اگر احتجاج غیر قانونی نہیں تھا تو مظاہرین کو کھانا کھلانا جرم کیسے؟:
انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے: محمد آفاق
لکھنؤ، 26 جولائی: راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگھٹن کے کنوینر محمد آفاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ جنتر منتر پر مظاہرین کو کھانا فراہم کرنے والے رضاکار محمد جنید کے اہلِ خانہ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے محمد جنید کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے والد اور کم عمر بھائی کو حراست میں لے لیا، جبکہ میرٹھ میں ان کی بہن کے سسر اور دیور کو بھی مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اتر پردیش پولیس اپنا وقت ایک ایسے رضاکار اور اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے میں صرف کر رہی ہے، جو جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کر رہے تھے۔
محمد آفاق نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق محمد جنید کسی مجرمانہ معاملے میں ملوث نہیں ہیں اور ان کی واحد "غلطی” یہ ہے کہ انہوں نے احتجاج کرنے والے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدمت اس مقصد کے تحت کی گئی تاکہ نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلے جانے سے بچایا جا سکے، کیونکہ نوجوانوں کا مستقبل ہی ملک کے مستقبل سے وابستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو مختلف رنگوں کے پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ کہا جاتا ہے، اور محمد جنید نے بھی اسی قومی یکجہتی اور باہمی محبت کی روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کب سے بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا بھی جرم بن گیا؟
محمد آفاق نے کہا کہ اگر حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو تسلیم کر لیا اور احتجاج کو غیر قانونی قرار نہیں دیا بلکہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا، تو پھر وہاں موجود لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کرنا کس بنیاد پر غلط یا قابلِ سزا عمل قرار دیا جا سکتا ہے؟انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ماضی کی طرح اس احتجاج کے معاملے میں بھی کسی مسلمان کو نشانہ بنا کر محمد جنید اور ان کے اہلِ خانہ کو قانونی کارروائیوں میں الجھا نہ دیا جائے، تاکہ وہ برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتے رہیں اور ان کی زندگی کا قیمتی وقت اسی میں گزر جائے۔