سوتنتر بھاردواج :
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دلت طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر حملے کے الزام میں مطلوب ’ہندوتوا انفلوئنسر‘ سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ(۴؍ستمبر) کو اتر پردیش کے بلند شہر سے گرفتار کرتے ہوئے اس کی ویڈیو بناکر جاری کردی۔ پولیس اسے مہذب طریقہ پر بھی گرفتار کر سکتی تھی لیکن چونکہ عوام کے غم غصے کو کم کرنا مقصود تھا، اس لیے دھر دبوچ کر نہایت ذلت آمیز انداز سے حراست میں لیا گیا یعنی ساری ہیکڑی نکال دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتاری کی کارروائی امیت شاہ کے تحت کام کرنے والی دہلی پولیس نے اترپردیش میں گھس کر کی اور صوبے کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ ہندو ایک انتہا پسندوں کے آئیڈیل سوتنتر بھاردواج کو نہیں بچا سکے اور بے بس خاموش تماشائی بنے رہے ۔ اس ایک تیر سے امیت شاہ نے دوشکار کیے پہلے توسوتنتر بزدل ثاابت کیا اوردوسرے یوگی کو بے بس کے روپ میں پیش کردیا۔ سوتنتر بھاردواج کی حراست کے بعد پولیس نے یہ بیان جاری کیا کہ اسے بلند شہر کے پاس نیتھلا گاؤں سے موٹر سائیکل پر خورجہ کی جانب جاتے ہوئے پکڑا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص کے کپل مشرا سے لے کر نریندر مودی تک پینگیں بڑھاتا ہے وہ دہلی سے یوپی کیوں فرار ہوا؟ کیا اس نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ سہارے کمزور ہیں اس لیے اسے یوگی کے اترپردیش میں جاکرروپوش ہوجانا چاہیے تاکہ کوئی نہیں تو کم ازکم یوگی اسے بچا لیں ۔
سوتنتر بھاردواج کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر اسے اپنی خیر خواہ پولیس کی حراست سے اتنا ڈر لگتا ہے تو بڑی بڑی ہانکنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ اس نے کہا تھا کہ اسے تو پولیس نے گرفتار تک نہیں کیا، حراست کے دوران بھی وہ را ت بھرباہر گھومتا رہا اور پھر کپل مشرا کے ایک فون نے اسے رہائی دلا دی ۔ اب تو معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کس نے فون نے اسے جیل لی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔ وہ تو کہتا تھا کہ اول تو گرفتار نہیں ہوگا اور جیل گیا بھی توواپس آکر وہی کرے گا لیکن جب موقع آیا تو جیل بچنے کے لیے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ ہیلمٹ پہن کربھاگتا ہوا پکڑا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ آخری وقت میں وہ یوگی سے بھی مایوس ہوگیا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے نیپال فرار ہونے کے فراق میں تھا، تاہم پولیس نے اس منصوبے کو ناکام کر دیا۔ عمر خالد اور سوتنتر بھاردواج میں یہ فرق ہے کہ ایک طویل حراست کے باوجود شیر کی طرح اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور دوسرا چوہے کی مانندچھپنے کےبل تلاش کرتا پکڑا گیا۔
سوتنتر کی گرفتاری کے بعد اس کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ،جس میں وہ ڈینگ مارتا ہوئے اعتراف کرتاہے کہ جنتر منتر احتجاج کے دوران اس نے نشو آزاد کے والد سنجے کمار کے سر پر حملہ کیا تھا اور ’کھوپڑی پھوڑ دی‘ تھی۔ وہ فخر جتاتا ہے کہ اس کوقتل کی کوشش کا الزام میں گرفتار ہونا چاہیے تھا مگر اس سنگین الزام کے باوجود وہ جیل جانے سے بچ گیا۔ سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کی خاطر جب پورا حزب اختلاف متحد ہوگیا اور این ڈی اے میں شامل چراغ پاسوان سے لے کر رام داس اٹھاولے تک نے اپنا سُر بدل دیا۔ چراغ نے تو اپنا ووٹ بنک کے کھسکنے کے خوف میں مبتلا ہوکراس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرنے تک کا اعلان کردیا تو امیت شاہ کے ہوش ٹھکانے آئے۔دہلی پولیس ویسے تو ملزم کو 72 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر سیاسی نقصان کو کم کرنے لیے چند گھنٹے کے اندر ہی کارروائی کرکے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی اور سہارنپور میں مسجد کو شہید کرکے میڈیا کو ایک نیا معاملہ پکڑا دیا تاکہ کوئی سوتنتر بھارتی پر گفتگو نہیں کرے ۔ پہلے تو ایک مسجد کو منہدم کرنے کی مذموم سازش رچی گئی اور اب اس کے نیچے کوئی کنواں تلاش کرکے اسے مندر کہا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کنواں مندر کیسے ہوگیا؟ لیکن میڈیا کے لیے یہ بہت ہے کہ محکمۂ آثار قدیمہ اس کی تفتیش کررہاہے اور اس طرح مسجد کی انہدامی کارروائی کے جبر و ظلم کی پردہ پوشی کی گئی۔ لوگوں کو یہ نہ پوچھنے سے روکا جارہا ہے کہ مسجد کیوں شہید کی گئی ۔ انہیں اس سوال میں الجھا دیا گیا ہے کہ وہاں کنواں مندر تھایا نہیں تھا؟
سوتنتر بھاردواج کے معاملہ میں ایک طرف تو ہندوتوا نوازوں کی بزدلی کو بے نقاب کیا اور دوسری جانب دہلی پولیس کےوقار کو خاک میں ملا دیا ۔ وہ پوری دنیا کے آگے شرمسار ہوگئی۔بھاردواج کا یہ دعویٰ کہ وہ ’’ پولیس کے سو ِل اہلکار‘‘ کی طرح گھومتا ہے، اس تاثرکو تقویت دیتا ہے کہ جنترمنتر پر احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ساتھ سادہ وردی والے افراد ’’بھگوا غنڈہ عناصر‘‘ تھے۔ جنتر منتر پر جب 23 جون کو سی جے پی کے احتجاج میں دلت برادری کی نشو کے والد سنجے کمار بھی موجود تھے۔وہ اپنے فون سے احتجاج کی ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اس دوران ایک نوجوان نے ان سے پوچھا کہ وہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد دو، تین دیگر افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور مبینہ طور پر کمار کے ساتھ مارپیٹ کی۔سنجے کمار نے اس وقت اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ان کے سر پر کئی بار مکے مارے گئے اور کسی سخت چیز سے حملہ کیا گیا۔ پولیس نے وہاں سے سورج کمار اور سوتنتر بھاردواج کو پکڑ لیا مگردیگر افراد وہاں سے چلے گئے۔پولیس نے اس وقت صرف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 115(2) (معمولی چوٹ پہنچانا)، 126(2) (غلط طریقے سے روکنا) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
دہلی پولیس کے مطابق، کمار کو رام منوہر لوہیا اسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے میں ان کی چوٹوں کو ’معمولی‘ بتایا گیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ سر پر چوٹ کڑے سے لگی تھی۔ شرمناک بات یہ ہےکہ پہلے بھی دہلی پولیس نے ملزم کا دفاع کیا تھاکہ سنجے آزاد پر سوتنتر نے حملہ نہیں کیاتھابلکہ ہاتھ کے کڑے سے چوٹ لگی تھی اور خون نکل آیاتھا ۔ اس طرح دہلی پولیس نے تو اسے بچانے کی ساری کوشش کر ڈالی مگر خود بھاردواج نے ڈینگ مار کر اس پر پانی پھیر دیا ۔سنجے آزاد کی بیٹی نیشو کا الزام ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر سوتنتر بھاردواج کے حامیوں کی جانب سے مسلسل گالیاں اور آبروریزی کی دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ نیشو نے کہاکہ ’’کئی دنوں سے اس کے حامی مجھے گالیاں دے رہے ہیں اور عصمت دری کی دھمکیاں بھیج رہے ہیں۔ میں نے ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ میں کئی ہفتوں تک اسکول نہیں جا سکی اور مجھے لگا کہ ہر کوئی مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب پولیس کارروائی کرے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ مجھے مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔‘‘ اس کے بعد نشو نے راہل سے مدد مانگی اور پھر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر انڈین یوتھ کانگریس دہلی کے صدر اکشے لَکڑاسمیت کانگریس کارکن نیز بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد اور رکن پارلیمان پپویادو نے پہنچ کر بھگواشدت پسند سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ اس طرح پولیس بھی جھک گئی ۔
بھاردواج نے جب سیاسی منظر کو بدلتے ہوئے دیکھا تو اس کی ہیکڑی نکل گئی ۔ اب وہ پوڈکاسٹ کو ہٹوانے کے لیے رونے گڑگڑانے لگا ۔ اونچی اونچی ہانکنے والے بھاردواج نے اپنے پہلے بیان کی یہ مضحکہ خیز وضاحت پیش کی کہ اس نے سنجے کمار پر جان بوجھ کرحملہ نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دفاع میں کیا جانے والا اقدام تھا۔ اس کا یہ بزدلانہ دعویٰ سامنے آیا کہ 10 سے 15 لوگوں نے اسے گھیر لیا تھا اور اگر وہ خود کو نہ بچاتا تو ہجوم اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر سکتا تھا۔ اس کے مطابق، اسی دوران اس کا کڑا سنجے کمار کے سر پر لگا۔وہ اس قدر ڈر گیا کہ اس نے وائرل پوڈکاسٹ کلپ کو بھی ’فرضی‘ بتاتے ہوئے کہہ دیا کہ کپل مشرا اور چراغ پاسوان کے بارے میں کہی گئی باتیں طنزیہ انداز میں کی تھیں لیکن اب اس کا کیا فائدہ کیونکہ اس بار تو پولیس ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی سنگین دفعات شامل کردیئے اور نشو کی شکایت پر پاکسو ایکٹ کے تحت الگ ایف آئی آر درج کرلی اس کے علاوہ قتل کی کوشش کی دفعہ بھی زیر تفتیش ہے۔ اس طرح سنجے کے سر پر ۷؍ ٹانکے اور ’’ہاف مرڈر‘‘ کا کیس نہیں بننے پر بغلیں بجانے والے سوتنتر تجو باپ کی کھوپڑی پھاڑنے کے بعد بیٹی نیشو کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’اب بچی کو بھی مارا جائے گا۔‘‘ ٹھکانے پر آگیا۔ بالاجی اور ہنومان جی کا آشیرواد کسی کام نہ آیا ۔ کپل مشرا اور چراغ پاسوان نے پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور بڑے بھائی مودی جی کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی پر کیا گزر رہی ہے۔ فی الحال جیل میں چکی پیسنے والا سوتنتر بھاردواج ثابت لکھنوی کا یہ ضرب المثل شعر دوہرا رہا ہوگا؎
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے