نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی ہی میں معاشرہ کا سکون واطمینان ہے. مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب

نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی ہی میں معاشرہ کا سکون واطمینان ہے. مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب

نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی ہی میں معاشرہ کا سکون واطمینان ہے.
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب

حیدرآباد 5ستمبر (پریس نوٹ )

مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی نے مسجد قبا میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں کہا: آج کے پرآشوب دور میں، جہاں ایک طرف پوری انسانیت ذہنی سکون، باہمی اعتماد اور امن و اطمینان کی تلاش میں بھٹک رہی ہے، وہیں دوسری طرف ہمارے معاشرہ میں بے چینی، بداخلاقی، ظلم، اور بے اعتدالی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ان تمام مسائل حل نبی رحمتﷺ کی سیرتِ طیبہ اور سچی تعلیمات کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔اللّہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:اے محمد! صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔آج ہمارے معاشرہ میں سختی، غصہ اور عدم برداشت عام ہو چکی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے اور خاندانی و سماجی ناچاقیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ اس کا حل نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں ہے جو سراپا رحمت و شفقت تھے۔

آپ ﷺ نے اپنوں تو کیا، دشمنوں تک کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے۔اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے نرم مزاج اور شفقت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم یہ اللّٰہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔فتحِ مکہ کا وہ تاریخی موقع جب تمام دشمن آپ ﷺ کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے، جان کی بھیک مانگ رہے تھے، آپ ﷺ نے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔اس عفو و درگزر نے دشمنوں کے دلوں کو جیت لیا اور پورا معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن گیا۔

مولانا نے کہا: معاشرتی بے سکونی کا ایک بڑا سبب حق تلفی، ظلم اور ناانصافی ہے۔ جب طاقتور کمزور کا حق مارتا ہے اور قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں تو معاشرہ جہنم بن جاتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جہاں گورنر اور عام آدمی برابر کی سطح پر کھڑے تھے۔قرآن مجید میں اللّٰہ تعالی کا فرمان ہے، بے شک اللّٰہ عدل کا، احسان کا اور قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو۔آپ ﷺ نے ایک موقع پر قانون کی بالا دستی اور انصاف کی مساوات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:لوگو! تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی اونچے درجے کا شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللّٰہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔آج کا انسان خود غرضی اور مفاد پرستی کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔

اپنا فائدہ اور دوسرے کا نقصان ہمارا شعار بن گیا ہے۔ اس کے برعکس نبی کریم ﷺ نے مومنین کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے۔ آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں محبت کرنے، ایک دوسرے پر رحم کرنے اور شفقت کرنے میں ایمان والوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا کوئی ایک عضو بیمار ہو تو پورا جسم بخار اور بیداری میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔مدینہ منورہ کی ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو بھائی چارہ قائم فرمایا، اس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انصار نے اپنی نصف جائیدادیں، یہاں تک کہ اپنے گھروں کے حصے تک اپنے مہاجر بھائیوں کے حوالے کر دیے۔ اس ایثار و قربانی کے نتیجے میں مدینہ کا معاشرہ دنیا کا سب سے پرامن اور مطمئن معاشرہ بن گیا۔آج پڑوسی پڑوسی سے بے خبر ہے، رشتہ داریاں ٹوٹ رہی ہیں، والدین بڑھاپے میں اکیلے پن کا شکار ہیں، یتیموں اور بیواؤں کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔

نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات کا ایک بہت بڑا حصہ حقوق العباد کی ادائیگی سے متعلق ہے،آپ ﷺ نے پڑوسی کے بارے میں فرمایا: جب تک جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔ آپ ﷺ نے یتیم کے بارے میں اپنی دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا: "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے۔” آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم زبانی دعوؤں سے آگے بڑھ کر عملی زندگی میں نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات کو اپنائیں۔اپنے گھروں میں نرمی اور محبت کا ماحول پیدا کریں۔

اپنے معاملات میں دیانت، صدق اور عدل کو رواج دیں۔کمزوروں، یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کی خبر گیری کریں۔ ذاتی عناد، تکبر، غصہ اور خود غرضی کو خیرباد کہہ دیں۔اگر ہم نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسوۂ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیا، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ ایک بار پھر امن، سکون، اطمینان اور بھائی چارہ کا روشن مینار بن جائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے : یقیناً تمہارے لیے اللّٰہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے،اللّٰہ تعالیٰ ہمیں نبی رحمت ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور معاشرے میں امن و سکون قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے