Breaking
جمعہ. جون 12th, 2026
ہجری کیلنڈر، ہماری قومی پہچان

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ہجری کیلنڈ،رهماری قومی پهچان

شمع فروزاں

2026.06.12

مولانا خالد سیف الله رحمانی

 اسلامی کیلنڈر ’’ ہجری کیلنڈر‘‘ کہلاتا ہے ، پیغمبر اسلام ﷺکے واقعہ ہجرت کی طرف اس کی نسبت ہے، عربی زبان میں ’’ ہجر‘‘ کے معنی چھوڑ نے کے ہیں ، اسی سے ہجرت کا لفظ ماخوذ ہے ، ہجرت ایک اسلامی اصطلاح ہے ، ایمان کی حفاظت یاد ین کی اشاعت کی غرض سے ترکِ وطن کرنے کو ’’ہجرت ‘‘ کہتے ہیں ، ’’ تارکین وطن‘‘ آج کل ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے ، ہرملک میں تارکین وطن موجود ہیں ، ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے ، یہ وہ تارکین وطن ہیں ، جنھوں نے معاشی اور سیاسی مقاصد کے تحت اپنا وطن چھوڑا ہے ، ان کو مہاجرین کہنا ’’ ہجرت ‘‘ کے مقدس لفظ کے ساتھ نا انصافی ہے ۔

ہجرت در اصل پیغمبروں کی سنت ہے ، شاید ہی کوئی پیغمبر ہو، جس کو ہجرت نہ کرنی پڑی ہو ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام وغیرہ کی ہجرت کے واقعات تو خود قرآن مجید میں مذکور ہیں ؛ لیکن تاریخ میں ہجرت کے نام سے جو شہرہ آپ ﷺ کی ہجرت کو ہوا ، کسی اور پیغمبرکی ہجرت کو وہ شہرت حاصل نہیں ہوئی ، آپ ﷺ ۵۷۱ء میں پیدا ہوئے اور ٹھیک ۴۰ ؍ سال کی عمر یعنی ۶۱۱ء میں آپ ﷺکو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا ، آپ ﷺکی صداقت و دیانت اور اخلاقی خوبیوں کا پورے مکہ میں چرچا تھا ، آپ ﷺ نے اپنا بچپن اور جوانی اسی مکہ میں گزارا ، نبوت کے بعد آپ ﷺکے خلاف لوگوں نے ہر طرح کی ایذاء رسانی کا راستہ اختیار کیا ؛ لیکن کوئی انگلی نہ تھی، جو آپ ﷺ کے کردار پر اُٹھے ، اور کوئی زبان نہ تھی، جو آپ ﷺ کی دیانت و پاکیزگی پر کھلے ۔

۱۳ ؍ سال آپ ﷺ نے مکہ میں دعوتِ دین کی جد و جہد فرمائی ، یہ ۱۳ ؍ سال ایسے گزرے کہ شب و روز آپ ﷺبے قرار رہتے کہ کسی طرح اللہ کے بندے اللہ کو پالیں اور صحیح راستہ کی طرف آجائیں ، پورا دن آپ ﷺ گلیوں ، کوچوں اور بازاروں میں گھوم گھوم کر دعوت دینے میں گزارتے ، ایک ایک دروازہ پر پہنچتے اور دروازۂ دل کو دستک دیتے ، ایک ایک شخص سے ملتے اور اس کی خوشامد فرماتے ؛ لیکن بہت کم لوگ تھے ، جنھوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اکثریت ان لوگوں کی تھی کہ حق کی روشنی ان کے سامنے دو پہر کی دھوپ کی طرح کھل کر آگئی ، مگر بت پرستی اور بے دینی کو چھوڑ نے پر وہ آمادہ نہیں تھے ؛ کیوںکہ یہی ان کے آباء واجداد کا مذہب تھا ، اس درمیان کوئی تکلیف نہ تھی جو آپ ﷺ کو پہنچائی نہ گئی ہو ، آپ ﷺکا پورے خاندان سمیت بائیکاٹ کیا گیا ، مسلمان لقمہ لقمہ کو ترستے تھے، اور آپ ﷺاپنے اہل خاندان کے ساتھ درخت کے پتے اور چھال تک کھانے پر مجبور تھے ، جسم اقدس پر اونٹ کی اوجھ اور غلاظت ڈال دی گئی ، گلے میں پھندہ ڈال کر جان لینے کی کوشش کی گئی ، راستہ میں کانٹے بچھائے گئے ، جملے کسے گئے اور تالیاں پیٹی گئیں ، آپ ﷺ کو فاتر العقل اور جادو گر مشہور کیا گیا ۔

نبوت کے سال آپ ﷺنے طائف کا رخ کیا ، شاید ان کو قبولِ اسلام کی توفیق ہو ؛ لیکن طائف کی زمین مکہ سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئی ، انھوں نے نہ صرف انکار کیا ؛ بلکہ آپ ﷺ کے پیچھے اوباش لڑکوں کو بھی لگادیا ، یہ آپ ﷺپر پتھر پھینکتے ، خاک اُڑاتے ، ہنستے اورتمسخر کرتے ، جسم لہو لہان ہوگیا ، نعلین مبارکین میں خون جم گیا ، گھٹنے زخمی ہوگئے ، آپ ﷺ بیٹھ جاتے ، تو یہ آپ ﷺ کو کھڑا کر دیتے ، حضرت زید بن حارثہؓ ساتھ تھے ، انھوں نے آپ ﷺ کو کاندھوں پر اُٹھالیا اور ایک باغ کی پناہ لی ، ٹوٹے ہوئے دل اور اشکبار آنکھوں سے آپ ﷺ خدا کی طرف متوجہ ہوئے ، جب مطمئن ہوگئے تو بڑی پُر درد دُعاء فرمائی ، آپ ﷺ نے فرمایا  :

الٰہا ! اپنے ضعف و بے سروسامانی اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی بےبسی کی فریاد آپ ہی سے کرتا ہوں ، آپ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں ، درماندہ بے کسوں کے پروردگار آپ ہی ہیں ، آپ ہی میرے مالک ہیں ، آخر آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں ؟ کیا اس حریف بے گانہ کے جو مجھ سے ترش روئی روا رکھتا ہے ، یا ایسے دشمن کے جو میرے معاملہ پر قابو رکھتا ہے ؛ لیکن اگر مجھ پر آپ کا غضب نہیں ہے تو پھر مجھے کچھ پرواہ نہیں ، بس آپ کی عافیت میرے لئے زیادہ وسعت رکھتی ہے ، میں اس بات کے مقابلہ میں کہ آپ کاغضب مجھ پر پڑے ،یا آپ کا عذاب مجھ پر نازل ہو ، آپ ہی کے نور جمال کی پناہ مانگتا ہوں ، جس سے ساری تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام معاملات سنور جاتے ہیں ، مجھے تو آپ کی رضامندی اورخوشنودی مطلوب ہے ، آپ کے سوا کہیں سے کوئی قوت و طاقت نہیں مل سکتی ۔

خدا کی قدرت دیکھئے کہ ایمان اور اسلام کا جو تخم آپ ﷺ نے مکہ اور طائف کی سرزمین میں بویا تھا ، اللہ اس سے اہل مدینہ کے دلوں کو بار آور فرما رہا تھا ، بارش کہیں اور ہو رہی تھی اور ایمان کا آب حیات کہیں اور جمع ہو رہا تھا ، حج کے موقع سے مدینہ کے لوگ مکہ آئے ، ان کے کان آپ اکی دعوت کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ مخلص اور حق کے متلاشی تھے ، ضد اوراکڑ نہ تھی ، اس لئے فوراً ہی کانوں سے دلوں تک کا فاصلہ طے ہوا ، ایمان لائے اور اہل ایمان کو پناہ دینے کا عہد بھی کیا ، مکہ کی زمین بتدریج اہل ایمان پر تنگ سے تنگ تر ہوتی جاتی تھی ، بعض مسلمانوں کو گلے میں پھندا ڈال کر گرم ریتوں پر گھسیٹا جاتا ، بعضوں کو سلگتے ہوئے شعلوں پر لٹایا جاتا اور ان کے جسم سے رسنے والے لہو سے آگ بجھائی جاتی ، کسی کو دُھوئیں کی دُھونی دی جاتی ، بعضے تو بے رحمی سے شہید ہی کر دیئے گئے ۔

لیکن مجال نہ تھی کہ دامنِ صبر مسلمانوں سے چھوٹ جائے اور حکم خداوندی کے بغیر وہ اپنے طور سے فیصلہ کریں ، آخر خود خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آجائیں ، مسلمان آہستہ آہستہ مدینہ آنے لگے اور صرف وہی مکہ میں رہ گئے ، جو یہاں سے جا نہیں سکتے تھے ؛ لیکن آپ ﷺابھی تک مکہ ہی میں مقیم تھے اور اپنے بارے میں حکم خداوندی کے منتظر ، اسلام کے دشمنوں نے آپ ﷺکے قتل کا منصوبہ بنا یا ، ہر قبیلہ سے ایک ایک نمائندہ لے کر درِ دولت کا محاصرہ کر لیا ، ادھر خدا کی طرف سے صورتِ حال سے آپ ﷺ کو آگاہ فرمایا گیا ، آپ ﷺپورے اطمینان کے ساتھ کچھ آیتیں پڑھتے ہوئے اور ایک مشت ِغبار محاصرین پر پھینکتے ہوئے باہر نکل آئے اور چھپتے چھپاتے کچھ دنوں میں مدینہ تشریف لائے ، آپ ﷺ کے سر دھڑ پر انعام مقرر ہوا ، پیچھا کرنے والوں نے پیچھا کی اور اپنے تئیں آپ ﷺکی اورآپ ﷺ کے رفیق خاص حضرت ابو بکرؓ کی جان لینے کی کوشش میں کوئی کسر نہ رکھی ، مگر خدا کی تدبیر کے سامنے ساری تدبیریں اکارت گئیں اور نبوت کا جو آفتاب مکہ میں طلوع ہوا تھا ، مدینہ میں مہر نیم روز بن کر روشن ہوا ۔

آپ ﷺجب مدینہ میں داخل ہوئے تو جشن کا منظر تھا ، بچے ، بوڑھے ، جوان ، مرد اورعورت ، آقا اور غلام ، بڑے اور چھوٹے ، دل اور آنکھیں بچھائے پروانہ وار کھڑے تھے ، زبان پر استقبالیہ نغمے ، نگاہانِ شوق بے تاب ، یاتو مکہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ تھی یا پھر مدینہ نے دل و جگر راہوں میں بچھا رکھے تھے ، مہاجرین کے لٹے پٹے قافلوں کو اہل مدینہ نے اپنے یہاں جگہ دی ، گھر دیا ، دَر دیا ، کھیت اور باغات نثار کئے اور سب سے بڑھ کر اتھاہ محبت اورپیار کی سوغات دی ، اہل مدینہ نے جو ایثار کیا ، شاید ہی انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال مل سکے ، اہل مکہ کی قربانیاں بھی کچھ کم نہ تھیں ، گھر چھوڑا ، وطن چھوڑا ، وطن کی فضاؤں کو خیر باد کہا ، اعزہ واقرباء کی محبت قربان کی اور اپنی پوری دنیا سے منھ موڑ کر ایک ایسی منزل کو چل پڑے جہاں اجنبیت سے سابقہ تھا اور مستقبل موہوم تھا ؛ اس لئے آپ آپ ﷺنے مکہ سے ترک وطن کر کے آنے والوں کو ’’ مہاجرین ‘‘ اور مدینہ کے رہنے والوں کو ’’ انصار ‘‘ کا نام دیا ، مہاجرین کے معنی ہیں ’’ دین کے لئے ترک وطن کرنے والا ‘‘ اور ’’ انصاری‘‘ کے معنی ہیں اہل ایمان کی مدد ونصرت کرنے والا ، مسلمانوں میں ان دو طبقوں کے سوا کسی تیسرے طبقہ کا تصور نہیں ، نہ ذات پات کا ، نہ قبیلہ اور برادری کا ، نہ ملک اور صوبہ کا ، نہ زبان کا ، کوئی اور تقسیم نہیں جو اللہ تعالیٰ کو گوارا ہو ۔

ہجرت کا یہ واقعہ ایک طرف مسلمانوں کی قربانی اور دین کی حفاظت و اشاعت کے لئے پیغمبر اسلام ﷺاور ان کے رفقاء عالی مقام کے ایثار و فدا کاری کی یاد گار ہے اور دوسری طرف آئندہ اسلام کو جو فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں ، ان کا مقدمہ ، یہ محض مکہ سے مدینہ کی طرف سفر نہیں تھا ؛ بلکہ مغلوبیت سے غلبہ و ظہور کی طرف اور مقہوریت سے طاقت و شوکت کی طرف سفر تھا ، بظاہر مسلمانوں پر زمین تنگ ہو رہی تھی ؛ لیکن خدا نے اسی تنگی میں آفاق کی وسعت کو سمو رکھا تھا ، یہ واقعہ نااُمیدیوں میں اُمید کی کرن سے روشناس کرتا ہے اور حوصلہ شکن حالات میں اُمید و حوصلہ کا چراغ جلاتا ہے ، اور اس بات کو بھی یاد دلاتا ہے کہ کیسی کیسی قربانیوں اور جانثاریوں سے خدا کے اس دین کو سربلند کیا گیا ہے ، اور کس قدر خون و لہو کے ذریعہ حق وصداقت کے اس شجرۂ طوبیٰ کی آبیاری فرمائی گئی ہے ؟

حضرت عمرؓ کے سامنے بحیثیت خلیفہ ایک فائل آئی ، جس میں تاریخ درج تھی ، سال درج نہ تھا ، آپ ؓ کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کا اپنا کیلنڈر ہونا چاہئے ، آپ ؓ نے مجلس شوریٰ میں یہ تجویز رکھی اور غالباً حضرت علی ؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ اسلامی کیلنڈر واقعۂ ہجرت پر مبنی ہونا چاہئے ؛ چنانچہ مہینوں کی ترتیب وہی قائم رہی جو اسلام سے پہلے عربوں میں مروج تھی ، محرم سے آغاز اور ذوالحجہ پر اختتام اور سال کا آغاز واقعۂ ہجرت کے سال سے مانا گیا ، اس طرح ۱۴۴۷ھ کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺکے واقعۂ ہجرت کو اتنے سال گزر چکے ۔

کیلنڈر بھی کسی قوم کی اپنی شناخت ہوتی ہے ، اس سے قوم و ملت کی تاریخ وابستہ ہوتی ہے ، ہجری کیلنڈر پر غور کر جائیے ، اس میں اکثر مہینوں کے نام وہ ہیں ، جو اسلامی عبادات اورمسلمانوں کی مذہبی روایات کی نشان دہی کرتے ہیں اور نام ہی سے ان مہینوں سے متعلق عبادات اور واقعات کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے ، دوسری قوموں کے جو کیلنڈر مروج ہیں ،   وہ بھی ان کے مذہبی افکار و روایات کے مظہر ہیں ، یہی حال مہینوں اور ہفتوں کے نام کا ہے ،   مثلاً : Sunday اور Monday کے الفاظ ہی پر غور کیجئے ، ان کے معنی ہیں سورج کے دن اورچاند کے دن ؛ چوںکہ اہل یونان کے یہاں ایک دن سورج کی پرستش کے لئے مقرر تھا اورایک دن چاند کی پرستش کے لئے ، اسی لئے مختلف دیوتاؤں کے نام سے دنوں کے نام ہوا کرتے تھے ، کچھ اسی طرح کا معنی مہینوں کے نام کے پیچھے بھی کار فرما ہے ، اسی لئے حضرت عمرؓ نے ان کیلنڈروں کو قبول نہیں فرمایا ، جو اس زمانہ میں مروج تھے ۔

پس اسلامی کیلنڈر مسلمانوں کی اپنی ایک پہچان ہے ؛ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کیلنڈر کو رواج دیں اور آنے والی نسلوں کو اس کے پس منظر اور اس کی دینی و ملی حیثیت سے واقف کرائیں ، علماء نے لکھا ہے کہ ہجری کیلنڈر کے چلن کو باقی رکھنا اور اس کی ترویج کی سعی کرنا فرض کفایہ یعنی اُمت کا اجتماعی فریضہ ہے ، یہ کیلنڈر ہمیں ہمارا تشخص یاد دلاتا ہے ، اور ہجرت کے عبرت آمیز اور موعظت انگیز واقعہ کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے