جنتر منتر سے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک احتجاج
وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ،کیاسیاسی حربہ ہے،لیکن کیا صرف استعفیٰ کافی ہے؟
محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374۔athar.gul@gmail.com
جنتر منتر سے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک پہنچنے والا احتجاج ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم آزمائش ثابت ہوا۔ وزیرِ تعلیم کے استعفے نے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی ضرور پیدا کی، مگر اس واقعے نے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا نظامی اصلاحات، شفاف تحقیقات اور طلبہ کے اعتماد کی بحالی کے بغیر صرف استعفیٰ کافی ہوگا؟دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والا طلبہ کا احتجاج وقت کے ساتھ ایک وسیع قومی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ ابتدا میں اس تحریک کا مرکز مبینہ امتحانی بے ضابطگیاں، پرچہ لیک ہونے کے الزامات اور تعلیم کے نظام میں شفافیت کا مطالبہ تھا، لیکن آہستہ آہستہ اس میں حکومتی جواب دہی، نوجوانوں کے مستقبل اور ریاستی رویّے جیسے وسیع تر سوالات بھی شامل ہوگئے۔ مختلف شہروں میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ دہلی میں جنتر منتر احتجاج کا مرکزی مقام بن گیا، جبکہ وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب بھی احتجاجی سرگرمیوں اور سیاسی دباؤ نے قومی توجہ حاصل کی۔یہ احتجاج صرف ایک امتحان یا ایک وزیر کے خلاف نہیں تھا بلکہ لاکھوں طلبہ کے اس احساس کی نمائندگی کر رہا تھا کہ ان کے مستقبل سے وابستہ معاملات میں شفافیت، انصاف اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج میں طلبہ، والدین، نوجوان پیشہ ور افراد اور بعض سماجی کارکن بھی شریک ہوئے، جبکہ متعدد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان کی حمایت کا اظہار کیا۔جب احتجاج نے شدت اختیار کی تو مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب بھی احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ حکومت نے امن و امان کے تقاضوں کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ مختلف خبروں میں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر سخت اقدامات کے الزامات بھی رپورٹ ہوئے۔احتجاج کے کئی ہفتوں بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ اس استعفے کو احتجاجی تحریک کی ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا، تاہم احتجاجی قیادت نے واضح کیا کہ صرف استعفیٰ ان کے تمام مطالبات کی تکمیل نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کرنے والوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد، احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات جیسے مزید مطالبات بھی برقرار رکھے۔
جمہوری نظام میں استعفیٰ سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن اگر کسی واقعے میں واقعی انتظامی کوتاہی، غیر قانونی طاقت کے استعمال یا امتحانی نظام میں سنگین خامیاں ثابت ہوں تو ان کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کا احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر احتجاج کے دوران کسی بھی فریق کے حقوق متاثر ہوئے ہوں تو قانون کے مطابق ان کی جانچ بھی اہم ہے۔ایسے حالات میں اگر وزیرِ تعلیم استعفیٰ دے دیں تو یقیناً یہ ایک سیاسی اور اخلاقی قدم سمجھا جا سکتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف استعفیٰ انصاف کے لیے کافی ہے؟اس سوال کا جواب آسان نہیں، لیکن جمہوری اصول یہی کہتے ہیں کہ استعفیٰ کسی حادثے یا سانحے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کی علامت تو ہو سکتا ہے، مگر یہ متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم نہیں کرتا۔ انصاف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کا تعین ہو، قصورواروں کے خلاف کارروائی ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اصلاحات کی جائیں۔وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ایک اہم سیاسی واقعہ ضرور ہے، لیکن یہ انصاف کی منزل نہیں بلکہ اگر کچھ ہے تو اس کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے استعفیٰ دیا، بلکہ یہ ہے کہ سچ سامنے آیا یا نہیں، متاثرہ طلبہ کو انصاف ملا یا نہیں، اور کیا آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے یا نہیں۔ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں اقتدار سے زیادہ قانون کی حکمرانی، طاقت سے زیادہ انصاف، اور خاموشی سے زیادہ سچائی کی قدر کی جاتی ہے۔ جب تک ہر ذمہ دار فرد اور ادارہ اپنے اعمال کے لیے جواب دہ نہیں ہوگا، صرف استعفیٰ عوام کے زخموں کا مداوا نہیں بن سکتا۔حکومتی جواب دہی کا مطلب صرف کسی ایک فرد کو عہدے سے ہٹانا نہیں بلکہ پورے نظام کا احتساب ہے۔ اگر کسی واقعے کے پسِ منظر میں انتظامی غفلت، پالیسی کی ناکامی یا ادارہ جاتی کمزوریاں موجود ہوں تو ان کی نشاندہی اور اصلاح ضروری ہے۔ شفاف تحقیقات، ذمہ دار افراد کا تعین، عدالتی نگرانی، پارلیمانی بحث اور مستقبل کے لیے مؤثر اصلاحات ہی وہ اقدامات ہیں جو عوامی اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔جب احتجاج براہِ راست وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک پہنچ جائے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ عوام حکومت کی اعلیٰ ترین قیادت سے وضاحت اور فیصلہ کن اقدام کی توقع رکھتے ہیں۔ ایسے موقع پر قیادت کا امتحان صرف سیاسی بحران سے نمٹنے میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے میں ہوتا ہے۔ خاموشی یا تاخیر عوامی بے چینی میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ بروقت اور واضح اقدامات جمہوری نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔
آخرکار، کسی بھی بحران میں اصل امتحان صرف ایک وزیر کے استعفے کا نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی شفافیت، جواب دہی اور اصلاح کی صلاحیت کا ہوتا ہے۔ اگر حکومت عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرتی ہے، حقائق سامنے لاتی ہے اور ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کرتی ہے تو یہی جمہوریت کی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر معاملات صرف علامتی اقدامات تک محدود رہیں تو عوام کے سوالات باقی رہتے ہیں اور اعتماد کی بحالی مشکل ہو جاتی ہے۔اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اگرچہ ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، مگر جمہوری اصولوں کے مطابق حقیقی جواب دہی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب شفاف تحقیقات، انصاف، اصلاحات اور عوام کے ساتھ مؤثر مکالمہ بھی یقینی بنایا جائے۔اس تحریک نے یہ واضح کیا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد، مساوات اور شفافیت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی محنت محفوظ ہو، امتحانات قابلِ اعتماد ہوں اور ان کے مستقبل کے فیصلے انصاف کے اصولوں کے مطابق کیے جائیں۔جنتر منتر طویل عرصے سے پرامن عوامی احتجاج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی مقام پر طلبہ نے دھرنے، اجتماعات اور بھوک ہڑتالوں کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اصلاحات کی جائیں۔جمہوریت کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کو سنا جائے، حقائق سامنے لائے جائیں، قانون کے مطابق احتساب ہو اور نوجوانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی آواز ریاست کے لیے اہم ہے۔ یہی رویہ ایک مضبوط، منصفانہ اور مستقبل شناس معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہی اداروں سے وہ نسل تیار ہوتی ہے جو آنے والے کل میں ملک کی قیادت، معیشت، سائنس، قانون اور سماج کی تعمیر کرتی ہے۔ اس لیے جب کسی تعلیمی ادارے میں طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہو، ان کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جائے، احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر تشدد کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، تو یہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں رہتی بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتی ہے۔کسی بھی ایسے واقعے میں جہاں طلبہ کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی کا الزام سامنے آئے، ذمہ داری صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہوتی۔ اگر فیصلہ حکومتی سطح پر ہوا، اگر انتظامیہ نے مناسب تدبیر اختیار نہیں کی، اگر پولیس یا دیگر اداروں نے غیر متناسب طاقت استعمال کی، یا اگر متعلقہ حکام بروقت مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے، تو ذمہ داری مختلف سطحوں پر تقسیم ہوتی ہے۔جمہوری حکومتوں میں ”اجتماعی ذمہ داری” کا اصول یہی کہتا ہے کہ حکومت اپنے ماتحت اداروں کی کارروائیوں کے لیے سیاسی طور پر جواب دہ ہوتی ہے۔ تاہم قانونی ذمہ داری کا تعین آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔اگر احتجاج کے دوران طلبہ کے ساتھ غیر قانونی یا غیر متناسب طاقت استعمال ہوئی ہو، تو اس کی تحقیقات ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارے سے کرائی جانی چاہیے۔ صرف داخلی محکمانہ رپورٹ پر اکتفا کرنے کے بجائے ایسے معاملات میں عدالتی یا خودمختار تحقیقاتی کمیشن زیادہ اعتماد پیدا کر سکتا ہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں وزیر کا استعفیٰ اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کی ایک روایت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر رہی۔ تاہم، اگر استعفیٰ صرف عوامی دباؤ کم کرنے یا سیاسی بحران کو وقتی طور پر ٹالنے کے لیے ہو اور اس کے بعد نہ تحقیقات ہوں، نہ اصلاحات اور نہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی، تو اس کی افادیت محدود رہ جاتی ہے۔ اس صورت میں استعفیٰ ایک علامتی قدم تو بن سکتا ہے، مگر مسئلے کا حقیقی حل نہیں۔وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اہم ضرور ہو سکتا ہے، لیکن وہ اپنے آپ میں مکمل حل نہیں۔ حقیقی جواب دہی اس وقت ممکن ہے جب استعفے کے ساتھ شفاف تحقیقات، غیر جانبدار احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوام کے ساتھ مسلسل مکالمہ بھی ہو۔ جنتر منتر سے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک احتجاج دراصل ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار کے بارے میں عوامی سوال ہے۔ یہی سوال کسی بھی جمہوری نظام کے لیے اصل امتحان بنتا ہے، اور اسی کے جواب میں ریاست کی ساکھ اور عوام کا اعتماد پوشیدہ ہوتا ہے۔اگر عوام بڑی تعداد میں جنتر منتر سے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ تک احتجاج کرتے ہیں تو اسے صرف سیاسی مخالفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے شہریوں کے آئینی حقِ اظہار اور حکومتی کارکردگی پر عوامی ردِعمل کے طور پر بھی سمجھنا چاہیے۔ جمہوریت میں پُرامن احتجاج حکومت اور عوام کے درمیان مکالمے کا ایک اہم ذریعہ ہے، بشرطیکہ قانون اور امنِ عامہ کا احترام برقرار رہے۔وسری جانب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے شہریوں کی آواز سنے، ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور کھلے مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے۔ اسی طرح مظاہرین پر بھی لازم ہے کہ وہ احتجاج کو پُرامن رکھیں اور عوامی املاک یا دوسروں کے حقوق کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جمہوریت اسی توازن کا نام ہے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔