وہ کل جو بول رہا تھا بہت رعونت سے

وہ کل جو بول رہا تھا بہت رعونت سے

وہ کل جو بول رہا تھا بہت رعونت سے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر داخلہ کو مختلف زبانوں میں الگ الگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے مثلاً اسرائیل میں اسے داخلی سلامتی کے امور کا وزیر یا امریکہ میں اندرونِ ملک کا محافظ کہا جاتا ہے لیکن ہندوستا ن کا وزیر داخلہ تو اپنی ہی دارالسلطنت کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا تو وہ بیچارہ دوسروں کی حفاظت کیسے کرےگا۔ پچھلے دنوں کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں اور احتجاجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر نئی دہلی میں مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ۔ وزیرِ داخلہ کی رہائش گاہ کے باہر اضافی پولیس نفری تعینات کرنے کی وجہ ان کے استعفے کا مطالبہ بتایا جار ہاہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہندی میں وزیر داخلہ کو گرہ منتری یعنی گھر کا وزیر کہا جاتا ہے جو بیچارہ اپنے گھر میں ہی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ایوان پارلیمان کے اجلاس کو دو ہفتے ہوگئے مگرشاہ جی نے قریب پھٹکنے کی جرأت نہیں کی ۔ اس شخص کا نام ہی اچھے اچھوں کو ڈرانے کے لیے کافی تھا۔ ای ڈی اور سی بی آئی کی مدد سے اس نے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ اور جھارکھنڈ و دہلی کے وزرائے اعلیٰ کو جیل میں ٹھونس دیا تھا لیکن اب کاکروچ کے خوف نے اس کا برا حال کردیا ہے بقول پروفیسر کوثر مظہری؎
وہ کل جو بول رہا تھا بہت رعونت سے
دراصل طرزِ تخاطب میں خوف پنہاں تھا

بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلے بارہ سال سے اپنی کارکردگی کے سبب نہیں بلکہ تکڑم بازی کی وجہ سے اقتدار میں ہے۔سماج میں ہر محاذ پر ناکام ہونے والے نریندر مودی نے اپنی جملہ بازی سے پہلے دو انتخابات جیتے اور پھر تیسری بار ناکام ہوئے توجوڑ توڑ کی مخلوط حکومت بنالی۔ اس کے بعد سرکاری اداروں خصوصاً الیکشن کمیشن کے بیجا استعمال سے ریاستی الیکشن لوٹ رہے ہیں۔ بی جے پی رام مندر کے چندہ چوری سےپہلے ووٹ اور بالآخر مخالفین کے ارکان پارلیمان و اسمبلی کو خریدنا شروع کردیا تاکہ کسی طرح دو تہائی اکثریت حاصل کرکے شتر بے مہار کی مانند آئین میں من مانی تبدیلیاں کی جائیں اور اقتدار پر ہمیشہ کے لیے قبضہ رکھنے کا انتظام ہوسکے ۔ مغربی بنگال میں جبر و استبداد کا کھلا ننگا ناچ جاری ہی تھا کہ کاکروچ نکل آئے اور فرعون وقت کی حالت نمرودِ ماضی کی طرح ہوگئی۔ سنا ہے حضرتِ ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکے والے نمرود کے دماغ میں ایک لنگڑا مچھر گھس گیا تھا جو اسے ہر دوسرے تیسرے دن شدید قسم کی خارش سے دوچار کر دیتا۔ مودی سرکار پر مسلط ہونے والے کاکروچ نے بھی یہی کیا۔ نمرود کوجیسے ہی خارش ہوتی اس کے مقرر کردہ ملازم کو سر میں تڑا تڑ جوتے رسید کرنے کا حکم تھا جس سے اسے سکون آ جاتا۔ جنتر منتر تحریک کے دوران مودی سرکار بھی ہر دوسرے تیسرے دن اپنی رسوائی کا نیا سامان کرتی یہاں تک کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے کر ذلیل ہوگئے۔ بقول غالب؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے

وزیر اعظم نریندر مودی جب’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرہ لگا کر اقتدارپر فائز ہوئے تو مختار عباس نقوی ، شہنواز حسین اور ایم جے اکبر کو مرکزی وزارت میں جگہ دی لیکن جیسے جیسے ہندو مسلم کی سیاست نے زور پکڑا انہیں ایک ایک کرکے سب کی چھٹی کرنی پڑی کیونکہ بیک وقت مسلم دشمنی اور مسلمان نوازی ساتھ نہیں چل سکتی تھی ۔ بی جے پی نے ان سب کے ساتھ عارف محمد خان تک کو ٹھکانے لگا دیا لیکن ان میں سے کسی نے بی جے پی کو نہیں چھوڑا۔ اب وقت بدلا تو شہزاد پونا والا نے ترجمان کے عہدے سے ازخود استعفیٰ دے دیا۔ وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے تھے مگر اب یہ کہہ کر لوٹے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی امید نہیں ہے۔ یہ جہاز کے ڈوبنے کا اشارہ ہے جس کو محسوس کرکے چوہے سب سے پہلے باہر کودتے ہیں ۔ بی جے پی اقلیتی رہنماوں کو کس طرح استعمال کرکے پھینک دیتی ہے اس کی زندہ مثال سابق اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت جارج کورین ہیں ۔ وہ کوئی موقع دیکھ کر بی جے پی میں نہیں آئے بلکہ قیام سے ہی پارٹی میں رہے ہیں ۔ پچھلی مرتبہ ان کو مدھیہ پردیش سے بلا مقابلہ کامیاب کرکے ایوان بالا کا رکن بنایا گیا اور اقلیتی امور کے علاوہ ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کی وزارت کا اضافی چارج بھی دیا گیا لیکن اب انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیناپڑا کیونکہ ایوانِ بالا میں ان کی مدت کار کےختم ہونے پر پارٹی نے دوبارہ نامزد ہی نہیں کیا۔
جارج کورین مودی کابینہ میں واحد عیسائی چہرہ اور اقلیتی برادری کے نمایاں رہنما تھے۔ پچھلے ریاستی انتخاب میں کیرالا کے عیسائیوں کو رجھانے میں پارٹی ناکام رہی اس کے بعد کورین کو بلی کا بکرا بناکر تنظیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کیرالا بھیج دیا گیا ۔ اسی طرح رونیت سنگھ بٹو کا بھی راجستھان سے ٹکٹ کاٹ دیا گیا اس لیےا نہیں ریلوے وزیرِ مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بٹو کوپنجاب کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے لیے فعال کردار ادا کرنے اور انتخابی مہم پر پوری توجہ دینے کے بہانے بھگایا گیا۔ ویسے رنویت سنگھ اسی سلوک کے مستحق تھے کیونکہ 3؍مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر ایوان زیریں کا انتخاب جیتنےکے باوجود وہ2024؍ انتخاب سے قبل بی جے پی میں شامل ہوکر لوک سبھا کا الیکشن ہار گئے مگر چونکہ ان سے وزارت کا وعدہ کیا گیا تھا اس لیے راجیہ سبھا میں لاکر وزیر بنایا گیا مگر ’چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات‘ کی مصداق اب وہ جھنجھنا چھین لیا گیا۔ وہ وزیر بھی نہیں رہے اور پارلیمانی رکنیت بھی گنوا بیٹھے ۔ کاکروچ پارٹی کا سب بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے بی جے پی کے پچھلے بارہ سالوں میں گھڑے جانے والےسارے بیانیوں کے غباروں کو ایک ایک کرکے پھو ڑدیا۔
زعفرانیوں کا پہلا مقبولِ عام بیانیہ یہ تھا کہ آر ایس ایس نے سو سالوں تک بے حد محنت کرکے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کردی ہے ۔ اس کو سیندھ مارنا اب ناممکن ہے ۔ کاکروچ پارٹی نے ایک ماہ کے اندر اس دیوار کو گرا کر سنگھ کی سو سالہ محنت و مشقت پر پانی پھیر دیا۔ ایک اور بھرم یہ پھیلایا گیا تھا کہ ہندوستان کا پڑھا لکھا متوسط طبقہ اب پوری طرح سنگھ پریوار کے چنگل میں پھنس چکا ہے ۔ میڈیا کے ذریعہ اس کا’ برین واش‘ ہوچکا ہے اور وہ کبھی کبھی بی جے پی کے خلاف نہیں جائے گا ۔ اس لیے ان کے ووٹ اور نوٹ کی مدد سے بی جے پی تاقیامت ہندوستان پر حکومت کرے گی۔ اس کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا ۔ موجودہ جنتر منتر کی تحریک میں ویسے تو سب لوگ شامل ہیں مگر ان میں وہی خوشحال ہندو آگے آگےتھے جن کے بچے کوچنگ پر لاکھوں روپئے خرچ کرکے مقابلہ جاتی اور نیٹ امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس لیے بی جے پی نےاب کی بار اس شاخ کو زور و شور سے کاٹنے کی سعی کہ جس پر اس کا آشیانہ تھا ۔ دیکھتے دیکھتے اس طبقے کے اوپر سے ہندوتوا کا بخار اتر گیا اور زعفرانیوں کو برا بھلا کہنے لگا۔

ملک میں یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا تھا کہ بی جے پی کو مسلما ن ووٹ نہیں دیتے اور اسے اس کی ضرورت نہیں ہے اس لیے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں لیکن اس بار تو شاہ جی دہلی پولس اور ان کے غنڈے بلا تفریق مذہب و ملت سبھی پر ٹوٹ پڑے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بی جے پی کے اندر اختلاف برداشت کرنے کا یا تنقید سننے کا مادہ پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ بی جے پی کو ان تمام لوگوں سے دشمنی ہے جو اس کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان کی راہوں کا روڈہ اگر مسلمان ہیں توان کو مظالم کا شکار کرنے کے لیے پاکستان نواز یا بنگلہ دیشی درانداز کہا جائے گا۔ بی جے پی جب اشتراکیوں یا دلتوں سے پریشان ہوگی تو ان کو اربن نکسل کے نام سے بدنام کرکے ان کا جینا دوبھر کردے گی لیکن اگر سناتن دھرم کے ماننے والا تعلیم یافتہ ہندو بھی اس کے خلاف بولے گا تو ان پر بھی چڑھائی ہو جائے گی ۔ اس تحریک نے واضح کردیا میڈیا کے ذریعہ پھلائے جانے والے اس غبارے کی ہوا نکالنے کے لیے نوجوان نسل کی ایک انگلی کا اشارہ کافی ہے۔ کاکروچ کا مذاق اڑانے والے وزیر اعظم کا ٹویٹ بیکار گیا تو نصف شب میں ریل بناکرمودی جی بھائیو اور بہنو کے بجائےفرینڈز کہہ کر مخاطب کررہے ہیں۔ ایک دھر میندر پردھان کو بچانے کے لیے ملک و قوم کو ڈرایا دھمکایا گیا مگر بالآخر اس بزدل سرکار نے پنی ساکھ کو داوں پر لگا نے کے بعد ذلیل ہوکر اسے ہٹادیا۔ ملک کی نئی نسل (جین زی) نے ثابت کردیا کہ؎
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے