حکم رانوں سے سوالات کا ’’قومی پروٹوکول‘‘ آم چوس کر کھائیں یا کاٹ کر؟

حکم رانوں سے سوالات کا ’’قومی پروٹوکول‘‘            آم چوس کر کھائیں یا کاٹ کر؟

حکم رانوں سے سوالات کا ’’قومی پروٹوکول‘‘
آم چوس کر کھائیں یا کاٹ کر؟

✍️ افتخاراحمدقادری

لگتا ہے محترمہ صحافی کو ابھی تک اس ملک کے صحافتی ’’آدابِ دربار‘‘ کی مکمل تربیت نہیں مل سکی۔ انہیں شاید کسی نے بتایا ہی نہیں کہ بڑے حکم رانوں کے سامنے صحافی کا اصل کام سوال پوچھنا نہیں بلکہ ایسا سوال پوچھنا ہے جس سے حکمران کے چہرے پر مسکراہٹ آئے، کیمرے کے سامنے ماحول خوش گوار رہے اور انٹرویو ختم ہونے کے بعد حکمران صاحب یہ سوچتے ہوئے اٹھیں کہ واہ! کیا شاندار صحافت تھی کہ ایک بھی سوال ایسا نہیں تھا جس نے دماغ پر بوجھ ڈالا ہو۔
ملک میں صحافت کا ایک نیا نصاب شاید خاموشی سے نافذ ہو چکا ہے جس میں صحافی کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ سوال ایسا ہونا چاہیے جس کا جواب دیتے ہوئے حکمران صاحب کے ماتھے پر شکن نہ آئے، پیشانی پر پسینہ نہ آئے اور ترجمانوں کو اگلے دن وضاحت جاری کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ مثلاً سوال یہ ہو سکتا ہے کہ ’’صاحب! آپ آم چوس کر کھاتے ہیں یا کاٹ کر؟‘‘، ’’آپ اتنے مصروف رہتے ہیں توانائی کا راز کیا ہے؟‘‘، ’’آپ صبح کتنے بجے اٹھتے ہیں؟‘‘، ’’آپ کو چائے پسند ہے یا کافی؟‘‘ اور اگر ماحول بہت ہی دوستانہ ہو تو ایک آدھ سوال یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ’’اتنی مصروف زندگی میں آپ اپنے لیے وقت کیسے نکالتے ہیں؟‘‘ لیکن خدا نخواستہ کسی صحافی نے پوچھ لیا کہ بے روزگاری کا کیا ہوگا؟ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر کیوں توڑ دی؟ کسان کی آمدنی کہاں ہے؟ سرکاری اداروں کی حالت کیوں خراب ہے؟ اقلیتوں میں عدم تحفظ کیوں بڑھ رہا ہے؟ صحافیوں کو سوال کرنے پر دباؤ کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے؟ حکومت سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں ہوتی ہے؟ یا پھر یہ کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیے گئے وعدوں کا حساب کب ہوگا؟ تو سمجھ لیجیے کہ صحافی نے صحافت کی حدود سے تجاوز کر دیا۔ آخر سوال کی ’’جرأت‘‘ کا ہے۔ سوال اگر حکمران کو خوش کرے تو صحافت اور سوال اگر حکمران کو سوچنے پر مجبور کرے تو شرپسندی! سوال اگر تعریف میں لپٹا ہو تو قومی خدمت اور سوال اگر جواب مانگ لے تو ایجنڈا! سوال اگر نرم ہو تو شائستگی اور سوال اگر حقیقت کی گردن پکڑ لے تو بدتمیزی! کمال یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں صحافت کے کچھ نئے اصول بھی ایجاد ہو گئے ہیں۔ حکمران سے یہ پوچھنا کہ ’’آپ نے اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل کی؟‘‘ بالکل مناسب ہے مگر یہ پوچھنا کہ ’’اس کامیابی کا فایدہ عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچا؟‘‘ شاید گستاخی ہے۔ ان سے یہ دریافت کرنا جائز ہے کہ ’’آپ اتنے متحرک کیسے رہتے ہیں؟‘‘ لیکن یہ سوال کرنا شاید ممنوع ہے کہ ’’آپ کی پالیسیوں سے متاثر ہونے والے کروڑوں لوگوں کی زندگی کب بہتر ہوگی؟‘‘ یہ کیسا عجیب صحافتی ماحول ہے جہاں اقتدار سے سوال کرنا گویا کسی مقدس ممنوعہ علاقے میں داخل ہونا بن گیا ہے۔ حکمران کے سامنے کیمرہ ہو تو سوال بھی ایسا ہونا چاہیے جیسے کسی شادی کی تقریب میں بزرگ رشتہ دار سے حال احوال پوچھا جا رہا ہو۔ ’’صاحب! صحت کیسی ہے؟‘‘، ’’کھانا وقت پر کھاتے ہیں؟‘‘، ’’اتنی تھکن کے باوجود چہرے پر تازگی کا راز؟‘‘ اور اگر بہت زیادہ جرات ہو تو ’’آج کل کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں؟‘‘ لیکن اگر کسی نے فائل کھول کر اعداد و شمار سامنے رکھ دیے، وعدوں اور عملی صورتِ حال کا تقابل کر دیا، کسی فیصلے کے انسانی اثرات پوچھ لیے، کسی سرکاری دعوے کی حقیقت جانچنے کی کوشش کر لی یا یہ سوال کر بیٹھا کہ ’’جناب! آپ نے یہ وعدہ کیا تھا، پھر ہوا کیا؟‘‘ تو اچانک صحافت کا مزاج بدل جاتا ہے۔ سوال پوچھنے والا صحافی نہیں رہتا، ’’مسئلہ‘‘ بن جاتا ہے اور پھر مسئلے کو حل کرنے کے لیے کبھی قانونی نوٹس، کبھی مقدمہ، کبھی سوشل میڈیا ٹرولنگ، کبھی کردار کشی، کبھی دھمکیاں اور کبھی ایسے غیر سرکاری ’’حامیانِ اقتدار‘‘ میدان میں آجاتے ہیں جنہیں شاید کسی سرکاری دفتر سے کوئی عہدہ نہ ملا ہو، لیکن دفاعِ حکومت کا ایسا جذبہ ان کے اندر موجزن ہوتا ہے کہ سرکاری ترجمان بھی ان کی کارکردگی دیکھ کر شرما جائیں۔
محترمہ صحافی اگر یہ سمجھتی ہیں کہ سوال پوچھنا صحافت کا بنیادی فریضہ ہے تو یہ خیال یقیناً بڑا خوب صورت ہے مگر موجودہ سیاسی ماحول میں قدرے خطرناک بھی ہے۔ یہاں صحافی کے لیے بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ سوال سے پہلے سوال کے ممکنہ نتائج کا بھی حساب کر لے۔ سوال پوچھنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ سوال کس کو ناگوار گزر سکتا ہے، جواب کس کو پریشان کر سکتا ہے، اور اس سوال کے بعد سوشل میڈیا پر کون کون سے لشکر اس کی نیت، کردار، خاندان، تعلیم، لباس، لہجے اور حتیٰ کہ بچپن تک کی تفتیش شروع کر دیں گے۔ کیونکہ اب صحافی کا سوال صرف حکم ران تک نہیں پہنچتا، وہ چند لمحوں میں پورے ڈیجیٹل لشکر کے سامنے ہوتا ہے۔ ایک طرف اقتدار کے حامی، دوسری طرف مخالف، تیسری طرف ٹرول، چوتھی طرف جعلی اکاؤنٹس، پانچویں طرف خود ساختہ ماہرینِ صحافت، اور چھٹی طرف وہ لوگ جو ہر موضوع پر بغیر پڑھے فیصلہ سنانے کے ماہر ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اصل سوال کہیں پس منظر میں دفن ہو جاتا ہے اور بحث شروع ہو جاتی ہے کہ صحافی کی نیت کیا تھی، لہجہ کیسا تھا اور اس نے سوال پوچھنے کی جرأت آخر کی کیسے! اس پورے تماشے میں عوام ایک عجیب مقام پر کھڑی ہے۔ عوام مہنگائی کا بل دیکھ رہی ہے، روزگار کی تلاش میں بھٹک رہی ہے، تعلیم کے اخراجات سے پریشان ہے، علاج کے لیے اسپتالوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے، کسان فصل کے دام کے لیے فکر مند ہے، نوجوان امتحانات اور ملازمتوں کے درمیان اپنی عمر کھپا رہا ہے، مگر ٹیلی ویژن پر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکم ران آم کیسے کھاتے ہیں۔ یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ جس ملک میں کروڑوں لوگ اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے حساب کتاب کرتے ہیں وہاں اقتدار کے ایوانوں میں بعض اوقات ایسے سوالات کو زیادہ اہمیت مل جاتی ہے جن کا عوام کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عوام پوچھتی ہے کہ بجلی کا بل کیسے ادا ہوگا، صحافی پوچھتا ہے کہ ’’آپ کی پسندیدہ ڈش کیا ہے؟‘‘ عوام پوچھتی ہے کہ ملازمت کب ملے گی، صحافی پوچھتا ہے کہ ’’آپ صبح ورزش کتنی دیر کرتے ہیں؟‘‘ عوام پوچھتی ہے کہ تعلیم اتنی مہنگی کیوں ہے، اور سوال آ جاتا ہے کہ ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ بھائی! کامیابی کا راز بعد میں بتائیے، پہلے ناکامی کا حساب تو دیجیے!
اقتدار میں بیٹھنے والوں سے سخت سوال پوچھنا کسی حکومت کی توہین نہیں بلکہ جمہوری نظام کی صحت کی علامت ہے۔ حکومت اگر عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آئی ہے تو اسے عوام کے سوالوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ صحافت کا کام حکومت کی تعریفیں لکھنا نہیں بلکہ اقتدار اور عوام کے درمیان وہ آئینہ رکھنا ہے جس میں حکم ران اپنی کارکردگی دیکھ سکے۔ اگر آئینہ دیکھ کر چہرہ پسند نہیں آتا تو آئینہ توڑنے سے چہرہ خوب صورت نہیں ہو جاتا۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ آئینہ دکھانے والے کو ہی مجرم بنانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ سوال کرنے والے سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے سوال کیوں کیا؟ یہ نہیں پوچھا جاتا کہ سوال پیدا کیوں ہوا۔ صحافی سے اس کی نیت کا حساب مانگا جاتا ہے، مگر اس مسئلے کا جواب نہیں دیا جاتا جس نے سوال پیدا کیا تھا۔ یوں اصل موضوع غائب، صحافی زیرِ بحث، اور حکم ران محفوظ! محترمہ اگر واقعی سوال پوچھنے کے ’’جرم‘‘ میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، دھمکیوں کا ذکر کر رہی ہیں اور اپنی سلامتی کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہی ہیں تو معاملہ یقیناً سنجیدہ ہے۔ کسی بھی صحافی کو سوال پوچھنے کی وجہ سے دھمکانا یا خوف زدہ کرنا قابلِ مذمت ہے۔ اختلاف کا جواب دلیل سے ہونا چاہیے، دھمکی سے نہیں۔ سوال کا جواب سوال کرنے والے کے خلاف مہم نہیں بلکہ حقائق کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔ لیکن طنز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شاید محترمہ کو واقعی اندازہ نہیں تھا کہ اقتدار سے غیر آرام دہ سوال پوچھنے کے بعد صحافت صرف مائیک اور کیمرے تک محدود نہیں رہتی۔ پھر سوال پوچھنے والے کی زندگی پر تبصرے شروع ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کی عدالتیں لگتی ہیں، اخلاقی سرٹیفکیٹ تقسیم ہوتے ہیں اور ہر شخص خود کو جج سمجھ کر فیصلہ صادر کرنے لگتا ہے۔ اب اگر کوئی صحافی اس پورے کھیل سے بچ کر نکل آئے تو اسے مبارک باد دینی چاہیے، اور اگر وہ پھنس جائے تو عوام کے پاس آخر بچتا ہی کیا ہے؟ زیادہ سے زیادہ دو چار پوسٹیں، چند جذباتی جملے، کچھ ہیش ٹیگ اور پھر اگلے دن کسی نئے تنازعے کی طرف روانگی۔ ہم بھی کیا کریں؟ ہماری اپنی حالت پہلے ہی ایسی ہے کہ اگر کوئی ہمیں دھمکانے کے لیے فون کرے تو شاید ہم فون اٹھا کر پہلے یہ پوچھیں گے کہ ’’بھائی! آپ کا نیٹ ورک کون سا ہے؟‘‘ کیونکہ یہاں عام آدمی خود اتنے مسائل میں گھرا ہوا ہے کہ اسے اپنی جان، روزگار، گھر، بجلی، بچوں کی فیس اور مہینے کے آخری ہفتے کے خرچ کی فکر سے فرصت نہیں۔ اس لیے محترمہ! اگر آپ نے اقتدار سے واقعی وہ سوال پوچھ لیا ہے جو اقتدار کو ناگوار گزرا، تو آپ کو کم از کم یہ تو سمجھ لینا چاہیے کہ آپ نے صحافت کے اس حصے میں قدم رکھا ہے جہاں تالیاں کم اور طعنے زیادہ ملتے ہیں۔ یہاں تعریف کے پھول نہیں، کبھی کبھی گالیوں کے پتھر بھی ملتے ہیں۔ یہاں سوال پوچھنے کا معاوضہ ہمیشہ تنخواہ نہیں ہوتا، کبھی کبھی بدنامی، تنہائی اور خوف بھی اس کی قیمت بن جاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایک بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اگر صحافت سوال کرنا چھوڑ دے تو پھر اخبارات محض اشتہاری کتابچے، ٹیلی ویژن محض سرکاری و غیر سرکاری تشہیری اسکرینیں اور انٹرویو محض خوشامد کے پروگرام بن کر رہ جائیں گے اور پھر شاید قومی صحافت کا سب سے اہم سوال یہی رہ جائے گا: ’’جنابِ عالی! آم چوس کر کھاتے ہیں یا کاٹ کر؟‘‘ حکمران مسکرائیں گے، کیمرے روشن ہوں گے، اینکر خوش ہوگا، ترجمان مطمئن ہوگا، سوشل میڈیا پر کلپ وائرل ہوگا، اور عوام سوچے گی کہ بھائی، ہمارے آلو پیاز کے دام کا کیا ہوا؟ پھر دوسرا سوال ہوگا: ’’آپ کون سا ٹانک استعمال کرتے ہیں کہ اتنی انرجی رہتی ہے؟‘‘۔حکم ران مسکرائیں گے، صحافی مسکرائے گا، سوال ختم، انٹرویو ختم، پروگرام ختم۔ بس ایک چیز ختم نہیں ہوگی: عوام کے سوالات! کیونکہ عوام کے سوال نہ کسی پروٹوکول کے محتاج ہیں، نہ کسی اینکر کی اجازت کے، نہ کسی حکم ران کی پسند کے۔ وہ سوال زندہ رہیں گے، جب تک مہنگائی زندہ ہے، بے روزگاری زندہ ہے، ناانصافی کا احساس زندہ ہے، خوف زندہ ہے اور اقتدار سے جواب مانگنے والی عوام زندہ ہے۔ لہٰذا اگر کسی صحافی نے آم کے ذائقے سے آگے بڑھ کر اقتدار کے فیصلوں کا ذائقہ پوچھنے کی کوشش کی ہے تو کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے صحافت کے بنیادی مفہوم کو یاد رکھا ہے۔ باقی یہ الگ بات ہے کہ اس بنیادی مفہوم کو یاد رکھنا آج کل شاید سب سے مہنگا شوق بن چکا ہے اور جہاں تک ہماری حیثیت کا تعلق ہے، ہم تو اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ پہلے دور بیٹھ کر تماشا دیکھیں، پھر دو چار سطریں لکھیں، کچھ دیر غصہ کریں، سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ چلائیں، اور آخر میں اپنے گھر کے دروازے کو اچھی طرح بند کر کے سو جائیں کیونکہ جناب! یہاں ہر شخص دوسرے کے حق میں آواز بلند کرنے سے پہلے اپنے گھر کی دیواریں دیکھتا ہے اور یہی شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور سب سے کامیاب ’’قومی پروٹوکول‘‘ بھی!

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے