بی جے پی کے لیے سی جے پی کے احتجاج کو قابو میں کرنا بہت ہی آسان تھا مگر وہ ہر موڑ پر نادانستہ اس کو مضبوط کرتی چلی گئی اور بات اس قدر آگے بڑھ گئی کہ 23 جولائی کو گوہاٹی میں ہونے والے مظاہرے کے دوران بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے حکومت میں آسام کے وزیر ِ محصول کیشاب مہانتہ کی بیٹی دیبسا مہانتہ سی جے پی کے احتجاج میں نعرہ لگا رہی تھی ’نیم کا پتہ کڑوا ہے، مودی سالا بھڑوا ہے۔’ اور ریاست کے شعلہ بیان وزیر اعلیٰ کو وزیراعظم کے لیے توہین آمیز اور نازیبا الفاظ پر سانپ سونگھ گیا تھا۔اس تنازع کی ابتدا نیکر دھاری چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان سے ہوئی جس میں انہوں نے ملک بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ دیا تھا ۔ اس کے بعدعذرِ لنگ پیش ہوا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ موصوف کی زبان پھسل گئی لیکن طلبا پر بدترین تشدد کے بعد جب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو ان کے ردعمل نے ثابت کردیا کہ وہ تو ’من کی بات ‘ تھی۔ ایک پی آئی ایل داخل کو مسترد کرتے ہوئےموصوف نے فرمایا’ان کا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں‘ یعنی لہو لہان بے قصور طلبا کی سماعت کرکے ان کے زخموں پر مرہم رکھنا وقت کا ضیاع ہے۔
اس معاملے میں درخواست گذار نےویڈیو دیکھنے کا مطالبہ کیا تو سوریہ کانت بولے ’ان کے پاس وقت نہیں ہے‘حیرت ہےبرطانیہ جاکر سیاسی آقاوں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلنے والے چیف جسٹس کے پاس طلبا پر ہونے والے تشدد کو دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ کمال بے حسی ہے صاحب ۔ سنگھ کی شاکھا میں تربیت کے بغیر یہ ناممکن ہے۔ معلوم ہوا سنگھ کے سنگدل اپنے پیروکاروں کے دلوں کو پتھر کا بنا دیتے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت کا ردعمل کوئی انفردی معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ کا عمومی رویہ ہے۔ اس سے قبل دہلی کی ہائی کورٹ میں فریاد کی گئی تو جج صاحب نے فرمایا (بھاگو یہاں سے) ’’ہر چیز کو عدالت میں لانا ضروری نہیں ہے‘ یعنی ارنب گوسوامی کو پیشگی ضمانت دینے کے لیے جو عدالت رات کے ۸؍ بجے کھل سکتی ہے مگردن دہاڑے طلبا پر ہونے والے تشدد پر سماعت کووہ ضروری نہیں سمجھتی ۔ عدلیہ کے اندر تفریق و امتیاز اس انتہا پر ہو تو مقننہ اور انتظامیہ کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ اس تناظر میں جب وزیر اعظم کے پیپر لیک کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ’فاسٹ ٹریک‘(تیز رفتار) عدالتوں کے قیام سے کون مطمئن ہو گا؟ عدالت ’سلو ٹریک ہو یا ’فاسٹ ٹریک‘ وہاں جج تو آسمان سے نہیں اتریں گے؟ کوئی زہریلا سانپ پسنجر گاڑی سے سفر کرےیا ’بولیٹ ٹرین‘ سے ،اس کی زہرناکی پر اس کا اثر نہیں پڑتا؟ اسی لیے مودی جی کا ٹویٹ بے اثر ہوگیا کیونکہ ملک کا ہر دوسرا مسئلہ فاسٹ ٹریک پر سوار ہوکر حادثے کا شکار ہوجاتا ہے ۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نیٹ ( NEET) امتحان کے پیپر لیک معاملے پر کہا کہ اس کے بعد دوبارہ امتحان کرایا گیا۔ اس میں کون سی بڑی بات ہے یہ تو مجبوری تھی ؟ اگر دوبارہ امتحان نہ کراتے تو کیا سب کو پاس یا فیل کردیتے؟ سوال تو یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہی کیوں ہوئے ؟ اور پچھلے دس سال میں ڈیڑھ سو سے زیادہ مرتبہ یہ ہوا تو اس کے لیے ذمہ دار کون ہے؟ مودی جی فرماتے حکومت نے اس واقعے کے سامنے آتے ہی فوری کارروائی کی اور ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنایا۔ اس کےاصل ذمہ دار تو وہ خود ہیں انہوں نےکئی مرتبہ من کی بات میں امتحان پر چرچا کی لیکن کیا کبھی بھول کر بھی پیپر لیک یا اس سے متاثر ہونے والوں کا ذکر کیا؟ اور یہ بتایا کہ وہ اس کو روکنے کے لیے کیا کررہے ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی خودکشی کرنے والے طلبا کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا؟ اگر خود استعفیٰ نہ دیتے تو کم ازکم اپنے وزیر تعلیم سے استعفیٰ لے لیتے مگر وہ بھی نہیں کیا؟ ان کے وزیر تعلیم نے اتنے سارے پیپر لیک کے بعد بھی کسی مجرم کو سزا نہیں دلوائی۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پیپر لیک مافیا میں وہ خود شامل ہیں ؟ اس لیے انہیں بچا رہے ہیں ؟بلکہ آگے بڑھ کر وزیر تعلیم کو بچانے والے وزیر اعظم کے بارے میں بھی لوگوں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں ۔
وزیر اعظم کا ٹویٹ مستر دکرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے یہی تو کہا ہے کہ اب یہ معاملہ وزیر تعلیم سے آگے بڑھ کر وزیر اعظم تک پہنچ گیا ہے اور انہوں جنتر منتر پر موجود نوجوانوں سے پوچھا تو سب نے ایک زبان ہوکر وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ اس طرح ایک بدعنوان اور نااہل وزیر تعلیم کے پشت پناہی نے خود مودی جی کو نوجوانوں کے غم غصے کا نشانہ بنادیاہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد اب اس پروچن( نصیحت) سے کام نہیں چلے گا کہ ’’ اس سے ’بڑا کوئی گناہ نہیں ہے‘۔ وہ اگر اسے گناہ مانتے ہیں تو کم ازکم اپنے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لے کر گناہ گار کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں ۔ اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں ۔ طلبا کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے بعد ان کی ناک دوبارہ نہیں کٹے گی کیونکہ وہ دہلی میں پارلیمانی مارچ کو دبانے کے لیے کی جانے والی بربریت کے دوران کٹ چکی ہے۔ اس تشدد کا حکم دینے والے وزیر داخلہ کو نکال باہر کیا جانا چاہیے جن کے اشارے پر پولس اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے کھلے عام طلبا کو زدو کوب کیا اور ان کی شرمناک ویڈیوزاب پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کر چکی ہیں۔
وزیر اعظم کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ریاستی حکومتوں کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ دوبارہ کسی بھی امتحان میں پیپر لیک نہ ہو۔ موصوف جس وقت یہ بیان دے رہے تھے اتراکھنڈ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے امتحان میں پیپر لیک کا معاملہ سامنے آگیا۔ وہاں بی جے پی کی ریاستی حکومت ہے جسے یونیفارم سول کوڈ لانے اور مسلم دشمنی سے فرصت ملے تو وہ طلبا کے مسائل کی جانب توجہ کرے ۔اتراکھنڈ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے کنٹرولر آف ایگزامینیشنز ڈاکٹر وی کے پٹیل نے امتحانی پرچے لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوے دو امتحانات منسوخ کر کے اگست میں دوبارہ امتحانات کروانے کا اعلان کیا۔ پیپر لیک کے اس واقعہ نے امتحانات کی شفافیت اور نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا۔ دہرادون میں جہاں پچھلے دنوں راہل گاندھی کو جلسۂ عام کا مقام بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا پیپر لیک کے سبب مذکورہ یونیورسٹی سے منسلک 12 انجینئرنگ اداروں کے ہزاروں طلبہ متاثر ہوے ۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جو کمیٹی تشکیل دی اس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ امتحان سے پہلے ہی کالج کے ایک پروفیسر نے امتحانی پرچے کچھ طلبہ تک پہنچادیئے تھے۔
پیپر لیک کرنے والے پروفیسر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے اگلے سات سال تک امتحان سے جڑے کسی بھی کام میں شامل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ اس سے کیا ہوگا؟ اس پروفیسر کو پڑھانے کے علاوہ اضافی ذمہ داری سے ہٹادیا گیا لیکن ملازمت تو بحال ہے تنخواہ اور دیگر سہولیات جاری ہیں ۔ پیپر لیک کرکے اس نے جومالی فائدہ اٹھایا اسے بھی وصولا نہیں گیا اور نہ کوئی سزا دی گئی ۔اس طرح پیپر لیک معاملے میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا ہےکیونکہ اتراکھنڈ کا پروفیسر تو گرفتار نہیں ہوا۔ مودی جی کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 13؍ افراد کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے جبکہ 154؍ سے زیادہ پیپر لیک ہوئے۔ اس طرح ایک پیپر لیک پر واحد گرفتاری بھی شمار کی جائے تو صرف 20؍ فیصدگرفتاریاں اور باقی رہا، یعنی 80اور20فیصد والا وہی ہندو مسلمان یاپٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کا تناسب ، عجب اتفاق ہے۔ وزیر اعظم کی نظر میں قصورواروں کے خلاف یہ سخت ترین کارروائی ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے۔
وزیر اعظم نریندرمودی کہنے کو تو کہہ دیتے ہیں کہ طلبہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی معاملے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا لیکن پیپر لیک کے معاملے ان کی عدم سنجیدگی اور طلبا پر تشدد کے تئیں بے حسی اس کے خلاف گواہی دیتی ہے۔ اس لیے ان کا یہ عزم کہ امتحانات سے متعلق کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا کرپشن ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گاکھوکھلا جملہ لگتا ہے اور ان کی یقین دہانی کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی ناقابلِ اعتبار ہے ۔ حکومت ِ وقت نے جس سختی کے ساتھ احتجاج کرنے والے بے قصور طلبا کو کچلنے کی کوشش کی اگر اس کا عشرِ عشیر بھی پیپر لیک کرنے والوں کے خلاف ہوا ہوتا تو یہ معاملہ کب کا رک جاتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی نظر میں پیپر لیک کرنے والے تو دیش بھگت(قوم پرست) اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والے دہشت گرد ہیں اس لیے ایک نام نہاد قوم پرست حکومت کا رویہ دونوں کے خلاف متضاد نوعیت کا ہے۔ ایسے میں اگر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو ٹالا گیا تو مطالبہ ظلم کروانے والے وزیر داخلہ اور ان کو پناہ دینے والے وزیر اعظم تک جائے گا۔