کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں ‘‘ کے ساتھ . ڈاکٹرغضنفر اقبال کے کتابوں کی سلورجوبلی

کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں ‘‘ کے ساتھ  . ڈاکٹرغضنفر اقبال کے کتابوں کی سلورجوبلی

کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں ‘‘ کے ساتھ
ڈاکٹرغضنفر اقبال کے کتابوں کی سلورجوبلی

تبصرہ :۔ محمدیوسف رحیم بیدری ،
موبائل :9845628595

ڈاکٹر غضنفر اقبال کی پچیسویں کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں ‘‘ عنوان سے منظر عام پرآچکی ہے۔ جس کے پبلشر س اور ڈسٹری بیوٹر کاغذ دکن بیوروگلبرگہ ہے۔ 196صفحات کی اس کتاب کاانتساب ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسروحسینی صاحب علیہ الرحمہ اور ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی محمداکبر محمد محمد الحسینی قبلہ سجادہ نشین بارگاہ ِ حضرت خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ ، چانسلر خواجہ بندہ نواز یونی ورسٹی گلبرگہ کے نام کیاگیاہے۔ غضنفر اقبال نے لکھاہے کہ ’’دراصل یہ کتاب گوشہ ء بزرگاں ہے جس میں راقم تحریر نے عقیدت وارادت مندانہ رویہ اختیار کرکے اپنی پسندیدہ شخصیات کے لیے تعزیت ِ مسنونہ پیش کیاہے‘‘ (صفحہ 7) حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی ، شاہ حسین نہری ، جے پی سعید ، خلیل مامون ، سمیر احیدر، ڈاکٹر طیب انصاری ، اس طرح جملہ 16افراد کے بارے میں ڈاکٹر غضنفر اقبال نے بڑے اطمینان اور ایک حدتک سرور کے ساتھ لکھاہے۔ اور اسی اطمینان ، ذوق وشوق اور وارفتگی کے ساتھ کتاب شائع بھی کی ہے۔ مذکورہ افراد سے متعلق لکھے گئے مضامین رسائل اور اخبارات اردودنیا ، ایوان ِ اردو ، شگوفہ ، ہماری زبان دہلی ، آگ لکھنؤ، سماج نیوزدہلی ، سالار بنگلور، منصف حیدرآباد، اورنگ آباد ٹائمز ، ورق تازہ ناندیڑ ، انقلاب دکن گلبرگہ اور کے بی این ٹائمز گلبرگہ وغیرہ میں شائع ہوئے ہیں(صفحہ 7-8) ڈاکٹر خسروحسینی کے بارے میں انھوں نے ایک مقام پر لکھاہے ’’ڈاکٹر سید خسرو حسینی علیہ الرحمہ نے تقدیسی ادب کو اپنے سخن کا موضوع بنایاتھا(صفحہ 11) ڈاکٹر محمد یوسف عثمانی کے بارے میں لکھاہے کہ ’’محترم یوسف عثمانی صاحب کی دوشعری کتابیں آئینے (1973) اور خود کلامی (1987) صحت مند شاعری کا نشانِ امتیاز ہیں (صفحہ 30) احسن یوسف زئی کے مزاج میں رکھ رکھاؤ اور اگلے زمانے کی تہذیب دیکھی جاسکتی تھی ۔ وہ ادبی منافقت سے دور تھے (صفحہ 55) ایڈوکیٹ خواجہ منظورالدین بصری فنون ، موسیقی ، رقص اور تعمیر کے ماہر بڑے فریس و دقیقہ سنج تھے ۔ وہ علم موسیقی کی نزاکتوں اور لطافتوں سے واقف تھے (صفحہ 82) احمداقبال کی تدریسی ، علمی اور ادبی کارگزاریاں گراں قدر وسیلے کا درجہ رکھتی ہیں ۔ احمد اقبال اہل اورنگ آباد دکن کے قلوب میں برسوں زندہ رہیں گے (صفحہ 95) ۔ سمیراحیدر شعبہ ء فکشن میں اپنی پہچان اور چھاپ چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔ وہ زندگی کے پرآشوب حقائق کو افسانوں میں پیش کرنے کے ہنر سے واقف تھیں (صفحہ 118) ڈاکٹر محمد طیب انصاری نے اپنی تحریروں اور تصنیفوں سے گلبرگہ کے ایک عہدکو متاثر کیا لیکن بڑے اعزاز سے محروم رہے (صفحہ 161) خلیل مامون کی گفتگو ئیں اور تقریریں اثر ‘آفریں ہواکرتی تھیں۔مختلف امراض کے سبب کئی طرح کی ادویہ کا استعمال ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ تشہیر اور نام ونمود سے گریز کرتے تھے ۔ تصویر کے پردے میں وہ تنگ نظر اور ظاہر پرست نہیں تھے ۔ ان کی شخصی حیثیت اوراقِ لخت دل تھی ۔ عجب آزاد مرد تھے۔ 21جون 2024کو نماز جمعہ سے قبل خلیل مامون اپنی رہائش گاہ بنگلور میں دارِ فانی سے دار ِ بقا کوچ کرگئے۔ بہ قول خلیل مامون ؎
مامون زندگی کاسفر ختم ہوگیا
جیتے رہیں گے ایسا تو قول وقسم نہیں (صفحہ 104)
فرزند ِ گلبرگہ ڈاکٹر انیس صدیقی نے ڈاکٹر غضنفر اقبال کی اس کتاب کے بارے میں لکھاہے ’’یہ تصنیف جہاں ان مرحومین کے نقوشِ حیات کو لافانی بنانے کی ایک مخلصانہ کاوش ہے وہیں معاصر سوانحی ادب کے خزینے میں ایک گرانمایہ اضافہ ہے ‘‘17؍اعزازیافتہ ڈاکٹر غضنفر اقبال کی 25ویں تصنیف ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں‘‘ ڈاکٹر غضنفر اقبال کی وہ نیکی ہے جس کاصلہ مرحومین کی جانب
سے انہیں ملتارہے گا۔ کتاب کے لئے 9945015964پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے