مختلف وقتوں میں پڑھی جانے والی نفل نمازیں

مختلف وقتوں میں پڑھی جانے والی نفل نمازیں

مختلف وقتوں میں پڑھی جانے والی نفل نمازیں

ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

اسلام میں ایمان لانے کے بعد ایک مسلمان جو چیز سب سے پہلے عائد ہوتی ہے وہ نماز ہے ،اسلام کا پہلا فریضہ نماز ہے جو ہر مسلمان پر دن ورات میں پانچ مرتبہ فرض ہے ،دیگر فرائض وعبادات کے مقابلہ میں نماز ادا کرنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے،قرآن مجید میں تقریبا ً سات سو مقامات پر اور صریح طور پر ستر مقامات پر نماز کا ذکر موجود ہے ،مختلف احادیث مبارکہ میں فرض نمازوں کی فضیلتیں اور ان کے مقررہ وقت پر ادا کرنے کا اجر وثواب اور بلاعذر چھوڑ پر سخت ترین وعیدیں سنائی گئی ہیں ، اسی طرح سنت اور نفل نمازوں کے پڑھنے پر بھی اجر وثواب اور دخول جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ،رسول اللہؐ فرض نمازوں کے علاوہ مختلف وقتوں میں نفل نمازیں بھی اہتمام سے ادا فرماتے تھے، آپؐکا نمازوں سے شوق کا عالم یہ تھا کہ ایک نماز کے ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کا شدت سے انتظار فرماتے تھے ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ جب گھر میں تشریف فرما ہوتے تو گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے لیکن جیسے ہی اذان ہوتی تو اجنبی بن جاتے اور فوراً باہر نکل جاتے ( اور مسجد کا رخ فرماتے تھے) (بخاری: ۳۶۳۵)، اسی طرح صحابہ ؓ کے دلوں میں بھی نماز کی ایسی عظمت اور چاہت پیدا فردی تھی کہ وہ بھی حددرجہ نمازوں کا اہتمام کیا کرتے تھے بلکہ ان کے نزدیک دورکعت نماز دنیا وما فیہا سے بھی زیادہ قیمتی تھی ۔
رسول اللہ ؐ فرض نمازوں کے علاوہ دن ورات کے مختلف وقتوں میں نفل نمازوں کا بھی خوب اہتمام فرمایا کرتے تھے ،احادیث مبارکہ میں نفل نمازوں کی فضیلتیں اور ان کے اجروثواب بھی ذکر کئے گئے ہیں ، فرض نماز یں جہاں آدمی کو متقی بنادیتی ہیں وہیں نفل نمازیں پڑھنے والے کو مقربین کی صف میں کھڑا کر دیتی ہیں کیونکہ سجدوں کی کثرت بندہ کو رب کا مقرب بنادیتی ہے ،رسول اللہ ؐ نفل نمازوں اور خاص کر راتوں میں پڑھی جانے والی نفل نمازوں میں طویل قیام وسجود کیا کرتے تھے ،بساوقات اس قدر طویل قیام فرماتے کہ پائے اقدس پر ورم آجاتا تھا ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ رات کی نماز میں اس قدر طویل سجدے کیا کرتے تھے کہ مجھے ڈر ہوتا تھا کہ کہیں آپ ؐ وصالِ بحق تو نہیں کر گئے ہیں پھر ہاتھ سے چھونے پر آپؐ ؐ کے حیات ہونے کا علم ہوتا تھا (نسائی: ۱۰۱۱) ،سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ؐ کی خدمت میں رات گزارا کرتا تھا ،آپ ؐ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورریات ( مسواک وغیرہ) کا خیال رکھتا تھا ،( ایک رات خوش ہو کر) آپ ؐ نے مجھ سے فرمایا: ( ابن کعب ! دین ودنیا کی کچھ بھلائی چاہتے ہو تو) مانگ لو( مجھ سے دعا کرواؤ ) ،میں نے کہا : ( کچھ بھی نہیں یا رسول اللہ ؐ ،بس ) جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ،آپ ؐ نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور چیز؟ ،میں نے کہا : بس یہی چاہئے! پھر آپ ؐ نے فرمایا: بس اپنی ذات کے لئے سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو(نفل نمازوں کا خوب اہتمام کرو ،اس کے ذریعہ ضرو تمہیں جنت میں میری رفاقت نصیب ہوگی) ( ترمذی:۳۴۱۶)، رسول اللہ ؐ دن ورات میں جن مخصوص نفل نمازوں کا اہتمام کرتے تھے وہ یہ ہیں ۔
(۱) نماز تہجد۔نماز تہجد نفل نمازوں میں سے سب سے زیادہ اہمیت وفضیلت کی حامل ہے ،سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐنے ارشاد فرمایا : فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے ( ترمذی: ۱؍۹۹)،سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے،اس پر ایک دیہاتی کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے کہ، اے اللہ کے رسول ؐ ! یہ بالا خانے کن لوگوں کے لئے ہوں گے ؟ تو آپ ؐ نے فرمایا : اس کے لئے جو اچھا کلام کرے ،(مسکینوں کو ) کھانا کھلائے، ہمیشہ روزے رکھے اور رات کو نماز ( تہجد) پڑھے جب دوسرے لوگ سو رہے ہوں ( ترمذی: ۲؍۱۹) ،نماز تہجد کا وقت نماز عشاء کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے پہلے تک رہتا ہے مگر دو تہائی رات کے بعد پڑھنا افضل ہے، احادیث میںنماز تہجد کی چار،چھ،آٹھ اور دس رکعت تک بھی تعداد منقول ہے ،مگر اکثر رویات میں ہے کہ آپ ؐ کا اکثر معمول آٹھ رکعت پڑھنے کا تھا( ابن خزیمہ :۵۷۷۱)۔
(۲)نماز اشراق۔ سیدناانس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا:جس نے فجر کی نماز باجماعت سے پڑھی ،پھر وہیں اللہ کا ذکر کرنے بیٹھ گیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا،پھر اس نے دورکعتیں پڑھیں تو اس کے لئے ایک مکمل حج اور عمرہ کا ثواب ہے ،آپ ؐ نے یہ مکمل کا لفظ تین بار ارشاد فرمایا( ترمذی: ۱؍۱۳۰)،سیدنا حسن بن علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے فجر کی نماز پڑھی پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنے لگا یہاں تک کہ سورج نکل آیا ،پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ آگ کو حرام کر دیں گے کہ اسے کھائے(بیہقی:۳؍۸۵) ، نماز اشراق کی رکعتیں حسب سہولت دو یا چار پڑھ سکتے ہیں ، سورج نکل کر مکمل روشن ہو نے کے بعد اسے پڑھا جاتا ہے ( سورج نکلنے کے تقریبا ً پندرہ منٹ بعد) (۳)نماز چاشت۔ سیدنا ابوالدردا ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے چاشت کی دو رکعت پڑھی تو اس کا نام غافلین میں نہیں لکھا جائے گا،جس نے چار رکعت پڑھی تو اس کا نام عابدین میں لکھا جائے گا،جس نے چھ رکعت پڑھی تو اس دن اس کی کفایت کی جائے گی ،جس نے آٹھ رکعت پڑھی تو اس کا نام اطاعت شعاروں میں لکھا جائے گااور جس نے بارہ رکعت پڑھی تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر تعمیر کریں گے (مجمع الزوائد:۴۹۴)سیدنا ابوذر غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: جب صبح ہوتی ہے تو انسان کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ واجب ہوتا ہے، ہر بار سبحان اللہ کہنا ایک صدقہ ہے ،ہر بار الحمد للہ کہنا ایک صدقہ ہے،ہر بار لا الہ الا اللہ کہنا ایک صدقہ ہے ،ہر بار اللہ اکبر کہنا ایک صدقہ ہے ،اچھی بات کا حکم کرنا ایک صدقہ ہے ،ہر بُری بات سے روکنا ایک صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہوجاتی ہیں جنہیں انسان پڑھ لیتا ہے (مسلم: ۱؍۲۵۰) ، چاشت کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں ، مسلم شریف میں ہے کہ آپ ؐ چاشت کی عموماً چار رکعتیں پڑھتے تھے اور کبھی اس سے زیادہ بھی پڑھتے تھے جو اللہ کو منظور ہوتا تھا، دن کا تہائی حصہ گزرنے کے بعد چاشت کا وقت شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے ۔
(۴) نماز اوابین۔سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھی اور ان کے درمیان کوئی بُری بات نہیں کی تو اسے بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملے گا( ترمذی: ۱؍۹۸) ،سیدنا عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے حبیب ؐ کو دیکھا کہ آپ ؐ مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھی تو اس کے گناہ معاف کر دئے جائیں گے اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ( الترغیب والترہیب : ۱؍۲۲۷)،سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ فرشتے ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہ ’’ صلوۃ الاوابین ‘‘ ہے( شرح السنہ: ۲؍ ۴۳۹) ۔(۵)صلوٰۃ التسبیح ۔رسول اللہ ؐ نے اپنے چچا سیدنا عباس ؓکو یہ نماز خاص اہتمام سے سکھائی تھی اور فرمایا تھا کہ اس کے پڑھنے سے تمہارے چھوٹے بڑے سب گناہ معاف ہوجائیں گے،اگر ہوسکے تو ہر روز پڑھ لیا کرو اور ہر روز نہ پڑھ سکو تو ہفتہ میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، ہر ہفتہ نہ پڑھ سکو تو مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کرو، ہر مہینہ نہ پڑھ سکو تو سال میں ایک بار پڑھ لیا کرو، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو ساری عمر میں ایک دفعہ پڑھ لینا۔ (ابوداؤد: ۱۱۸۴) صلوٰۃ التسبیح کی چار رکعتیں ہیں ،اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ اس طرح ہے کہ چار رکعت نفل کی نیت باندھ کر ثناء پڑھے، پھر سورۂ فاتحہ و ضم سورہ پڑھ کر ۱۵؍مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرْ پڑھے، پھر رکوع میں جائے اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کے بعد ۱۰؍مرتبہ یہ کلمہ پڑھے، پھر رکوع سے کھڑے ہوکر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ کے بعد ۱۰؍مرتبہ مذکورہ کلمہ پڑھے اور پھر دونوں سجدوں میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰکے بعد ۱۰۔۱۰۔ مرتبہ یہ کلمہ پڑھے، پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر ۱۰؍ مرتبہ مذکورہ کلمہ پڑھے، اور دوسرے سجدہ سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کراٹھ کر بیٹھ جائے اور۱۰؍مرتبہ یہ کلمہ پڑھے، پھر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کر دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے، دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھے اورجب دوسری رکعت میں التحیات کے لئے بیٹھے تو ۱۰؍ مرتبہ یہ کلمہ پڑھے ، اس طرح چار رکعتیں پوری پڑھے۔ ہر رکعت میں ۷۵؍مرتبہ اور پوری نماز میں ۳۰۰؍مرتبہ یہ کلمہ پڑھنا چاہئے اور اگر بھولے سے کسی مقام پر چھوٹ جائے تو دوسرے مقام میں ادا کرلے ،نوٹ:دونوں قعدوں میں پہلے التحیات پڑھے پھر یہ کلمہ پڑھے ۔ (مسائل نماز ،مولانا محمد رفعت قاسمی)۔
ویسے تو عام نفل نمازیں مکروہ اور ممنوع وقتوں کے علاوہ کسی بھی وقت میں پڑھنا جائز ہے اور پڑھنا بھی چاہئے مگر اوپر جن نفل نمازوں کا ذکر کیا گیا ہے رسول اللہؐ بطور خاص دن اور رات میں ان نفل نمازوں کا اہتمام فرماتے تھے اس لئے فرض نمازوں کے علاوہ ان کا اہتمام کرنا چاہئے ،احادیث مبارکہ کی روشنی میں اہل علم فرماتے ہیں جو شخص فرض نمازوں کے علاوہ ان نمازوں کا اہتمام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا قرب عطا فرماتے ہیں ،رحمتوں کے دروازے اس کے لئے کھول دیتے ہیں،دل کو اطمینان سے بھردیتے ہیں ، ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں جس کا اسے گمان تک نہیں ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا فرماتے ہیں ،صحابہ ؓ اور تابعینؒ کے علاوہ تاریخ میں ایسے نمایاں نام موجود ہیں جنہوں نے پوری زندگی ان نفل نمازوں کا اہتمام کیا تھا ،بعض اہل اللہ وہ ہیں کہ ہوش سنبھالنے کے بعد جن سے نماز تہجد اور اوابین شاید ہی کبھی چھوٹی ہو ئی ہوگی ، ان بزرگوں نے جس طرح ان نمازوں کا اپنے اوپر التزام کیا تھا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی کوشش کرکے ان نمازوں کے پڑھنے کا اہتمام کریں ،آدمی اگر کوشش کرے توکیا نہیں کر سکتا ہے اور کہتے ہیں کہ کوشش کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے نیز سجدوں کی کثرت انسان کو ہر مصیبت سے نجات دلاتی ہے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے