Breaking
جمعرات. جون 4th, 2026

ڈی کے شیوکمار: تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

ڈی کے شیوکمار: تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

ڈی کے شیوکمار: تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

انتخابی کامیابی اور پارٹی کی تبدیلی کے بغیر اگر اقتدار کی زمامِ کار کسی ایک کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے پاس چلی جائے تو اس سے دانشوروں یامبصرین کو کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوتی لیکن پارٹی کے کارکنا ن اور عوام کوفرق پڑتا ہے کیونکہ ان کی نفسیات مختلف ہوتی ہے ۔ کرناٹک کے نئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی حلف برداری کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کانگریس کی قیادت نے نہ جب وزیر اعلیٰ نامزد کیا توا س کے بعد سارے مراحل بغاوت و یا ناراضی کے بغیر نہایت خوش اسلوبی سے پروقار انداز میں طے پاگئے۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ سمیت مجموعی طور پر 14 وزراء نے حلف لے لیا ۔ بی جے پی والے اپنے نظم و ضبط کو آر ایس ایس کی تربیت سے جوڑ کر بہت فخر جتاتے ہیں حالانکہ گجرات میں جب کیشو بھائی پٹیل کو ہٹا کر نریندر مودی وزیر اعلیٰ بنائے گئے تو انہوں نے پارٹی سے بغاوت کرکے اپنی علاقائی جماعت بنا ڈالی ۔ اسی طرح کارویہ کرناٹک کے یدورپاّ نے بھی اختیار کیا اور اپنی پارٹی بناکر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔ آگے چل کر وہ دونوں باغی بی جے پی میں لوٹ آئے اورخود کو اصول و ضوابط کا علمبردار کہنے والوں نے اپنے تھوک کو چاٹ لیا۔اس تناظر میں سابق وزیر اعلیٰ سدھاّ رمیا نے اپنی خاموشی سے یہ پیغام دیا کہ جو گرجنے والے نہیں برستے ۔پارٹی کارکنان کے لیے ڈی کے شیو کمار کی آمد اس شعر کی مصداق ہے؎
ہوائے تازہ کا جھونکا ادھر سے کیا گزرا گرے پڑے ہوئے پتوں میں جان آ گئی ہے
سابق وزیر اعلیٰ سدھاّ رمیا نہایت شریف النفس وزیر اعلیٰ تھے اس کے باوجود انہیں ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اس سوال کا پہلا جواب تو شرد پوار نے ہنستے ہنستے دے دیا تھا کہ ’روٹی کو الٹتے پلٹتے رہنا چاہیے ورنہ جل جاتی ہے‘ اس طرح گویا یہ’ پلٹ کر جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنے ‘ کی مشق ہے جس کے ذریعہ تنظیم’اپنا لہو گرم رکھتی ہے‘۔ کانگریس کے اندر بزرگ اور نوجوان نسل کو ساتھ رکھنے کا ایک فارمولا رہا ہے۔ وہ پہلے بزرگ کے ہاتھ میں زمامِ کار دے کر نوجوان سے کہتی ہے ڈھائی سال برداشت کرلو ۔ اس کے بعد تمہیں موقع ملے گا لیکن اس عہد کی پابندی نہیں کر پاتی ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوت کے ڈھائی سال ہوجانے پر سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں کیا گیا اس لیے پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اشوک گہلوت الیکشن ہار گئے۔ چھتیس گڑھ میں ساہا کو وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس خوف سے بھوپیش بگھیل کو ہٹایا نہیں گیا کہ کانگریس ہار جائے گی مگر پھر بھی وہ ہار گئے۔ کمل ناتھ کے بعد وکرمادتیہ سندھیا نے محسوس کیا کہ ا ن کو موقع نہیں ملے گا تو وہ بی جے پی سدھار گئے۔
موجودہ سیاست میں نوجوان رہنما پہلی بار وزیر اعلیٰ بننے کے لیے جوش و خروش کے ساتھ الیکشن لڑتا ہے۔ اسے ڈھائی سال کے لیے روکا جاسکتا ہے لیکن لامتناہی لٹکانا مہنگا پڑ جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے ہماچل میں سکھویندر سکھو کو وزیر اعلیٰ بنا کر نہایت مستحکم راجہ بریندر کو کنارے کیا گیا۔تلنگانہ میں بھی تیز طرار ریونت ریڈی کے سر پر تاج سجایا گیا۔کیرالہ کے اندر ستیشن کو وینو گوپال اور اشوک چنتھیلا جیسے معمر رہنماوں پر فوقیت دی گئی اور کرناٹک میں شیو کمار کو سدھاّ رمیا کی جگہ موقع دیا گیا۔یہ ایک طرزِ فکر کا فروغ ہے۔ اگلی نسل کو آگے نہیں بڑھانے والی وہ تنظیمیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ بی جے پی نے 2013 میں اپنے سب سے زیادہ تجربہ کار رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم کو کنارے کرکے ایک ایسے وزیر اعلیٰ کو آگے بڑھایا جس نے کبھی ایوانِ پارلیمان میں قدم نہیں رکھا تھا ۔ اس کایہ فائدہ ہواکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ اور لال کرشن اڈوانی ہم عمر تھے مگر مودی جی سے نئی نسل نے توقع کی کہ وہ آئیں گے تو کچھ نیا اور اچھا کریں گے ۔ اچھے دن نہیں آئےپھر بھی لوگوں نے انہیں مسندِ اقتدار پر فائز کردیا۔ بی جے پی بھی اپنے وزرائے اعلیٰ کو بدلتی ہے مثلاً گجرات میں مودی کے بعد آنندی بین کو بنایا گیا مگر پھر ان کو ہٹا کر وجئے روپانی اور اب بھوپندر پٹیل کو وزیر اعلیٰ بناکر عوام کی ناراضی کو کم کیا گیا۔شیوراج چوہان کو ہٹانا اور وجئے راجے سندھیا کو اقتدار سے دور رکھنا بھی مفید رہا ۔ ڈی کے شیوکمار کے آنے سے کانگریس کو ایسا ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔
ڈی کے شیوکمار اپنی سیاسی حکمتِ عملی، بحرانوں سے نمٹنے اور کرناٹک میں کانگریس تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے وہ کئی عشروں سے مصروفِ عمل ہیں اس لیے ان کا عہدہ اعلیٰ کمان کی چاپلوسی کے مرہونِ منت نہیں ہے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر شیوکمار کو پارٹی کا "ٹربل شوٹر” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے باعث پارٹی میں اپنا مقام مستحکم کیا ہے۔ اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے شیوکمار نے ماضی میں کانگریس حکومتوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ مثلاً 2002 میں جب مہاراشٹر کے اندر سیاسی بحران آیا تو وہ سارے ارکان کو کرناٹک لے گئے اور حکومت کو گرنے بچا لیا۔ 2017 کے گجرات راجیہ سبھا انتخابات اپنے ارکان کی کامیابی کے لیے انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہماچل پر دیش کی کانگریس میں جب بی جے پی نے بغاوت کروادی تو کانگریس نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں سرکار بچانے کی ذمہ داری سونپی جسے انہوں نے بخیر و خوبی نبھایا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ریاستی صدر کی حیثیت سے کرناٹک میں پارٹی کو کامیاب کرنے کی انتخابی حکمت عملی تیار کرکے اسے بڑی خوبی سے نافذ کیا اور بی جے پی کو دھول چٹائی ۔
ڈی کے شیوکمار کی پیدائش 15 مئی 1962 کو کاناکاپورا میں ہوئی ۔ 1980 کی دہائی میں طالب علم رہنما کے طور پر انہوں سیاست کا آغاز کیا۔ ریونت ریڈی کی مانند اس زمانے میں وہ سنگھ کی طلبا تنظیم اے بی وی پی سے منسلک ہوئے اور پرانے لوگ آج بھی اسے یاد کرکے انہیں قابل اعتماد نہیں سمجھتے مگر 1985 میں ابتدائی ناکامی کے قبل ہی انہوں نے کانگریس کا دامن تھام لیا تھا اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ 27 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ انہوں نے 1989 میں اسمبلی انتخابات جیتا اور اس کے بعد مسلسل آٹھ فتوحات حاصل کر کے ووکالیگا اکثریتی علاقوں میں مضبوط سیاسی بنیاد قائم کی۔ کرناٹک کے اندرلنگایت سماج کا سب سے زیادہ سیاسی دبدبہ ہے ۔ یدورپاّ کے سارے ناز بی جے پی اسی لیے اٹھاتی تھی کیونکہ وہ لنگایت سماج کے بڑے رہنما تھے۔ دوسرے نمبر ووکالیگا آتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم دیوگوڑا کا تعلق اسی برادری سے ہے مگر ان کا اثر و رسوخ ختم ہورہا ہے۔ ایسے میں ووکا لیگا سماج پر بی جے پی آنکھ لگائے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں ووکالیگا ہونے کے سبب شیوکمار کا دیوے گوڑا کے اثرات کو سمیٹنا بہت اہم ہے کیونکہ زندگی فسطائیت مخالف سیاست کرنے والے دیوے گوڑا کی جنتا دل (سیکولر) فی الحال این ڈی اے میں شامل ہیں۔
سدھاّ رمیا اور شیوکمار متضاد شخصیات کے حامل ہیں۔ اول الذکر دلت سماج سے آتے ہیں اور نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں اس کے برعکس ووکا لیگا برادی سے تعلق رکھنے والے شیوکمار بہت بڑے سرمایہ دار ہیں۔ بی جے پی کی ان پر نظر رہی ہے اس لیے ای ڈی کا چھاپہ ڈال کر انہیں اپنی واشنگ مشین میں دھلوانے کی سعی کی گئی۔ انہوں بی جے پی کے آگے جھکنے سے انکار کردیا تو مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ ان کو 2019 میں مختصر مدت کی قید و بند میں ڈال دیا۔ سونیا گاندھی نے اس وقت تہاڑ جیل میں ان سے ملاقات کرکے وعدہ کیا تھا کہ ان کی قربانی ضائع نہیں ہوگی ۔ کانگریس نے اگلے ہی سال یعنی 2020 میں شیوکمار کو کے پی سی سی کے صدر بنا دیا اور ہنوز وہ اس عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ حکومت میں وہ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے اس طرح پارٹی اور حکومت دونوں کا تجربہ حاصل کیا۔
مکیش امبانی نے گھر آکر سونیا اور راہل گاندھی کو دعوت دی مگر وہ لوگ نہیں گئے۔ اس کے باوجود ڈی کے شیوکمار نے اس تقریب میں شرکت کی تو یار دوستوں بہت باتیں بنائیں مگر گاندھی خاندان سے ان کے قریبی تعلقات بحال رہے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور ملکارجن کھڑگے سمیت کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اور اعتماد نے طویل مشاورت کے بعد انہیں ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچا دیا۔ڈی کے شیوکمار کی حلف برداری تقریب میں کرناٹک کے رہنے والے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے علاوہ پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کرناٹک کانگریس انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا، سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ ستیسن، ہری پرساد، محمد اظہر الدین، راجیو شکلا کے ساتھ ساتھ کئی فلمی ستارے بھی اس نظر آئے۔ امید ہے شیوکمار کی قیادت میں پارٹی پھرایک بار بی جے پی کو ہرانے میں کامیاب ہوجائے گی اور جنوبی ہند میں کمل کہیں بھی نہیں کھل سکے گا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے