مال غنیمت آتا تو اس میں سے بھی اپنی طرف سے تحائف بھیجا کرتے تھے،سیدنا عثمان ؓ اپنے دور خلافت میں سیدنا علی مرتضیٰؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے ، سیدنا عثمان بن عفانؓ ایک مرتبہ دوران خطبہ نواسہ رسول حضرات حسنین کریمینؓ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : جو شخص رسول اللہؐ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ ان دونوں سے محبت کرے ،شہادت فاروق اعظمؓ کے بعد جب عثمان بن عفانؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو سب سے پہلے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ اور سیدنا علی مرتضیٰؓ نے ان سے بیعت کی( طبقات ابن سعد: ۳/ ۹۲) ، خاتون جنت سیدہ فاطمہ ؓ کے نکاح کے موقع پر سیدنا عثمان بن عفانؓ نے ہی علی مرتضیٰ ؓ کا تعاون فرمایا تھا( المانقب للخوار زمی : ص ۲۵۲) ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے