’کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی- یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا‘
ازقلم:عبدالعزیز
جناب جواہر سرکار کو ممتا بنرجی نے راجیہ سبھا کا ممبر بنایا تھا لیکن وہ زیادہ دنوں تک ترنمول کانگریس میں نہیں رہ سکے۔ دو ڈھائی سال کے بعد ہی راجیہ سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ اپنے استعفیٰ کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’’پارٹی کے اندر بدعنوانی، رشوت خوری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور ریاست مغربی بنگال میں بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے‘‘۔ انھوں نے قانون کی حکمرانی کی خرابیوں پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ ترنمول کانگریس اسمبلی الیکشن میں ہارنے کے بعد ان کا بیان آیا تھا کہ اگر ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی ان کے مشورے پر توجہ دینے کی کوشش کی ہوتی تو ان کو آج یہ منہ دیکھنا نہیں پڑتا۔ اس وقت جبکہ ممتا بنرجی کی پارٹی کے 58 ایم ایل اے باغیانہ روش اختیار کرتے ہوئے نئی ترنمول کانگریس اور اصلی ترنمول کانگریس کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے ریتا برتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرلیا ہے تو جواہر سرکار نے ممتا بنرجی کے زوال کے چار بڑے اسباب بتائے ہیں۔
ایک سبب تو یہ بتایا ہے کہ ممتا بنرجی کی پارٹی میں چار پانچ افراد پر مشتمل چنڈال چوکڑی ہوگئی تھی جس سے محترمہ ممتا بنرجی راز و نیاز کی باتیں کرتی تھیں۔ کسی اور سے وہ بات کرنا گوارا نہیں کرتی تھیں۔ دوسری وجہ یہ بتائی ہے کہ جو لوگ زور زبردستی سے وصولی کرتے تھے ان کو جان بوجھ کر پارٹی کی طرف سے چھوٹ دی گئی تھی۔ موصوف نے بتایا کہ پارٹی میں بدعنوانی اور رشوت خوری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ پنچایتی سطح سے لے کر اوپری سطح تک سب کے سب اس میں ملوث تھے۔ انھوں نے کہاکہ قانون اگر اپنا کام کرے گا تو شاید ہی کوئی جیل جانے سے بچ سکے گا۔ انھوں نے مزید کہاکہ ریتا برتا بنرجی مارکسی پارٹی سے بے وفائی کرنے کی وجہ سے پارٹی سے نکالے گئے تھے۔ ممتا بنرجی نے انھیں راجیہ سبھا کا رکن بھی بنا دیا تھا۔ حالانکہ ان پر بدکاری کا الزام عائد تھا۔ اس وقت ریتا برتا بنرجی ترنمول کانگریس کے منحرف ممبرانِ اسمبلی کو بچانے کے لئے وزیر اعلیٰ سوبھندو ادھیکاری سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ ادھیکاری سے منحرف ممبران اسمبلی نے کہا ہوگا کہ مسٹر بنرجی کی سربراہی میں ان لوگوں کو کچھ وقت دیا جائے تو ترنمول کانگریس کے وجود اور عدم وجود کو برابر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
جناب جواہر سرکار نے یہ بھی کہا ہے کہ نئی پارٹی میں اٹھاون (58)ممبران اسمبلی کا آناً فاناً الگ ہوجانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ سب اپنے آپ کو قانون کی گرفت سے بچانا چاہتے ہیں۔ ایک طرح سے نئی پارٹی ان کے لئے انشورنس ثابت ہوگی۔ سابق کامریڈ لیڈر ریتا ربرتا بنرجی 58 ایم ایل اے میں سب سے زیادہ چالاک، ہوشیار اور تربیت یافتہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوان اور بھتہ خور قانون ساز سیاست دانوں سے انھوں نے کہاہوگا کہ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال سے بات چیت ہوگئی ہے ۔ نئی کشتی میں منحرف ممبران اسمبلی سوار ہوجائیں گے تو وہ آسانی سے نیّا پار لگا دیں گے۔
کانگریسی لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا ہے کہ ترنمول کانگریس کے منحرف ممبران اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے انھیں پارٹی میں شامل کرنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے انھیں نئی پارٹی تشکیل کرنی پڑی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ ممتا بنرجی نے کانگریس کو بنگال میں ختم کردیا تھا۔ آج وہی کچھ ممتا بنرجی کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ کانگریسی لیڈر نے مزید کہاکہ یہ وقت کی پکار ہے کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں راہل گاندھی کی قیادت کو تسلیم کرلیں اور ان کی سربراہی میں ’انڈیا اتحاد‘ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کریں جب ہی بھارتیہ جنتا پارٹی سے مقابلہ ممکن ہے۔
ممتا بنرجی نے پولس کو بھی بے دست و پا کردیا تھا۔ وہ اپنی پارٹی کے غنڈوں کے ذریعے حکمرانی کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے پولس کا محکمہ بھی ان سے ناراض تھا۔ ان کا اندازِ سیاست بھی کچھ اس طرح تھا کہ ان کے اندر مستقل مزاجی کی صفت بالکل نہیں تھی۔ جب چاہا جس کو چاہا اپنا لیا اور جس کو چاہا ٹھکرادیا۔ کبھی بی جے پی کی این ڈی اے میں شامل ہوگئیں، کبھی این ڈی اے کی سرکار میں وزیر بن گئیں ، کبھی کانگریس کو اپنایا اور جب مضبوط ہوگئیں تو کانگریس کو لات ماردی۔ وقتاً فوقتاً موقع بموقع بھارتیہ جنتا پارٹی کو سہارا بھی دیتی رہیں۔ انڈیا اتحاد کے ساتھ بھی ان کا رویہ اچھا نہیں رہا۔ کبھی وہ کہتی تھیں کہ وہ اتحاد میں شامل ہیں تو کبھی کہتی تھیں کہ ان کا اتحاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کبھی کانگریس کو برا بھلا کہتی تھیں تو کبھی راہل گاندھی کی مخالفت میں اتر آتی تھیں۔ یہ سب ان کی تلوّن مزاجی اور ترک مزاجی کا ایسا مظاہرہ تھا کہ جس کی وجہ سے اندر سے ان کی پارٹی کمزور ہوتی گئی۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کو پس پشت ڈال کر اپنے کم عمر بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو پارٹی میں نمبر 2 بنادیا۔ مکل رائے کو جنھوں نے پارٹی کو سنوارنے میں اپنے آپ کو وقف کردیا تھا اور وہ ممتا بنرجی کے بعد ترنمول کانگریس کے سب سے بڑے لیڈر تھے ان کو بھی اپنی نظروں سے گرادیا تھا۔ مکل رائے کو پارٹی سے بغاوت کرنی پڑی اور وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر ایم ایل اے ہوئے مگر جلد ان کی گھر واپسی ہوگئی۔ کسمپرسی کی حالت میں مکل رائے دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ممتا بنرجی کی تمام کمیوں، خامیوں اور خرابیوں کے باوجود مغربی بنگال کی سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ عوام میں ان کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ ان کو محض زور زبردستی ہرایا گیا ہے۔ الیکشن کے وقت ریاست کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا گیا تھا۔ ایس آئی آر کے ذریعے 27 لاکھوں ووٹروں کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا اور 6 لاکھ لوگوں کو ووٹر لسٹ میں پُر اسرار طریقے سے شامل کیا گیا ۔ ان سب کے باوجود بی جے پی کو محض 32 لاکھ ووٹس بی جے پی کو ترنمول کانگریس سے زیادہ ملے۔ اس حساب کتاب سے بھی اگر دیکھا جائے تو ممتا بنرجی کا پلڑا بھاری ہے اور ان کے مد مقابل نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی لیڈر ہے اور نہ ہی ترنمول کانگریس میں۔ عوام ممتا بنرجی کے ساتھ ہیں۔ 58 ایم ایل اے باغی اور منحرف ایم ایل اے ریتا برتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ جو لوگ بھی کھڑے ہیں وہ ترنمول کانگریس کی خرابیاں بیان کر رہے ہیں۔ ایک بڑی خرابی یہ بیان کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر جمہوریت نہیں تھی۔ دوسری بڑی خرابی ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو بتا رہے ہیں۔ یہ دونوں خرابیاں یقینا ایسی ہیں جو کسی بھی پارٹی کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن جو لوگ ان خرابیوں کو بیان کر رہے ہیں آخر وہ ترنمول کانگریس کا ٹکٹ لے کر اور ممتا بنرجی کی تصویر دکھاکر الیکشن میں کامیاب ہوئے اور پارٹی توڑ کر جو نئی پارٹی بنائی ہے کیا یہ جمہوری قدروں کی ہم آہنگ ہے۔ کیا ان میں سے کوئی اتنی جرأت کرسکتا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر دکھائے کہ اسے کتنے ووٹ مل سکتے ہیں۔ اٹھاون کے اٹھاون ایم ایل اے ایسے ہیں کہ اگر وہ الیکشن لڑیں گے تو ان کو دو چار ہزار یا دو چار سو ووٹوں سے زیادہ نہیں ملیں گے۔
جہاں تک ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے باقی رہنے یا زندہ رہنے کا معاملہ ہے تو وہ اس پر انحصار کرتا ہے کہ کیا ممتا بنرجی راہل گاندھی کی طرح اپنی پارٹی کی اصلاح کرسکیں گی؟ اور ابھیشیک بنرجی کو جو پارٹی کا سنجے گاندھی بنا چکی ہیں ان کی بھی اصلاح حال کر پائیں گی؟ اس طرح کے بہت سے چیلنجز ہیں جو مستقبل میں ممتا بنرجی کو Face (سامنا) کرنا پڑے گا۔ ان کے لئے واقعی ادھیر رنجن چودھری کا مشورہ صائب ہے کہ وہ ’انڈیا اتحاد‘ کو مضبوط کریں اور راہل گاندھی کی قیادت کو خوشی سے یا بادل نخواستہ تسلیم کریں۔ اس کے سوا پارٹی کو باقی رکھنے اور اپنے آپ کی قیادت کو پُر وقار بنانے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068