آر سی بی نے تو ٹائٹل جیت لیا، مگر آپ کو کیا ملا؟
(پہلی ٹرافی پر11 لوگوں کی موت اور دوسری ٹرافی پر لاکھوں کا نقصان)
از قلم :مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف میدانوں کی فتوحات سے نہیں بلکہ افکار کی بلندی، کردار کی عظمت، وقت کی قدر شناسی اور مقاصدِ حیات کی درستی سے عروج حاصل کرتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ اپنے اصل اہداف کو فراموش کرکے تماشائیت، جذباتیت اور وقتی مسرتوں کے حصار میں محصور ہوجاتا ہے تو اس کی فکری بصیرت دھندلانے لگتی ہے اور اس کی ترجیحات کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
آئی پی ایل2026 کا باب اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ برسوں کی حسرتوں، تمناؤں اور طویل انتظار کے بعد آر سی بی نے بالآخر وہ ٹرافی دوسری مرتبہ اپنے نام کرلی جس کے حصول کے لیے اس کے مداح ایک عرصۂ دراز سے چشم براہ تھے۔ اس کامیابی پر اسٹیڈیم گونج اٹھے، سڑکیں نعروں سے بھر گئیں، ذرائع ابلاغ نے فتح کے ترانے چھیڑ دیے، سوشل میڈیا مبارک بادیوں کے سیلاب میں ڈوب گیا اور لاکھوں دل جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے۔
مگر اس تمام ہنگامۂ مسرت، شورشِ جذبات اور غوغائے جشن کے درمیان ایک سوال اپنی پوری سنجیدگی اور معنویت کے ساتھ ہر صاحبِ عقل و شعور کے دروازے پر دستک دیتا ہے:
آر سی بی نے تو ٹائٹل جیت لیا، مگر آپ کو کیا ملا ؟
یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک فکری احتساب، ایک وجدانی محاکمہ اور ایک خاموش دعوتِ تدبر ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو انسان کو اپنے نفس کے روبرو لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو انسان کو اس کی ترجیحات، اس کے معمولات، اس کی مصروفیات اور اس کے مقصدِ حیات پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے۔
آر سی بی کو دوسری مرتبہ ٹرافی مل گئی۔
کھلاڑیوں کو شہرت و مقبولیت حاصل ہوگئی۔
سرمایہ کاروں کو منافع کے نئے دروازے مل گئے۔
اشتہاری کمپنیوں نے اربوں کی تجارت کرلی۔
ذرائع ابلاغ کو موادِ تشہیر میسر آگیا۔
لیکن وہ نوجوان جس نے گھنٹوں بلکہ دنوں اور ہفتوں اس تماشے کے تعاقب میں صرف کردیے، جس نے اپنی نیندیں قربان کیں، اپنی علمی سرگرمیوں کو پسِ پشت ڈالا، اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا اور بعض اوقات اپنی عبادات تک میں کوتاہی برتی، آخر اس کے حصے میں کیا آیا؟
کیا اس کے شعور میں پختگی پیدا ہوئی؟کیا اس کی فکری بالیدگی میں اضافہ ہوا؟کیا اس کے اخلاق و کردار میں کوئی انقلاب برپا ہوا؟کیا اس کی معاشی حالت میں کوئی مثبت تبدیلی آئی؟کیا اس کے والدین اس سے زیادہ خوش ہوئے؟کیا اس کی قوم کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا؟کیا اس کی آخرت کے خزانے میں کوئی اضافہ ہوا؟
اگر تعصب، جذباتیت اور وقتی وارفتگی سے بالاتر ہوکر دیانت داری کے ساتھ جواب تلاش کیا جائے تو اکثر اوقات خاموشی ہی اس سوال کا سب سے سچا جواب بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عصرِ حاضر کا انسان ایک ایسے فکری انتشار اور ترجیحاتی بحران کا شکار ہے جس میں وہ اپنی عمرِ عزیز کے انمول لمحات ان سرگرمیوں پر نچھاور کررہا ہے جن کا حاصل چند ساعتوں کی مسرت، چند لمحوں کی جذباتی سرشاری اور چند روزہ مباحث و مناقشات کے سوا کچھ نہیں۔
یقیناً کھیل انسانی زندگی کا ایک جائز اور فطری پہلو ہے، لیکن جب کھیل تفریح سے بڑھ کر جنون بن جائے، دلچسپی سے بڑھ کر انہماک بن جائے اور مشغلہ بن کر مقصدِ حیات پر غالب آنے لگے تو پھر یہی تفریح فکری غفلت اور عملی زیاں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
وقت انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ مال و دولت ضائع ہوجائے تو دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہے، صحت متاثر ہوجائے تو علاج کے ذریعے کسی حد تک بحال ہوسکتی ہے، لیکن عمر کا وہ لمحہ جو گزر جائے، وہ قیامت تک واپس نہیں آتا۔ دنیا کی تمام دولتیں، تمام سلطنتیں اور تمام کامیابیاں مل کر بھی ایک گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں لاسکتیں۔
اسی لیے اہلِ بصیرت ہمیشہ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کس راہ میں صرف کررہا ہوں؟ میری توانائیاں کس مقصد کے لیے وقف ہیں؟ میری ترجیحات کا مرکز کیا ہے؟ اور میرے شب و روز کا حاصل آخر کیا ہے؟
آج جب آر سی بی کی کامیابی کے جشن کی گونج فضاؤں میں پھیل رہی ہے تو ہر صاحبِ شعور انسان کو اپنے دل کی عدالت میں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے خیر آر سی بی تو ٹائٹل جیت لیا، لیکن کیا میں نے بھی اپنی زندگی کا کوئی حقیقی ٹائٹل جیتا؟ یا میں محض دوسروں کی کامیابیوں کا تماشائی بن کر رہ گیاآاپ کا کیا فائدہ ہوا کیا نقصان ہوا آپ نے کبھی سوچا وقت کا ضیاع سب سے بڑا نقصان
وقت کا ضیاع — خاموش مگر سب سے بڑا خسارہ
آر سی بی کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرنے والوں میں لاکھوں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے پورے سیزن کے دوران اپنی توجہ، اپنی فکری توانائیاں اور اپنے شب و روز کا ایک بڑا حصہ میچوں کی متابعت، تبصروں کے انہماک، تجزیاتی پروگراموں کی دل چسپی اور سوشل میڈیا کی طویل بحثوں کی نذر کردیا۔ بظاہر یہ چند گھنٹوں کی تفریح محسوس ہوتی ہے، لیکن جب ان منتشر ساعتوں کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عمرِ عزیز کا ایک قابلِ لحاظ حصہ غیر محسوس انداز میں صرف ہوچکا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ بنتا ہے، وہ اپنے وقت کے استعمال ہی کا نتیجہ ہوتا ہےقوموں کی تعمیر، شخصیات کی تشکیل، علوم کی تحصیل، کاروبار کی ترقی، معاشی استحکام اور فکری ارتقاء سب وقت ہی کی صحیح سرمایہ کاری کے مرہونِ منت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب انسان وقت کو محض گھڑی کی سوئیوں سے نہیں ناپتے بلکہ اسے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ تصور کرتے ہیں۔
اگر انہی اوقات کو قرآنِ کریم کی آمیز تلاوت، دینی و عصری علوم کے مطالعے، فکری و علمی تربیت،یا کچھ حلال طریقے سے پیسوں کے کمانے؛ والدین کی خدمت، اولاد کی اصلاح، معاشی منصوبہ بندی یا کسی مفید ہنر کے حصول میں صرف کیا جاتا تو اس کے اثرات محض چند گھنٹوں تک محدود نہ رہتے بلکہ انسان کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے۔ ایک کتاب انسان کی سوچ بدل سکتی ہے، ایک مہارت انسان کا مستقبل سنوار سکتی ہے اور ایک نیک عمل انسان کی آخرت کا سرمایہ بن سکتا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج کا انسان مالی خسارے کو تو فوری طور پر محسوس کرلیتا ہے، لیکن وقت کے زیاں کو خسارہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مال کا نقصان وقتی ہوتا ہے جبکہ وقت کا نقصان دائمی ہوتا ہے۔ کھویا ہوا سرمایہ دوبارہ کمایا جاسکتا ہے، لیکن عمر کا گزرا ہوا لمحہ کبھی پلٹ کر نہیں آتا۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ بلیغ ارشاد اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے:
اے ابنِ آدم! تو دنوں کا مجموعہ ہے، جب تیرا ایک دن گزر جاتا ہے تو گویا تیرا ایک حصہ گزر جاتا ہے
یہ مختصر سا جملہ انسان کی پوری زندگی کا فلسفہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ درحقیقت انسان کا سرمایہ نہ اس کی جائیداد ہے، نہ اس کے بینک کھاتے اور نہ اس کی ظاہری آسائشیں؛ بلکہ اس کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے جو ہر لمحہ کم ہورہی ہے۔ ہر طلوعِ آفتاب زندگی کے دفتر سے ایک ورق کم کردیتا ہے اور ہر غروبِ آفتاب انسان کو اس کی منزلِ آخرت کے مزید قریب لے آتا ہے۔
اسی لیے اہلِ بصیرت ہمیشہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ان کے شب و روز کا حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کتنا وقت سیکھنے میں صرف کیا، کتنا وقت دوسروں کے نفع میں صرف کیا اور کتنا وقت ایسے کاموں میں گزرا جو ان کے لیے دنیا و آخرت میں باعثِ خیر بن سکتے ہیں۔
فائنل میچ کے اختتام کے بعد شور تھم گیا، تجزیے ختم ہوگئے، سوشل میڈیا کی گرما گرمی سرد پڑگئی اور فتح کے نعرے تاریخ کا حصہ بن گئے؛ لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ باقی رہی کہ اس دوران صرف ہونے والی عمر انسان کے نامۂ اعمال کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ اب وہ وقت نہ واپس آسکتا ہے اور نہ اس کا حساب ٹالا جاسکتا ہے۔
اسی تناظر میں قیامت کے دن کا تصور انسان کو سنجیدگی عطا کرتا ہے۔ وہ دن جب انسان اپنی عمر، اپنی جوانی، اپنی صلاحیتوں اور اپنی توانائیوں کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ اس دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کی پسندیدہ ٹیم کون سی تھی، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنی زندگی کی امانت کہاں صرف کی، اپنی قابلیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا اور اپنے شب و روز کا مصرف کیا بنایا۔
یہی وہ سوالات ہیں جو ایک صاحبِ ایمان کے دل میں فکری اضطراب اور محاسبۂ نفس کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ اگر آج ہم اپنے اوقات کا حساب لینے کے لیے تیار نہیں تو کل ہمیں اس کا حساب دینا ہوگا۔
لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان تفریح سے کلیتاً کنارہ کش ہوجائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تفریح کو اپنی زندگی پر مسلط نہ ہونے دے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی ترجیحات میں توازن قائم رکھے، اپنے وقت کو مقصدیت عطا کرے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسے اعمال، علوم اور خدمات کے لیے وقف کرے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکیں۔
نمازوں، عبادات اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پر کرکٹ جنون کے اثرات
ایک مسلمان کی زندگی محض کھانے، پینے، کمانے اور تفریح کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل پہچان اس کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق ہے۔ یہی تعلق اس کی روح کی غذا، اس کے قلب کی طمانیت اور اس کی زندگی کی حقیقی معنویت کا سرچشمہ ہے۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور دیگر عبادات درحقیقت اسی تعلق کو زندہ رکھنے کے ذرائع ہیں۔
لیکن جب انسان کسی شوق، مشغلے یا تفریح میں اس قدر منہمک ہوجائے کہ اس کے دل و دماغ پر اسی کا غلبہ ہوجائے تو اس کے اثرات صرف اس کے وقت پر نہیں بلکہ اس کی روحانی کیفیت پر بھی مرتب ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کھیل کا بے جا انہماک انسان کے باطن میں ایسی غفلت پیدا کردیتا ہے جس کا اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا۔
آج مشاہدہ یہ ہے کہ کرکٹ کے بڑے مقابلوں کے دوران لوگوں کی گفتگو، دلچسپی، جذبات اور توجہ کا مرکز مسلسل ایک ہی موضوع بنا رہتا ہے۔ صبح سے شام تک وہی تبصرے، وہی تجزیے، وہی پیش گوئیاں اور وہی مباحث۔کھلاڑیوں کو گالیاں مخالفین پر طنز۔ نتیجتاً دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد کے لیے جو جگہ ہونی چاہیے تھی، وہ رفتہ رفتہ دنیاوی دلچسپیوں سے بھرنے لگتی ہے۔
روحانیت کی دنیا کا ایک اصول یہ ہے کہ دل بیک وقت دو متضاد مرکزوں کا اسیر نہیں رہ سکتا۔ جس قدر دل دنیاوی مشاغل میں ڈوبتا جائے گا، اسی قدر عبادت کی لذت کم ہوتی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو نماز بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، تلاوت میں دل نہیں لگتا، دعا میں کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور مسجد کی فضا پہلے جیسی کشش محسوس نہیں ہوتی۔
اس کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کا ذہنی اور قلبی تعلق صالح ماحول سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ جو وقت پہلے علماء کی مجالس، دینی مطالعے، قرآن فہمی یا نیک صحبت میں گزرتا تھا، وہ آہستہ آہستہ کھیلوں کی خبروں، تبصروں اور غیر ضروری مباحث کی نذر ہونے لگتا ہے۔ نتیجتاً شخصیت کی روحانی تعمیر رک جاتی ہے اور دل میں ایک قسم کی بے حسی جنم لینے لگتی ہے۔
مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض نوجوان اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے بارے میں تو غیر معمولی معلومات رکھتے ہیں، لیکن انہیں اپنے دین کے بنیادی احکام، سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم واقعات اور اکابر امت کی خدمات کا خاطر خواہ علم نہیں ہوتا۔ یہ صرف معلومات کا فرق نہیں بلکہ ترجیحات کے بدل جانے کی علامت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت راسخ ہوجاتی ہے، وہ فضول مشاغل کے غلبے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ایسے لوگ تفریح بھی کرتے ہیں لیکن تفریح کو اپنی شخصیت، اپنے فکر اور اپنے ایمان پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ ان کی خوشیاں اور دلچسپیاں ان کے دینی فرائض اور روحانی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
یہاں اصل مسئلہ کرکٹ نہیں بلکہ دلوں کی وابستگی کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان کھیل دیکھتا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کے دل میں سب سے بڑی اہمیت کس چیز کی ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ کی یاد، نماز، قرآن اور آخرت کی فکر زندگی کے مرکز میں ہیں تو تفریح بھی اعتدال کے دائرے میں رہے گی، لیکن اگر تفریح زندگی کا محور بن جائے تو پھر روحانی زوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔
اس لیے ہر مسلمان کو وقتاً فوقتاً اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔ اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کی دلچسپیاں اسے اپنے رب کے قریب کررہی ہیں یا دور؟ اس کا شوق اس کے ایمان کو مضبوط بنا رہا ہے یا کمزور؟ اور اس کے شب و روز کا حاصل روحانی ترقی ہے یا قلبی غفلت؟
آر سی بی کی جیت ایک عارضی واقعہ ہے جو چند دنوں بعد یادوں کا حصہ بن جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق، نماز کی پابندی، قرآن سے وابستگی اور روحانی زندگی کی استواری وہ نعمتیں ہیں جن کے اثرات دنیا سے لے کر آخرت تک باقی رہتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان کبھی بھی عارضی مسرت کو دائمی سعادت پر ترجیح نہیں دیتا۔
کرکٹ کے جنون میں گم ہوتی نوجوان نسل – شناخت کا بحران اور قیادت کا فقدان
ہر قوم کی حقیقی قوت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان مستقبل کے معمار، آنے والے کل کے قائد، معاشرے کے رہنما اور قوم کے فکری سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب نوجوانوں کے افکار بلند ہوں تو قومیں بلند ہوتی ہیں، اور جب نوجوانوں کی سوچ محدود ہوجائے تو پوری قوم فکری جمود اور تہذیبی پسماندگی کا شکار ہوجاتی ہے۔
موجودہ دور کا ایک المیہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی اصل شناخت اور حقیقی کردار سے آہستہ آہستہ دور ہوتی جارہی ہے۔ وہ اس سوال پر کم غور کرتی ہے کہ اسے زندگی میں کیا بننا ہے، لیکن اس بات پر زیادہ غور کرتی ہے کہ کون سا کھلاڑی کتنے رنز بنا رہا ہے، کون سی ٹیم کس نمبر پر ہے اور کس کھلاڑی نے کون سا ریکارڈ توڑا ہے۔
آج کا نوجوان جن شخصیات کو اپنا آئیڈیل بنارہا ہے، ان میں اکثریت کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور سوشل میڈیا کی شخصیات کی ہے۔ اس کے برعکس علماء، مفکرین، مصلحین، سائنس دان، موجدین اور امت کی خدمت کرنے والی شخصیات رفتہ رفتہ نوجوانوں کی توجہ کے دائرے سے نکلتی جارہی ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں کے خواب بھی محدود ہوتے جارہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں کامیابی کا تصور بھی محض شہرت، مقبولیت اور ظاہری چمک دمک تک محدود ہوتا جارہا ہے۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ کھیلوں کے جنون نے نوجوانوں میں ایک قسم کی ذہنی وابستگی اور جذباتی غلامی پیدا کردی ہے۔ بعض نوجوان اپنی پسندیدہ ٹیم یا کھلاڑی کی حمایت میں اس قدر شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے۔ معمولی باتوں پر جھگڑے، تلخ کلامی اور باہمی نفرت تک کی نوبت آجاتی ہے۔ ایک کھیل جو تفریح کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، بعض اوقات تعصب اور تقسیم کا سبب بن جاتا ہے۔
قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عروج کے پیچھے ایسے نوجوان تھے جنہوں نے قیادت کا بوجھ اٹھایا، نئی راہیں تلاش کیں، فکری انقلاب برپا کیے اور اپنے معاشروں کو نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے اپنی توانائیاں تماشائیت میں نہیں بلکہ تخلیق، تعمیر اور خدمت میں صرف کیں۔ ان کے خواب اپنی ذات سے آگے بڑھ کر اپنی قوم اور انسانیت کی بھلائی تک پہنچتے تھے
افسوس کہ آج بہت سے نوجوان اپنی شخصیت کی تعمیر کے بجائے دوسروں کی شخصیتوں کے مداح بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ اپنی شناخت بنانے کے بجائے دوسروں کی شناختوں میں گم ہورہے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی کے مشن سے زیادہ اپنی پسندیدہ ٹیم کے اسکور کی فکر ہوتی ہے۔ یہی کیفیت رفتہ رفتہ ایک فکری خلا اور مقصدیت کے فقدان کو جنم دیتی ہے۔
جوانی دراصل قوتِ ارادی، بلند ہمتی اور انقلابی صلاحیتوں کا زمانہ ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں بڑے خواب دیکھے جاتے ہیں، بڑے منصوبے بنتے ہیں اور بڑے کارنامے انجام پاتے ہیں۔ اگر یہی دور جذباتی وابستگیوں، غیر ضروری مباحث اور وقتی دلچسپیوں میں گزر جائے تو معاشرہ اپنی سب سے قیمتی قوت سے محروم ہوجاتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم میں نمایاں ہوں، کردار میں مثالی ہوں، فکر میں گہرائی رکھتے ہوں، قیادت کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنی قوم کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسے نوجوان جو صرف تماشائی نہ ہوں بلکہ خود تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ نوجوان اپنی توجہ محض کھیلوں کی دنیا تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی شخصیت، اپنی شناخت اور اپنے مقصدِ حیات پر بھی سنجیدگی سے غور کریں۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ ان کی پسندیدہ ٹیم نے کتنے ٹائٹل جیتے، بلکہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ ان کے نوجوانوں نے علم، کردار، قیادت اور خدمت کے میدان میں کیا کارنامے انجام دیے۔
آر سی بی کی کامیابی کھیل کے میدان کی ایک خبر ہے، لیکن ایک نوجوان کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنی شناخت قائم کرے اور اپنی زندگی کو ایسا مقصد عطا کرے جو اس کے بعد بھی زندہ رہے۔
اجتماعی بے حسی ہے جب قوم تماشائی بن جائے
کسی بھی معاشرے کی زندگی صرف اس کی معیشت، آبادی یا عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کے افراد اپنے گرد و پیش کے حالات کے بارے میں کتنے حساس، ذمہ دار اور باخبر ہیں۔ زندہ قومیں صرف اپنے ذاتی مفادات کے بارے میں نہیں سوچتیں بلکہ اپنے معاشرے، اپنے ماحول اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی فکر مند رہتی ہیں۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسی اجتماعی بے حسی جنم لے رہی ہے جو خاموشی کے ساتھ ہماری قومی قوت کو کھوکھلا کررہی ہے۔ ہم تفریحی خبروں سے باخبر ہیں لیکن اپنے شہروں کے مسائل سے ناواقف ہیں۔ ہمیں کھلاڑیوں کے ریکارڈ یاد ہیں لیکن اپنے علاقے کے تعلیمی، معاشی اور سماجی مسائل کا علم نہیں۔ ہمیں اسکور بورڈ کی تبدیلی فوراً معلوم ہوجاتی ہے لیکن اپنے اردگرد پھیلتی ہوئی محرومیوں اور مشکلات کی خبر نہیں ہوتی۔
آج ہمارے شہروں میں بے شمار نوجوان روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں، ہزاروں خاندان بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، تعلیمی میدان میں بے شمار رکاوٹیں موجود ہیں، چھوٹے کاروبار مشکلات کا شکار ہیں اور معاشرتی سطح پر کئی پیچیدہ مسائل موجود ہیں۔ لیکن ان موضوعات پر جتنی سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے، وہ دکھائی نہیں دیتی۔
اس کے برعکس ایک کھیل کے نتیجے پر گھنٹوں مباحث ہوتے ہیں، دنوں تبصرے ہوتے ہیں اور ہفتوں جذباتی گفتگو جاری رہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کھیل کا نہیں بلکہ قومی شعور کی سمت کا بھی ہے۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ جب قومیں اپنی توجہ اہم مسائل سے ہٹاکر محض تفریحی سرگرمیوں میں الجھ جاتی ہیں تو ان کی فکری صلاحیتیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ مسائل حل کرنے والی قوم کے بجائے مسائل سے فرار اختیار کرنے والی قوم بن جاتی ہیں۔
مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی محدود کردیا ہے۔ محلے میں کسی ضرورت مند کی مدد، کسی طالب علم کی سرپرستی، کسی بیمار کی عیادت، کسی غریب کی اعانت اور کسی اجتماعی مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنا اب پہلے جیسا ذوق پیدا نہیں کرتا، جبکہ تفریحی موضوعات غیر معمولی دلچسپی کا مرکز بن جاتے ہیں۔
ایک باشعور معاشرہ اپنے نوجوانوں کو صرف تفریح نہیں دیتا بلکہ انہیں سماجی شعور بھی دیتا ہے۔ انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ صرف ناظر نہیں بلکہ اس معاشرے کے ذمہ دار رکن ہیں۔ ان کی خاموشی بھی اثر رکھتی ہے اور ان کا کردار بھی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہی اجتماعی توانائی، وہی جوش، وہی تنظیم اور وہی یکجہتی جو کھیلوں کے موقع پر نظر آتی ہے، معاشرتی خدمت، تعلیمی ترقی، صفائی، رفاہی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل میں صرف کی جائے تو ہمارے شہروں اور بستیوں کی صورت حال کس قدر بدل سکتی ہے۔
یہ باب کسی کھیل کی مخالفت نہیں بلکہ ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی کوشش ہے کہ قوموں کی عظمت صرف میدانوں میں حاصل ہونے والی فتوحات سے نہیں بنتی بلکہ اجتماعی شعور، سماجی ذمہ داری اور عوامی خدمت کے جذبے سے بنتی ہے۔
یہ کیسی خوشی ہے جو دوسروں کے گھروں میں ماتم چھوڑ جائے؟
خوشی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کامیابی پر مسرت کا اظہار ایک فطری جذبہ ہے اور کسی کھیل میں اپنی پسندیدہ ٹیم کی فتح پر خوش ہونا بھی ایک حد تک قابلِ فہم بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر خوشی قابلِ جشن ہوتی ہے؟ اور کیا ہر جشن انسانیت، شرافت اور اخلاقیات کی حدود سے آزاد ہوسکتا ہے؟
یہ سوال اس وقت اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے جب ہم ان المناک واقعات کو یاد کرتے ہیں جو آر سی بی کی کامیابی کے بعد پیش آئے۔ برسوں کے انتظار اور طویل عرصے کی حسرتوں کے بعد جب آر سی بی نے ٹائٹل اپنے نام کیا تو جشن کے نام پر ایسا ہجوم امڈا کہ بھگدڑ، بے نظمی اور جذباتی بے قابو پن نے 11 قیمتی جانوں کو نگل لیا۔ متعدد خاندانوں کے چراغ گل ہوگئے، کئی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، کئی باپوں کے سہارے چھن گئے اور کئی بہنوں اور بھائیوں کے چہروں کی مسکراہٹیں ہمیشہ کے لیے ماند پڑگئیں۔
آج ایک لمحے کے لیے ان گیارہ جانوں کے بارے میں سوچیے جنہوں نے اس ہنگامۂ جشن میں اپنی زندگیاں کھودیں۔ ان کے خواب کہاں گئے؟ ان کی آرزوئیں کہاں گئیں؟ ان کے اہلِ خانہ کی امیدوں کا کیا ہوا؟ کیا کوئی ٹرافی ان کی زندگی واپس لاسکتی ہے؟ کیا کوئی جشن ان کی سانسیں لوٹا سکتا ہے؟ کیا کوئی یادگاری تقریب ان ماؤں کے آنسو خشک کرسکتی ہے جو آج بھی اپنے بچوں کی یاد میں تڑپتی ہوں گی؟
کیا چند رسمی تعزیتی بیانات، چند یادگاری نشستیں یا چند لمحوں کی خاموشی ان خاندانوں کے دلوں کا خلا پُر کرسکتی ہیں؟
ہرگز نہیں۔
کسی کھیل کی کامیابی اگر انسانی جانوں کے نقصان، خاندانوں کی بربادی اور گھروں میں صفِ ماتم بچھ جانے کا سبب بن جائے تو پھر ایک حساس دل کو رک کر سوچنا چاہیے کہ آخر ہم خوشی منا رہے ہیں یا کسی اجتماعی سانحے پر پردہ ڈال رہے ہیں؟
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سال ایسے واقعات کے باوجود ہم نے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ جذبات اب بھی عقل پر غالب ہیں، شور اب بھی شعور سے زیادہ طاقتور ہے اور ہجوم اب بھی ذمہ داری سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سڑکیں مفلوج ہوجاتی ہیں، عوامی زندگی متاثر ہوتی ہے، کاروبار بند ہوجاتے ہیں اور عام شہری اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔
ایک طرف لوگ جشن منا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کوئی ماں اپنے بچے کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف نعرے لگ رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کسی ہسپتال میں ایک زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایک طرف قہقہے بلند ہورہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کسی گھر میں بین اور سسکیاں گونج رہی ہوتی ہیں۔
یہ منظر کسی بھی صاحبِ احساس انسان کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
خوشی اگر انسانیت سے خالی ہوجائے تو وہ محض شور رہ جاتی ہے۔ جشن اگر ذمہ داری سے محروم ہوجائے تو وہ فتنہ بن جاتا ہے۔ اور مسرت اگر دوسروں کے دکھ، تکلیف اور نقصان کو نظر انداز کردے تو وہ اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتی ہے۔
مہذب معاشروں میں کامیابیاں منائی جاتی ہیں، لیکن قانون کے دائرے میں۔ جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن دوسروں کے حقوق پامال کیے بغیر۔ خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن اس انداز سے نہیں کہ کسی کی جان خطرے میں پڑ جائے، کسی غریب کی کمائی برباد ہوجائے یا کسی خاندان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھن جائیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لیں۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہماری خوشی دوسروں کے لیے سکون کا پیغام بن رہی ہے یا مصیبت کا؟ کیا ہمارے جشن انسانیت کو بلند کررہے ہیں یا اسے مجروح کررہے ہیں؟
کیونکہ تاریخ ہمیشہ ٹرافیاں اٹھانے والوں کو ہی یاد نہیں رکھتی، بلکہ ان آنسوؤں کو بھی یاد رکھتی ہے جو بعض اوقات انہی جشنوں کے سائے میں بہائے گئے ہوتے ہیں۔ اور کوئی بھی حساس دل اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا کہ گیارہ انسانی جانیں کسی بھی کھیل، کسی بھی ٹرافی اور کسی بھی جشن سے کہیں زیادہ قیمتی تھیں۔
الغرض ! اس تحریر کو مکمل کرنے سے پہلے میں بار بار سوچ رہا تھا، اپنے دل کو ٹٹول رہا تھا، اپنے ضمیر سے سوال کر رہا تھا کہ آخر ایک ٹرافی کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ کیا واقعی دنیا کی کوئی کامیابی اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ اس کے سائے میں اٹھنے والے جنازوں کی آہٹ سنائی نہ دے؟ کیا کوئی خوشی اتنی بلند ہوسکتی ہے کہ اس کے شور میں ایک ماں کی سسکیاں دب جائیں؟ کیا کوئی جشن اتنا قیمتی ہوسکتا ہے کہ اس کے سامنے ایک باپ کے آنسو بے وقعت نظر آنے لگیں؟
میں سوچ رہا تھا کہ شاید اس وقت کوئی بوڑھا باپ اپنے گھر کے کسی خاموش کونے میں بیٹھا ہوگا۔ اس کے سامنے بیٹے کی تصویر ہوگی، آنکھوں میں نمی ہوگی اور دل میں ایک ایسا خلا ہوگا جسے الفاظ بیان نہیں کرسکتے۔ وہ سوچتا ہوگا کہ جس بیٹے کو میں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، آج وہی مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ جسے میری قبر پر فاتحہ پڑھنی تھی، آج میں اس کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر لوٹا ہوں۔
میں سوچ رہا تھا کہ شاید کوئی ماں رات کے آخری پہر اٹھ کر اپنے بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھولتی ہوگی، پھر اچانک یاد آتا ہوگا کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ وہ اس کے کپڑوں کو دیکھتی ہوگی، اس کے بستر کو چھوتی ہوگی اور پھر بے اختیار آنسو بہہ نکلتے ہوں گے۔ دنیا میں ماں کے لیے اس سے بڑی قیامت اور کیا ہوگی کہ اس کا جوان لال اس کی آنکھوں کے سامنے دنیا سے رخصت ہوجائے؟
میں سوچ رہا تھا کہ شاید کوئی بیوی آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہوگی۔ ہر دستک پر دل دھڑکتا ہوگا، ہر آواز پر امید جاگتی ہوگی، مگر پھر حقیقت کا زخم تازہ ہوجاتا ہوگا کہ جس شخص کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے خواب تھے، وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔
میں سوچ رہا تھا کہ شاید کوئی ننھا بچہ آج بھی اپنے والد کا انتظار کررہا ہوگا۔ اسے ابھی موت کا مطلب نہیں معلوم، اسے ابھی جدائی کا مفہوم نہیں سمجھ آتا، وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ اس کے ابو گھر نہیں آئے۔
پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا محض ٹرافی ان کے نام کردینے سے وہ واپس آجائیں گے؟ کیا گیارہ کرسیاں خالی چھوڑ دینے سے گیارہ گھروں کی ویرانی ختم ہوجائے گی؟ کیا چند لمحوں کی خاموشی ان دلوں کی چیخیں خاموش کرسکتی ہے؟ کیا افسوس کے چند جملے ان آنکھوں کے آنسو خشک کرسکتے ہیں جو شاید عمر بھر بہتے رہیں گے؟
اور میرے دل نے جواب دیا: نہیں!
کیونکہ بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو بھر تو جاتے ہیں مگر کبھی مندمل نہیں ہوتے۔ بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا غم زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتا ہے۔
اسی لیے میرا دل کہتا ہے کہ آنسوؤں کے درمیان منایا جانے والا جشن، جشن نہیں ہوتا۔ جنازوں کے سائے میں بلند ہونے والے نعرے، کامیابی نہیں ہوتے۔ سسکتی ہوئی ماؤں، ٹوٹے ہوئے باپوں، اجڑی ہوئی بیویوں اور منتظر بچوں کے درمیان تقسیم کی جانے والی خوشیاں، حقیقی خوشیاں نہیں ہوتیں۔
اور پھر اس پورے مضمون کے بعد بھی ایک سوال اب تک باقی ہے۔ ایک سوال جو شاید ہر ضمیر رکھنے والے انسان سے جواب مانگ رہا ہے۔ یہ سوال صرف کسی مداح سے نہیں، ہر نوجوان سے ہے، ہر باپ سے ہے، ہر ماں سے ہے، ہر طالبِ علم سے ہے، ہر اس شخص سے ہے جس نے کبھی دوسروں کی کامیابیوں میں اپنی زندگی کا سرمایہ خرچ کیا ہو:
آر سی بی نے تو ٹرافی جیت لی، مگر آپ کو کیا ملا؟
یہ سوال ابھی بھی جواب کا منتظر ہے۔
فکر کیجیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی خوشیوں میں ہم اپنی زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھیں، دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجاتے بجاتے اپنی منزل بھول جائیں، دوسروں کے خواب پورے ہوتے دیکھتے دیکھتے اپنے خواب دفن کردیں، اور جب پلٹ کر دیکھیں تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو، عمر ڈھل چکی ہو اور ہمارے دامن میں حسرتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہ گیا ہو۔
فکر کیجیے! کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کے جشن ختم ہوجائیں اور حسرتیں باقی رہ جائیں۔