للن تیواری نے کلن سنگھ سے کہا یار مجھے اپنے پردھان جی سے یہ توقع نہیں تھی؟ بہت برا کیا ہے انہوں نے قسم سے ۔ میرا تو دل ٹوٹ گیا۰۰۰
کلن درمیان میں روک کر بولا ارے بھیا یہ مرثیہ کبھی ختم بھی ہوگا یا قیامت تک یونہی بلا روک ٹوک جاری و ساری رہے گا؟
بھائی ،جس سے جتنی امید ہوتی ہے اس کی دغابازی کا اتنا ہی صدمہ ہوتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہی کام اگر راہل گاندھی کرتے تو مجھے خوشی ہوتی ؟ مگر۰۰
کلن پریشان ہوکر بولا بھیا تم جو کہہ رہے میری سمجھ سے باہر ہے۔ ایسا کیا کام ہے کہ راہل کرے تو خوشی اور کوئی کرے تو ناراضی ؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟؟
کچھ نہیں بھی ہوا اور بہت کچھ ہو بھی گیا۔ راہل اقتدار میں آنے کے بعد کرتا تو ہم شور مچاتے کہ ہندوتوا کا دشمن ہے اس لیے ایسا کررہا ہے۔
ارے بھائی کیا کررہا ہے یہ تو بتاو؟
وہی جو ہمارے رہنما کررہے ہیں ۔ بھیا مجھے کسی اور سےنہیں اپنے پردھان، چانکیہ اور چھوٹا فانٹا سے شکایت ہے۔ اس تریمورتی نے مجھے مایوس کیا ہے۔
یار تم نے تو تینوں کو لپیٹ لیا ہے۔ ان کے علاوہ اب ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے؟ یہ تینوں ختم تو اپنا کھیل ہی ختم سمجھو ۔
جی ہاں صحیح پکڑے ۔ ایک چوتھا بھی پوری دنیا میں گھوم کر ہمارے نام کو بٹہ لگا رہا ہے۔ مجھے تو لگتا یہ چوکڑی اپنے پریوار کو شمشان گھاٹ پہنچا دے گی ۔
جی ہاں بھیا مجھے پتہ ہے کہ آخری سفر پر جملہ چار کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آخر ان سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوگیا جو تم اتنے نالاں ہو؟
ارے بھائی تم کس دنیا میں کھوئے ہوئےہو۔ تمہیں نہیں پتہ ہندو جین زی کے ساتھ آج کل ملک میں کیسی بد سلوکی ہورہی ہے ؟ ایسا تو مسلمانوں کے۰۰
دیکھو للن مسلمانوں کی مثال نہ دو ۔ ان کے ساتھ جو ہم نے کیا وہ کوئی اور ہمارے ساتھ کرتا تو ہم نہ جانے کہاں ہوتے؟ وہ تو بھیا بڑی سخت جان قوم ہے۔
مجھے پتہ ہے کہ اپنے جین زی کی طرح کبھی نہیں روتے دھوتے بلکہ ڈٹ جاتے مگر اس حقیقت سے ہمارے رہنماوں کو آشنا ہونا چاہیے۔
بھیا ، جین زی نے تو ہمارے پردھان جی سے وہ کروالیا جو کوئی نہیں کروا سکا ۔ اب اتنی بڑی کامیابی کے لیے کچھ تو قربانی دینی پڑتی ہے۔
یار انہیں کو سر چڑھا کر اپنے جین زی کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔
بھیا وہ بھی تواپنے ہندو جین زی ہی ہیں ۔ ان میں نہ تو کوئی عمر خالد ہے اور نہ شرجیل امام۔ کیاابھیجیت دیپکے ، سورو داس اور اشو توش رانکا ہندو نہیں ہیں؟
دیکھو بھائی جو ہمارے پردھان جی اور سنگھ کا مخالف ہو میں تو اس ہندو نہیں مان سکتا ۔
اچھا تو کیا وہ مسلمان ہیں؟
ارے بھیا وہ کون ہیں یہ تو میں نہیں جانتا اور جاننا بھی نہیں چاہتا لیکن اپنے پردھان کو گالی دینے والے کو میں ہندو کیسے مان لوں ؟
یار کبھی تو تم ان سے ہمدردی جتاتے ہو اور کبھی ان کو ہندو سماج سے خارج کردیتے ہو ؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟؟
للن بگڑ کر بولا ارے بھیا میں اپنے اصلی جین زی یعنی کٹرہندو شیروں کی بات کررہا ہوں ؟ تم کہاں گیدڑوں کے چکر میں پڑ گئے؟
دیکھو بھائی للن شیر تو شیر ہوتا ہے وہ کٹرّ وٹّر نہیں ہوتا ۔
سمجھ گیا ۔ تم کانوڈیوں کی بات کررہے ہو جو نہ اسکول کے انتظامات کو بہتر کروانا چاہتے ہیں اور نہ انتظامیہ کو اسکولی راستہ ٹھیک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
بھیا ان پر تو یوگی بابا نے ہیلی کاپٹر سے پھول برسا دئیے اس کی مجھے خو شی ہے مگر اپنے سوتنتر بھاردواج کا کیا قصور تھا؟ اس کی پیٹھ میں چھرا کیوں گھونپاگیا؟
ارے تو اتنی پہیلیاں بھجوانے کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھے اس کا نام لے لیتے بلاوجہ اتنا وقت ضائع کردیا ۔
دیکھو کلن میں تمہاری ذہانت کا امتحان لے رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ تم خو اس کا نام لے کر بتاو لیکن مجھے مایوسی ہاتھ لگی ۔
میں! میں کیسے بتاوں کہ تمہارے دماغ میں کون سا کیڑا کلبلا رہا ہے ؟ میں کوئی انتریامی ہوں کیا؟؟
بھیا میں نےتو سنا تھا کہ عقلمند کو اشارہ کافی ہوتا ہے لیکن تم تو خالص جاہل، اناڑی اور بیوقوف کندۂ ناتراش نکلے۔
دیکھو للن میری شرافت کا غلط فائدہ اٹھا کر گالی گلوچ نہ کرو ورنہ میں بھی اسی لہجے میں جواب دوں گا ، کیا سمجھے؟ گالیوں میں کسی سے میں کم نہیں ہوں۔
مجھے پتہ ہےٹرول کرکرکے تم گالیوں میں مشاق ہوگئے ہو لیکن افسوس کہ اتنے سارے اشارے کنائے بھی کسی کام نہ آئے۔ تم اس تک نہیں پہنچ سکے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس بدمعاش کے ساتھ ایسا کیا ہوگیا جو تم اس قدر ماتم کررہے ہو؟
یہ تم کہہ رہے ہو کلن ؟ ایسا تو کانگریسی بھی نہیں کہتے ؟ یہ ہمیں کیا ہوگیا ہے؟
ارے بھائی کہتے ہوں نہ کہتے ہوں مگر حقیقت تو یہی ہے۔ اور سارا ملک یہ جانتا ہے۔
اچھا تو کیا میں ملک میں نہیں ہوں؟ میں تو ایسا نہیں سمجھتا ؟
اچھا تو تم کیا سمجھتے ہو؟
میں اسے مستقبل کا یوگی یا مودی سمجھتا ہوں۔ ہماری نسل جب پرلوک سدھار جائے گی تو ہندوتوا کی شمع وہی روشن کرے گا۔
بھیا جس کا اپنا چراغ ٹمٹما رہا ہے وہ دوسروں کی شمع کیا جلائے گا؟بھائی اگر اسے روکا نہ گیا تو یوگی اور مودی کو بھی اپنے جیسے انجام سے دوچار کردےگا۔
یار ایک بات بتاو کسی کو کڑے سے مار دینا کوئی بہت بڑا جرم ہے کیا؟ ہماری شریعت میں تو دلتوں کو زندہ جلانا بھی گناہ نہیں ہے۔
ٹھیک ہے میں تو کہتا ہوں جو کرنا ہو کرو مگر اپنے جرم کا اعتراف تو نہ کرو اور اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے کیا حاصل؟ سوتنتر کا یہی جرم ہے۔
ارے بھائی اس نے قتل کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ کسی دلت کی عصمت دری کی پھر ایس ایس ٹی قانون کے تحت قتل کا مقدمہ کیسے درست ہوگیا؟
کیا نہیں تو بولا کیوں؟ وہ کیمرے پر کہتا ہے میری چوٹ سے سنجے آزاد کے سر پر ساٹھ ٹانکے لگے ۔ مجھ پر ہاف مرڈر کا کیس بننا چاہیے تھا مگر میں چھوٹ گیا۔
بھیا بڑھا چڑھا کر بولنا تو ہمارا شعار ہے۔ پردھان جی اور یوگی جی بھی یہی کرتے ہیں لیکن کوئی اس پر کوئی یقین تھوڑی ناکرتا ہے۔
ان کی بات اور ہے وہ جھوٹےکارناموں کے ساتھ اپنے جرائم کا اعتراف نہیں کرتے۔ اس نے تو کچھ زیادہ ہی کردیا تھا۔
نوجوان خون ہے اس کو بھی نظر انداز کردینا چاہیے تھا اور جب سپریم کورٹ نے سارے مظاہرین کے مقدمات واپس کروا دئیے تو اس کا کیوں نہیں؟
بھائی جن کو سرکار جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا تھا ان کے جرائم معاف ہو گئے۔ یہ تو اپنے جرم کا اعتراف فخر سے کررہا ہے۔
پہلے والی بات مانتے ہو بعد کا انکار کرتے ہو؟ اس نے آگے چل کر مانا کہ ماب لنچنگ سے بچنے کے لیے اپنے تحفظ میں کڑے سے ماراکیایہ کوئی جرم ہے؟
کلن بولا مرجاتا تو اچھا تھا۔ نہ خود بدنام ہوتا اور نہ سرکار کو رسوا کرتا ۔ اس کی وجہ سے پردھان جی کے ساتھ یوگی جی کی بھی بے عزتی ہوگئی ۔
اچھا وہ کیسے؟ تم تو دور کی کوڑی لائے ۔
دیکھو پہلے اس نےکہا پردھان جی اور کپل مشرا اس کے بڑے بھائی ہیں اس لیے کوئی اس کو گرفتار نہیں کرسکتا۔
ارے بھائی وہ انہیں اپنا بڑا بھائی سمجھتا ہے تو اس میں کیا غلط ہے؟
اس کے دہلی سے بھاگنے پریہ پیغام گیا کہ پردھان جی اپنے چھوٹے بھائی کو بھی بچا نہیں سکتے ہیں ۔
جی ہاں مگریہ تو صحیح ہے لیکن یوگی جی کی بے عزتی کیسے ہوگئی جبکہ اس نے تو ان کا نام بھی نہیں لیا۔
دیکھو للن وہ بہاری بابو ہے ۔ اس کو بھاگ کر اپنے صوبے میں جانا چاہیے تھا مگر وہ چلا گیا یوپی کے بلند شہر ۔ اب تم ہی بولو اس کی کیا ضرورت تھی؟
ارے بھائی اس نے سوچا ہوگا کہ یوگی کے ہوتے اس کا کوئی بال بیکہ نہیں کرسکتا اور ان کی جو شبیہ ہے اس کے چلتے ہر کوئی یہی سوچے گا۔
لیکن پھر وہاں سے بھی ہیلمیٹ میں منہ چھپا کر نیپال بھاگنے کی کوشش کی یعنی یوگی پر بھی اس کا بھروسا نہیں رہا ۔
بھیا دیکھو اگر کوئی ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘ والی حرکت کرے تو اسے ٹشو پیپر کی طرح پھینکنا ہی پڑتا ہے۔
اچھا تو کیا ہماری حیثیت غلاظت پونچھنے کے لیے استعمال ہونے کی ہے۔ یار تمہیں شرم آنی چاہیے۔ اسی لیے ہم برہمنوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
بھائی اسے برہمن ہونے کے سبب نہیں مارا گیا۔ برہمن تو تم بھی ہو مگر تم کو کوئی نہیں ستاتا۔ وہ تو اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔
یار ہمارا حال مسلمانوں سے بھی برا ہوگیا ہے۔ سہارنپور مسجد کے لیے اکھلیش ،اقرا ،عمران اور سنجے سنگھ بولے مگرسوتنتر کے لیے کوئی آگے نہیں آیا ۔
بھائی فرق یہ ہے کہ سہارنپور معاملے میں مسلمان مظلوم ہیں اس لیے ان کے ساتھ کھڑا رہنا آسان ہے لیکن سوتنترتو خود کو ظالم بناکر پیش کررہا ہے۔
ارے بھائی وہ کانگریسی اجے رائے تو سنگھ سے نکلا ہوا بھومی ہار برہمن ہے۔ اس کو مسلمانوں کی حمایت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
بھائی دیکھو تمہارا سوتنتر جیسی کرنی ویسی بھرنی کے پھیرے میں آگیا اس لیے اس کا ماتم چھوڑو اور کوئی کام کرو۔ سارے بدمعاشوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔
یار کہیں تم اشارے اشارے میں اپنے پردھان جی اور یوگی پر طنز تو نہیں کر رہے ہو؟
بھیا دیکھو سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہے۔ میں تو چلا۔