تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر. اعداد کے آئینے میں حیدرآباد کی فہرستِ ہائےرائے دہندگان

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر. اعداد کے آئینے میں حیدرآباد کی فہرستِ  ہائےرائے دہندگان

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر.
اعداد کے آئینے میں حیدرآباد کی فہرستِ ہائےرائے دہندگان

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

ملک میں فہرستِ رائے دہندگان کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کا عمل گزشتہ سال بہار سے شروع ہوا اور بعد ازاں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسے مرحلہ وار انجام دیا گیا۔ ۔ اب تک اس عمل کے تین مراحل میں تیار ہونے والی فہرستوں سے تقریباً 13.37 کروڑ نام حذف کیے جاچکے ہیں، جو نظرِ ثانی سے قبل موجود مجموعی رائے دہندگان کا تقریباً 14.1 فی صد ہیں۔ یہ اعداد محض ہندسوں کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ ان کے پسِ منظر میں ایک وسیع انتظامی اور سماجی صورتِ حال کی جھلک ملتی ہے۔ کہیں رائے دہندگان کے نام وفات، مستقل منتقلی یا ناقابلِ سراغ ہونے کی بنا پر حذف ہوئے، جبکہ بعض مقامات پر ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات بھی سامنے آئے۔ یوں یہ اعداد فہرستِ رائے دہندگان کی موجودہ صورتِ حال کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور مزید جائزے کی گنجائش بھی پیدا کرتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں حذف کی شرح بھی نمایاں طور پر مختلف رہی دہلی میں 32.80 فی صد، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں29.60 فی صد، تلنگانہ میں 21.70 فی صد اور مہاراشٹر میں 21.10 فی صد تک رہی۔ان اعداد کو محض انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ہر حذف شدہ نام کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک شہری کا حقِ رائے دہی وابستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسودہ فہرستِ رائے دہندگان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، حذف شدہ ناموں کی وجوہات معلوم کی جائیں اور متاثرہ رائے دہندگان تک بروقت اطلاع و درست رہنمائی پہنچائی جائے، تاکہ وہ مقررہ مدت میں اپنے نام کی شمولیت یا بحالی کے لیے ضروری کارروائی کرسکیں۔اسی ملک گیر پس منظر میں حیدرآباد کی صورتِ حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ ایک بڑے، گنجان آباد اور کثیر آبادی والے شہر میں فہرستِ رائے دہندگان کی ایسی بڑی تبدیلی براہِ راست لاکھوں شہریوں کے حقِ رائے دہی سے متعلق ہے۔ اسی سلسلے میں صابر انسٹی ٹیوٹ مغربی بنگال کی جانب سے مطالعہ و تجزیے پر مبنی ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے۔ زیرِ نظر جائزے کا مقصد اسی رپورٹ کے اعداد و شمار کی روشنی میں حیدرآباد کی انتخابی صورتِ حال کا ایک واضح، متوازن اور حقیقت پسندانہ خاکہ پیش کرنا ہے۔ابتدا ہی میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ان اعداد کو نہ جذباتی انداز میں دیکھنا مناسب ہے اور نہ محض انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز کرنا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعداد کو سمجھا جائے، ان کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے، دستاویزی شواہد کی جانچ کی جائے اور جہاں سوالات پیدا ہوں وہاں مزید تحقیق اور زمینی تصدیق کی راہ ہموار کی جائے۔
حیدرآباد میں حذف کیے گئے نام۔ مجموعی صورتِ حال
رپورٹ کے مطابق حیدرآباد کے ۱۵ اسمبلی حلقوں کے ۴۰۹۴ پولنگ حصوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور یکم ستمبر ۲۰۲۶ء تک دستیاب معلومات کو اس مطالعے کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ جنوری ۲۰۲۳ء کی فہرستِ رائے دہندگان کے مطابق ان حلقوں میں مجموعی طور پر ۴۲ لاکھ ۱۵ ہزار ۴۵۶ رائے دہندگان درج تھے۔ نظرِ ثانی کے عمل کے بعد ۱۹ لاکھ ۴۱ ہزار ۴۴۴ نام حذف کیے گئے۔ یوں جنوری ۲۰۲۳ء کی بنیادی فہرست کے مقابلے میں حذف شدہ ناموں کا تناسب تقریباً چھیالیس اعشاریہ ایک فی صد بنتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی طور پر بڑا عدد ہے، تاہم اس کی تعبیر میں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ جنوری ۲۰۲۳ء کی فہرست کے بعد نئے رائے دہندگان کے نام بھی شامل ہوئے ہوں گے؛ اس لیے چھیالیس اعشاریہ ایک فی صد کو موجودہ فہرست سے حذف کیے گئے ناموں کی قطعی شرح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رپورٹ نے جنوری ۲۰۲۳ء کی فہرست کو بنیادی حوالہ جاتی بنیاد کے طور پر استعمال کیا ہے۔
حلقہ وار جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ حذف شدہ ناموں کی شرح تمام حلقوں میں یکساں نہیں رہی۔ جوبلی ہلز میں ایک لاکھ ۷۹ ہزار ۵۱۰ نام حذف ہوئے، جو جنوری ۲۰۲۳ء کی فہرست کے مقابلے میں اکیاون فی صد ہیں۔ ملک پیٹ میں ایک لاکھ ۴۷ ہزار ۷۹۹ نام، یعنی انچاس اعشاریہ تین فی صد، اور مشیرآباد میں ایک لاکھ ۴۰ ہزار ۷۰ نام، یعنی انچاس اعشاریہ دو فی صد نام حذف ہوئے۔ صنعت نگر میں ایک لاکھ ۱۴ ہزار ۱۳۱ نام، یعنی اڑتالیس اعشاریہ نو فی صد، جبکہ عنبرپیٹ میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار ۳۰۳ نام، یعنی سینتالیس اعشاریہ آٹھ فی صد حذف کیے گئے۔ چندرائن گٹہ میں ایک لاکھ ۴۸ ہزار ۸۶۹ نام، یعنی سینتالیس اعشاریہ چار فی صد، اور یاقوت پورہ میں ایک لاکھ ۵۴ ہزار ۹۸۲ نام، یعنی چھیالیس اعشاریہ نو فی صد حذف ہوئے۔دوسری طرف خیریت آباد میں ایک لاکھ ۲۳ ہزار ۴۷۲ نام، یعنی چوالیس اعشاریہ دو فی صد؛ نامپلی میں ایک لاکھ ۳۷ ہزار ۱۲۶، یعنی چوالیس اعشاریہ تین فی صدگوشہ محل میں ایک لاکھ ۱۰ ہزار ۱۴۸، یعنی چوالیس اعشاریہ تین فی صد؛ چارمینار میں ۹۴ ہزار ۱۷۴، یعنی تینتالیس اعشاریہ آٹھ فی صد؛ بہادرپورہ میں ایک لاکھ ۲۱ ہزار ۳۵۰، یعنی تینتالیس اعشاریہ چھ فی صد؛ کاروان میں ایک لاکھ ۴۱ ہزار ۷۶۶، یعنی بیالیس اعشاریہ چھ فی صد؛ اور سکندرآباد کنٹونمنٹ میں ایک لاکھ ۵ ہزار ۳۴، یعنی تینتالیس اعشاریہ نو فی صد نام حذف ہوئے۔ سکندرآباد میں ایک لاکھ ۲ ہزار ۷۱۰ نام حذف ہوئے، جو ۱۵ حلقوں میں سب سے کم، یعنی اکتالیس اعشاریہ چھ فی صد بنتے ہیں۔
یہ فرق اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں میں نظرِ ثانی کے اثرات یکساں نہیں رہے۔ کہیں حذف شدہ ناموں کی شرح پچاس فی صد سے تجاوز کرتی ہے اور کہیں یہ تقریباً بیالیس فی صد کے آس پاس ہے۔ اس فرق کی وجوہات محض ایک عدد سے سمجھنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے ہر حلقے کے رہائشی حالات، آبادی کی نوعیت، نقل مکانی، رائے دہندگان کی آمد و رفت، دستاویزی صورتِ حال اور حذف کی وجوہات کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔
حذف کیے گئے ناموں کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو سب سے بڑی تعداد ان رائے دہندگان کی ہے جنہیں مستقل طور پر منتقل شدہ قرار دیا گیا۔ ایسے رائے دہندگان کی تعداد ۱۳ لاکھ ۴۵ ہزار ۳۳۳ ہے، جو کل حذف شدہ ناموں کا انہتر اعشاریہ تین فی صد بنتی ہے۔ اس کے بعد ۳ لاکھ ۴۰ ہزار ۴۵۵ افراد کو ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر قرار دیا گیا، جو سترہ اعشاریہ پانچ فی صد ہیں۔ ایک لاکھ ۵۶ ہزار ۳۹۲ نام متوفی افراد کے زمرے میں آئے، یعنی آٹھ اعشاریہ ایک فی صد، جبکہ ۹۹ ہزار ۲۶۴ نام پہلے سے اندراج شدہ ہونے کی بنا پر حذف کیے گئے، یعنی پانچ اعشاریہ ایک فی صد۔
ان اعداد میں سب سے زیادہ توجہ مستقل طور پر منتقل شدہ افراد کے زمرے پر مرکوز ہوتی ہے۔ اگر ۱۳ لاکھ سے زائد افراد واقعی اپنی سابقہ رہائش گاہ سے مستقل طور پر منتقل ہوچکے ہیں تو یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ان کے نام سابقہ فہرست میں برقرار رہنے کی انتظامی وجوہات کیا تھیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ مستقل منتقلی کی تصدیق کس بنیاد پر ہوئی، کیا ہر معاملے میں مناسب جانچ کی گئی اور عارضی غیر موجودگی اور مستقل منتقلی میں فرق کیسے قائم کیا گیا۔ ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر قرار دیے گئے ۳ لاکھ ۴۰ ہزار سے زائد رائے دہندگان کا معاملہ بھی اسی بنا پر خصوصی توجہ چاہتا ہے۔
رپورٹ میں ایک اور غیر معمولی پہلو سامنے آتا ہے۔ اس کے مطابق حیدرآباد کے ۱۵ کے ۱۵ اسمبلی حلقوں میں حذف شدہ ناموں کی تعداد ۲۰۲۳ء کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کی جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ یاقوت پورہ میں ایک لاکھ ۵۴ ہزار ۹۸۲ نام حذف ہوئے، جبکہ کامیابی کا فرق صرف ۸۷۸ ووٹ تھا؛ یعنی حذف شدہ ناموں کی تعداد فتح کے فرق سے تقریباً ایک سو ستتر گنا زیادہ تھی۔ نامپلی میں ایک لاکھ ۳۷ ہزار ۱۲۶ نام حذف ہوئے، جبکہ کامیابی کا فرق ۲ ہزار ۳۷ ووٹ تھا۔ جوبلی ہلز میں ایک لاکھ ۷۹ ہزار ۵۱۰ نام حذف ہوئے اور کامیابی کا فرق ۱۶ ہزار ۳۳۷ ووٹ رہا، جبکہ چندرائن گٹہ میں ایک لاکھ ۴۸ ہزار ۸۶۹ نام حذف ہوئے اور کامیابی کا فرق ۸۱ ہزار ۶۶۰ ووٹ تھا۔ چارمینار میں ۹۴ ہزار ۱۷۴ نام حذف ہوئے جبکہ کامیابی کا فرق ۲۲ ہزار ۸۵۳ ووٹ رہا، اور سکندرآباد کنٹونمنٹ میں ایک لاکھ ۵ ہزار ۳۴ نام حذف ہوئے جبکہ کامیابی کا فرق ۱۷ ہزار ۱۷۹ ووٹ تھا۔
مجموعی طور پر ان ۱۵ حلقوں میں حذف شدہ ناموں کی تعداد ۲۰۲۳ء میں ڈالے گئے ووٹوں کے تقریباً نواسی فی صد کے برابر ہے۔ بعض حلقوں میں یہ تناسب ایک سو فی صد کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ہے؛ ملک پیٹ میں تقریباً ایک سو گیارہ اعشاریہ نو فی صد، یاقوت پورہ میں ایک سو دس اعشاریہ چار فی صد، جوبلی ہلز میں ستانوے اعشاریہ نو فی صد، چندرائن گٹہ میں چھیانوے اعشاریہ آٹھ فی صد اور چارمینار میں تقریباً چھیانوے فی صد۔
تاہم ان اعداد کو براہِ راست کسی سیاسی نتیجے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ حذف کیے گئے ہر رائے دہندہ کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ آئندہ انتخاب میں لازماً ووٹ ڈالتا، نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کس امیدوار یا جماعت کی حمایت کرتا۔ اس لیے یہ کہنا کہ حذف شدہ ناموں کی وجہ سے کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کو اتنے ووٹوں کا نقصان ہوا، ان اعداد سے ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حذف شدہ ناموں کا حجم اتنا بڑا ہے کہ فہرستِ رائے دہندگان کی درستگی اور نظرِ ثانی کے طریقۂ کار کی انتخابی اہمیت معمولی نہیں رہتی۔
خواتین کے حوالے سے مجموعی صورتِ حال نسبتاً متوازن دکھائی دیتی ہے۔ کل حذف شدہ ناموں میں خواتین کی تعداد ۹ لاکھ ۲۷ ہزار ۹۳۵، یعنی سینتالیس اعشاریہ آٹھ فی صد ہے، جبکہ جنوری ۲۰۲۳ء کی بنیادی فہرست میں خواتین کا حصہ اڑتالیس اعشاریہ پانچ فی صد تھا۔ اس طرح حذف شدہ ناموں میں خواتین کا حصہ بنیادی فہرست کے مقابلے میں صفر اعشاریہ سات فی صد کم رہا۔ تاہم حلقہ وار صورتِ حال میں کچھ فرق موجود ہے۔ بہادرپورہ میں خواتین کا حصہ بنیادی فہرست کے مقابلے میں دو اعشاریہ آٹھ فی صد زیادہ، چندرائن گٹہ میں ایک اعشاریہ چار فی صد زیادہ اور کاروان میں صفر اعشاریہ پانچ فی صد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس صنعت نگر میں یہ فرق منفی دو اعشاریہ چار فی صد، خیریت آباد میں منفی دو اعشاریہ تین فی صد، جبکہ مشیرآباد اور گوشہ محل میں منفی ایک اعشاریہ چھ فی صد رہا۔
حذف کی وجوہات کے اعتبار سے بھی خواتین اور مردوں میں معمولی فرق دکھائی دیتا ہے۔ ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر قرار دیے گئے افراد میں خواتین کا حصہ پچاس اعشاریہ دو فی صد، پہلے سے اندراج شدہ ہونے کی بنا پر حذف کیے جانے والوں میں سینتالیس اعشاریہ سات فی صد، متوفی افراد میں چالیس اعشاریہ نو فی صد اور مستقل طور پر منتقل شدہ افراد میں اڑتالیس فی صد تھا۔ اس بنا پر مجموعی طور پر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ خواتین حذف شدہ ناموں میں اپنی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ یا بہت کم دکھائی نہیں دیتیں، تاہم مخصوص وجوہات اور بعض حلقوں میں ان کی صورتِ حال مزید مطالعے کی متقاضی ہے۔
حیدرآباد کی فہرستِ رائے دہندگان کی نظرِ ثانی سے سامنے آنے والے اعداد و شمار ایک اہم اور حساس صورتِ حال کی نشان دہی کرتے ہیں۔ لاکھوں ناموں کا حذف ہونا، مختلف حلقوں میں حذف شدہ ناموں کی شرح میں نمایاں تفاوت، ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر رائے دہندگان کی بڑی تعداد، اور بعض علاقوں میں مذہبی شناخت کے اعتبار سے حذف شدہ ناموں کی غیر معمولی تقسیم—یہ تمام امور سنجیدہ غور و خوض اور مزید تحقیق کے متقاضی ہیں۔ تاہم اعداد و شمار کی تعبیر میں احتیاط اور ان کی حدود کا لحاظ بھی ناگزیر ہے۔
فہرستِ رائے دہندگان میں مذہب کا اندراج براہِ راست نہیں ہوتا۔ چنانچہ مسلم اور غیر مسلم رائے دہندگان کی درجہ بندی ناموں کی بنیاد پر کی گئی۔ مختلف حلقوں میں ناموں کو تلگو اور رومن رسم الخط میں جانچا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں دستی اصلاح سے بھی مدد لی گئی۔ اس طریقۂ کار کے باعث مسلم ناموں کے شامل ہونے کا امکان نسبتاً زیادہ رہا؛ اس لیے ان اعداد کو قطعی شمار کے بجائے بالائی تخمینہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔اس تخمینے کے مطابق حذف شدہ ناموں میں ۷ لاکھ ۸۹ ہزار ۵۷۱ مسلم رائے دہندگان، یعنی چالیس اعشاریہ سات فی صد، جبکہ ۱۱ لاکھ ۵۱ ہزار ۸۷۳ غیر مسلم رائے دہندگان، یعنی انسٹھ اعشاریہ تین فی صد تھے۔ مسلم حذف شدہ ناموں کا تخمینی تناسب بہادرپورہ میں پچاسی اعشاریہ نو فی صد، چندرائن گٹہ میں بہتر اعشاریہ چار فی صد، چارمینار میں باسٹھ اعشاریہ چار فی صد، نامپلی میں اٹھاون اعشاریہ نو فی صد، یاقوت پورہ میں ستاون اعشاریہ ایک فی صد، کاروان میں ترپن اعشاریہ آٹھ فی صد اور ملک پیٹ میں اڑتالیس اعشاریہ پانچ فی صد رہا۔
تاہم ان اعداد سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ مسلم رائے دہندگان کو غیر مسلم رائے دہندگان کے مقابلے میں زیادہ شرح سے حذف کیا گیا، کیونکہ حلقہ وار دونوں طبقات کے کل رائے دہندگان کی تعداد دستیاب نہیں۔ یہ اعداد صرف حذف شدہ افراد میں مذہبی شناخت کا تخمینی تناسب ظاہر کرتے ہیں، ہر طبقے کے اندر حذف ہونے کی شرح نہیں۔ اسی طرح ان اعداد کی بنیاد پر کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے یا امتیازی کارروائی کا قطعی ثبوت بھی فراہم نہیں ہوتا۔ البتہ بعض قابلِ توجہ رجحانات ضرور سامنے آتے ہیں۔ مسلم حذف شدہ رائے دہندگان میں ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر افراد کا حصہ انیس اعشاریہ آٹھ فی صد تھا، جبکہ غیر مسلموں میں یہ سولہ فی صد رہا۔ مستقل طور پر منتقل ہونے والوں کا تناسب بالترتیب تریسٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد اور تہتر فی صد تھا۔ پندرہ حلقوں کے تقابلی جائزے میں بعض باہمی تعلقات بھی نمایاں ہوئے ہیں، تاہم محدود اعداد کی بنا پر انہیں حتمی نتیجہ قرار دینا مناسب نہیں۔
فہرستِ رائے دہندگان میں نام کا درست اندراج محض انتخاب کے دن حقِ رائے دہی استعمال کرنے تک محدود نہیں۔ اگرچہ کسی شخص کا نام فہرست سے حذف ہوجانے سے نہ اس کی شہریت ختم ہوتی ہے اور نہ سرکاری خدمات کے حصول کا قانونی حق سلب ہوتا ہے، تاہم عملی زندگی میں مختلف سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات باہم مربوط ہوتے ہیں چنانچہ کسی اہم اندراج کی عدم موجودگی بعض دوسرے معاملات میں بھی انتظامی دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔مغربی بنگال کی صورتِ حال نے اس حقیقت کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ جن رائے دہندگان کے نام حذف ہوئے یا جن کے اندراجات متاثر ہوئے، انہیں ایسے متعدد معاملات میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا براہِ راست تعلق حقِ رائے دہی کے استعمال سے نہیں تھا؛ مثلاً پاسپورٹ کی تجدید، سکونت یا مستقل رہائش کے سرٹیفکیٹ کا حصول، عوامی تقسیم کے نظام اور دیگر فلاحی اسکیموں سے استفادہ۔ اسی طرح فہرستِ رائے دہندگان میں حیثیت سے متعلق سوالات نے بعض طلبہ کے لیے مستقل سکونت کا ثبوت حاصل کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کی، جس کے نتیجے میں ان کے لیے تعلیمی مواقع، حتیٰ کہ محنت سے حاصل کردہ ایم بی بی ایس کی نشستوں کے حصول تک، مشکلات پیدا ہوئیں۔اس لیے ہر خاندان کو اپنے تمام افراد کے نام اور کوائف کی بروقت جانچ کرنی چاہیے۔ بالخصوص خواتین، بزرگوں، طلبہ، معذور افراد، کرایے کے مکانات میں مقیم شہریوں اور تعلیم، ملازمت یا کاروبار کے باعث دوسرے شہروں یا ریاستوں میں منتقل ہونے والے افراد کے معاملات میں خصوصی توجہ ضروری ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کے بعد کیا کیا جائے؟
محض اعداد و شمار پیش کردینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ معلومات بروقت عوام تک پہنچیں اور انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ فہرستِ رائے دہندگان میں اپنے نام اور کوائف کی جانچ کیسے کی جائے، نام حذف ہونے کی صورت میں اس کی وجہ کیسے معلوم کی جائے، دعویٰ یا اعتراض کس مرحلے پر اور کس طریقے سے داخل کیا جائے اور اس کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہوسکتی ہیں۔یہ کام محض دفتری سطح پر انجام نہیں پاسکتا۔ گھر گھر، گلی گلی اور محلہ محلہ زمینی تصدیق ضروری ہے۔ معلوم کیا جائے کہ کس کا نام فہرست میں موجود ہے، کس کا حذف ہوا، کون مستقل طور پر منتقل ہوچکا ہے، کس شخص کو متوفی یا ناقابلِ سراغ قرار دیا گیا اور کہاں ممکنہ غلطی واقع ہوئی ہے۔ معمولی سی کوتاہی بھی کسی خاندان کے لیے سنگین انتظامی دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔اس لیے مقامی سطح پر منظم معلومات جمع کرنے، معاملات کی الگ الگ نشان دہی کرنے اور ضرورت مند افراد کی عملی معاونت کا انتظام ہونا چاہیے۔ خصوصاً وہ شہری جو سرکاری دفاتر یا آن لاین ذرائع تک بآسانی رسائی نہیں رکھتے، ان کے لیے رہنمائی اور تعاون زیادہ اہم ہے۔
اس پورے معاملے میں متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ضروری ہے۔ کسی نام کے حذف ہونے کو بلا تحقیق سازش قرار دینا درست نہیں، لیکن بڑے پیمانے پر ہونے والی حذف کاری کو محض معمول کی انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز کردینا بھی مناسب نہیں۔صحیح طریقۂ کار یہ ہے کہ ہر دعوے کو دستاویز اور زمینی حقیقت کی روشنی میں پرکھا جائےجہاں غلطی ہو وہاں اصلاح کا مطالبہ کیا جائے، جہاں معلومات ناکافی ہوں وہاں مزید تحقیق کی جائے، اور جہاں کسی علاقے یا طبقے میں غیر معمولی رجحان دکھائی دے وہاں منظم اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔حیدرآباد کی فہرستِ رائے دہندگان کی نظرِ ثانی سے متعلق اعداد و شمار ہمارے سامنے ایک وسیع منظرنامہ پیش کرتے ہیں۱۹ لاکھ سے زائد ناموں کا حذف ہونا، متعدد حلقوں میں حذف شدہ ناموں کا انتخابی جیت کے فرق سے زیادہ ہونا، حلقہ وار شرحوں میں نمایاں تفاوت، ناقابلِ سراغ یا غیر حاضر رائے دہندگان کی بڑی تعداد، اور بعض علاقوں میں مذہبی شناخت کے اعتبار سے حذف شدہ ناموں کی غیر معمولی تقسیم۔ یہ تمام پہلو مزید سنجیدہ تحقیق کے متقاضی ہیں۔مگر سنجیدگی کا مطلب عجلت میں فیصلہ صادر کرنا نہیں؛ سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ اعداد کو سمجھا جائے، سرکاری ریکارڈ کی جانچ کی جائے، زمینی حقیقت معلوم کی جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاح کے لیے مؤثر آواز اٹھائی جائے۔آج سب سے بڑھ کر ضرورت بروقت معلومات، عوامی بیداری اور منظم زمینی اقدام کی ہے۔ ہر محلے میں ایسے ذمہ دار افراد اور رضاکار موجود ہونے چاہییں جو عوام کو فہرستِ رائے دہندگان کی جانچ، نام کی تصدیق، دعویٰ و اعتراض کے طریقۂ کار اور ضروری دستاویزات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرسکیں۔ جن خاندانوں کو سرکاری کارروائی میں دشواری پیش آئے، ان کی معاونت کی جائے اور جن افراد کے نام حذف ہوئے ہیں، ان کے معاملات باقاعدہ درج کرکے مناسب طریقے سے ان کی پیروی کی جائے۔جمہوریت صرف انتخاب کے دن قائم نہیں ہوتی اس کی بنیاد اس امر پر بھی ہے کہ ہر اہلِ رائے دہی کا نام درست طور پر درج ہو، ہر شہری کو اپنے اندراج کی تصدیق اور غلطی کی اصلاح کا مناسب موقع حاصل ہو، اور کوئی اہل شہری محض لاعلمی، غفلت یا انتظامی کوتاہی کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔اعداد و شمار نے ہمارے سامنے ایک بڑا خاکہ رکھ دیا ہےاب ضرورت ہے کہ اس خاکے کو زمینی حقیقت سے ہم آہنگ کیا جائے۔ معلومات کو بیداری، بیداری کو منظم اقدام اور اقدام کو حقیقی عوامی خدمت میں تبدیل کرنا ہی اس مرحلے کا سب سے اہم تقاضا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے