الفاظ آپ کی نسلوں کا پتہ دیتے ہیں!

الفاظ آپ کی نسلوں کا پتہ دیتے ہیں!

الفاظ آپ کی نسلوں کا پتہ دیتے ہیں!

ازقلم:سیما شکور (حیدرآباد)

ہم ہمیشہ لوگوں سے اچھے رویوں کی امید تو رکھتے ہیں۔ لیکن خود ہمارے رویے لوگوں کو اتنی تکلیف دیتے ہیں جو وہ کبھی نہیں بھول پاتے۔ ہم نے اپنے لیے الگ پیمانہ بنا رکھا ہے ہمیں اتنی فرصت تو نہیں کہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکیں مگر…اتنا وقت ضرورہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکیں اور ان میں باریک بینی سے عیب تلاش کریں۔ انسان بڑی سے بڑی مصیبت اور تکلیف دہ لمحات کو بھول سکتاہے لیکن…انسان و ہ زخم کبھی نہیں بھول سکتا جو اس کے دل پر کسی نے اپنے لفظوں سے لگائے تھے۔ وہ زخم سدا رستے رہتے ہیں وہ کبھی بھی مندمل نہیںہوپاتے۔زلزلوں سے اتنی تباہی نہیںآتی عمارتیں دوبارہ تعمیر ہوجاتی ہیں۔ مرجانے والے لوگوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن کسی کے زہریلے لفظ ہماری زندگی کو ہی بدل کررکھ دیتے ہیں۔

خوبصورت لفظوں سے سجی خوبصورت گفتگو جینے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اور ناشائستہ بدنما اور بدصورت رویے ہمارے حوصلوں کو پست کردیا کرتے ہیں۔ اگر آپ کی زبان آپ کے قابو میں نہیں وہ ہمیشہ نشتر برسانے کی عادی ہے تو پھر جان لیجئے آپ سے لوگ ہمیشہ نفرت کریںگے آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آپ کا ذکر برے لفظوں سے کیا جائے گا۔ میٹھی گفتگو لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ لوگ آپ کی صحبت میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اورآپ کو عزت واحترام سے پکارا جاتا ہے۔ یاد رکھئے الفاظ آپ کی نسلوں کا پتہ دیتے ہیں۔ اس لیے سو چ سمجھ کر الفاظ کا انتخاب کیجئے۔ طعنہ زنی اور طنز یہ گفتگو سے احتراز کیجئے۔ اپنی زہریلی زبان سے لوگوں کو دکھ پہنچانے والے لوگ ہمیشہ تنہا رہ جاتے ہیں لوگ ان کی صحبت میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے خوبصورت رویے ہمارے چہرے کو خوبصورت بناتے ہیں۔ ہماری شخصیت میں کشش اور دلکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور نخوت بھرے لوگوں کے بدترین رویے ان کی شخصیت کو بدنما اور کریہہ بنادیتے ہیں۔ ہم خوبصورت بننے کے بہت خواہشمند ہوتے ہیں اور اس کیلئے کئی جتن کرتے ہیں لیکن اپنی بدعادات کو بدلنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔ ہمارا چہرہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے ہمارے رویے ہوتے ہیں۔ شیشہ وہی عکس دکھایا کرتا ہے جو سامنے موجود ہوتا ہے۔

سارے مسائل کی جڑزبان ہی ہے۔ زبان کے غلط استعمال کی وجہ سے کتنے گھر برباد ہوچکے ہیں۔ یہ خامی مردوں کے مقابلے میں خواتین میں کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ کتنے ہی مسائل ہوں وہ انہیںحل کرنے کی بجائے دوسروں کی کھوج میں اپنا قیمتی وقت برباد کردیتی ہیں۔ وہ صرف اس دھن میں رہتی ہیں کہ کس طرح بنا سنورا جائے۔ کیسے زبان کے تیر سے لوگوں کے دلوںکو چھلنی کیا جائے۔ کیسے اپنی شان وشوکت کو ظاہر کیا جائے۔ کیسے دوسروں کو نیچا دکھایا جائے۔ لیکن…وہ کبھی یہ نہیں سوچتیں کہ کن خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کریں کہ ان کی سیرت سنور جائے۔اپنی خامیوں کو سدھارنا تو دور کی بات ہے وہ اپنے خلاف ایک لفظ تک سننا نہیں چاہتیں۔ اکثر خواتین کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہروں پر اعتماد نہیں کرتیں۔ ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ان کے شوہر اگرکسی خاتون کی خوبی کو معمولی سا سراہیں بھی تو وہ آگ بگولہ ہوجاتی ہیں۔ ان سے اتنا بھی برداشت نہیں ہوتا۔ وہ آپے سے باہر ہوجاتی ہیں۔

الزامات کی بوچھاڑ کردیتی ہیں۔ اوربعض لوگ تو دلائل تک سننا نہیں چاہتے۔صرف اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں۔ دوسروں کو اہمیت دینا اور ان کی بات صبرو تحمل سے سننا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ زبان کی وجہ سے ہی کتنے اپنے اپنوں سے دور ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان میںخود پسندی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جھوٹی انا کی دیواروں میںقید ہوکراپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کبھی نہیںمانتے۔ خونی رشتے برسوں ایک دوسرے کی شکل نہیںدیکھتے وہ اپنے ہی خول میں بند رہتے ہیں۔ انہیں ان کی خوشی وغمی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کی ذرا سی مدد بھی کردیںتو ساری زندگی لفظوں کے تیر برسا کر احسان جتاتے رہتے ہیں۔ وہ چاہے ان کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔ زبان کا زخم کبھی نہیں بھرا کرتا۔ وہ ناسور بن کر رستا رہتا ہے۔

اسلام بھی اخلاق کے ذریعے ہی پھیلا تھا۔ تلواروں کے ذریعے نہیں۔ اسلام میں نرمی پر زور دیا گیا ہے لیکن افسوس ہم اسلام کے نام لیواتوہیں مگراسلام پر نہیں چلتے۔ ہم اچھے تو کہلوانا چاہتے ہیںلیکن اچھے کردار کے مالک بننا نہیں چاہتے۔ ہم منافقت کی زندگی جی رہے ہیں۔ آج اللہ کاعذاب کورونا وائرس کی صورت میں ہمارے اوپر نازل ہوا ہے لیکن ہمیں پھر بھی اپنی غلطیاں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اللہ کا قہر ماننے کیلئے بھی ہم تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں۔ دل سے توبہ کریں اور خاص طور پران لوگوں سے معافی مانگیں جن کے دلوں کو ہم نے چھلنی کردیاتھا۔

اپنے برے رویوں سے، اپنی گندی زبان سے،ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھیں کیسے کیسے گناہ ہم سے سرزد ہوچکے ہیں۔ کتنے محترم اور خونی رشتوں سے اپنی زبان کی بدولت دور ہوچکے ہیں یہ عذاب عظیم تو آنا ہی تھا۔ گناہ جو اس قدر بڑھ چکے ہیں۔ ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر لوگوں میں خامیاں تاش کرتے ہیں اور وہ گناہ عظیم جسے غیبت کہاجاتا ہے اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لوگوں میں آپس میں جدائیاں پیدا کرنا ہمارا کام رہ گیا ہے۔ ہم نے اپنی ناپاک زبان سے رشتوں کو توڑنے کاکام کیا ہے۔ ہم نے کبھی بھی رشتوں کو جوڑنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ عذاب ٹل سکتا ہے اگر ہم اپنے گناہوں پر نادم ہوں انہیں تسلیم کریں اور توبہ کریں۔ اگر اللہ نے ہمیں معاف کردیا تو ضرور یہ عذاب رک سکتا ہے۔ بات دل سے توبہ کرنے کی ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی ہے ناکہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی۔ا للہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق دے اور ہم سب کو نیک ہدایت دے اور ہم سب کو نرم رویہ اختیار کرنے کی توفیق دے۔(آمین)
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے