جامعہ ریاض الصالحات، اعظم پورہ،حیدرآبادمیں ”سیرتِ صحابیات” عنوان پرسیمینارکا کامیاب انعقاد
طالبات نے ازواجِ مطہراتؓ اور صحابیاتؓ کی حیاتِ طیبہ کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے صالح معاشرے کی تعمیر کا پیغام دیا
حیدرآباد:9ستمبر(پریس نوٹ)
جامعہ ریاض الصالحات اعظم پورہ کے زیرِ اہتمام طالبات کی علمی و تربیتی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے ایک پروقار ”سیرتِ صحابیات سیمینار” کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس تعلیمی و تربیتی نشست میں طالبات نے صحابیاتِ رسول ﷺ کی ایمان افروز زندگیوں اور اسلامی معاشرے میں عورت کے گوناگوں کرداروں کو نہایت مؤثر، دلنشیں اور فکر انگیز انداز میں پیش کیا۔سیمینار کی سرپرستی و نگرانی محترمہ حمیراء نشاط صاحبہ (صدرِ معلمہ جامعہ ریاض الصالحات، اعظم پورہ،حیدرآباد) اور محترمہ تسلیم بانو صاحبہ (نائب صدرِ معلمہ) نے انجام دی۔ اس موقع پر محترمہ اُمّتُ البصر سلمہ صاحبہ سمیت جامعہ کی دیگر معلمات اور طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
سیمینار کے دوران طالبات نے سیرتِ صحابیاتؓ کے روشن باب سے چار بنیادی اور فکر انگیز عنوانات کے تحت اپنے مقالے اور خاکہ جات پیش کئے۔”یٹی کو فاطمہ بناؤ” عنوان کے زریعہ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی حیا، عفت، اطاعتِ رسول ﷺ اور پاکیزہ سیرت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ بیٹی کی صحیح اسلامی تربیت ہی آنے والی نسلوں کی اصلاح کا ضامن ہے۔”بہن کو حضرت خنساء بناؤ” عنوان کے زریعہ شاعرہِ اسلام حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے جذبہ ایثار، عزم و ہمت اور دین کے لیے عظیم قربانیوں کو پیش کرتے ہوئے ثابت قدمی کا درس دیا گیا۔”مائیں امہات المؤمنین کا کردار اپنائیں ” عنوان کے زریعہ ازواجِ مطہرا تؓ کی علمی، اخلاقی اور تربیتی زندگی کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ ایک بااثر ماں پورے خاندان اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
”زوجہ ہو تو حضرت خدیجہ کبریٰ جیسی ہو” عنوان کے زریعہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی بے مثال وفاداری، نصرتِ دین اور ایثار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے یاد دلایا کہ آپؓ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں ربّ العزت کی طرف سے سلام بھیجا گیا اور جنت میں موتی کے محل کی بشارت دی گئی۔سیمینار کا مرکزی پیغام اس جامع نقطے پر محیط تھا کہ” بیٹی کی اصلاح سے نسل سنورتی ہے، بہن کی اصلاح سے خاندان سنورتا ہے، ماں کی اصلاح سے معاشرہ سنورتا ہے، اور نیک بیوی گھر کو دین کا مضبوط مرکز بنا دیتی ہے۔”محدود وقت کے باوجود طالبات نے بہترین تیاری اور محنت کے ساتھ اپنے اپنے موضوعات کا حق ادا کیا۔
جامعہ کی طالبات کے لیے یہ سیمینار عملی اور تربیتی اعتبار سے ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔پروگرام کے اختتام پر معلمات نے طالبات کی شاندار کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔ دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ امت کی ان بیٹیوں کو صحابیاتِ رسول ﷺ کا حقیقی اسوہ اپنانے، حیا و ایمان پر قائم رہنے اور اس تعلیمی ادارے کو اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)