مغربی بنگال میں بی جے پی کو بہت جلد رتابرتا بنرجی کی صورت میں ایکناتھ شندے مل گیا اور اس کی مدد سے وہاں بھی مہاراشٹر کی کہانی دوہرانے کا کام شروع ہوگیا۔ یہ تنازع مغربی بنگال اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کے لیے ترنمول کانگریس نے سوبھندیب چٹوپادھیائے کا نام تجویز کیا تو اس فیصلے کے خلاف رتابرتا بنرجی سمیت سندیپن ساہا نامی رکن اسمبلی نے اس قرارداد پر کئی ارکانِ اسمبلی کے دستخط جعلی ہونے کا الزام لگا دیا ۔ اسمبلی اسپیکر رتندرا بوس سے جیسے ہی باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ریاستی سی آئی ڈی نے تفتیش شروع کر دی۔ اس میں مزیدکچھ ارکان نے الزام کی تائید میں قرارداد پر ان کے دستخط نہیں ہونے کا اعتراف کرلیا ۔ تنازع کےبڑھتےہی رتابرتا بنرجی اور سندیپن ساہا کو معطل کر کے پارٹی سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ ایسے معاملات پربراہِ راست آئینی اداروں سے رجوع کرنے کے بجائے اندرونی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ممتا بنرجی کے خیال میں یہ اقدام پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ باغی ارکان اسمبلی ترنمول کو توڑنا چاہتے ہیں ۔ ممتا بنرجی کو یاد رکھنا پڑے گا کہ اب اقتدار کی زمامِ کار ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے اس لیے بغاوتوں کا سرکچلنا پہلے جیسا سہل نہیں ہوگا۔
رتابرتا بنرجی کا سیاسی بحران کوئی انتظامی تنازع نہیں بلکہ ممتا بنرجی کی قیادت کے لیے بڑا چیلنج ہےجو پارٹی میں رتبہ و اختیارکی کشمکش کی علامت بن سکتا ہے۔ ٹی ایم سی کے معطل رہنما اور سابق قومی ترجمان ریجو دتہ کے مطابق پارٹی کے ایک بڑے حلقے نے رتابرتا بنرجی کی حمایت شروع کر دی ہے۔ ترنمول کانگریس کے 80؍ ارکان اسمبلی میں سے تقریباً 50؍ اراکین نے ایک میٹنگ میں شریک ہوکراپنے ’’اصل ترنمول‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ۔وہ بہت جلد اسمبلی اسپیکر کو ایک نئی فہرست پیش کرنے کی تیاری کرکے ان کے تائید شدہ اپوزیشن لیڈر کونامزد کرنے کی درخواست کریں گے۔ یہ اندیشہ اگر حقیقت میں بدل جائے تو ایکناتھ شندے کی مانند اسپیکر اسی کو اصلی ترنمول مان لے گا اور عدالت ترنمول کا پارٹی نشان سے اس گروہ کو نواز دے گی ۔
یہ محض خیال آرائی نہیں بلکہ مہاراشٹر میں نہ صرف ایکناتھ شندے بلکہ اجیت پوار کو بھی پارٹی کا اصل نشان دیا گیا کیونکہ ان کے پاس ارکان اسمبلی کی زیادہ تعداد تھی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ٹی ایم سی کے کئی ارکان اسمبلی حالیہ پارٹی اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ہی پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر ناراضگی اور ممکنہ گروپ بندی کی چہ مگوئیاں گردش کرنے لگیں اور یہ بات ظاہرہو گئی کہ حالیہ اختلافات صرف دو نکالے گئے رہنماؤں تک محدود نہیں ہے۔بی جے پی اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی اس لیے سوبھندیب چٹوپادھیائے کو ہنوز قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر باضابطہ منظوری نہیں ملی۔ دستاویزات اور دستخطوں سے متعلق اعتراضات کی آڑ میں فیصلہ ملتوی کیا جارہا ہے۔ اب اگر اسمبلی کے اندر ایک بڑے گروپ کی حمایت کے ساتھ رتابرتا بنرجی اسپیکر کے سامنےآجائیں تو وہ بلاےوقف انہیں حزب اختلاف کا رہنما بنا دیں گے۔ یہ ممتا کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہوگا کیونکہ عدالت کے سامنے مہاراشٹر کی نذیر موجود ہے اور اسے آگے بڑھانے میں مرکزی حکومت کی خوشنودی بھی پنہاں ہے۔
یہ نئی صورتحال دو معنیٰ میں مہاراشٹر سے مختلف ہوگی ۔وہاں ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کو این ڈی اے میں شامل کرلیا گیا اس لیے حزب اختلاف موجود رہا ۔بنگالی تجربہ کامیاب ہوجائے تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے ہمنوا ہوجائیں گے اور مغربی بنگال میں یک جماعتی نظام حکومت نافذ ہوجائے گا جس میں تیسرے نمبر کی جماعت سے آنے والی ہر تحریک یا مزاحمت کو پہلے اور دوسرے نمبر ارکان مل کرکچل دیں گے۔ ریجو دتہ نے دوسرا نہایت سنسنی خیز دعویٰ یہ کیا ہے کہ کہ ٹی ایم سی کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی سے رابطے میں ہیں۔ان کے مطابق 12 لوک سبھا اراکین اور بعض راجیہ سبھا ممبران پہلے ہی بی جے پی کے ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تو نہیں ہو سکی مگر بہار میں جے ڈی یو کے ساتھ یہ ہوچکا ہے کہ اس کے ارکان اسمبلی کی وفاداری نتیش کمار کے بجائے امیت شاہ کے ساتھ ہے ۔ اس لیے جو کل بہار میں ہوچکا وہ مغربی بنگال میں کیوں نہیں ہوسکتا ہے۔ وہاں تو نتیش کمار این ڈی اے کے اندر ہیں جبکہ ممتا تو اس کی مخالف ہیں ۔
ممتا بنرجی کا اس تناظر میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو تنظیم کو ازسرنو کھڑی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح یہ پیغام دینا کہ ’جو لوگ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں وہ آزاد ہیں‘،اشارہ کرتا ہے کہ وہ ان خطرات کا ادراک کرچکی ہیں ۔ انتخابی نتائج کے بعد ممتا نے کہا تھا ’’میں جانتی ہوں کہ کئی لوگ دوسری جماعتوں میں جائیں گے۔ ان کی اپنی مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ مجھے اس پر کچھ نہیں کہنا۔ جو جانا چاہتا ہے وہ جاسکتا ہے۔ میں کسی کو زبردستی روکنے پر یقین نہیں رکھتی۔‘‘اب وہ کہہ رہی ہیں ’’جو لوگ دوسری جماعتوں میں جانا چاہتے ہیں، انہیں جانے دیں۔ میں پارٹی کو دوبارہ نئے سرے سے تعمیر کروں گی۔ جو لوگ پارٹی کے ساتھ ہیں وہ تباہ شدہ پارٹی دفاتر کو دوبارہ کھولیں، انہیں رنگ کریں اور تنظیم کو مضبوط بنائیں۔ ضرورت پڑی تو میں خود بھی دفاتر میں رنگ کرنے پہنچ جاؤں گی۔ ترنمول کانگریس کبھی جھکنے والی نہیں۔ عوام کے مینڈیٹ کو لوٹا گیا ہے۔‘‘
ٹی ایم سی کو توڑنے کے نتیجے میں باغیوں پر حملے کے امکانات تھے اس لیے پیش بندی کے طور پر رکن پالیمان ابھیشیک بنرجی کو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونار پور میں تشدد کا نشانہ بناکراسے عوامی غصے کا نام دے کر جائز ٹھہرایا گیا ۔ حملے کے بعد ابھیشیک بنرجی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہ سب بی جے پی کی سرپرستی میں ہورہا ہے ۔ یہ ان کی جمہوریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایک مہینہ بھی نہیں ہوا، پولیس کہیں نظر نہیں آرہی، کسی نے پیچھے سے حملہ کر دیا، پولیس کو بار بار بلانے کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔” ہندوستان کی تاریخ میں کسی رکن پارلیمان کے ہجومی تشدد کا یہ پہلا موقع ہے جبکہ ابھیشیک بنرجی پرنہ صرف انڈے پھینکے، ان کے کپڑے پھاڑے بلکہ سرپر پتھر چلایا گیا اور ہیلمٹ کی وجہ سے وہ بچ گئے۔ اس سانحہ کے اگلے دن ہوگلی میں ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ کلیان بنرجی پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں وہ سڑک پر گر پڑے تاہم انہیں کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی۔کلیان بنرجی اپنی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چندیتلا تھانے میں ایک یادداشت پیش کرنے جا رہے تھے ۔ وہ نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ پولیس نے انہیں روک لیا۔ اسی دوران کسی نامعلوم شخص نے پیچھے سے ان کے سر پر وار کر دیا، جس سے وہ درد سے کراہتے ہوئے زمین پر گر پڑے ۔
ترنمول کانگریس نے کلیان بنرجی پر حملے کو مکمل طور پر لاقانونیت قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ بتایا ہے ۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان کو 26 دن گزر چکے ہیں، لیکن انتخاب کے بعد ہونے والا تشدد بدستور بلا روک ٹوک جاری ہے ۔
پارٹی نے سوال اٹھایا کہ آخر ان شرپسند عناصر کو تھانے کے باہر جمع ہونے کی اجازت کیسے دی گئی، اور پولیس کی موجودگی میں پتھراؤ کیسے ممکن ہوا لیکن بی جے پی کا ردعمل نہایت غیر ذمہ دارانہ تھا۔ پہلے تو امیت مالویہ نے ابھیشیک پر حملے کو ٹی ایم سی کی آپسی رنجش قرار دیا لیکن جب حملہ آور کی شناخت ہوگئی تو اسے عوام کا جائز غم و غصہ بتا دیا گیا۔ کلیان بنرجی سے کسی قسم کی ہمدردی جتانے کے بجائے اس حملے کو ناٹک بتا دیا گیا ۔ ایسی بے حسی کی توقع سنگھ پریوارکے درندوں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ ان حملوں کے بعد آخرکار ممتا بنرجی ایک شیرنی کی مانند احتجاج کے لیے سڑک پراتر گئیں ۔
ممتا بنرجی نے اپنی طاقت کا پہلا بڑا مظاہرہ کولکتہ میں کیا۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ ابھیشیک بنرجی اور دیگر سرکردہ ٹی ایم سی لیڈروں کی سیکورٹی حملے سے عین قبل واپس لے لی گئی تھی، جو ایک گہری سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر انہیں بنگال میں جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے سے روکا گیا تو وہ اسے قومی دارالحکومت نئی دہلی لے جائیں گی۔ وہ بولیں ’’اگر وہ مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دیں۔ ہم مائیکروفون یا اسٹیج کے بغیر بھی عوام کے درمیان بیٹھیں گے‘‘وہ اپنے ایکس ہینڈل پر پہلے ہی لکھ چکی ہیں کہ ’’ہمارے امیدواروں نے شدید دباؤ، دھمکیوں اور مشکلات کے باوجود بہادری سے الیکشن لڑا۔ ترنمول کانگریس ایک خاندان کی طرح متحد ہے۔ ہم عوام کے مینڈیٹ کو لوٹنے والوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔ آخرکار سچ کی جیت ہوگی۔‘‘ممتا بنرجی نے بجا طور پر اپنے کارکنان کا حوصلہ بڑھانے کی بہت کوشش کی مگر خود ان بھوانی پور اسمبلی سیٹ جیسے سب سے مضبوط سیاسی قلعہ میں شکست گاش سے دوچار ہو جانا یہ بتاتا ہے کہ ؎
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے