SPECIAL SUMMARY REVISION الیکشن کمیشن کی نئی پہل

SPECIAL SUMMARY REVISION الیکشن کمیشن کی نئی پہل

SPECIAL SUMMARY REVISION
الیکشن کمیشن کی نئی پہل

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

 

ہندوستان کے جمہوری نظام میں انتخابی عمل کی صحت و شفافیت، حقِ رائے دہی کی پاسداری اور شہری حقوق کی صیانت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم گزشتہ عرصے میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے طریقۂ کار، دائرۂ اثر اور نتائج کے حوالے سے ملک بھر میں ہونے والی بحث، سیاسی اختلاف اور احتجاج نے انتخابی نظام کی شفافیت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جواب دہی سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹوں کے مطابق، خصوصی گہری نظرِ ثانی کے دوران ۱۳ کروڑ سے زائد نام مسودۂ فہرست رائے دہندگان سے خارج کیے جانے کے بعد اہل رائے دہندوںکے اندراج سے محروم رہ جانے کے خدشات شدت اختیار کر گئے۔ ان حالات میں الیکشن کمیشن کو ان ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں، جہاں یہ عمل مکمل ہو چکا تھا، ایسے اہل رائے دہندوںکے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دینا پڑی جو مختلف وجوہ سے فہرست رائے دہندگان میں جگہ حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس مقصد کے لیے فارم نمبر ۶ کے ذریعے نئے اور محروم رہ جانے والے اہل ائے دہندوںکو اندراج کا موقع فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا گیا۔
اس کے بعد فارم نمبر ۶ میں خصوصی گہری نظرِ ثانی سے متعلق اضافی شرائط کے اندراج پر بھی تنازع سامنے آیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انتخابی کمیشن کے ۲ ارکان نے ان تبدیلیوں کے اختیار اور قانونی جواز پر اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد کمیشن نے ان ریاستوں میں، جہاں خصوصی گہری نظرِ ثانی مکمل ہو چکی تھی، آن لائن فارم نمبر ۶ سے اضافی اعلان کو ہٹا دیا۔ اس معاملے نے انتخابی اندراج کے ضوابط، انتظامی اختیارات اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی سے متعلق سوالات کو مزید نمایاں کر دیا۔ دوسری جانب، فہرست رائے دہندگان سے ناموں کے اخراج کے خلاف سیاسی جماعتوں، سماجی حلقوں اور شہریوں کے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس میں حقِ رائے دہی کے تحفظ، مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کو یقینی بنانے کے مطالبات کیے گئے۔
اسی پس منظر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اب ۱۷ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں فہرست رائے دہندگان کی خصوصی مختصر نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔ یہ سالانہ نظرِ ثانی کا وہ عمل ہے جسے کمیشن نے ۲۰۲۶ میں مؤخر رکھا تھا۔ اس کا مقصد فہرست رائے دہندگان کو تازہ ترین معلومات کے مطابق مرتب کرنا، نئے اہل رائے دہندوںکو شامل کرنا اور فوت شدہ یا مستقل طور پر منتقل ہو جانے والے افراد کے ناموں سے متعلق قانونی کارروائی انجام دینا ہے۔ اس مرحلے میں یکم جنوری ۲۰۲۷ کو تاریخِ اہلیت قرار دیا گیا ہے، جب کہ اہل شہریوں کو فارم نمبر ۶ کے ذریعے نئے اندراج اور فارم نمبر ۸ کے ذریعے پتے یا دیگر کوائف کی تبدیلی و تصحیح کے لیے درخواست دینے کا موقع حاصل ہوگا۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ خصوصی جامع نظرِ ثانی(ایس آئی آر ) اور خصوصی نظرِ ثانی(ایس ایس آر) اپنی نوعیت اور طریقۂ کار کے اعتبار سے ۲ الگ مراحل ہیں۔ اول الذکر میں موجودرائے دہندوںکو بھی اپنی اہلیت کی دوبارہ تصدیق کے لیے مخصوص طریقۂ کار سے گزرنا پڑا، جب کہ مؤخر الذکر میں موجودہ انتخابی فہرست کو بنیاد بناتے ہوئے اندراج، تصحیح اور قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری اخراج کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ۱۷ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس نئے مرحلے کا آغاز ایک معمول کی انتخابی کارروائی ہونے کے باوجود غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیوں کہ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خصوصی جامع نظرِ ثانی کے نتائج، ناموں کے اخراج، نئےرائے دہندوںکی شمولیت اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد سے متعلق تنازعات پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران کو ارسال کردہ مکتوب کے مطابق، یکم جنوری ۲۰۲۷ کو اس مرحلۂ نظرِ ثانی کے لیے تاریخِ اہلیت قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا، پنجاب، منی پور اور دیگر ریاستیں و علاقے شامل ہیں، جہاں فہرست رائے دہندگان کی تجدید و تصحیح کا عمل مقررہ ضوابط کے تحت انجام دیا جائے گا۔ ان میں سے بعض ریاستوں میں آئندہ سال کے اوائل میں انتخابات متوقع ہیں؛ لہٰذا فہرست رائے دہندگان کی جامعیت، صحت اور درست ترتیب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمہوری نظام کی بنیاد اس اصول پر قائم ہے کہ ہر اہل شہری کو حقِ رائے دہی میسر ہو اور کوئی نااہل شخص غیر مستحق طور پر انتخابی فہرست میں جگہ نہ پائے۔ اس اعتبار سے فہرست رائے دہندگان کی نظرِ ثانی محض دفتری کارروائی نہیں، بلکہ جمہوری نظام کی صحت و صداقت اور انتخابی عمل کے اعتبار و اعتماد سے براہِ راست متعلق ہے۔
اس اعلان کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فہرست رائے دہندگان کی ڈیجیٹل کاپیاں قابلِ مطالعہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تک انتخابی فہرستیں عموماً تصویری پی ڈی ایف فائلوں کی شکل میں دستیاب ہوتی تھیں، جن میں معلومات کی تلاش، تقابلی مطالعہ اور کمپیوٹر کے ذریعے خودکار تجزیہ نسبتاً دشوار تھا۔ نئے انتظام کے تحت مسودۂ فہرست اور حتمی انتخابی فہرست، تصاویر کے بغیر، ایسی پی ڈی ایف صورت میں مہیا کی جائیں گی جسے کمپیوٹر کے ذریعے پڑھنا اور اس کے مندرجات سے استفادہ کرنا ممکن ہوگا۔ مزید برآں، مسودۂ فہرست کی اشاعت کے مرحلے پر ناموں کے اندراج، اخراج اور کوائف کی ترمیم سے متعلق ضمنی فہرستیں بھی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں ایک مدت سے ایسی فہرست رائے دہندگان کی فراہمی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں جن کے مندرجات کو تلاش، جانچ اور تجزیے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ انتخابی معلومات کی اس صورت سے سیاسی جماعتوں، انتخابی مبصرین اور متعلقہ اداروں کو فہرستوں کی صحت کا جائزہ لینے اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشان دہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، قابلِ مطالعہ فائلوں کی فراہمی بذاتِ خود شفافیت کی مکمل ضمانت نہیں۔ اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب معلومات درست، مکمل، بروقت اور قابلِ تصدیق ہوں اور ان کی جانچ کے لیے مؤثر قانونی و انتظامی طریقۂ کار بھی میسر ہو۔ شفافیت کا تقاضا محض معلومات کو منظرِ عام پر لانا نہیں، بلکہ ان کی صحت کی توثیق، منصفانہ رسائی اور ان کے استعمال میں جواب دہی کو یقینی بنانا بھی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ نظام الاوقات کے مطابق، ۲ نومبر تک پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد اور حدود کو معقول بنایا جائے گا، جب کہ فہرست رائے دہندگان کا مسودہ ۱۲ نومبر کو شائع کیا جائے گا۔ شہریوں کو اپنے دعوے اور اعتراضات ۱۱ دسمبر تک پیش کرنے کی مہلت حاصل ہوگی، اور موصولہ درخواستوں پر کارروائی ۲۸ دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد حتمی انتخابی فہرستیں ۴ جنوری ۲۰۲۷ کو شائع کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کمیشن نے آئندہ سال کی ۳ مزید تاریخوں، یعنی یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر، کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پیشگی درخواستوں کے حصول کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ تاہم، موجودہ مرحلے میں صرف یکم جنوری ۲۰۲۷ کو تاریخِ اہلیت تسلیم کرتے ہوئے پیش کیے جانے والے دعووں پر فیصلہ صادر کیا جائے گا، جب کہ باقی درخواستیں متعلقہ سہ ماہی میں زیرِ غور آئیں گی۔
اس پورے عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کوئی اہل شہری انتخابی فہرست میں اندراج سے محروم نہ رہ جائے اور کسی نااہل شخص کا نام فہرست میں شامل نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت ہر الیکٹورل رجسٹریشن افسر کو اپنے دائرۂ اختیار میں فہرست رائے دہندگان کی صحت، جامعیت اور قانونی مطابقت یقینی بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ آدھار کارڈ کی فراہمی رضاکارانہ ہے؛ چنانچہ محض آدھار پیش نہ کرنے کی بنا پر نہ کسی درخواست کو مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی شہری کا نام انتخابی فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
یہ ہدایت شہری آزادیوں اور انتظامی تقاضوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کسی دستاویز کی عدم فراہمی کو اس امر کا قطعی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا کہ متعلقہ شخص حقِ رائے دہی کا اہل نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فہرست رائے دہندگان کی تطہیر و تصحیح کے دوران قانونی اہلیت کا تعین مستند ضوابط کے مطابق کیا جائے اور کسی شہری کو محض انتظامی سہو، معلوماتی کمی یا غیر ضروری سخت گیری کے باعث اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہونے کا اندیشہ لاحق نہ ہو۔
پولنگ اسٹیشنوں کے حوالے سے بھی کمیشن نے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق، پیشگی منظوری کے بغیر کسی پولنگ اسٹیشن پررائے دہندوںکی تعداد ۱۲۰۰ سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔ مزید یہ کہ کسی ووٹر کو اپنے پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے ۲ کلومیٹر سے زیادہ مسافت طے کرنے یا کسی قدرتی رکاوٹ کو عبور کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان ہدایات کا مقصد انتخابی سہولتوں کو عوام کی دسترس میں رکھنا اور جغرافیائی دشواریوں کے باعث حقِ رائے دہی کے استعمال میں حائل رکاوٹوں کا ازالہ کرنا ہے۔
بالخصوص دیہی، قبائلی اور دور افتادہ علاقوں میں ضروری ہے کہ انتخابی انتظامات صرف کاغذی ضوابط تک محدود نہ رہیں، بلکہ عوام کی عملی ضروریات، جغرافیائی حالات اور آمد و رفت کی دشواریوں کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ جمہوری حق کی معنویت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کے استعمال کے لیے عملی سہولتیں میسر ہوں۔ اگر کوئی شہری محض طویل مسافت، دشوار گزار راستے یا قدرتی رکاوٹوں کے باعث اپنے ووٹ کے استعمال سے قاصر رہ جائے تو انتخابی نظام کی ظاہری تکمیل کے باوجود اس کی حقیقی افادیت مجروح ہوتی ہے۔
فہرست رائے دہندگان سے ناموں کے ناروا یا غیر قانونی اخراج کی روک تھام کے لیے بھی الیکشن کمیشن نے متعدد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں ۹ اکتوبر کے ایک علیحدہ حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت فارم نمبر ۷ کے اندراجات کو منضبط کیا گیا ہے، تاکہ انفرادی رئے دہندوںکی جانب سے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اگر کسی پولنگ اسٹیشن کے مجموعی رائے دہندوںمیں سے ۲ فی صد سے زیادہ افراد کے نام خارج کرنے کی درخواستیں سامنے آئیں، یا ۵ سے زیادہ معاملات میں ایک ہی شخص اعتراض کنندہ ہو، تو متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر کے لیے ان معاملات کی ذاتی طور پر دوبارہ تصدیق کرنا لازم ہوگا۔اسی طرح، ہر نام کے اخراج سے قبل متعلقہ شخص کو سماعت کا موقع فراہم کرنا اور وجوہات پر مبنی تحریری حکم جاری کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فہرست رائے دہندگان کی اشاعت کے بعد کم از کم ۷ مکمل دن گزرنے سے پہلے کسی دعوے یا اعتراض پر فیصلہ نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر کوئی شہری متعلقہ فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اسے پہلے ضلعی مجسٹریٹ اور اس کے بعد چیف الیکٹورل افسر کے روبرو اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
یہ ضوابط اس بنیادی اصول کی ترجمانی کرتے ہیں کہ کسی شہری کے انتخابی حقوق پر اثرانداز ہونے والا فیصلہ محض یک طرفہ انتظامی کارروائی کا نتیجہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے معقول بنیاد، قابلِ فہم وجوہات، متعلقہ شخص کی سماعت اور نظرِ ثانی یا اپیل کا مؤثر موقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی فرد کا نام انتخابی فہرست سے خارج کرنے سے پہلے متعلقہ حقائق کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے اور متاثرہ شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ یہی اصول انتظامی اختیار کو من مانی سے ممتاز کرتے اور عوام کے اعتماد کو مستحکم بناتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس کے لیے بھی ایک ضابطۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک دن میں بوتھ لیول افسر کو ۱۰ سے زیادہ فارم جمع نہیں کرا سکیں گے۔ اگر دعووں اور اعتراضات کی مدت کے دوران کسی ایجنٹ کی جانب سے ۳۰ سے زیادہ فارم پیش کیے جائیں تو ان کی دوبارہ تصدیق متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسر کو خود انجام دینا ہوگی۔ اس انتظام کا مقصد سیاسی جماعتوں کی جائز شرکت برقرار رکھتے ہوئے غیر معمولی تعداد میں درخواستوں کے ذریعے فہرست رائے دہندگان پر ممکنہ ناجائز اثراندازی کی روک تھام کرنا ہے۔
آئینِ ہند کے آرٹیکل ۳۲۴ کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ریاستی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی ہے کہ ڈسٹرکٹ الیکٹورل افسر، الیکٹورل رجسٹریشن افسر اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسر کے طور پر نامزد کیے گئے عہدے خالی نہ رکھے جائیں۔ مزید برآں، مسودۂ انتخابی فہرست کی اشاعت اور حتمی فہرست کی اشاعت کے درمیانی عرصے میں اس عمل سے وابستہ کسی افسر کا تبادلہ کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔ان ہدایات کا مقصد انتظامی تسلسل، ذمہ داری کے تعین اور انتخابی عمل کے دوران ادارہ جاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ فہرست رائے دہندگان کی نظرِ ثانی ایک حساس مرحلہ ہے جس میں معمولی غفلت یا غیر ضروری انتظامی تبدیلی بھی کارروائی کی رفتار اور معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ عہدوں پر اہل افسران کی موجودگی، فرائض کی واضح تقسیم اور تبادلوں پر مناسب ضابطہ بندی پورے عمل کو منظم اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ خواتین، خواجہ سرا افراد، درج فہرست قبائل، بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے ساتھ مناسب حساسیت، ہمدردی اور احترام کا برتاؤ کیا جائے۔ یہ ہدایت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انتخابی نظام کی کامیابی کا معیار صرف اعداد و شمار کی درستی یا مقررہ تاریخوں کی پابندی نہیں، بلکہ ہر طبقۂ آبادی کے ساتھ منصفانہ، باوقار اور انسانی تقاضوں سے ہم آہنگ سلوک بھی ہے۔ جو نظام معاشرے کے کمزور، محروم یا خصوصی توجہ کے مستحق طبقات کی مشکلات کو پیشِ نظر نہیں رکھتا، وہ اپنی انتظامی کارکردگی کے باوجود جامع جمہوریت کے تقاضوں کی مکمل تکمیل نہیں کر سکتا۔الغرض، الیکشن کمیشن کی جانب سے ۱۷ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں فہرست رائے دہندگان کی خصوصی مختصر نظرِ ثانی کا اعلان ہندوستان کے انتخابی نظم و نسق میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ قابلِ مطالعہ ڈیجیٹل فہرستوں کی فراہمی، ناموں کے اندراج و اخراج کے لیے ضابطہ بند طریقۂ کار، شہریوں کو سماعت اور اپیل کے مواقع، آدھار کی رضاکارانہ حیثیت، پولنگ اسٹیشنوں تک آسان رسائی اور متعلقہ افسران کی جواب دہی سے متعلق ہدایات اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ انتخابی عمل کو زیادہ منظم، قابلِ جانچ اور شہری ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تاہم، ان اقدامات کی حقیقی کامیابی کا انحصار محض اعلانات اور ضوابط کی تدوین پر نہیں، بلکہ ان کے دیانت دارانہ نفاذ، انتظامی غیر جانب داری، معلومات کی صحت اور شہری حقوق کے مؤثر تحفظ پر ہوگا۔ ضروری ہے کہ فہرست رائے دہندگان کی تنقیح و تصحیح کے نام پر کسی اہل شہری کا حق مجروح نہ ہو، کسی نااہل اندراج کو بلا تحقیق برقرار نہ رکھا جائے اور ہر اعتراض کا فیصلہ انصاف، دلیل اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے