بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی بھارت کےسیاسی اورسماجی حالات فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آگئے تھے،جس کے بعدبھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی)ایک زبردست سیاسی قوت بن کرابھری اور اقتدار پرقابض ہونے کے بعد انتہائی خاموش کے ساتھ ایسے اقدامات کئے،جس سے ہندوؤں کی اکثریت کو لگنے لگا کہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے اور رام راجیہ قائم کرنے کا وقت آپہنچا ہے،یہ اسکےلئے سب سے بہترین اورمناسب وقت ہے،کانگریس کے دس سالہ دور اقتدار میں فرقہ پرستی کے زہر کوپھیلنے سے روکنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرمسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتارہا،بم دھماکوں اورفرضی انکاؤنٹر کے باعث ہندو برادری میں ایک خاموش پیغام گیا کہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی منموہن سنگھ حکومت سے ملک کی سلامتی کوخطرہ لاحق ہے،اس صورتحال کا بی جے پی نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کوجو ایک سخت گیرہندو قائد کے طورپراپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے،انھیں وزارت عظمی کے لئے مضبوط امیدوار کے طورپرپیش کیا گیا،میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے بیشتر گھرانوں نے بھی بی جے پی کو مرکز کا اقتدار دوبارہ واپس دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا،مرکز میں مودی کے اقتدارسنبھالتے ہی ملک کے حالات تیزی سے بدلنا شروع ہو گئے اور این ڈی اے حکومت کے قیام کے بعد ریاستوں میں اقتدار دوسری پارٹیوں سے بی جے پی اتحاد کو منتقل ہونا شروع ہو گیا،ملک بھر میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے جبروتشدد کے ایسے مظاہرے کئے گئے اور ایسے واقعات سامنے آتے رہے کہ ان کے باعث اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت یعنی مسلمانوں میں احساس عدم سلامتی پیدا ہو گیا،مرکزی حکومت کے علاوہ بی جے پی ریاست والی حکومتوں کی جانب سے قانون سازی اور سرکاری اختیارات کا ایک مخصوص انداز میں استعمال کی وجہ سے مسلمانوں میں اضطراری کیفیت پیدا ہو گئی،طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی پرمختلف ملی تنظیموں بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے مختلف انداز سے اپنا احتجاج درج کروایا تھا،قانون سازی سے قبل مسلم تنظیموں نے ایسے تیور دکھائے تھے کہ گویا ایک نشست میں طلاق ثلاثہ کو غیرقانونی قرار دینے کو وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور اسکےلئے وہ ملک بھرمیں سول نافرمانی کی تحریک شروع کردیں گے،طلاق مغلظہ پر امتناع کوشریعت میں مداخلت پرمحمول کرنے والے،ہمارے اکابرین نے مجہول قانون کو خاموشی سے قبول کرلیا،اس کے بعد مسلمانوں کی بڑی ملی تنظیموں خاص کر جمیعت علماء ہند،جماعت اسلامی،جمیعت اہل حدیث اورصوفی سجادہ نشین کونسل وغیرہ کے رہنماؤں نے نہ جانے کن حکمتوں یا مجبوریوں کے تحت ارباب حکومت سے اپنے تعلقات استوار کرلئے،جس کے نتیجے میں ملی مسائل پر ان کا نقطہ نظر اورلائحہ عمل دونوں ہی بدل گئے،کہاجاتا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو درپیش سنگین مسائل میں ہماری ملی تنظیموں کے اکابر،مومنانہ تدبر و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے بجائے،اپنی اپنی تنظیموں کو مادی امور میں مشغول کردیا کوئی تنظیم اجتماعات منعقد کرنے میں مشغول،تو کوئی ایوینٹس اور کارنیولس منعقد کرتے ہوئے ملت کی معیشت کو مستحکم کرنے کوشاں ہو گئی،کوئی شریعت کے تابع سرمایہ کاری اور انشورنس پلانس کو وضع کرنے میں منہمک ہو گئی،یہ تنظیمیں ارباب حکومت سے اپنے خوشگوار تعلقات کے باوجود انہیں مخالف مسلم اقدامات سے باز رکھنے کی کوششیں کرنے کے بجائے نہ جانے کیوں حکومت کے ایجنڈے کو روبہ عمل لانے کی راہ ہموار کرتی دکھائی دیتی رہیں،ہماری مسلم تنظیمیں اور ملی قیادت اب خود کو اتنی بے بس اور مجبورمحسوس کرنے لگی ہیں کہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے سے بھی خوف زدہ نظرآرہی ہیں،اگرچہ کہ مسلم پرسنل لابورڈ نے قانون وقف میں ترمیم اوریکساں سول کوڈ کے نفاذ کے خلاف قانونی اورجمہوری طریقے اختیار کرتے ہوئے تحریک چلانے کا اشارہ دیا تھا،مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری ملی تنظیمیں اتنے اہم مسائل پربھی سطحی کاروائیوں پر اکتفا کررہی ہیں،کسی تنظیم نے بھی ان قوانین کا دستوری و قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینے کی کوئی سنجیدہ کوششیں کی اور نہ ہی ان کے خلاف تحریک شروع کرنے کی جامع منصوبہ بندی کررکھی ہے،ایسا لگتا ہے کہ ابتدائی طورپر بیان بازی اور ایک ادھ احتجاجی مظاہرہ کرکے یہ باور کرلیا جائے گا کہ وہ سب کچھ کیا جاچکا،جوموجودہ حالات میں کیا جاسکتا تھا، کاش کہ ہم معاشرتی زندگیوں میں پیش آنے والے مسائل کے تئیں مختلف مذاہب کے احکام کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ قائل کرواتے کہ شریعت اسلامی انسانی زندگی کے ہرپہلو کا احاطہ کرتے ہوئے جس قدر عادلانہ حل پیش کرتی ہے،اتنا جامع انداز میں دوسرے مذاہب اسکا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں،اس لیے قانون کی تدوین سے قبل مختلف مذاہب کے احکام کا تقابلی مطالعہ کیا جائے اورجو سب سے بہترشرح ہو،اس کو قبول کیا جائے،یہ بھی واشگاف کیاجاتا کہ بہت سی صورتوں میں دیگرمذاہب رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں یا پھر مجوزہ کوڈ کے بہت سے نکات ہندو مت کے احکام سے بھی متصادم ہوسکتے ہیں،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کوانتظامیہ نے راتوں رات بلڈوزر سے منہدم کردیا،مسلم فریق کی اپیل مسترد ہونے کے فوری بعد ایچ ڈی ایم سٹی مجسٹریٹ اوربڑی تعداد میں پولس جوانوں کی موجودگی میں کلکٹریٹ احاطے میں موجود،مسجد کو ہٹانے کی کاروائی ضلعی عدالت کے حکم پر کی گئی، دراصل یہ پورا معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب بجرنگ دل کے لیڈر وکاس تیاگی نے شکایت کی کہ انتہائی حساس اورخفیہ نوعیت کے کاموں والے مقام،دفترضلع مجسٹریٹ کے احاطے میں اس مسجد کی تعمیرغیرقانونی طور پر کی گئی ہے،انہوں نے الزام لگایا کہ اس احاطے کا استعمال صرف مذہبی سرگرمیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تجارتی فائدے کے لیے بھی کیا جارہا تھا،اس مسجد میں ایک ڈاک خانہ بھی تھا اور باہر کے لوگوں کو کرائے پر کمرے دیے جارہے تھے اور ان کا کرایہ مسجد کمیٹی وصول کررہی تھی،باہری لوگوں کی دن رات بلا روک ٹوک آمدو رفت سے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کی سکیورٹی اور رازداری کوبھی سنگین خطرہ لاحق ہو گیا تھا،شکایت پر انتظامیہ نے میونسپل مجسٹریٹ کی عدالت میں پی پی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا،میونسپل مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ نے اپنے حکم میں مسجد کوغیرقانونی قرار دیتے ہوئے بے دخلی اورتقریبا ساڑھے 6 کروڑ روپے کی بھاری بھرکم تلافی کی رقم عائد کرنے کے ساتھ،مسجد کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا،اس کے بعد مسلم فریق نے ضلعی عدالت میں اس فیصلے کوچیلنج کیا تھا،ضلعی عدالت نے مانا کہ زیربحث جائیداد پر عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کسی بھی صورت میں اس غیرقانونی جائیداد پر نافذ ہوتا ہے،اس کے بعد عدالت نے مسجد کو ہٹانے کا حکم دیا،اس فیصلے کےبعد جمعہ سے ہی مسجد کے آس پاس بڑی تعداد میں پولس فورس تعینات کردی گئی تھی اور بالآخر بلڈوزر لا کر مسجد کو منہدم کردیا گیا۔
اس کاروائی نے ایک بارپھر یہ بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں تو ان کے نفاذ میں دہرا معیار کیوں ہے؟ ایک عدالت میں مقدمہ مسترد ہونے کے بعد اس کو بالائی عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے،آج بلڈوزر،انتقامی سیاست،تعصب اورنفرت کا ذریعہ بنتا جارہا ہے،یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے بلکہ آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی،مذہبی آزادی،شہریوں کے مساوات اور ریاست کےغیر جانبدارنہ کردار جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے،حالانکہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 اب بھی نافذ ہے،اس کے علاوہ نئے وقف قانون میں بھی وقف بھائی یوزر سے متعلق دفعات موجود ہیں،مقامی افراد کے مطابق متعلقہ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹریشن نمبر 451 کے تحت درج ہے،پرانے اراضی ریکارڈ میں یعقوب خان اور واحد خان کے نام بھی درج ہیں۔ہزاروں سال پرانی مسجد سے لے کرسینکڑوں سال پرانی درگاہوں تک مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے انہدام کی لہرنے ملک میں بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے،یہ انہدامی مہمات الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف قانون کی آڑ میں جاری منظم سازش کا حصہ ہیں،مئی سے لے کر اب تک 6 ریاستوں میں مسلمانوں کے کم از کم 23 مذہبی ڈھانچے بشمول مساجد، درگاہیں،عیدگاہیں اور مدارس کو منہدم کیا جاچکا ہے،وارانسی میں ہزار سال پرانی تاریخی مسجد گنج شہیداں کواسی طرح مسمار کردیا گیا،دہلی،مہاراشٹر،اتر پردیش، گجرات،راجستھان اور ہریانہ سمیت بی جے پی کی حکومت والی متعدد ریاستوں سے اس طرح کے کاروائیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں،انہدام کے انداز سے یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو چن چن کرنشانہ بنایا جارہا ہے،انہدام کی بڑھتی ہوئی تعداد نے قانون کے تحت مساوی سلوک،مذہبی ورثے کے تحفظ اور حکام کو اس طرح کے تمام اقدامات میں شفافیت اور مناسب عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بحث چھیڑدی ہے،چاہے اس میں کوئی بھی برادری ملوث ہو،پچھلے کئی برسوں میں ان معاملات میں ہندوتوا تنظیموں اور کارکنوں کوبھی فعال دیکھا گیا ہے جو مذہبی جلوسوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کی عبادت گاہوں بشمول مساجد اورمسلم مزارات پر تسلط قائم کرتے ہیں،2022 میں کئی ہندو تہواروں کی تقریبات کے دوران بشمول رام نومی اور ہنومان جینتی مسلح ہندو ہجوم،جن کی قیادت بعض اوقات بی جے پی کے ارکان کرتے تھے،مسلم محلوں میں داخل ہوئے اورمساجد پرزعفرانی جھنڈے لگاتے ہوئے فحش نعرے لگائے،ایم ایس گوالکر نے جو ہندو قوم پرست نظریہ یا ہندوتوا کے بانیوں میں سے ایک ہیں،نے اپنے سب سے مشہورمتن بینچ آف تھاٹس میں دعوی کیا ہے کہ جہاں بھی کوئی مسجد یا مسلم محلہ( کالونی) ہے،مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا اپنا الگ علاقہ ہے،یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہندوستانی زمین کی خصوصی ملکیت کا عقیدہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ نہیں ابھرا بلکہ ہمیشہ سے ہندو قوم پرست سوچ کا مرکزی اصول رہا ہے، گوالوالکرنے اپنی پوری تحریر میں قوم کی ایک ایسی تعریف کو برقرار رکھا جس نے ہندو ایک ثقافت اور علاقے کے درمیان فطری ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہے،بابری مسجد کی تباہی کوئی اتفاقی بات نہیں ہے،جس نے انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست سیاست کےعروج کو ہوا دی جوآج ہندوستان پرحاوی ہے۔
سہارنپورمسجد کے بعد میرٹھ کی شاہی مسجد کا قضیہ شروع ہو گیا ہے،مرادآباد اورسنبھل کی مساجد بھی الگ الگ نوعیت کی جانچ کا سامنا کررہی ہیں،مساجد کے بارے میں یہ بات بڑی حد تک وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی اکثریت جائز اراضی پرقائم ہے اور ان میں سے بیشتر کی تاریخی حیثیت اورملکیت سے متعلق ریکارڈ بھی موجود ہے البتہ بعض مساجد کے بارے میں قانونی یا ملکیاتی نوعیت کے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں،جن کی دستاویزی بنیاد پرجانچ ایک قانونی مسئلہ ہے،لیکن جہاں تک غیر اللہ کے معبدوں کا تعلق ہے،ان کی ایک بڑی تعداد ایسی جگہوں پرقائم ہے جوسرکاری اراضی یا متنازع قبضوں سے متعلق ہیں،مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ ایک طرف ملک بھر میں مساجد اور وقف املاک کے ریکارڈ مرتب کریں اور دوسری طرف جہاں کسی دوسرے مذہبی مقام کے بارے میں اسی نوعیت کی قانونی بے ضابطگی کے مستندشواہد موجود ہوں وہاں قانونی راستہ اختیار کریں،کیا مسلم تنظیمیں اتنا بھی نہیں کرسکتیں کہ ایسے مذہبی مقامات کے کاغذات،زمین کی ملکیت اورتاریخی حیثیت کی باقاعدہ جانچ کرائیں،جہاں خلافِ قانون تعمیر یا سرکاری اراضی پرقبضے کےمستندشواہد ملیں وہاں ایف آئی آر درج کرائیں،عدالتوں سے رجوع کریں اور اس معاملے کوقومی سطح پر اٹھائیں؟اگرواقعی مذہبی مقامات کی قانونی حیثیت،زمین کی ملکیت اورتاریخی دستاویزات کو بنیاد بنا کر کاروائی کا اصول اختیار کیاجارہا ہے تو یہی اصول تمام مذہبی مقامات پر یکساں طورپر نافذ ہونا چاہیے،قانون کا معیار مذہب دیکھ کرنہیں،دستاویز اور ثبوت دیکھ کرطے ہونا چاہیے،ایسے میں یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ ان صورتحال میں مسلم تنظیمیں اورملک کا مسلمان کہاں کھڑا ہے؟ایک طرف ملک میں مسلم قیادت کا فقدان ہے تو دوسری جانب ہرطرف مسلمانوں کے جان و مال،عزت و آبرو اور مذہبی مقامات تک پرخطرات کے بادل منڈلارہے ہیں،چن چن کر مذہبی مقامات کو ختم کرنے اور مٹانے کی مہم جاری ہے،مسلمان بے بسی ومظلومیت کا شکار ہے،صدائے احتجاج بلند کرتے کرتے ایک عرصہ بیت گیا،مگرشعائرِ اسلام کی تنقیص،مساجد و مدارس کی بے حرمتی اورحقوقِ ملت کی پامالی کا سلسلہ موقوف نہ ہوسکا۔اس کے باوجود اگرقیادت مصلحت اندیشی،عجزِ تدبیر اورضعفِ اقدام کی روش ترک کرنے پر آمادہ نہ ہو تو ملت کو اپنی قیادت کے باب میں ازسرِنو غور و فکر کرنا ہوگا،قوم کو شخصیت پرستانہ تقدس، جذباتی وابستگی اور موروثی اعتماد کے حصار سے نکل کر میزانِ کارکردگی،امانت و دیانت اورجرأتِ حق گوئی کی بنیاد پر قیادت کا محاسبہ کرنا ہوگا،جو لوگ اعتمادِ عامہ کو سرمایۂ اقتدار اور ملی اضطراب کو وسیلۂ نمود بنائیں،ان کے بارے میں خاموش تماشائی بنے رہنا ملت کے اجتماعی شعور کے شایانِ شان نہیں،اب وقت آگیا ہے کہ قوم و ملت تجدیدِ انتخاب،تجدیدِ قیادت اور احیائے شعورِ اجتماعی کے امکانات پرسنجیدگی سے غور کریں،قیادت منصبِ تقدیس نہیں،امانتِ مسئولیت ہے اورجس امانت کی پاسبانی میں مسلسل کوتاہی ہو،وہاں تبدیلیِ قیادت پرغور کرنا بغاوت نہیں،بلکہ اجتماعی بصیرت کا تقاضا ہے،اب ملت کومحض نئے نعروں کی نہیں،نئی بصیرت،نئی حکمتِ عملی اور ایسی باعزیمت قیادت کی ضرورت ہے جوشعائرِ اسلام کے تحفظ کو خطابت نہیں،اپنی ملی ذمہ داری سمجھے،بابری مسجد کے حق میں بھی دلائل کے انبار تھے،لیکن کیاہوا؟یہ دنیا نے دیکھا،کس طرح عدالتی فیصلے،آئین اور دستور کی دھجیاں اڑائی گئیں،اسی طرح سہارنپور اور دیگردرجنوں مساجدکا معاملہ ہے،مسلمانوں کے رہنما اورمسلم قیادت لاچار ومجبور دکھائی دیتی ہے،بابری مسجد کے بعد پورے ملک میں مساجد،خانقاہیں،مدارس اور گھروں پر بلڈوزر پر بلڈوزر چل رہے ہیں لیکن ہماری جانب سے صرف ثبوت پیش کیا جارہاہے،جبکہ یہ کوئی حل نہیں ہے،جہاں حکومت،عدالت،انتظامیہ اور میڈیا سب مسلم مخالف ہوچکے ہوں،جمہوریت کے چاروں ستون میں نفرت کا زہرگھول دیاگیا ہو وہاں ایک مظلوم قوم اور مسلم تنظیموں کےلئے کون سا راستہ بچا ہے؟ کیا صرف بے بسی کا اظہار ہی کیاجائے گا یا مستقبل کےلئے کوئی لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا؟
قوت فکروعمل پہلے فنا ہوجاتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے۔
(مضمون نگارمعروف صحافی،کالم نویس اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com