پردہ دیوار ہے یا وقار؟
کَیرالا کے تنازع نے عورت کے سماجی کردار پر نئی بحث چھیڑ دی
از: عبدالحلیم منصور
کَیرالا میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، طب، سیاست، انتظامیہ اور سماجی خدمت میں شرکت اب وہاں کی معاشرتی حقیقت کا حصہ ہے۔ ایسے ماحول میں معروف عالم دین کانتھاپورم اے۔ پی۔ ابوبکر مسلیار کے خواتین کی عوامی زندگی سے متعلق حالیہ بیانات نے ایک بنیادی سوال کو پھر نمایاں کردیا ہے۔ دین، حیا اور پردے کی حدود کے ساتھ عورت کے جائز سماجی کردار کی گنجائش کہاں تک ہے؟ عید میلاد النبیؐ کی تقریبات میں خواتین کی شرکت سے متعلق تنظیمی ہدایات سے شروع ہونے والی بحث اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب خواتین کی عوامی موجودگی کو معاشرتی نقصان سے جوڑنے والی باتیں سامنے آئیں۔ یوں یہ معاملہ محض ایک بیان یا سیاسی ردعمل نہیں رہا بلکہ مذہبی تعبیر، عورت کے وقار اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقت کے باہمی تعلق کا سوال بن گیا۔
کَیرالا کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے کے تصور سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ خواتین زندگی کے تمام اہم شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں عوامی زندگی سے دور رکھنے والی سوچ موجودہ کَیرالا سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا موقف خواتین کی مساوی سماجی شرکت کے اعتبار سے اہم ہے، لیکن یہ فرق بھی واضح رہنا چاہیے کہ مذہبی رہنمائی اور ریاستی اختیار الگ دائرے ہیں۔ کسی مذہبی رائے سے اختلاف کرنا جمہوری حق ہے، مگر اسے قانونی پابندی میں تبدیل کرنا ایک مختلف معاملہ ہے۔
اس بحث کو ’’مذہب بمقابلہ جدیدیت‘‘ کے سادہ فارمولے میں رکھنا بھی درست نہیں۔ اسلام میں حیا اور پردہ اخلاقی نظم کا حصہ ہیں، لیکن اخلاقی ذمہ داری صرف عورت پر عائد نہیں ہوتی؛ مرد بھی اپنی نگاہ، کردار اور طرزِ عمل کا ذمہ دار ہے۔ معاشرے کی پاکیزگی کا ذمہ صرف عورت کے سر ڈال دینا درست نہیں۔ اگر عورت کی موجودگی کو ہی معاشرتی بگاڑ کا سبب قرار دیا جائے تو پھر مرد کی نگاہ، کردار اور اخلاقی ذمہ داری کہاں جائے گی؟ حیا کا تقاضا یک طرفہ نہیں؛ مرد اور عورت دونوں اس کے مخاطب ہیں۔ پردہ عورت کے وقار اور دینی حدود کی حفاظت ہے، اسے اس کی تعلیم، صلاحیت، خدمت اور جائز سماجی کردار پر پابندی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ عورت کو معاشرے سے دور کر دینا اخلاق کی ضمانت نہیں؛ اخلاقی معاشرہ وہ ہے جو عورت کی عزت بھی محفوظ رکھے اور اسے اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنے کا حق بھی دے۔ مسئلہ عورت کے باہر آنے کا نہیں، اس معاشرے کی نگاہ اور رویے کا بھی ہے جو اس کی موجودگی کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ دینی اقدار اور عورت کے جائز سماجی کردار کو باہم متصادم سمجھنا اس بحث کو غیر ضروری طور پر محدود کردیتا ہے۔
اسلامی تاریخ بھی عورت کے سماجی وجود کو صرف گھر تک محدود تصویر میں پیش نہیں کرتی۔ حضرت ام سلمہؓ کا واقعۂ حدیبیہ اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں ایک اہم اجتماعی موقع پر ان کی رائے کو سنا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے مشورے کو اختیار فرمایا۔ یہ واقعہ کم از کم اتنا ضرور واضح کرتا ہے کہ اسلامی روایت میں عورت کی رائے، عقل اور مشاورت کی گنجائش موجود رہی ہے۔ اس لیے اصل بحث پردے کے حق یا مخالفت کی نہیں بلکہ اس کی تعبیر اور حدود کی ہے۔ اگر پردہ حیا اور وقار ہے تو قابلِ احترام ہے، لیکن اسے تعلیم، ملازمت، سماجی خدمت یا جائز سیاسی و عوامی ذمہ داریوں سے مکمل دوری کا لازمی تقاضا قرار دینا ایک وسیع تر تعبیر ہے، جسے دین کی مجموعی روح اور تاریخی روایت کی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔
مذہبی قیادت کے لیے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ اس کے الفاظ کا اثر مجلس تک محدود نہیں رہتا۔ جب لاکھوں لوگ کسی عالمِ دین کی بات کو دینی رہنمائی سمجھتے ہوں تو الفاظ کی صراحت، مفہوم کی وضاحت اور سماجی اثرات کا خیال رکھنا بھی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ دوسری طرف کسی مذہبی رائے کو پورے معاشرے کے لیے لازمی سماجی اصول سمجھنا اور اسے ریاستی قانون بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ ہندوستانی آئینی نظام مذہبی آزادی کے ساتھ مساوات، وقار اور بنیادی حقوق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے مذہبی آزادی اور خواتین کی مساوی شہری حیثیت کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مناسب نہیں۔
اس تنازع نے یہ بھی واضح کیا کہ خود مسلم معاشرے میں اس مسئلے پر ایک رائے نہیں۔ بعض مذہبی حلقوں اور مسلم تنظیموں نے کانتھاپورم کے موقف کی حمایت کی اور ستھیسن کے ردعمل پر اعتراض کیا، جبکہ خواتین اور ترقی پسند حلقوں نے اس موقف پر سوال اٹھائے۔ اس لیے اسے صرف ’’مسلمان بمقابلہ غیر مسلم‘‘ یا ’’مذہب بمقابلہ سیاست‘‘ کا معاملہ سمجھنا درست نہیں۔ اختلاف خود مسلمانوں کے درمیان بھی موجود ہے، اور یہی حقیقت اس بحث کو زیادہ سنجیدہ بناتی ہے۔
کانتھاپورم کی بعد کی وضاحت کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یا ان سے وابستہ تنظیمیں خواتین کو گھروں میں مقید رکھنے یا انہیں ثانوی حیثیت دینے کی حامی نہیں ہیں۔ خواتین کی تعلیم کے لیے قائم اداروں اور مواقع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام عورت کو دبانے یا معاشرے سے مٹانے کی تعلیم نہیں دیتا۔ بعد میں انہوں نے پیدا ہونے والے تنازع پر افسوس کا اظہار کیا اور اشتعال سے بچنے اور تعمیری مکالمے کی اپیل بھی کی۔صحافتی انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی موقف کو صرف ایک متنازع جملے سے نہیں بلکہ اس کی بعد کی وضاحت کے ساتھ سمجھا جائے۔
تاہم وضاحت کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر خواتین کی عوامی شرکت کو معاشرتی نقصان سے جوڑا جائے اور ساتھ ہی یہ کہا جائے کہ انہیں ثانوی حیثیت دینا مقصود نہیں، تو دونوں باتوں کے درمیان حدود اور تعلق کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی قیادت سے زیادہ صراحت اور احتیاط کی توقع کی جاتی ہے، کیونکہ اس کے الفاظ عام لوگوں کے رویوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
دوسری طرف سیاسی قیادت کو بھی اپنے دائرۂ اختیار کا خیال رکھنا ہوگا۔ خواتین کے مساوی حقوق کی حمایت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ریاست کا کام کسی مخصوص مذہبی تعبیر کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ شہری حقوق اور آئینی اصولوں کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی طرح مذہبی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی آزادی کے ساتھ فرد کی مساوات، وقار اور آزادی بھی آئینی اقدار ہیں۔ اختلاف اگر ان حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہو تو تصادم کے بجائے مکالمے کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
آج مسلمان خواتین تعلیم، طب، تدریس، صحافت، تجارت، انتظامیہ، سیاست اور سماجی خدمت میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس حقیقت کو محض ’’جدیدیت‘‘ کہہ کر رد کرنا بھی درست نہیں اور ہر سماجی تبدیلی کو ترقی سمجھ لینا بھی۔ ضرورت ایسے قابلِ عمل تصور کی ہے جس میں اسلامی اقدار کو صرف پابندیوں کے طور پر نہیں بلکہ حیا، وقار، عدل، ذمہ داری اور انسانی بھلائی کے وسیع اصولوں کے طور پر سمجھا جائے۔ عورت کی آزادی بھی اخلاقی ذمہ داری سے بے نیازی کا نام نہیں، لیکن عورت کو محض عورت ہونے کی بنیاد پر محدود کرنا بھی قابلِ قبول اصول نہیں ہوسکتا۔
کَیرالا کا یہ تنازع اگر سیاسی صف بندی اور مذہبی الزام تراشی تک محدود رہتا ہے تو تقسیم بڑھے گی؛ لیکن اگر اس سے خواتین کے مقام، دینی حدود اور بدلتے معاشرے کے تقاضوں پر سنجیدہ مکالمہ شروع ہوتا ہے تو یہی واقعہ ایک مفید بحث کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ مذہب کے بارے میں سوال اٹھانا دشمنی نہیں اور مذہبی رائے سے اختلاف گستاخی نہیں؛ البتہ دونوں کے لیے دلیل، احترام اور ذمہ داری لازم ہے۔
آخرکار اس معاملے کو نہ ’’اسلام بمقابلہ عورت‘‘ کے فارمولے میں بند کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی عالمِ دین کی شخصیت پر حملے تک محدود کرنا مناسب ہے۔ اسلام میں حیا، پردہ اور اخلاقی حدود اپنی جگہ اہم ہیں، مگر عورت کے وقار کو اس کی تعلیم، صلاحیت، آواز اور جائز سماجی کردار کے خاتمے سے جوڑ دینا اسلامی روایت کی وسعت کو محدود کردیتا ہے۔ اسی طرح آزادی کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنا بھی درست نہیں۔ اصل راستہ وہ ہے جہاں حیا بھی محفوظ ہو، وقار بھی؛ مذہبی آزادی بھی قائم رہے اور عورت کا جائز حقِ کردار بھی۔ یہی توازن اس تنازع کو وقتی کشمکش سے نکال کر ایک سنجیدہ سماجی مکالمے میں بدل سکتا ہے۔