بیٹی کو گود میں لے کر ماں نے لی ڈگری. شادی، مادریت اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود رحمت النساء رجب نے جاری رکھا تعلیم کا سفر؛ ممبئی یونیورسٹی کی تقریب میں یادگار منظر
بیٹی کو گود میں لے کر ماں نے لی ڈگری.
شادی، مادریت اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود رحمت النساء رجب نے جاری رکھا تعلیم کا سفر؛ ممبئی یونیورسٹی کی تقریب میں یادگار منظر
ازقلم:جاوید جمال الدین
ممبئی:ایک ہاتھ میں تعلیمی سند، بانہوں میں کمسن بچی اور چہرے پر برسوں کی محنت کی خوشی—ممبئی یونیورسٹی کے کالینہ کیمپس میں یہ منظر دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرگیا۔ شعبۂ اردو کی جانب سے مراٹھی بھاشا بھون میں منعقدہ خصوصی تقریب میں جب رحمت النساء رجب اپنی ننھی بیٹی کو گود میں لیے سند حاصل کرنے کے لیے اسٹیج پر پہنچیں تو ایک معمول کی تعلیمی تقریب اچانک ایک یادگار لمحے میں تبدیل ہوگئی۔
یہ صرف ایک ڈگری حاصل کرنے کا منظر نہیں تھا۔ اس میں ایک خاتون کی مسلسل جدوجہد، والدین کی حوصلہ افزائی، شوہر اور سسرال کا تعاون، تدریس سے وابستگی اور ماں بننے کے بعد بھی تعلیم جاری رکھنے کا عزم نمایاں تھا۔
تقریب میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے والے طلبہ کی تہنیت کی گئی، جبکہ ایم اے اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ کئی طلبہ برسوں کی محنت کے بعد اپنی کامیابی کا جشن منانے پہنچے تھے، مگر رحمت النساء کا انداز سب سے مختلف تھا۔ وہ اپنی کامیابی کو اپنی کمسن بیٹی سے الگ نہیں کرنا چاہتی تھیں، اسی لیے اسے گود میں لے کر اسٹیج پر پہنچیں۔
ننھی بچی شاید اس وقت یہ نہیں جانتی کہ اس کی ماں کے ہاتھ میں موجود سند کے پیچھے کتنی محنت چھپی ہے، لیکن آنے والے برسوں میں یہی تصویر اس کے لیے ایک ایسی یاد بن سکتی ہے جس پر اسے اپنی ماں پر فخر ہوگا۔
شادی کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری
رحمت النساء رجب کی تعلیمی جدوجہد شادی کے بعد بھی جاری رہی۔ ان کی شادی 2024 میں افضل حسین منصوری سے ہوئی، جو کپڑے اور فیبرک کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
رحمت النساء کے مطابق شادی سے قبل ہی ان کی تعلیم جاری تھی۔ شادی کے بعد شوہر اور سسرال والوں نے بھی ان کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کا ساتھ دیا اور تعلیم مکمل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
ایک خاتون کے لیے شادی کے بعد تعلیم جاری رکھنا بظاہر جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، عملی زندگی میں اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ نئے گھر کی ذمہ داریاں، خاندان کی ضروریات اور وقت کی کمی کے باوجود پڑھائی کے لیے خود کو تیار رکھنا مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔
رحمت النساء نے یہی مستقل مزاجی دکھائی۔
ان کے لیے شادی زندگی میں ایک نئی ذمہ داری کا آغاز تھی، تعلیم سے رشتہ ختم کرنے کی وجہ نہیں۔
پسماندہ بستی سے یونیورسٹی تک کا سفر
رحمت النساء کے تعلیمی سفر کا ایک اہم پہلو ان کا ماحول بھی ہے۔ وہ ایک گنجان اور نسبتاً پسماندہ بستی میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں روزمرہ زندگی کے مسائل ہی بہت سے لوگوں کے لیے بڑی آزمائش ہوتے ہیں، وہاں اعلیٰ تعلیم کا خواب دیکھنا اور اسے حقیقت میں بدلنا آسان نہیں۔
لیکن ان کے والدین نے ان کے خوابوں کے راستے میں حالات کو حائل نہیں ہونے دیا۔
رحمت النساء اپنی کامیابی کا ایک بڑا سبب اپنے والدین کی مثبت سوچ کو قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین نے ہمیشہ تعلیم کے لیے حوصلہ دیا اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
یہی حوصلہ ان کے تعلیمی سفر میں مسلسل طاقت بنتا رہا۔
ڈگریوں کے ساتھ تدریس کا تجربہ بھی
رحمت النساء نے تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔ وہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور نائٹ اسکول سے بھی وابستہ رہی ہیں۔
اردو اور تاریخ ان کے تدریسی مضامین رہے ہیں۔
ان کی تعلیمی قابلیت میں ڈی ایڈ اور بی ایڈ کے علاوہ ایم اے کی دو ڈگریاں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک تعلیم انہوں نے ڈسٹنس موڈ کے ذریعے مکمل کی۔
یہ تعلیمی سفر اس بات کی مثال ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہو تو تعلیم کے مختلف راستے اختیار کرکے بھی منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔
کبھی روایتی کلاس روم، کبھی فاصلاتی تعلیم اور کبھی گھریلو مصروفیات کے درمیان مطالعہ—رحمت النساء نے حالات کے مطابق راستہ بدلنا قبول کیا، لیکن منزل بدلنا قبول نہیں کیا۔
ماں بننے کے بعد اصل آزمائش
تعلیم کا سفر جاری تھا کہ رحمت النساء ماں بن گئیں۔ ننھی بچی کی آمد ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا۔
ایک طرف بچی کی دیکھ بھال، دوسری طرف تعلیمی ذمہ داریاں۔ ایسے میں وقت نکالنا آسان نہیں تھا۔
لیکن رحمت النساء کا کہنا ہے:
’’ماں بننا کمزوری نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘
ان کے مطابق ماں بننے کے بعد تعلیم جاری رکھنا مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ خواتین اگر اپنے مقصد کے بارے میں واضح ہوں اور خاندان ان کا ساتھ دے تو وہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھ سکتی ہیں۔
رحمت النساء کے لیے بھی بیٹی کی آمد نے ان کے تعلیمی سفر کو ختم نہیں کیا، بلکہ شاید اسے ایک نئی معنویت دے دی۔
’’میں چاہتی تھی بیٹی بھی اس لمحے میں میرے ساتھ ہو‘‘
اپنی بیٹی کو سند حاصل کرنے کی تقریب میں ساتھ لانے کی وجہ بتاتے ہوئے رحمت النساء کہتی ہیں کہ وہ اپنی کامیابی کے اس اہم لمحے میں اسے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتی تھیں۔
یہ ان کے لیے محض ایک تقریب نہیں تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی بھی اس یاد کا حصہ بنے۔
آج بچی اس لمحے کی اہمیت نہیں سمجھ سکتی، لیکن جب وہ بڑی ہوگی اور اپنی ماں کی یہ تصویر دیکھے گی تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی ماں نے اپنی زندگی کی ایک اہم منزل اسے گود میں لے کر حاصل کی تھی۔
یہ شاید ایک ماں کی جانب سے اپنی بیٹی کو دیا جانے والا سب سے خاموش مگر مؤثر سبق ہے۔
ذمہ داریاں زندگی کا حصہ ہیں، خوابوں کا اختتام نہیں۔
ابھی پہلی ترجیح بیٹی کی پرورش
تعلیمی کامیابی کے باوجود رحمت النساء فی الحال ملازمت اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کی کمسن بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے اور وہ اس کی پرورش کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں بچی کو ان کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے وہ اس کی دیکھ بھال پر توجہ دے رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں حالات سازگار ہونے پر تدریس کے شعبے میں دوبارہ سرگرم ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یوں ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں وقفہ آیا ہے، اختتام نہیں۔
’’تعلیم کبھی ضائع نہیں جاتی‘‘
خواتین اور نئی نسل کے لیے رحمت النساء کا پیغام بھی واضح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکلات کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ترک نہیں کرنا چاہیے۔
زندگی میں ایسے مراحل آسکتے ہیں جب تعلیم مکمل کرنے میں تاخیر ہوجائے، ملازمت کا موقع نہ ملے یا گھریلو ذمہ داریاں انسان کو کچھ عرصے کے لیے اپنے خوابوں سے دور کردیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم کی محنت ضائع ہوگئی۔
ان کے مطابق تعلیم انسان کی ایسی دولت ہے جو زندگی بھر اس کے ساتھ رہتی ہے۔
موقع دیر سے ملے تب بھی علم کام آتا ہے۔ حالات بدلیں تو انسان دوبارہ اپنے ہنر اور تعلیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
وہ خواتین سے اپیل کرتی ہیں کہ شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور خاندان کے افراد بھی ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
خاندان کا تعاون ہو تو راستے آسان ہوجاتے ہیں
رحمت النساء کی کامیابی میں ان کی اپنی محنت کے ساتھ خاندان کا تعاون بھی اہم رہا۔ والدین نے ابتدا سے حوصلہ دیا، جبکہ شادی کے بعد شوہر اور سسرال نے تعلیم مکمل کرنے میں ساتھ دیا۔
یہ تعاون اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ خواتین کی تعلیمی ترقی صرف ان کی ذاتی کوشش کا معاملہ نہیں۔ گھر کا ماحول اور خاندان کی سوچ بھی اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر بیٹی کو پڑھنے کا موقع ملے، اگر شادی کے بعد بہو کی تعلیم کو قبول کیا جائے اور اگر ماں بننے کے بعد بھی اسے اپنے خواب پورے کرنے کی آزادی دی جائے تو اس کے اثرات صرف ایک خاتون تک محدود نہیں رہتے۔ اس کا فائدہ پوری اگلی نسل کو پہنچتا ہے۔
ایک تصویر، کئی پیغام
ممبئی یونیورسٹی کی اس تقریب میں پی ایچ ڈی، ایم اے اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے یہ دن کامیابی کا دن تھا، لیکن رحمت النساء رجب کے لیے یہ لمحہ کچھ زیادہ معنی رکھتا تھا۔
وہ اسٹیج پر اکیلی نہیں تھیں۔
ان کی بانہوں میں ان کی بیٹی تھی۔
یہی ایک تفصیل اس پورے منظر کو خاص بنا دیتی ہے۔
ایک طرف تعلیمی سند تھی، جو ماضی کی محنت کی گواہی دے رہی تھی، اور دوسری طرف وہ بچی تھی جو ان کے مستقبل کی سب سے بڑی امید تھی۔
رحمت النساء کی کہانی اس سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ شادی یا مادریت عورت کے تعلیمی سفر کی آخری منزل ہے۔ زندگی کی ترجیحات بدل سکتی ہیں، راستہ طویل ہوسکتا ہے، رفتار سست ہوسکتی ہے، مگر منزل تک پہنچنے کا عزم باقی رہے تو سفر جاری رہتا ہے۔
ان کی کامیابی ان خواتین کے لیے بھی حوصلے کا پیغام ہے جو گھریلو ذمہ داریوں کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ان کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز ایک ہی وقت میں حاصل کرنا ضروری نہیں، لیکن اپنے خواب کو مکمل طور پر ترک کردینا بھی ضروری نہیں۔
رحمت النساء نے اپنی تعلیم مکمل کی، تدریس کا تجربہ حاصل کیا، شادی کے بعد بھی اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا، ماں بننے کی ذمہ داری قبول کی اور آخرکار اسی بیٹی کو گود میں لے کر اپنی کامیابی کی سند حاصل کی۔
اس ایک منظر میں پوری کہانی سمٹ آتی ہے۔
ایک ہاتھ میں سند، بانہوں میں بیٹی اور چہرے پر اطمینان—یہ ایک عورت کی کامیابی ہی نہیں، ایک خاندان کی سوچ اور ایک نسل کے روشن مستقبل کی تصویر بھی ہے۔
ممبئی یونیورسٹی کے اسٹیج پر اس دن رحمت النساء رجب نے صرف ایک سند وصول نہیں کی؛ انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے ایک ایسی یاد بھی محفوظ کردی جو شاید آنے والے برسوں میں اسے اپنی ماں کی جدوجہد، تعلیم کی اہمیت اور اپنے خوابوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دیتی رہے گی۔
اور شاید یہی اس کامیابی کا سب سے خوب صورت پہلو ہے کہ ماں نے اپنی منزل حاصل کی تو بیٹی اس کی بانہوں میں تھی۔
جاوید جمال الدین
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD