ابن صفی (پیدائش: اپریل 1928، بروز جمعہ) کے ناولوں کا بنیادی مقصد سماج سے برائیوں کا خاتمہ اور لوگوں کو قانون کا احترام سکھانا ہے۔ مقصدی ادب کا بنیادی نکتہ علم و ادب کے ذریعہ سماج کی تہذیب و تطہیر ہے۔ ابن صفی پر تحقیقی کام کرنے کے دوران میں برعظیم کے معروف محقق اور ماہر اقبالیات خرم علی شفیق نے علامہ اقبال کی دو نظموں کا خاص طور سے ذکر کیا ہے۔ خرم علی شفیق لکھتے ہیں کہ ان نظموں میں علامہ نے مستقبل کے ’ابن صفی‘ کا پیغام دیا ہے۔ ’’ضربِ کلیم‘‘ کے ادبیات کے حصے میں ’’ہنرورانِ ہند‘‘ کے عنوان سے علامہ اقبال کی جو نظم ہے اس میں عہد حاضر کے ادبا و شعرا کا احوال انہوں نے یوں بیان کیاہے:
چشمِ آدم سے چھپاتے ہیں مقاماتِ بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
یہ امر بھی ایک خوشگوار حیرت ہے کہ اس سے اگلی ہی نظم ’’مردِ بزرگ‘‘ ایسے ادیب کے خواص گنواتی ہے جو اس ناپسندیدہ اسلوب سے چھٹکارا پاکر ایک مختلف راہ نکالتا ہے(۱)۔ اس لیے یہ بات اب شاید وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ علامہ اقبال نے ’’ضرب کلیم‘‘ میں جس تناظر میں ’’مردِ بزرگ‘‘ کا تصور پیش کیا، علم و ادب کی دنیا کے عظیم ادیب و ناول نگار ابن صفی کی نمایاں خصوصیات اس میں نظر آتی ہیں۔ اس نکتے کو اُجاگر کرنے کا سہرا اگرچہ پاکستان کے ایک محقق، تاریخ داں اور ماہر اقبالیات خرم علی شفیق کے سر بندھتا ہے (۲) لیکن یہ بات واضح رہے کہ ابن صفی کو سرحدوں میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک آفاقی ادیب تھے۔ جس طرح علامہ اقبال نے آفاقیت کی گفتگو کی ہے، ابن صفی نے بھی آفاقیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔‘‘ ذرا ’’مردبزرگ‘‘ پر ایک نظر ڈالیے آپ خود ہی اندازہ کرلیں گے:
اُس کی نفرت بھی عمیق، اُس کی محبت بھی عمیق
قہر بھی اُس کا ہے اللّٰہ کے بندوں پہ شفیق
پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں
ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق
انجمن میں بھی میسّر رہی خلوت اُس کو
شمع محفل کی طرح سب سے جُدا، سب کا رفیق
مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق
اُس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جُدا
اُس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق
ہزاروں صفحات میں پھیلی ابن صفی کی تحریروں کو آپ فکشن یا جاسوسی ادب کا نام دیں، غور و فکر کرتے رہیے، مجھے توقع ہے کہ علامہ اقبال کی مذکورہ بالا نظم میں آپ کو ابن صفی ہی نظر آئیں گے۔ اگر اس نظم کی کسوٹی پر ابن صفی کے علاوہ دوسرے کسی تخلیق کار کو آپ ڈھونڈ سکیں تو ہمیں ضرور مطلع فرمائیں۔ ابن صفی نے کہا تھا کہ ’’یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام کرنا سیکھے۔۔۔‘‘ ذرا اس جملے پر ٹھہر کر غور کیجیے۔ ’’قانون‘‘ کے حقیقی مفہوم پر غور کیا جائے تو عام طور پر دو طرح کے قانون پر ہماری نظر ٹھہرتی ہے ۔ اول زمینی قانون، دوم قانونِ قدرت۔ زمینی قانون میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں کو شامل کرلیجیے۔ اس تناظر میں ابن صفی کے نزدیک ’’قانون کا احترام‘‘ کیا ہے اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ابن صفی کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑے عزم اور صبر کے ساتھ اردو کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کوشاں رہے اور اردو دنیا میں بلاتفریق مذہب و ملت اردو زبان و ادب کے ذوق کو پروان چڑھاتے رہے۔ دو عظیم جنگوں (1914 اور 1945) کے بعد دنیا میں مستقبل سے بڑھتی ہوئی مایوسی، زندگی سے فرار اور عالمی سطح پر سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ظلم و تشدد کو ابن صفی شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ اپنے ایک ناول کے ’’پیش رس‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مستقبل سے مایوسی غلط فہمی کی پیداوار ہے اور آدمی کو جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔ مستقبل سے مایوس ہوکر یا تو آدمی جرائم کرتا ہے یا پھر کسی ایسے کرنل فریدی کی تلاش میں ذہنی سفر کرتا ہے جو قانون اور انصاف کے لیے بڑے سے بڑے چہرے پر مُکّا رسید کرسکے اور یہی تلاش ’ہیروازم‘ کی کہانیوں کو جنم دیتی ہے(۳)۔‘‘
ابن صفی کے ناولوں کو اِن دنوں محض تفریحی ادب کے خانے میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ خود ابن صفی کے بقول تفریح بھی انسانی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے(۴)۔ جن حضرات نے ابن صفی کو پڑھا ہے وہ بخوبی واقف ہیں کہ اردو ادب میں ان سے بڑا ’’ہیومنسٹ‘‘ (humanist) ادیب شاید ہی کوئی ہو۔ لیکن وہ نام نہاد ہیومنسٹ نہیں ہیں، وہ انسانی سماج کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے بلکہ ہر حال میں سماج میں قانون (بشمول قانونِ قدرت) کی بالادستی چاہتے ہیں۔ وہ کسی بھی اِزم (ism) کے قائل نہیں، وہ انسان کو انسانیت کی معراج پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ انسانیت اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے نام پر درندگی کے ہمیشہ مخالف رہے۔ ان کے قارئین میں طالب علم، یونیورسٹی کے پروفیسر، اسکول کے اساتذہ، دانشور، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، قانون داں، سائنس داں، پولیس آفیسر، تاجر، ادیب، شاعر، مولوی، سیاست داں اور حکمراں ہر قسم کے لوگ تھے اور آج بھی ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد معترف ہے کہ خود ان کی کامیابی اور عملی زندگی کے عروج میں ابن صفی کی تحریروں نے کسی نہ کسی حیثیت سے مؤثر کردار ادا کیا ہے(۵)۔
ایک بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اصول، حقائق اور مقصدیت پر مبنی تحریریں نہ صرف ادب کا سرمایہ ہوتی ہیں بلکہ کبھی مرتی نہیں او رہمیشہ اپنے قارئین کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ اب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اردو دنیا میں (بشمول ایشیا، یوروپ، امریکہ) ابن صفی کی شاہکار تحریریں تھکے ہوئے ذہنوں کے لیے اِکسیر کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس ابن صفی کی تخلیقات ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں جو خود کو ’’قانون‘‘ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔
یورپ کی ایک خاتون اردو اسکالر کی شہادت
برصغیر (ہند و پاک) کے اردو ادیبوں اور نقادوں کے برعکس اردو زبان کی جرمن اسکالر ڈاکٹر کرسٹینا اویسٹر ہیلڈ (ہائیڈل برگ یونیورسٹی) سے ’اردو بک ریویو‘ کے لیے جناب اے یو آصف (سینئر جرنلسٹ) نے ایک انٹرویو کے دوران میں جب یہ سوال کیا کہ ’’ابن صفی کے چکر میں آپ کیسے پڑگئیں؟‘‘ تو ڈاکٹر کرسٹینا کا جواب نہ صرف ابن صفی کے لیے بڑا اعزاز ہے بلکہ برصغیر کے ادیب و نقاد کے لیے چشم کشا اور سامانِ عبرت ہے۔ کرسٹینا کہتی ہیں:
’’اسے چکر نہیں کہئے۔ یہ تو حسن اتفاق تھا کہ ادب کی دنیا میں سر راہ چلتے چلتے ابن صفی جیسا زمانہ شناس مل گیا۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے میں ان کے ناولوں کو پڑھ رہی ہوں۔ ان کے 250 کے قریب جاسوسی ناولوں میں سے 20-25 اب تک پڑھے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ترجمے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے۔ ابن صفی کے معیار سے میں بے حد متاثر ہوں۔ وہ بہت ہی باشعور ادیب تھے۔ ان کے ناولوں میں مکالمے اور طنز و مزاح خوب پائے جاتے ہیں۔ Selfcriticism بھی موجود ہوتا ہے۔ ان میں دیباچے بھی ہوتے ہیں۔ وہ ’پیش لفظ‘ کو ’پیش رس‘ کہتے تھے۔ اس میں ان کے اسلوب اور رویے کے بارے میں جاننے کو ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قارئین کے رد عمل کی بھی واقفیت ہوجاتی ہے۔ اس طرح کا مواد دوسرے ادیبوں کے یہاں شاذ و نادر ہی دکھائی پڑتا ہے۔ میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی خوش مزاج، نیک اور معصوم تھے۔ ان میں کوئی چھل کپٹ نہیں تھا۔ عام طور پر ادیب حساس ہوتے ہیں لیکن وہ بہت ہی معتدل مزاج تھے۔ ان میں انابھی نہیں تھی۔ بہت ہی انکساری سے کوئی بات کہتے تھے۔ مجھے ان سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہے۔ میں 1983 میں ہندوستان پہلی مرتبہ آئی جب کہ 1980 میں ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ ابن صفی کی جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں وہ یہ ہے کہ ان کے کردار ’فریدی‘ اور ’عمران‘ کبھی کسی عورت کی جانب نگاہِ بد پھیرتے دکھائی نہیں دیتے۔ ابن صفی کے جاسوسی ناول کی جاسوسی ادب میں اس لحاظ سے انوکھی حیثیت ہے کہ اس میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے۔ اس لیے اسے محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا۔ ان کے جاسوسی ناولوں میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے۔‘‘ (مطبوعہ ’اردو بک ریویو‘ شمارہ مارچ-اپریل 2007)
ابن صفی نے ادب کے ذریعہ درحقیقت سماج کی تطہیر کا گراں قدر فریضہ ادا کیا۔ جاسوسی ادب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر ناول میں چند بنیادی کردار ہمیشہ موجود رہتے ہیں جن کے ساتھ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ البتہ پلاٹ کی مناسبت سے دیگر کردار بدلتے رہتے ہیں، ان میں منفی اور مثبت دونوں طرح کے کردار ہیں۔ منفی کردار عام طور پر مجرمانہ ذہنیت کے حامل اور قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ کسی بھی سرزمین کے قانون (Law of the Land)کی کبھی پروا نہیں کرتے۔ انہی شر پسند عناصرکی وجہ سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے۔ دوسری طرف ناول کے مثبت کردار کی اخلاقیات اور رویے سے معاشرے کو مثبت اور تعمیری پیغام ملتا ہے۔ دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ناول کی کہانی ہمیشہ اپنے عصر کے ساتھ آگے بڑھتی ہے جس میں اس عہد کے ادب اور تہذیب و ثقافت کی نمایاں جھلکیاں پائی جاتی ہیں۔ جاسوسی ادب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی ہرکہانی سماج ہی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے جس میں خواص ہی نہیں عام آدمی کے کردار بھی موجود ہوتے ہیں اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ہی کہانی میں رنگ آمیزی کی جاتی ہے۔
جاسوسی ادب کی خصوصیات
ابن صفی کے ادبی نصب العین کا کینویس اس قدر وسیع ہے کہ ان کی ادبی خدمات کے احاطہ کے لیے ہزاروں صفحات بھی کم پڑسکتے ہیں۔ ابن صفی اس بات کا بھرپورادراک رکھتے ہیں کہ معاشرے کے سنگین مسائل میں عدم مساوات اور نا انصافی کے سبب انسان مایوسی میں مبتلا ہوتا ہے۔ پھر مایوسی کے محرکات انسان کو جرم کی طرف اُکساتے ہیں اور رفتہ رفتہ معاشرہ جرم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ ایسے فساد زدہ معاشرے میں مجرموں کی بن آتی ہے اور شرفا کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔
ابن صفی کے نزدیک وقت اور حالات کے ساتھ جرائم کی قسم اور نوعیت بدلتی رہی ہے۔ سنگین جرائم میں عام طور سے چوری، ڈکیتی، قتل، بلیک میلنگ، فرقہ وارانہ فساد، دہشت گردی اور جنسی تشدد کو شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ سائنس و ٹکنالوجی کے عہد میں جرائم کی اتنی شکلیں پائی جاتی ہیں کہ بعض اوقات عقل حیران رہ جاتی ہے۔ کل تک جن رشتوں کو مقدس تصور کیا جاتا تھا اور آج بھی ان پاک رشتوں پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی، ایسا لگتا ہے کہ حالات کے تیز و تند بہائو نے ان رشتوں کے تقدس کو پامال کردیا ہے۔ ’’ماں‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کے تقدس و احترام میں ادبا اور شعرا ہمیشہ رطب اللسان رہے ہیں۔ دنیا کے تمام تخلیقی ادب میں ماں کے کردار کو دیوی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اپنے بچوں کے لیے ماں کی مامتا کا لطیف احساس ایسا ہی ہے، جسے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ لیکن عصر حاضر میں ایسے واقعات بھی پَے در پے رونما ہو رہے ہیں کہ ماں خود ہی اپنے معصوم جگر گوشوں کی قاتلہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح باپ بیٹی کا مقدس رشتہ بھی عہدِ حاضر میں مسلسل مجروح ہوتا نظر آتا ہے۔ دنیا میں اب جنسی جرائم کی اتنی قسمیں پائی جاتی ہیں کہ شاید اب شیطان کی یادداشت میں بھی اتنے جرائم کی تفصیلات محفوظ نہ ہوں۔ابن صفی نے اسے بھی فکشن کا موضوع بنایا۔(۶)
ابن صفی نے ’’ادب میں ہوس پرستی‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر طنز کرتے ہوئے اپنے ایک ناول (جنگل کی آگ، 1955) میں ایک کردار کی زبانی کچھ اس طرح کہا ہے:
’’میں جنسیت کو ایک سیدھا سادہ مسئلہ سمجھتا ہوں جسے آدمی جیسے سمجھ دار جانور کے لیے اتنا پیچیدہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ شاعری کرنے لگے۔‘‘
اسی طرح سائنس و ٹکنالوجی کے اس عہد میں معاشی جرائم، سیاسی جرائم اور معاشرتی جرائم کی لاتعداد قسمیں پائی جاتی ہیں۔ اب گلوبل سطح پر مختلف ملکوں کے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ جرم کی عالمی تاریخ کا ذکر کریں تو کسی ملک کے توسیع پسندانہ عزائم کے تناظر میں برطانیہ کی مثال کافی ہے جس کی حکومت میں کہا جاتا ہے کہ سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس کی تاریخ ظلم اور جبر کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اسی طرح اسپین (ہسپانیہ) سے لے کر امریکہ کی دریافت تک کی تاریخ لاکھوں بے گناہوں اور معصوموں کے خون سے سرخ ہے(۷)۔ ان تاریخوں میں جرائم کی اتنی قسمیں پائی جاتی ہیں کہ انہیں شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ پھر جنگ عظیم اول اور دوم کی خونیں داستان تو نام نہاد ’مہذب ممالک‘ کی قلعی اُتار کر رکھ دیتی ہے۔ ہندوستان میں 1757 سے 1857 تک کی تاریخ میں کتنے خوفناک واقعات پوشیدہ ہیں۔ انقلاب 1857 کے چشم دید گواہ اور عظیم شاعر مرزا غالب کا جو مقام اردو ادب میں ہے، کون واقف نہیں ہے۔ 1857 کے ’’غدر‘‘ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور خاص طور پر دہلی میں ظلم و بربریت کے واقعات کی غالب نے ’’دستنبو‘‘(۸) میں جو تصویر کشی کی ہے، اس کی ایک ایک سطر پر کیا ہماری آنکھیں اشکبار نہیں ہوتیں۔ آزادیٔ ہند کی جنگ میں انگریزوں کے مظالم سے لوہا لینے والے سورمائوں اور مجاہدوں کے لیے ہمارے دلوں میں کیا ادب و احترام اور عقیدت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا؟
ابن صفی کے ایک محقق اور معروف ناول نگار ڈاکٹر خالد جاوید نے اپنے بصیرت افروز مقالے میں لکھا ہے کہ ’’ابن صفی کے ناولوں کو بھی آج اکیسویں صدی میں کلاسیکی اہمیت حاصل ہوسکتی ہے۔ وہ اردو میں ایک روایت کا نام ہیں، مگر یہ روایت ان کے ساتھ ختم ہوگئی (۹)۔‘‘ معروف نقاد و ادیب ڈاکٹر عبدالمغنی (مرحوم) نے بھی ابن صفی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک بلیغ بات کہی تھی:
’’جاسوسی ناول نگاری میں ابن صفی انگریزی میں شرلاک ہومز کے خالق کونن ڈائل کی سطح پر ہیں (۱۰)۔‘‘
معروف ادیب و نقاد سلیم اختر نے غالباً پہلی بار ابن صفی کے بارے میں لکھا کہ ابن صفی کی ادبی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔(۱۱)
معروف اسکالر اور ماہر اقبالیات خرم علی شفیق نے ابن صفی کے تمام ناولوں کا بڑی گہرائی سے تاریخی جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے نثری ادب میں ابن صفی کی اہم خصوصیات کی پانچ نکات میں درجہ بندی کی ہے۔ ایک خصوصیت یہ بیان کی ہے کہ ابن صفی سے بہتر نثر شاید (مرزا غالب اور محمد حسین آزاد کو چھوڑ کر) اردو میں کسی اور نے نہیں لکھی۔ اگر اقبال کی شاعری کو الہامی شاعری کہا جاتا ہے تو ابن صفی کی نثر کو الہامی نثر کہا جاسکتا ہے۔
ابن صفی کی ایک خصوصیت مستقبل بینی ہے جس کے بغیر کوئی ادیب، بڑا ادیب نہیں بن سکتا مگر جس سے بیسویں صدی کے ادیب محروم ہیں۔ (۱۲)
ابن صفی ہمیشہ اس اصول پر کاربند رہے کہ ان کی کہانیاں محض برائے تفریح نہ ہوں اور صرف اس لیے نہ پڑھی جائیں کہ ان میں چٹخارے ملتے ہیں بلکہ ان میں تفریح کے ساتھ دورِ حاضر کی مجرمانہ ذہنیت کا پردہ چاک کیا جاتا رہا ہے۔ ابن صفی نے بڑے فنکارانہ انداز میں ان مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کی طرف اشارے کیے ہیں جن کو سوسائٹی میں بڑا آدمی یا اونچی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے(۱۳)۔ موجودہ جمہوری معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ بے انصافی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی ردعمل پر انہوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ 1953 کے ایک ناول (موت کی آندھی) کا یہ اقتباس دیکھیے:
’’جب کوئی ذہین اور تعلیم یافتہ آدمی مسلسل ناکامیوں سے تنگ آجاتا ہے تو اس کی ساری شخصیت صبر کی تلخیوں میں ڈوب جاتی ہے۔‘‘
ابن صفی نے شراب نوشی اور ہر قسم کی نشَّہ آور ادویات کو معاشرے کے لیے ناسور قرار دیا ہے۔ 1964 میں فلم صنعت کے موضوع پر لکھے گئے ایک ناول (ستاروں کی موت) کا اقتباس ملاحظہ ہو:
’’شراب اُمّ الخبائث اس لیے کہلاتی ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے ہر قسم کی خباثت اختیار کرسکتے ہیں۔‘‘
افواہوں، فرقہ واریت اور تعصب کے زہریلے اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے ایک ’’پیش رس‘‘ (Foreword) میں ابن صفی اس طرح اپنے قارئین کو متنبہ کرتے ہیں:
’’ہر وقت چوکنّے رہیے کہ کہیں آپ خود ہی غیر شعوری طور پر دشمن کا آلۂ کار تو نہیں بن رہے؟ کسی افواہ کو دوسروں تک پہنچانے والا نادانستگی میں دشمن کی مدد کرتا ہے۔ اِس وقت قومی یکجہتی کی حفاظت کرنا ہی ملک و قوم کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔ ایسی افواہوں کو اپنی ذات سے آگے نہ بڑھنے دیجئے جس سے صوبائی تعصب یا فرقہ واریت کا زہر پھیلنے کا اندیشہ ہو۔‘‘ (۱۴)
ابن صفی کے ناولوں میں ’’زیرولینڈ‘‘ (Zero Land) ایک ایسا استعارہ ہے جس کے توسط سے انہوں نے انسانیت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری دنیا معرکہ خیر و شر کی آماجگاہ ہے۔ اس معرکہ خیر و شر میں سائنس و ٹکنالوجی سے لیس انتہائی خفیہ ’’طاقت کی تنظیم‘‘ پوری انسانیت کو اپنے خود ساختہ نظریہ کے مطابق غلام بنانا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسی پُراسرار سرمایہ دارانہ طاقت کی تنظیم ہے جس کا مقصد اور مشن، غاصبانہ عالمی حکومت کا قیام ہے۔ اس خفیہ مشن کے نمائندے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور دنیا کی حکومتوں کے حساس شعبوں میں اہم عہدے پر فائز ہوتے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی میں طاقت کی اس تنظیم کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے افراد اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ’’خیر اندیش‘‘ اور ’’خدمت گار‘‘ کے روپ میں نظر آسکتے ہیں اور کارپوریٹ سیکٹرز کے اعلیٰ عہدے دار بھی ہوسکتے ہیں۔ خفیہ طاقت کی یہ تنظیم سالہا سال سے قائم ہے۔ ذہانت اس تنظیم کا طرۂ امتیاز ہے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پس ماندہ یا پُرتعیش زندگی گزارنے والی قوموں کو غلام بنانا اس کی ضرورت ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس کے نزدیک قتل و غارت گری عام بات ہے لیکن اس کا طریقہ کار عام طور پر پُرامن ہوتا ہے تاکہ شک و شبہات سے بالا تر ہوکر، یہ اپنے لامحدود وسائل میں اضافہ کرتے رہیں۔ ایک ناول ’’ریگم بالا‘‘ (جنوری 1970) میں ایک کردار کی زبانی زیرولینڈ کی سائنسی ترقی پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے:
’’… ان کے وسائل لامحدود ہیں۔ سائنسی ترقی میں وہ ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ چاند پر جاکر کنکر پتھر بٹورنے سے بھی بہت آگے ہیں۔‘‘
مصنف کے اس انکشاف سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چاند یا مریخ پر محض کنکر پتھر یا پانی تلاش کرنے سے کہیں زیادہ بڑا اُن کا مخصوص مشن ہے۔ ’’زیرولینڈ‘‘ کی معنویت پر جتنا غور کیا جائے، ذہن کی پرتیں اسی قدر کُھل سکتی ہیں۔
تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا جسے T3B بھی کہا جاتا ہے، ایک لازوال منفی کردار ہے جس کی حیثیت طاقت کی تنظیم کے مستقل سربراہ کی ہے(۱۵)۔ طاقت کی اس تنظیم کے ایجنٹوں میں نانوتہ(۱۶) کا سحر انگیز کردار اور اس کے ساتھ ہی بوغا(۱۷)، الفانسے اور سنگ ہی کے کردار بھی ’’زیرولینڈ‘‘ کے حوالے سے موجود ہیں۔ ابن صفی نے عالم انسانیت کے خلاف بڑی طاقتوں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے لیزر اور کیمیائی ہتھیاروں کے علاوہ حیاتیاتی ہتھیار (biological weapons) (۱۸)کی نشاندہی بھی کی۔
اردو ادیبوں اور نقادوں کی یہ بدقسمتی ہی کہی جاسکتی ہے کہ دو بڑی عالمی جنگوں اور تقسیم ہند کے خونیں واقعات سے بھی ان کے ذہن و قلب پر حجابات پڑے رہے۔ کروٹ بدلتی عالمی دنیا کے تیور اور آتش فشاں کی آنچ کو وہ محسوس نہ کرسکے۔ وہ مگن رہے اپنی اُس ڈیڑھ اینٹ کی ادبی دنیا میں جو مختلف اِزموں (isms) کی صورت میں زہریلے سانپ کی طرح ان سے چمٹے رہے۔ ابن صفی نے اول روزہی اس نازک اور سنگین صورت حال کا بخوبی ادراک کرلیا تھا اس لیے اردو ادب میں انہوں نے ایسی راہ نکالی کہ سماج کی تہذیب کے ساتھ افکار و کردار کی تطہیر و تعمیر بھی ہو، حتیٰ کہ ہر فرد مستقبل کے استعارہ کو سمجھنے کے قابل ہوسکے۔ چند سال قبل Maria Konnikowa کی ایک اہم تصنیف "Mastermind: How to think like Sherlock Holmes” شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں مشاہدے (observation) کی قوت کو بڑھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ آرتھر کونن ڈائل کی جاسوسی تصانیف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1887 سے آج تک اس کی کتابیں out of print نہیں رہیں (۱۹)۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ خلافت عثمانیہ کے ذہین حکمراں سلطان عبدالحمید ثانی (1842 تا 1918) سرکونن ڈائل کے ناولوں کا بغور مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے صہیونیت کے علمبرداروں (Masonic Grand Masters) جن میں تھیوڈور ہرزل اور روتھ شیلڈ بھی شامل تھے، پایۂ تخت سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ سلطان عبدالحمید نے سرآرتھر کونن ڈائل کو پایۂ تخت آنے کی دعوت دی تھی اور ان کو اعزاز بھی عطا کیا تھا۔ یہ وہی سرآرتھر کونن ڈائل ہیں جن کی کتابوں کے قارئین، شرلاک ہومز کو لندن کی گلیوں میں تلاش کرتے رہے ہیں(۲۰) اور اب مذکورہ کتاب کے ذریعہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شرلاک ہومز کے نظام تعلیم پر گفتگو کی جانے لگی ہے، Self Education کے لیے شرلاک ہومز کے طریقۂ کار پر تحقیق کی جارہی ہے۔ یہ کام ایک زندہ قوم ہی کرسکتی ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم آج تک اپنی ’خودی‘ سے بھی نابلد رہے۔ انسانی و قومی شعور کے ساتھ اپنے مقصد وجود کو بھلا بیٹھے۔ ایسی صورت میں بھلا ہم ایک عظیم ادیب اور مصنف کے ادراک کو کیوں کر چھوسکتے تھے۔ حیرت ہے کہ خود ابن صفی کے مٹھی بھر شیدائیوں میں بیشتر افراد کا ذہنی افق بھی ان کے حقیقی ادبی نصب العین سے میل نہیں کھاتا۔ جس طرح اقبال پر ہزاروں صفحات سیاہ کرنے کے بعد بھی اقبال کا فکری سرا ہاتھ نہیں آتا، ٹھیک یہی حال ابن صفی کے شیدائیوں کا ہے۔ معاف کیجیے، ان میں ابن صفی کے ورثا بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ اس افسوس ناک صورتِ حال کے لیے کسی حد تک اس ادبی و سماجی ماحول کو بھی الزام دیا جاسکتا ہے جس کی مسموم فضا میں ہم سانس لیتے رہے ہیں۔ کاش آج بھی ہماری تمام حسیات بے دار ہوجائیں اور جینے کا مقصدی سلیقہ ہم میں آجائے تو ’’شئے کی حقیقت‘‘ تک پہنچنا ہمارے لیے مشکل نہ ہوگا۔
ابن صفی اپنی حیات کے آخری لمحے (رخصت:26 جولائی 1980) تک اردو کی خدمت کرتے رہے اور اس کے فروغ کو اپنی زندگی کا لازمی جزو قرار دیا۔ لیکن ابن صفی کے ساتھ سب سے بڑی ٹریجڈی یہ رہی کہ بعض اوقات ان کو اپنوں نے ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔ اس ضمن میں احمد صغیر صدیقی اپنے ایک مضمون میں ماہنامہ شاعر، ممبئی میں شائع ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب نگار کے الفاظ یوں نقل کرتے ہیں:
’’اردو ادب کی یہ بھی بیماری ہے کہ یہاں جو شخص زینہ بہ زینہ پہنچ جاتا ہے وہ اوپر ہی اوپر دیکھتا ہے۔ نہ نیچے دیکھتا ہے نہ دائیں بائیں۔ اپنے پیش روئوں کو مسخرے، ہم عصر کو بونے اور نئے لکھنے والوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنا اس کی عادت اور اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اب یہی دیکھئے ابھی پچھلے دنوں انتظار حسین (پاکستانی افسانہ نگار) میسور آئے تھے۔ وہاں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا۔ ’کون ابن صفی؟‘ جبکہ ابن صفی نے ایک پوری نسل کو پڑھنا سکھایا۔ انتظار حسین یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ انہیں اور ان کے ہم عصروں کو جو قاری ملے ان میں سے تین چوتھائی کی ذہنی تربیت ابن صفی نے کی تھی اور کیا عجب کہ اس دور کے کچھ لکھنے والوں نے ابن صفی کو پڑھ کر ہی لکھنا سیکھا ہو۔ جہاں تک compact زبان کا سوال ہے (میں تخلیقی زبان نہیں کہہ رہا ہوں، کمپیکٹ زبان کہہ رہا ہوں اور وہ بھی noun کے صیغے میں نہیں بلکہ adjective کے صیغے میں) ابن صفی کی زبان انتظار حسین سے بہتر ہے۔‘‘ (۲۱)
تاہم ایک معروف ادیب نے ابن صفی کو پہچاننے سے تو انکار نہیں کیا لیکن ان کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرنے میں انہیںتامّل رہا۔ بزرگ صحافی و ادیب سعید سہروردی (24 جنوری 1912 — — 9 مارچ 2017) لکھتے ہیں کہ ایک مجلس میں سید احتشام حسین نے اعتراف کیا:
’’اگرچہ میں اسے حقیقت سے فرار کا ادب مانتا ہوں لیکن اگر رسالہ میرے ہاتھ لگ جاتا ہے تو شروع سے آخر تک پڑھ ڈالتا ہوں۔ میری بیوی تو باقاعدگی سے پڑھتی ہے۔‘‘
ابن صفی کے سلسلے میں کم و بیش یہی رویہ اردو ادب کے تمام ہی جدید ادیبوں اور نقادوں کا رہا۔ ابن صفی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ جس مشنری جذبے کے ساتھ اردو کی خدمت کر رہے ہیں فی الحال اس وقت ادبی دنیا کا کوئی شخص انہیں گھاس نہیں ڈالے گا۔ وہ یہ بھی محسوس کر رہے تھے کہ جدید ادب کے تخلیق کار کو ہر جگہ صرف مزدور ہی دکھائی دے رہے ہیں جن پر سرمایہ داروں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ جدید ادب کی تخلیق کا ایک ہی مقصد پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹیوں کا حصول رہ گیا ہے ۔ ان میں نفس کی بندگی کرنے والے بعض ایسے ادیب و شاعر بھی تھے جو سرمایہ داروں سے شدید نفرت کا اظہار تو کرتے تھے لیکن غم غلط کرنے کے لیے بعض اوقات وہ سرمایہ داروں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے تھے۔ ابن صفی مسلسل یہ تماشا دیکھ رہے تھے کہ جب ادبی اور شعری محفلوں میں وہ مزدوروں اور مظلوموں کا ذکر کرتے کرتے تھک جاتے تو شراب و شباب کے ذکر سے اپنی روح کو تسکین دیتے اور جام و سُبو لنڈھاتے ہوئے ان کی صبح ہوتی۔ ابن صفی نے اول روز سے اپنے کو اس طرح کی محفلوں سے دور رکھا۔ انہوں نے اردو کی خدمت کا جو نصب العین متعین کیا تھا اس کی پاسداری آخری وقت تک کی۔ ان کو اس کی پروا نہیں تھی کہ کوئی ان کو بڑا ادیب ، شاعر یا ناول نگار کہے۔ وہ تو اپنی ادبی دنیا میں بھی بن پیئے مست رہنے کے عادی تھے۔ وہ تو اس بات کے قائل تھے:
’’اپنے وجود ہی کی مستی کیا کم ہے کہ کسی نشے کا سہارا لیا جائے۔‘‘ (صحرائی دیوانہ، جون 1979)
کردار نگاری سے منظر نگاری تک
اگر ابن صفی کے تمام ناولوں کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ کرنا مشکل نہ ہوگا کہ ان کا ہر ناول ادب اور فن کی کسوٹی پر کسا ہوا ہے۔ بالخصوص کردار نگاری اور منظر نگاری کا فن ان کے یہاں درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ ان کے ناول میں ہر کردار قارئین کے ذہن و قلب پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے جیسے وہ چلتے پھرتے کردار ہوں۔ کرنل فریدی، عمران، حمید، قاسم، آصف، انور، رشیدہ، روشی، جولیا، صفدر، جیمسن، ظفرالملک، اماں بی، رحمٰن صاحب، ثریا، سلیمان، جوزف، فیاض اور سَر سلطان جیسے کردار کسی بھی ملک اور سماج میں سانس لیتے ہوئے پائے جاسکتے ہیں۔ ان کرداروں پر ابن صفی کی گرفت انہیں اعلیٰ تخلیقی فنکار کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ اسی طرح انہیں منظر نگاری پربھی ملکہ حاصل تھا۔ وہ کم سے کم الفاظ میں ہر منظر کے ایک ایک جز کی تفہیم اس طرح کراتے ہیں کہ قاری کے سامنے اس منظر کی بعینہٖ عکاسی ہوتی ہے۔ منظر نگاری سے قاری کا ذہن بوجھل نہیں ہوتا بلکہ اسے ایسی توانائی حاصل ہوتی ہے کہ بے ساختہ وہ اس منظر میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ ان کے ناولوں کا وصف یہ بھی ہے کہ وہ سماج کے عام کرداروں کو اپنی کہانیوں میں اس خوبصورتی سے پروتے ہیں کہ ناول کے مستقل کردار کے ساتھ وہ کردار بھی اپنی جگہ زندہ، منفرد اور مکمل محسوس ہوتے ہیں۔ در حقیقت یہی سماج کے نمائندہ کردار ہیں جو اپنی فکری آزادی، چال چلن، عادات و اطوار، دوستی و دشمنی اور جذبات و احساسات کے اعتبار سے سماج کے ہر طبقے میں سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ماں باپ، بھائی بہن، سوتیلی ماں، نوکر، خادمہ، پڑوسی، دوست، طالب علم، استاد، پیشے کے ساتھی، کسی ہوٹل کا منیجر یا بیرا، کسی محکمہ کا باس اور اس کے جونیئرس، صحافی، پولیس اہل کار، فوجی، غنڈے، ایک اجنبی سبھی ان کرداروں میں شامل ہیں۔ ان میں وہ کردار بھی ہیں جن کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے ہے اور برعظیم کے جاگیردارانہ ماحول کے پروردہ ہیں۔ چند شریف الفنس ہیں تو ان میں فرعون صفت بھی ہیں۔ چند اعلیٰ تعلیم یافتہ کردار بھی حیوان کے درجے میں نظر آتے ہیں۔ اپنے ملک کے نامور اور بارسوخ افراد بھی ملک کے چھپے ہوئے باغی ہوتے ہیں۔
ابن صفی سماج میں رہنے والے کسی ادنیٰ فرد کے کردار کو بھی اتنی جامعیت اور چابکدستی سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کے سامنے اس کردار کی شخصیت کے تمام خط و خال آئینے کی طرح واضح ہو جاتے ہیں نیز اس کی نفسیات، سوچ، فطری جذبات و احساسات فنی لحاظ سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ابن صفی کے کئی ناولوں میں ایک کردار ’اُستاد محبوب نرالے عالم‘ تصوراتی نہیں بلکہ تاریخی کردار ہے۔ یہ ایک ایسا مزاحیہ کردار ہے جس کی ’جناتی زبان‘ صرف عمران کی سمجھ میں آتی ہے۔ (دیکھیے ناول ’پاگلوں کی انجمن‘ جون 1970) ان کے ہر ناول میں کردار نگاری اپنے شباب پر نظر آتی ہے۔ اسی طرح سماج کے منفی کرداروں کو بھی ابن صفی نے اتنے سلیقے سے برتا ہے کہ بہت سے کردار منفی ہونے کے باوجود لافانی دکھائی دیتے ہیں اور سماج میں کہیں نہ کہیں سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض منفی کردار سے قارئین کو ہمدردی بھی محسوس ہوتی ہے۔ ان میں سنگ ہی، مادام تھریسیا، ڈاکٹر نارنگ،ڈاکٹر جیرالڈ شاستری،ڈاکٹر ہرمین، نانوتہ، علامہ دہشت ناک، الفانسے، فنچ، بوغا، ضرغام، ہمبگ دی گریٹ، پروفیسر درانی، جابر اور نادر جیسے کردار خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ابن صفی نے اپنے بہت سے ناول مستقبلیات (Futurology) کی روشنی میں لکھے۔ بالخصوص سائنسی ترقی کے ساتھ اس کے منفی اثرات پر انہوں نے برسوں قبل انکشافات کیے جو اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ معروف نقاد ڈاکٹر عبدالمغنی (مرحوم) کہتے ہیں کہ ناول ’’پیاسا سمندر‘‘ (نومبر 1957) ادب کا شاہکار ہے۔
ادب میں ابن صفی کا طرہ امتیاز
اردو ادب میں ابن صفی نے جاسوسی ناول نگاری کے روشن باب کا آغاز کیا۔ انہوں نے جرم و سزا جیسے خشک موضوع کو اپنی شگفتہ طرز تحریر او رطنز و مزاح کی چاشنی سے اس قدر دلچسپ اور پُرکشش بنادیا کہ وہ اردو دنیا میں جاسوسی ادب کے مؤجد کہے جانے لگے ۔ ا س کے برعکس یہ اردو ادب کی بد قسمتی رہی کہ اس میں اخلاقی اقدار سے گری ہوئی شاعری اور گلشن نندہ ٹائپ کے ناولوں کو تو کسی حد تک ادب کا درجہ دیا گیا لیکن ابن صفی کی شفاف اور مقصدی تحریروں کو ادب کے طلبا کے لیے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔ بالخصوص تقسیم ہند کے بعد اردو ادب کے چند سکہ بند ادیبوں، شاعروں اور ناول نگاروں نے ادب کے ایک خود ساختہ کینوس میں اردو ادب کے دامن کو تنگ اور محدود کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ ’الف لیلہ و لیلہ‘ ’طلسم ہوش ربا‘ اور ’داستان امیر حمزہ‘ سے مالا مال اردو ادب میں جاسوسی ادب کو انہوں نے لائق اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ ابن صفی کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اردو زبان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور دوعالمی جنگوں کے بعد بدلتی دنیا کے الجھے ہوئے سنگین مسائل نیز جدید قومی و معاشرتی اذہان کے نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ انہوں نے جاسوسی ادب کی زبان کو علاقائیت سے پاک رکھا اور اسے عالمی معیار عطا کرکے ناقابلِ فراموش خدمت انجام دی۔
عصر حاضر کا نمائندہ کردار عمران
ادب میں ابن صفی کو جہاں ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کی چاشنی سے طرہ امتیاز حاصل ہے وہیں ان کے یہاں انوکھے اور اچھوتے خیال کی آرائش بھی ہے۔ عمران سیریز کے ناولوں میں عمران کا کردار عصر حاضر کا جیتا جاگتا نمائندہ کردار محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اس پر بیک وقت جدید اور مابعد جدید دونوں کا گمان ہوتا ہے۔ عمران اگرچہ روایتی اصولوں کا قائل نہیں ہے لیکن دشمنوں اور وطن فروشوں کے مقابلے میں وہ شدت سے روایت پسندی کے اصول پر کاربند نظر آتا ہے۔ ایک طرف جہاں وہ روایتی ہتھیاروں سے کام لینا پسند نہیں کرتا تو دوسری طرف موقع و محل کے لحاظ ناقابل شکست اسلحہ (deterrent) کا استعمال بھی بڑی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ شاید انہی خصوصیات کی بنا پر بعض ادیبوں نے عمران کے کردار کا موازنہ ’’طلسم ہوش ربا‘‘ کے معروف کردار ’’عمر و عیار‘‘ سے کیا ہے۔ فی الحقیقت عمران موجودہ دور کا ایسا نمائندہ کردار ہے جو مایوسی کی انتہائی صورت حال میں بھی امیدوں اور آرزوئوں کی خوشخبری دیتا ہے۔ ساری دنیا قنوطیت اور اضمحلال کا شکار ہوسکتی ہے لیکن عمران کے لغت میں ان الفاظ کا کہیں بھی گزر نہیں۔ سخت سے سخت حالات میں بھی اس کے چہرے پر پژمردگی کا سایہ دکھائی نہیں دیتا۔ بہ الفاظ دیگر وہ حوصلوں اور امنگوں کا نمائندہ کردار ہے۔
پاکستان، ابن صفی کا وطنِ ثانی ہے لیکن ان کا صُلبی اور اصلی تعلق اس ہندوستان (الٰہ آباد، قصبہ نارہ) سے ہے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی اور تلخ و شیریں ایام گزارے۔ بچپن کی خوش گوار یادیں اور دوست و احباب کی صحبتیں یہیں نصیب ہوئیں۔ انہوں نے اپنے ادبی کریئر کا آغاز یہیں سے کیا اور یہی تحفہ وہ اپنے وطنِ ثانی میں لے گئے۔ مگر افسوس کہ ہند و پاک کے مٹھی بھر ادیبوں اور نقادوں نے، جن کے قلم کی سیاہی ایوانِ ادب میں فیصلہ کن سمجھی جاتی تھی، ابن صفی کے ادبی مشن اور خدمات پر ہمت افزائی کی ایک سطر بھی لکھنے کی زحمت نہیں کی۔ شاید وہ ابن صفی کی شہرت اور مقبولیت سے رشک کے بجائے حسد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کراچی میں ابن صفی کے معنوی شاگرد اور ’نئے افق‘ کراچی کے مدیر اعلیٰ جناب مشتاق احمد قریشی (پ:3مارچ 1942) لکھتے ہیں کہ ادب کے اماموں میں سے ایک امام علامہ نیاز فتح پوری نے ’نگار‘ کے ایک شمارہ میں ابن صفی کو ’’اردو کا ناسور‘‘ لکھنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ حیدرآباد کے ایک رسالہ کے ایڈیٹر کے نام اپنے ایک خط میں مشتاق احمد قریشی لکھتے ہیں:
’’…ادب کے سارے ہی جغادریوں کا رویہ ابن صفی صاحب کے ساتھ ایسا ہی تھا، وہ انہیں اپنی کسی صف میں جگہ دینے کو تیار ہی نہیں تھے جبکہ خود ابن صفی صاحب نے تو اپنے ہنر سے، اپنے قلم سے اپنی صفِ اول خود بنائی تھی جس میں ان کی پیروی اور نقل کرنے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جبکہ ادب کے کسی اہم اور بڑے سے بڑے مصنف کو بھی یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا تھا کہ ان کے کرداروں کی، ان کے اندازِ تحریر کی نقل کی گئی ہو…‘‘ (۲۲)
ہمارے ملک میں خود غرضی، بزدلی، مایوسی اور خوف کی نفسیات سے اسیر ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور نقادوں کی تعداد زیادہ رہی ہے۔ ان میں ابن صفی کی تحریروں سے اردو سیکھنے والے مخلصین بھی شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ وہ بھی محض تماشائی بنے رہے۔ اپنی نجی مجلسوں میں وہ ابن صفی کے محاسن ضرور گنواتے رہے لیکن قلم اٹھانے کی شاید انہیں توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ البتہ برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹی سطح پر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں پروفیسر خالد محمود (سابق صدر شعبہ اردو) کی سرپرستی میں دسمبر 2012 میں ایک سہ روزہ کل ہند سمینار منعقد ہوا تھا۔ اس سمینار کی افتتاحی تقریب میں اس وقت کے وائس چانسلر جناب نجیب جنگ نے ابن صفی کو عبقری شخصیت (Genius) قرار دیا تھا۔
ادب میں سرقہ کی بدترین مثال
اردو ادب میں سرقہ یا چوری کے متعدد طریقے اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً کسی شاعر کی غزل کا شعر، مصرع اور ردیف وغیرہ کا سرقہ، کسی کہانی کے بنیادی کردار و پلاٹ کا سرقہ، کسی کے دیوان کو اپنا دیوان بنالینا، کسی کی تخلیق کو اپنی تخلیق قرار دینا، کسی مصنف کی اجازت کے بغیر اس کی کتاب و تخلیقات کی اشاعت وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی کسی کے نادر خیال کو من و عن چُرا لینے کا ہنر بھی ادب میں داخل ہوا، حتیٰ کہ پی ایچ-ڈی کے مقالوں کا سرقہ بھی موضوع و عنوان میں جزوی تبدیلی کے بعد ممکن بنالیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس طرح کے مسروق مقالے پر پی ایچ-ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی جانے لگی ہے۔ تحقیق میں حوالہ جاتی کتابوں (Bibliography) کا سرقہ بھی عام ہوگیا ہے یعنی ایک موضوع کے تحت درجنوں حوالے نقل کردیئے جاتے ہیں لیکن محقق حوالہ میں پیش کی گئی کتابوں کی صورت سے بھی نا آشنا ہوتا ہے۔ یہ رجحان اب برصغیر کی بیشتر یونیورسٹیز کے طلبا میں عام ہوگیا ہے۔ عہد حاضر میں نصابی کتابوں کی تیاری میں بھی سرقہ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ کسی کتاب کو اپنے نام سے چھاپ کر مصنف بننے کا رجحان اور خبط بھی اردو دنیا میں عام ہے۔
ایشیا میں ابن صفی کی اس مقبولیت اور ان کی تحریروں کی سحر انگیز شہرت سے زوال آمادہ اردو ادب کے پروردہ ادیبوں میں حسد اور رقابت کا جذبہ پروان چڑھنے لگا۔ چنانچہ ابن صفی کے نام کو کیش کرانے کے لیے متعدد نقال مصنّفین (ghost writers) وجود میں آئے اور انہوں نے ابن صفی کے قارئین کو رِجھانے کی ناکام کوششیں شروع کردیں۔ خاص طور سے ابن صفی کی علالت کے سبب (1960 تا 1962) نقال مصنّفین خود رَو جھاڑیوں کی طرح پیدا ہونے لگے کیونکہ اس دوران میں ان کا کوئی ناول منظر عام پر نہیں آسکا۔
ابن صفی کو یہ خدشہ لاحق نہیں تھا کہ ان کے اوریجنل ناول کو کوئی من وعن شائع کردے کیونکہ ان کی حیات ہی میں اردو دنیا کے ڈائجسٹوں میں یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ انہیں پریشانی اس بات کی تھی کہ اردو کے جعلی مصنّفین اور ناشرین ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کے لیے ان کی شہرت کا فائدہ شرمناک حد تک ناجائز طریقے سے اٹھارہے تھے۔ ابن صفی ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ کے پیش رس میں لکھتے ہیں:
’’کراچی کے ایک ذاتِ شریف نے میرے ناول ’زہریلا آدمی‘ (فریدی سیریز، فروری 1960) کے کرداروں کے نام تبدیل کیے اور اسے اکرم الٰہ آبادی کے نام سے چلادیا۔ اکرم الٰہ آبادی بھی خاصے مشہور لکھنے والے ہیں، اس طرح ان کی بھی توہین کی گئی۔‘‘
اس معاملے میں یقینی طور سے کانپور، الٰہ آباد، لاہور، کراچی اور دہلی کے بعض ناشرین (Publishers) نے بڑی دہشت گردی مچائی۔ کانپور کے شاہین پبلی کیشنز کے محمد درویش خاں نے فریدی، حمید اور عمران سیریز کے درجنوں ناول جعلی مصنفوں سے لکھواکر اس دیدہ دلیری سے شائع کیے کہ اردو دنیا کی تاریخ میں ایسی مذموم حرکت کا ارتکاب شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ ہر ناول کے سرورق پر بڑی بے شرمی سے ابن صفی لکھا حتیٰ کہ ’’پیش رس‘‘ کی نقالی بھی کی۔
اردو ادب میں سرقہ اور مصنف کے حق پر کسی ناشر کے ڈاکہ ڈالنے کی اس سے بدترین مثال شاید دوسری نہیں پیش کی جاسکتی۔ درویش خاں کے اس ادارے کی طرف سے باضابطہ دو ماہنامے عمران سیریز، کانپور اور حمید- فریدی سیریز، کانپور شائع ہوا کرتے تھے۔ یہ ماہنامے RNI کے تحت باضابطہ رجسٹرڈ کرائے گئے تھے۔ ماہنامہ حمید- فریدی سیریز، کانپور کا رجسٹریشن نمبر 6902/62 تھا۔ مذکورہ دونوں ماہناموں کے تحت ابن صفی کے نام سے جعلی ناول شائع کیے جاتے۔ یہ ناول جعلی مصنّفین کی طرف سے لکھے جاتے جنہیں دیدہ دلیری کے ساتھ ابن صفی کے نام کی سند دی جاتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ownership declaration میں ان ماہناموں کے ایڈیٹر کا نام: ابن صفی، قومیت: ہندوستانی اور پتہ 92/57 پوروہ، ہیرامن، کانپور1- درج کیے جاتے۔ محمد درویش خاں (پرنٹر پبلشر) کی طرف سے یہ ڈیکلریشن یکم فروری 1964 کو عمران سیریز کے گیارہویں شمارہ میں شائع کیا گیا۔
الٰہ آباد میں ابن صفی کے ناولوں کے ناشر اور دیرینہ دوست عباس حسینی (مرحوم) کا ذکر نہ ہو تو بات شاید ادھوری رہے گی۔ برصغیر کے اردو ادب کی تاریخ میں یہ معمہ ناقابل فہم ہے کہ دو گھرانے اور دو دوست کے مابین قربت کا یہ حال تھا کہ ابن صفی بھارت کے ایک پڑوسی ملک پاکستان سے اپنے ناول کا مسودہ تاحیات بلامعاوضہ اپنے دوست عباس حسینی (و: 20 اگست 1990) کو ارسال کرتے رہے۔ عباس حسینی اسے چھاپ کر نہال ہوتے رہے لیکن ابن صفی اس بات سے ناواقف رہے کہ ان کے نام سے اور اسی مؤقر ادارہ ’نکہت پبلی کیشنز‘ الٰہ آباد سے دو جعلی ناول ’سائے کا قتل‘ اور ’روشنی کی آواز‘ بھی شائع ہوئے، ساتھ ہی ان کے تخلیق کردہ کرداروں کی ہندی زبان میں عباس حسینی کی طرف سے مٹّی پلید کی جاتی رہی۔ عباس حسینی نے ابن صفی کے تقریباً تمام ناولوں کے کرداروں کے نام تبدیل کردیے تھے۔ مثلاً فریدی کو ’ونود‘، عمران کو ’راجیش‘، فیاض کو ’ملکھان‘، ایکس ٹو کو ’پون‘ وغیرہ۔ یہ معمہ شاید کبھی حل نہ ہوسکے۔ ابن صفی کے ایک محقق اور پرستار راشد اشرف نے لکھا ہے:
’’ابن صفی کے پاس ان کے ناولوں کے الٰہ آباد ایڈیشن بھی پہنچتے تھے۔ گمان ہے کہ ابن صفی ’روشنی کی آواز‘ کی اشاعت کی خبر سے واقف نہیں ہوںگے۔ اگر ہوتے … اسے پڑھتے… تو شاید عباس حسینی مرحوم کو سچ مچ جھینپ کر مسکرانا ہی پڑتا… اور صفی صاحب کو ان پر ایک درجن کتابیں قربان کرنے کا موقع مل ہی جاتا…‘‘
راشد اشرف کا یہ گمان میرے نزدیک درست نہیں معلوم ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ابن صفی کو غیر اخلاقی ’ہندی ایڈیشن‘ کے علاوہ الٰہ آباد کی دیگر سرگرمیوں اور جعلی ناولوں کا بخوبی علم تھا۔ یہ ابن صفی کا ظرف تھا کہ ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے باوجود، انہوں نے لب کشائی نہیں کی اور اپنے دوست کی دوستی کا تاحیات ’بھرم‘ رکھا اور وہ ’عدم اعتماد‘ کا زخم لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (۲۵)
بالآخر ہزاروں اشعار کا خالق، ڈھائی سو سے زائد ناولوں کا مصنف اور درجنوں طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا انشاپرداز صرف 52 سال کی عمر میں 26 جولائی 1980 کو بڑی خاموشی سے اس دارفانی سے رخصت ہوگیا جس کا قول تھا:
’’قرآن کو پڑھو، اس پر عمل کرو۔۔۔ اسے علم الکلام کا اکھاڑا نہ بنائو۔‘‘ (۲۶) انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔ آمین!
☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆
حوالے و حواشی
(۱) ’ابن صفی: کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا؟‘ (راشد اشرف)، صفحہ 86
(۲) سائیکومینشن- ابن صفی، مؤلف و مرتب: خرم علی شفیق، 2011، فضلی سنز (پرائیویٹ لمیٹڈ)، کراچی
(۳) پیش رس، ناول مہلک شناسائی (نومبر 1968)، کرنل فریدی-حمید سیریز
(۴) ’میں نے لکھنا کیسے شروع کیا؟‘ از ابن صفی، بحوالہ کہانیوں کا مجموعہ۔ ’ڈپلومیٹ مرغ‘ 1975، مطبوعہ احباب ادب، کراچی
(۵) ’ابن صفی: کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا؟‘ مؤلف و مرتب: راشد اشرف، بحوالہ محمد بدر منیر، صفحہ 76
(۶) خاص طور سے ابن صفی کے تین ناول ’پتھر کی چیخ‘ (1954)، ’بے چارہ بے چاری‘ (دسمبر 1960)، ’زہریلا آدمی‘ (فروری 1960) ملاحظہ کیجیے
(۷) ’ہوئے تم دوست جس کے‘ از ڈاکٹر حقی حق (شکاگو)، مطبوعہ شفیق پبلی کیشنز، لاہور
(۸) ’دستنبو‘ از مرزا غالب، اردو ترجمہ: مخمور سعیدی، مطبوعہ نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا (نئی دہلی)
(۹) ’ابن صفی: چند معروضات‘ از ڈاکٹر خالد جاوید، مطبوعہ سہ ماہی ’اردو ادب‘، نئی دہلی، مئی تا جون 2006
(۱۰) ’اردو ادب میں دانشوروں کی روایت‘ از ڈاکٹر عبدالمغنی، بحوالہ ’اندازِ تنقید‘ مرتب: ڈاکٹر سیّد احمد قادری
(۱۱) ’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘ از سلیم اختر (لاہور، 1993)۔ یہ کتاب بھارت میں عاکف بک ڈپو، نئی دہلی سے بھی شائع ہوئی ہے
(۱۲) ’سائیکو مینشن‘ مصنف: خرم علی شفیق، صفحہ 10، اشاعت: 2011، مطبوعہ فضلی سنز، کراچی
(۱۳) ابن صفی کے دو ناول (عمران سیریز) ’آتش دان کا بت‘ (ستمبر 1958)، ’جڑوں کی تلاش‘ (نومبر 1958) ملاحظہ کیجیے
(۱۴) پیش رس ’ہلاکو اینڈکو‘ (ستمبر 1970)، عمران سیریز
(۱۵) عمران سیریز کے ناول ’کالے چراغ‘ (دسمبر 1956)، ’الفانسے‘ (فروری 1957)، ’درندوں کی بستی‘ (مارچ 1957)، ’پیاسا سمندر‘ (نومبر 1957)، ’سہ رنگی موت‘ (جون 1976)، ’جونک اور ناگن‘ (ستمبر 1976)، ’ہلاکت خیز‘ (مئی 1977)، ’زیبرا مین‘ (جون 1977)، ’جنگل کی شہریت‘ (جولائی 1977)، ’ظلمات کا دیوتا‘ (ستمبر 1959) ملاحظہ کیجیے
(۱۶) فریدی-حمید سیریز کے ناول ’تباہی کا خواب‘ (اکتوبر 1968)، ’مہلک شناسائی‘ (نومبر 1968)
(۱۷) عمران سیریز کے پانچ ناول: عمران کا اغوا، جزیروں کی روح، چیختی روحیں، خطرناک جواری، ظلمات کا دیوتا (جنوری 1959 سے ستمبر 1959 کے درمیان شائع ہوئے)
(۱۸) ’وبائی ہیجان‘ (1958)، فریدی- حمید سیریز
(۱۹) ’انڈین ایکسپریس‘ نئی دہلی، 17 مارچ 2013
(۲۰) ’کیا تیرا بگڑتا‘ از شبنم رومانی، نئے افق ڈائجسٹ کراچی، جولائی 1994
شبنم رومانی کا اصل نام مرزا عظیم بیگ چغتائی (پیدائش: 20 دسمبر 1928 شاہجہاںپور، بھارت۔ وفات: 17 فروری 2009، کراچی) شاعر، روزنامہ مشرق کے کالم نویس، سہ ماہی اقدار کراچی کے مدیر و ناشر۔ سات کتابوں کے مصنف۔ پاکستان نیوی سے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ (بحوالہ ابن صفی: کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا، از راشد اشرف، صفحہ 207)
(۲۱) ماہنامہ شاعر، ممبئی۔ جنوری 1994
(۲۲) آندھرا پردیش اردو اکادمی کا ترجمان ’قومی زبان‘ حیدرآباد، اگست- ستمبر 2011، صفحہ 16
(۲۳) پیش رس ’ڈیڑھ متوالے‘، اکتوبر 1963
(۲۴) جعلی ناول ’موت کی محبوبہ‘ شاہین پبلی کیشنز، کانپور، 1962
(۲۵) ابن صفی کون؟، مرتب و مؤلف: مشتاق احمد قریشی، کراچی
(۲۶) پیش رس ’پاگلوں کی انجمن‘ (عمران سیریز، جون 1970)
——————————————————–