نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں دو روزہ برکس سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہوگیا مگر اجلاس کے اختتام کے ساتھ عالمی سیاست میں اٹھنے والے سوالات کا سلسلہ ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو گیا۔ دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی مجموعی پیداوار کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرنے والی کثیر رکنی تنظیم برکس کے اس اجلاس میں جن امور پر گفتگو ہوئی، جو تجاویز پیش کی گئیں اور جس مشترکہ اعلامیے کے ذریعے عالمی برادری کو مختلف اہم معاملات پر ایک واضح سفارتی پیغام دینے کی کوشش کی گئی وہ بلاشبہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ عالمی امن و سلامتی کی بحالی، جنگ و خونریزی کے خاتمے، دہشت گردی کے انسداد، غربت و افلاس میں کمی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات جیسے موضوعات آج پوری دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ برکس اعلامیہ میں ان مسائل کے حوالے سے جو عزم ظاہر کیا گیا وہ بظاہر عالمی سیاست کے موجودہ انتشار میں امید کی ایک کرن دکھائی دیتا ہے لیکن اصل سوال اعلامیہ کے الفاظ نہیں بلکہ ان الفاظ کو عملی پالیسی میں تبدیل کرنے کا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں برکس کے سامنے اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کی قوت کا اندازہ اس کے اعلامیوں، قراردادوں اور سربراہی اجلاسوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس امر سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے متفقہ فیصلوں کو کس حد تک عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دنیا اس وقت محض خوبصورت سفارتی زبان، امن کے دعووں اور عالمی انصاف کی یقین دہانیوں کی محتاج نہیں بلکہ اسے ایسے ٹھوس اقدامات درکار ہیں جن کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکیں۔ برکس نے اگر اپنے حالیہ اجلاس میں ایک نئے عالمی معاشی و سیاسی توازن کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے تو اسے اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس ضرورت کو محض کاغذی قراردادوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی حکمت عملی کا حصہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ برکس اعلامیے کے پس منظر میں سب سے پہلا اور نہایت اہم سوال امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے ردعمل کا ہے۔ واشنگٹن برکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو محض ایک معمول کی سفارتی پیش رفت سمجھ کر نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ برکس میں شامل ممالک کی معاشی قوت، آبادی، قدرتی وسائل، تجارتی حجم اور جغرافیائی اہمیت اسے بتدریج ایک ایسے عالمی فورم میں تبدیل کر رہی ہے جو موجودہ یک قطبی عالمی نظام کے لیے ایک متبادل تصور پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر برکس کے ممالک مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے، ڈالر پر انحصار کم کرنے اور اپنے درمیان آزادانہ مالیاتی روابط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف برکس ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔ امریکی ڈالر کئی دہائیوں سے عالمی تجارت اور مالیاتی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ بیشتر بین الاقوامی تجارت، توانائی کے سودے اور عالمی مالیاتی لین دین براہِ راست یا بالواسطہ ڈالر سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں اگر بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنی باہمی تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں کو ترجیح دینے لگیں اور متبادل مالیاتی نظام کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کریں تو یہ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کے لیے معمولی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ برکس کی معاشی خود مختاری کی کوششوں کو واشنگٹن یقیناً انتہائی باریک بینی سے دیکھے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے والی ہر بڑی کوشش محض معاشی معاملہ نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ جغرافیائی سیاست بھی جڑ جاتی ہے۔ یورو نے ڈالر کی اجارہ داری کو کسی حد تک متوازن کیا لیکن یورپی ممالک کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سیاسی، دفاعی اور معاشی روابط نے اس چیلنج کو ایک مختلف نوعیت عطا کی۔ اس کے برعکس اگر ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کی بڑی معیشتیں کسی ایسے متبادل مالیاتی نظام کی طرف بڑھتی ہیں جو امریکی مالیاتی اثر و رسوخ سے نسبتاً آزاد ہو تو اس کی نوعیت کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی برکس کے لیے ایک نہایت حساس امتحان موجود ہے۔ ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور واشنگٹن ایران کو عالمی اقتصادی نظام میں محدود رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے۔ ایسے میں اگر برکس کے رکن ممالک ایران کے ساتھ تجارت، توانائی اور مالیاتی روابط کو وسعت دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ امریکی پابندیوں کی پالیسی سے براہِ راست متصادم ہو سکتا ہے۔ امریکی قیادت ماضی میں متعدد مرتبہ یہ واضح کر چکی ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے ممالک اور اداروں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا برکس کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلوں کو کس حد تک نافذ کر سکتا ہے۔ یہی صورت حال عالمی اداروں کی ساخت میں اصلاحات کے مطالبے کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں میں ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں ان کے حقیقی وزن کے مطابق حصہ داری کا مطالبہ برسوں سے موجود ہے۔ برکس اگر عالمی اداروں میں اصلاحات کی بات کرتا ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان اصلاحات کے لیے وہ اجتماعی سفارتی قوت کیسے پیدا کرے گا۔ محض مطالبہ کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن موجودہ عالمی طاقتوں کو فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں تبدیلی پر آمادہ کرنا ایک نہایت دشوار سفارتی مرحلہ ہوگا۔ دوسرا اور اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال خود برکس کے رکن ممالک کی سیاسی اور سفارتی ترجیحات کا ہے۔ کیا تمام رکن ممالک واقعی ایک مشترکہ عالمی وژن پر متفق ہیں یا ان کے درمیان بھی وہی مفادات کی کشمکش موجود ہے جو عالمی سیاست کا مستقل وصف بن چکی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ برکس میں شامل ممالک کی سیاسی ترجیحات، معاشی مفادات، جغرافیائی ضرورتیں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات یکساں نہیں ہیں۔ بعض ممالک کے امریکہ کے ساتھ گہرے تجارتی روابط ہیں، بعض کے سیاسی اختلافات شدید ہیں، کچھ ممالک چین کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ کچھ کے روس کے ساتھ دفاعی یا توانائی کے مفادات وابستہ ہیں۔ چین اور ہندوستان اس کی نمایاں مثال ہیں۔ دونوں ممالک برکس کے اہم ستون ہیں اور عالمی معیشت میں ان کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، لیکن ان کے باہمی تعلقات میں سرحدی تنازعات، علاقائی مسابقت اور تزویراتی خدشات بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں دونوں ممالک کا ایک ہی عالمی سیاسی و معاشی وژن پر مکمل طور پر متفق ہونا آسان نہیں۔ اگر برکس کو واقعی ایک مضبوط عالمی پلیٹ فارم بننا ہے تو اسے اپنے رکن ممالک کے باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کی بنیاد پر عملی تعاون کا ایسا راستہ نکالنا ہوگا جو تنظیم کی اجتماعی قوت کو کمزور نہ ہونے دے۔
روس، چین، ہندوستان، برازیل اور جنوبی افریقہ سمیت دیگر رکن ممالک کے اپنے اپنے علاقائی اور عالمی مفادات ہیں۔ برکس کی توسیع نے تنظیم کے امکانات ضرور وسیع کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ فیصلہ سازی کو مزید پیچیدہ بھی بنایا ہے۔ جتنے زیادہ ممالک شامل ہوں گے، اتنے ہی زیادہ مفادات، ترجیحات اور سفارتی زاویے سامنے آئیں گے۔ اس لیے برکس کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ اختلافات کو تنظیمی کمزوری بننے کے بجائے باہمی مذاکرات اور مشترکہ مفادات کے ذریعے ایک طاقت میں تبدیل کر سکے۔ دنیا اس وقت روس اور یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال، ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان تناؤ، عالمی تجارتی کشمکش، توانائی کے بحران، غذائی عدم تحفظ اور معاشی ناہمواری جیسے متعدد بحرانوں سے دو چار ہے۔ ایسے ماحول میں برکس اگر عالمی امن کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے سفارتی بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ جنگ بندی، مذاکرات، انسانی امداد اور تنازعات کے سیاسی حل کے لیے عملی سفارتی کوششیں اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط کر سکتی ہیں۔ برکس کے سامنے ایک اور اہم چیلنج یہ ہے کہ کیا وہ مغربی معاشی و سیاسی دباؤ کے مقابلے میں طویل المدتی متبادل نظام تشکیل دے سکتا ہے؟ مقامی کرنسیوں میں تجارت، بینکنگ روابط، متبادل ادائیگی کے نظام، تجارتی رکاوٹوں میں کمی، ترقی پذیر ممالک کے لیے مالیاتی سہولت اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات ایسے اقدامات ہیں جو برکس کو محض ایک سفارتی تنظیم کے بجائے ایک مؤثر عالمی معاشی پلیٹ فارم بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے رکن ممالک کو نہایت سنجیدہ، مربوط اور مستقل پالیسی اختیار کرنا ہوگی اور یہاں تیسرا اور سب سے بنیادی سوال خود ہندوستان کے کردار کا پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستان ایک طرف برکس کا اہم رکن ہے اور دوسری طرف امریکہ، یورپ اور دیگر مغربی طاقتوں کے ساتھ اس کے گہرے اقتصادی، دفاعی اور تزویراتی روابط ہیں۔ گزشتہ عرصے میں روس اور ایران سے ہندوستان کی توانائی خریداری کے حوالے سے امریکی دباؤ بھی عالمی سطح پر زیر بحث رہا ہے۔ ایسے میں نئی دہلی کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ برکس کے اجتماعی فیصلوں اور اپنے مغربی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔
ہندوستان اگر برکس کے اندر ڈالر پر انحصار کم کرنے، مقامی کرنسیوں میں تجارت، عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کے زیادہ مؤثر کردار کی حمایت کرتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ان پالیسیوں کو عملی سطح پر بھی آگے بڑھائے۔ اگر دوسری طرف امریکی دباؤ یا مغربی معاشی مفادات کے پیش نظر ان اقدامات کی رفتار محدود ہو جاتی ہے تو برکس کے اعلامیے کی معنویت پر سوال اٹھنا فطری ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ برکس کے اندر موجود اپنے شراکت داروں پر کس حد تک اثرانداز ہو سکتا ہے۔ عالمی سیاست میں سفارتی تعلقات کبھی بھی صرف نظریاتی بنیادوں پر نہیں چلتے؛ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور سلامتی کے مفادات بھی فیصلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برکس کے کسی ایک اعلامیے پر تمام ممالک کا اتفاق ہوجانا اس امر کی ضمانت نہیں کہ وہ اپنے اپنے قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اس پر مکمل عملدرآمد بھی کریں گے۔ برکس کے لیے اصل کامیابی یہی ہوگی کہ وہ اعلامیے کو رسمی سفارتی دستاویز بننے سے محفوظ رکھے۔ اگر تنظیم مقامی کرنسیوں میں تجارت کو حقیقت بناتی ہے، مالیاتی تعاون کے نئے راستے کھولتی ہے، ترقی پذیر ممالک کی آواز کو عالمی اداروں میں مضبوط کرتی ہے، جنگ زدہ علاقوں میں سفارتی کردار ادا کرتی ہے اور عالمی اقتصادی نظام میں زیادہ منصفانہ نمائندگی کے لیے مؤثر جد وجہد کرتی ہے تو نئی دہلی کا اجلاس عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اجلاس کے بعد وہی پرانی روش جاری رہی، سربراہی اجلاس ہوتے رہے، تقاریر ہوتی رہیں، مشترکہ اعلامیے جاری ہوتے رہے اور عملی میدان میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آئی تو برکس بھی ان متعدد عالمی فورمز کی صف میں کھڑا نظر آئے گا جو بلند بانگ دعووں اور خوش نما سفارتی الفاظ کے باوجود عالمی نظام کی بنیادی ساخت تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے برکس کے بعد اصل سوال یہی ہے کہ آگے کیا؟ کیا برکس ایک نئے عالمی معاشی و سیاسی توازن کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے یا یہ بھی عالمی سفارت کاری کے روایتی اجلاسوں میں ایک اور اضافہ ثابت ہوگا؟ کیا رکن ممالک اپنے باہمی اختلافات کو محدود کرکے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں گے؟ کیا ہندوستان اپنی سفارتی خود مختاری برقرار رکھتے ہوئے برکس کے اجتماعی فیصلوں کو عملی قوت دے گا؟ کیا چین اور روس سمیت دیگر ممالک مغربی دباؤ کے باوجود متبادل مالیاتی و تجارتی نظام کی تشکیل میں مستقل پیش قدمی کریں گے؟ اور کیا امریکہ کی عالمی بالادستی کو چیلنج کرنے والی یہ کوشش محض اعلانات تک محدود رہے گی یا اس کے اثرات عالمی نظام کی بنیادوں تک پہنچیں گے؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں برکس کے حقیقی کردار کا تعین کریں گے۔ نئی دہلی کا اجلاس ختم ہو چکا ہے، مگر برکس کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اعلامیہ جاری کرنا آسان تھا، اسے حقیقت میں تبدیل کرنا مشکل ہے۔ دنیا اب الفاظ نہیں، نتائج دیکھنا چاہتی ہے؛ وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہتی ہے؛ اور سفارتی یقین دہانیاں نہیں بلکہ ایسا عالمی نظام چاہتی ہے جس میں طاقت کے بجائے انصاف، بالادستی کے بجائے مساوات اور یک طرفہ فیصلوں کے بجائے باہمی مشاورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ اگر برکس اس سمت میں ٹھوس پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کی بساط یقیناً بدل سکتی ہے، لیکن اگر داخلی اختلافات، قومی مفادات اور بیرونی دباؤ اس کے قدم روک دیتے ہیں تو نئی دہلی کا یہ اجلاس بھی تاریخ کے اوراق میں ایک خوب صورت مگر بے اثر سفارتی اعلامیے کے طور پر محفوظ ہو کر رہ جائے گا۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com