جشن تو ہوا مگر اسلام کا تعارف بگڑ گیا
(حرکت چند لوگوں کی ، مگر بدنامی اسلام کی )
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ
خوشی انسان کی فطرت ہے، مگر خوشی کا طریقہ انسان کے دین اور تہذیب کی پہچان ہوتا ہے۔ انسان جس چیز کو نعمت سمجھتا ہے، جس موقع کو قابلِ مسرت قرار دیتا ہے اور جس انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہے، اس سب میں اس کے عقیدہ، فکر اور تہذیبی شعور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے انسان کے دل سے خوشی کا جذبہ نہیں چھینا، بلکہ اسے بے قید جذبات کے سپرد کرنے کے بجائے شریعت کی رہنمائی عطا کی۔
اسلام نہ خشک مذہب ہے جو ہر مسرت کو بدعت اور ہر تفریح کو گناہ قرار دے، نہ ایسا بے قید نظام ہے جس میں خوشی کے نام پر ہر رسم، ہر شور، ہر نمائش اور ہر طرزِ عمل کو جائز سمجھ لیا جائے۔ اسلام کا مزاج اعتدال ہے: نعمت پر خوشی ہو مگر شکر کے ساتھ، کامیابی پر مسرت ہو مگر تکبر کے بغیر، اجتماع ہو مگر حیا کے ساتھ، آواز بلند ہو مگر کسی کی اذیت کے بغیر، اور دینی محبت کا اظہار ہو تو اس کے اندر خود دین کی حدود بھی محفوظ رہیں۔
اسی لیے ’’جشن‘‘ کے حکم پر گفتگو کرنے سے پہلے اس کی مختلف صورتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
پہلی قسم: شرعی عید وہ دن جسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے دینی شعار اور اجتماعی مسرت کا موقع مقرر کیا، جیسے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے سابقہ دو تہواروں کے بارے میں فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ» ’’اللہ نے تمہیں ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے: عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر۔‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الصلاة، حدیث: 1134)
دوسری قسم: مباح خوشی جو کسی جائز نعمت، کامیابی، نکاح، ولادت، واپسی، کامیابی یا کسی دوسرے مباح موقع پر خوشی کا اظہار، بشرطیکہ اسے دینی عید نہ بنایا جائے اور اس میں کوئی حرام امر شامل نہ ہو۔ قرآن مجید نے نعمتوں سے استفادہ کی اجازت دیتے ہوئے اسراف سے روکا: ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ ’’کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 31)
تیسری قسم: مذہبی جشن جو کہ ایسا مخصوص دن یا اجتماع جو کسی مذہبی عقیدے، مذہبی رسم یا مذہبی شعار سے وابستہ ہو۔ اس میں محض ’’ہم تو اسے ثقافتی طور پر مناتے ہیں‘‘ کہنا کافی نہیں؛ بلکہ اس کی اصل، شعار اور مذہبی نسبت کا حکم الگ سے دیکھا جائے گا۔
چوتھی قسم: عرفی یا قومی جشن جو کسی قومی، تاریخی یا معاشرتی کامیابی کی یاد میں اجتماع یا خوشی۔ اس کا حکم اس کے مقصد اور طریقۂ کار سے متعین ہوگا؛ اسے ازخود دینی عید کا درجہ نہیں دیا جاسکتا، اور نہ اس کے نام پر شرعی محرمات کی اجازت پیدا ہوجاتی ہے۔
پانچویں قسم: ایسا جشن جس کا عنوان جائز ہو مگر طریقہ ناجائز ہوجائے مثلاً کسی جائز موقع پر بے پردگی، مرد و زن کا غیر شرعی اختلاط، رقص، فحش گیت، نشہ، اسراف، نمازوں کا ضیاع، راستے بند کرنا، لوگوں کو اذیت دینا یا کسی مذہب و قوم کی تحقیر کرنا۔ ایسی صورت میں عنوان نہیں بلکہ ہر عمل اپنے شرعی حکم کے مطابق پرکھا جائے گا۔
یہ فرق نہ رکھا جائے تو دو انتہائیں پیدا ہوتی ہیں: ایک طرف ہر خوشی کو حرام کہنے کا رجحان، دوسری طرف ہر ہنگامے کو جشن کہہ کر حلال سمجھ لینے کی روش۔ اسلام دونوں سے پاک ہے۔
اسلامی تہوار کا تصور دوسری تہذیبوں کے تہواروں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو اجتماعی مسرت کے لیے ایسے دن عطا کیے جو عبادت، شکر، ذکر، تکبیر، صلہ رحمی اور جائز خوشی کو یکجا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں رائج سابقہ دو تہواری ایام کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کو دو مستقل عیدیں عطا کی گئیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ (سنن ابی داود، کتاب الصلاة، حدیث: 1134)
اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ اسلامی عید محض خوشی کا دن نہیں بلکہ دینی شعار ہے۔ اسی لیے عیدین کا تعلق نماز، تکبیر، قربانی، صدقۂ فطر، ذکر اور اجتماعی عبادت سے ہے۔ عیدالفطر کے دن رسول اللہ ﷺ نمازِ عید کے لیے تشریف لے جانے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں تناول فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری، کتاب العیدین، حدیث: 953)
عیدالاضحیٰ میں قربانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اور قرآن نے اس عمل کی روح واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ﴾ ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 37)
اس لیے اسلامی عید میں خوشی عبادت سے جدا نہیں ہوتی۔ مسلمان اچھا لباس پہنتا ہے، خوشبو استعمال کرتا ہے، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتا ہے، بچوں کو خوش کرتا ہے، رشتہ داروں سے ملتا ہے اور جائز تفریح کرتا ہے؛ مگر اس پوری خوشی کے اندر اللہ کی بندگی اور شرعی وقار باقی رہتا ہے۔
عید کے دن محدود اور جائز تفریح کی گنجائش بھی سنت سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر دو کم سن انصاری بچیاں بعاث کے واقعات پر مبنی اشعار پڑھ رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نکیر فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں رہنے دیا اور فرمایا: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا» ’’اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب العیدین، حدیث: 952؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة العیدین، حدیث: 892)
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے عید کی خوشی میں جائز تفریح کی گنجائش رکھی ہے؛ لیکن اسی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت موجود ہے کہ وہ بچیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، اور واقعہ عید کے مخصوص موقع پر پیش آیا۔ (صحیح البخاری، کتاب العیدین، حدیث: 952)
لہٰذا اس حدیث کو موجودہ دور کے ہر قسم کے ڈی جے، فحش گانوں، رقص، بے پردگی اور مرد و زن کے اختلاط کے لیے عمومی اجازت قرار دینا درست نہیں۔ نص جس صورت کے جواز کو ثابت کرے، جواز بھی اسی صورت کے دائرے میں ہوگا۔
اسلامی عید کا حسن یہی ہے کہ اس میں مسرت اور عبادت باہم متصادم نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ خوشی دل کو اللہ سے دور نہیں کرتی بلکہ نعمت کے شکر کی طرف لے جاتی ہے؛ اجتماع انسان کو بے راہ نہیں کرتا بلکہ صلہ رحمی اور اخوت کی طرف لے جاتا ہے؛ اور تفریح حیا کو پامال نہیں کرتی بلکہ انسانی فطرت کے جائز تقاضے پورے کرتی ہے۔
پس اسلام میں عید ہے، خوشی ہے، مسرت ہے اور جائز تفریح بھی ہے؛ مگر ہر خوشی عید نہیں، ہر اجتماع دینی شعار نہیں، اور ہر تفریح جائز نہیں۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اسلام میں فتح اور کامیابی کے مواقع پر اجتماعی خوشی کا کیا انداز تھا تو اس کا بہترین جواب رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی میں ملتا ہے۔
فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا غیر معمولی واقعہ تھا۔ مسلمانوں نے طویل ظلم و ستم، ہجرت، جنگوں اور قربانیوں کے بعد اسی شہر میں دوبارہ قدم رکھا جہاں سے انہیں نکالا گیا تھا۔ یہ صرف ایک شہر کی فتح نہ تھی؛ مکہ میں توحید کا مرکز دوبارہ مسلمانوں کے اختیار میں آیا۔
لیکن فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل میں جو چیز نمایاں نظر آتی ہے وہ قرآن، تکبیر اور اللہ کی طرف نسبت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتحِ مکہ کے دن اپنی سواری پر سوار سورۂ فتح کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، حدیث: 4281)
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ فتح جیسی عظیم کامیابی کے موقع پر نبوی اظہارِ مسرت نمائشِ قوت کے بجائے تلاوتِ قرآن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کامیابی نے بندگی کو کم نہیں کیا بلکہ اللہ کی طرف رجوع کو بڑھایا۔
فتحِ مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فتح کو سالانہ تہوار نہیں بنایا۔ اسی طرح فتحِ بدر خیبر حنین اور دیگر بھی عظیم کامیابیاں تھی، مگر اسے مستقل سالانہ جشن میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ» ’’اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر تباہ ہوگیا۔ (صحیح البخاری حدیث: 2945)یہاں سے ایک نہایت اہم فرق سامنے آتا ہے کہ کسی کامیابی پر خوش ہونا اور کسی کامیابی کو مستقل تہوار بنانا ایک چیز نہیں۔
فتح پر تکبیر کہنا، اللہ کا شکر ادا کرنا اور خوشی محسوس کرنا اپنی جگہ ہے؛ لیکن کسی تاریخی کامیابی کی یاد کو ہر سال ایک مخصوص دینی جشن، عبادت یا شعار کی شکل دینا الگ مسئلہ ہے۔ اس کے لیے محض واقعے کی عظمت کافی نہیں بلکہ شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔
اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں پیش آنے والے عظیم ترین واقعات کو محفوظ رکھا، ان کی روایت کی، ان سے سبق لیا، مگر ہر واقعہ کے لیے الگ سالانہ جشن مقرر نہیں کیا۔
یہاں اسلامی مزاج کی ایک بڑی خصوصیت سامنے آتی ہے: واقعہ کو یاد رکھنا اور واقعہ کو عید بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ واقعۂ فتحِ مکہ سے توحید، عفو، شجاعت اور اللہ کی نصرت کا سبق لیا جائے گا؛ مگر اس کے لیے الگ تہوار مقرر کرنے کا حکم الگ شرعی دلیل کا محتاج ہوگا۔
اسی طرح اگر کسی مسلمان کو اپنی قومی یا اجتماعی کامیابی پر خوشی ہو تو وہ جائز حدود میں خوشی منا سکتا ہے، مگر اس خوشی کو ایسا مذہبی شعار نہیں بنا سکتا جس کی اصل شریعت میں ثابت نہ ہو۔ اور اگر کسی موقع پر اجتماع ہو بھی تو اس اجتماع کی صحت کا فیصلہ اس کے مقصد، طریقۂ کار اور شرعی عناصر سے ہوگا۔
چنانچہ نبوی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی کا سب سے خوب صورت جشن اللہ کی کبریائی اور اس کی نعمت کا اعتراف ہے، نہ کہ اپنی قوت کا ایسا مظاہرہ جس میں انسان اپنی کامیابی کو خود نمائی کا ذریعہ بنادے لیکن اسلامی زندگی میں انسان کے حقوق کو نظر انداز کرکے کوئی اجتماعی خوشی معتبر نہیں ہوسکتی جشن کا معاملہ اس وقت سنگین ہوجاتا ہے جب ایک جماعت کی چند گھنٹوں کی مسرت دوسرے لوگوں کے لیے گھنٹوں یا دنوں کی اذیت بن جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے حق کو ایمان کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرمایا: «وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ» صحابہ نے پوچھا: کون؟ فرمایا: «الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» ’’وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانیوں سے محفوظ نہ ہو۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6016)
اس حدیث کے تحت ایسا جشن جس سے گھروں کا سکون برباد ہو، بیماروں کی آرام گاہ متاثر ہو، بزرگوں اور بچوں کو اذیت پہنچے یا پڑوسی مسلسل شور سے پریشان ہوں، اسے صرف اس وجہ سے درست نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا مقصد خوشی ہے عوامی راستے بھی اجتماعی حقوق میں شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: «وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ» ’’راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1009)اس لیے اگر کوئی جشن یا جلوس سڑک کو اس طرح بند کردے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ، مریض، مسافر یا عام شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہوجائیں تو مسئلہ محض ’’جشن کی آزادی‘‘ کا نہیں رہتا؛ یہ دوسروں کے حقِ آمدورفت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔اسلام نے زیادتی سے عمومی طور پر روکتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ ’’زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(سورۃ البقرۃ: 190) اورہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں اس معاملے کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مسلمان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ قرآن مجید نے ان غیر مسلموں کے ساتھ نیکی اور انصاف کی اجازت بلکہ ترغیب دی ہے : ﴿أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾ ’’تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو(سورۃ الممتحنۃ: 8)
اس لیے کسی جشن کے موقع پر برادرانِ وطن کے گھروں، دکانوں یا کاروباری مقامات کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا، انہیں مرعوب کرنا یا جان بوجھ کر ایسے نعرے لگانا جن سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے، اسلامی اخلاق کے دائرے میں نہیں آتا قرآن نے مسلمانوں کو یہاں تک حکم دیا کہ مشرکین کے معبودوں کو بھی گالی نہ دو، مبادا وہ جہالت میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے لگیں: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ (سورۃ الأنعام: 108)یہ آیت دعوتی حکمت کا ایک بلند اصول بیان کرتی ہے: حق پر قائم رہتے ہوئے بھی ایسا اسلوب اختیار نہ کیا جائے جو فساد اور اشتعال کا دروازہ کھول دے۔
اسی بنا پر وہ بھی تو ایسا کرتے ہیں اسلامی دلیل نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی دوسری قوم اپنے تہوار میں راستے بند کرتی ہے تو مسلمان کو راستہ بند کرنے کی شرعی اجازت نہیں مل جاتی؛ اگر کوئی اشتعال انگیز نعرے لگاتا ہے تو مسلمان بھی اسی روش کا پابند نہیں ہوجاتا۔ مسلمان کا معیار دوسروں کا طرزِ عمل نہیں بلکہ کتاب و سنت ہے۔
یہاں جشن کی ایک اور اخلاقی حد بھی سامنے آتی ہے: اپنی خوشی دوسروں کی تحقیر کے ذریعے ظاہر نہ کی جائے۔ اپنی دینی شناخت پر اعتماد کے لیے کسی دوسرے مذہب یا قوم کو نشانہ بنانا ضروری نہیں۔ قرآن نے مسلمانوں کو عدل کا حکم دیا ہے: ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ (سورۃ المائدہ: 8)
چنانچہ اسلامی جشن کی ایک بنیادی شرط یہ ہونی چاہیے کہ جس راستے سے ہم خوشی مناتے ہیں، اس راستے سے کسی کو نقصان نہ پہنچے؛ جس آواز سے ہم خوش ہوتے ہیں، وہ کسی بیمار کے لیے اذیت نہ بنے؛ اور جس نعرے سے ہمیں اپنی قوت محسوس ہوتی ہے، وہ کسی دوسرے شہری کے لیے خوف کا پیغام نہ بن جائے۔
جب کوئی اجتماع کسی دینی نسبت سے منعقد ہو تو اس کے آداب اور ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے؛ کیونکہ وہاں صرف منتظمین نہیں بلکہ دین کا تاثر بھی عوام کے سامنے آتا ہے اسی لیے اگر کسی مذہبی اجتماع میں نبی کریم ﷺ کی محبت یا سیرت کے عنوان سے پروگرام منعقد ہو، مگر اس کے اندر بے پردگی، مرد و زن کا غیر شرعی اختلاط، لڑکیوں کا رقص، ڈی جے پر رقص و سرود، فلمی گانوں کا انداز، فحش کلام یا مذہبی اجتماع کو تفریحی شو کا رنگ دینا شامل ہوجائے تو ان اعمال کو صرف مذہبی عنوان کی وجہ سے جائز نہیں کہا جاسکتا۔
قرآن نے مومن مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾ (سورۃ النور: 30) اور مومن عورتوں کو بھی نگاہ، عفت اور پردے کی حفاظت کا حکم دیا: ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾ (سورۃ النور: 31)اس لیے مذہبی اجتماع میں اگر بے پردگی یا غیر شرعی اختلاط پیدا ہوجائے تو محض اس اجتماع کی مذہبی نسبت اس عمل کے حکم کو تبدیل نہیں کرتی۔
اسی طرح عید کے دن دو بچیوں کے اشعار پڑھنے والی حدیث کو موجودہ دور کے ڈی جے پروگرام، رقص اور فلمی موسیقی کے لیے دلیل بنانا بھی درست نہیں۔ روایت میں واضح ہے کہ وہ کم سن بچیاں تھیں، پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں اور مخصوص عید کے ماحول میں اشعار پڑھ رہی تھیں۔ (صحیح البخاری، کتاب العیدین، حدیث: 952)
محبتِ رسول ﷺ کے باب میں قرآن نے اصل معیار واضح کردیا: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 31)لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا مضبوط ترین ثبوت یہ نہیں کہ اجتماع کتنا بڑا تھا، آواز کتنی بلند تھی یا سڑک پر ہجوم کتنا تھا؛ بلکہ یہ ہے کہ اس اجتماع میں سنت کی کتنی پیروی ہوئی۔
اگر کسی میلاد یا مذہبی اجتماع میں نعت، سیرت، درود، قرآن، ذکر اور جائز تعلیم ہو تو اس کی نوعیت ایک ہے؛ لیکن اگر اسی اجتماع میں لڑکیوں کا رقص، مرد و زن کا اختلاط، بے پردگی، فلمی گانے، ڈی جے، فحش حرکات یا دوسروں کو اشتعال دلانے والے پروگرام شامل ہوجائیں تو ان تمام اعمال کا حکم الگ الگ شرعی اصولوں سے متعین ہوگا۔
اسی طرح بازاروں میں مذہبی جلوس نکالتے وقت منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ آمدورفت کے بنیادی راستے بند نہ ہوں، مریضوں اور ہنگامی گاڑیوں کے لیے راستہ کھلا رہے، دکان داروں کے کاروبار کو بلا ضرورت نقصان نہ پہنچے، رہائشی علاقوں میں ضرورت سے زیادہ شور نہ ہو اور کسی مذہب یا برادری کے خلاف اشتعال انگیزی نہ ہو۔
یہ احتیاط محض انتظامی حسن نہیں بلکہ اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے؛ رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کو ایذا پہنچانے سے ایمان کے کمال کی نفی فرمائی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6016)
یہاں ایک بات پوری وضاحت سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمام مسلمانوں کو ان چند لوگوں کے اعمال کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں جو میلاد کے نام پر سڑکوں کو تماشہ گاہ بناتے، لڑکپن اور اوباشی کا مظاہرہ کرتے، بے غیرتی، بے شرمی و بے حیائی کو اسلام کے نام سے جوڑتے، ناچتے کودتے اور غیر اسلامی طریقوں کی نقالی کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ غیر مسلم ناظرین بسا اوقات ایسے مناظر کو پورے اسلام اور تمام مسلمانوں کے کردار کا نمائندہ سمجھ لیتے ہیں، جس سے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ جن مخصوص اہلِ علم نے ابتدا میں میلاد کی بعض صورتوں کو جائز قرار دیا تھا، آج وہ خود بھی اس بگاڑ سے پریشان اور مضطرب ہیں۔ وہ بار بار آواز اٹھا رہے ہیں، میڈیا اور رپورٹرز کے ذریعہ عوام سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ سڑکوں پر تماشے نہ کیے جائیں، ناچ گانا نہ ہو، بے حیائی نہ ہو، غیر اسلامی طریقوں کی نقالی نہ کی جائے؛ لیکن اب صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ چیز جو کبھی ان کے دیے ہوئے جواز کے دائرے میں تھی، رفتہ رفتہ ان کے اپنے ہاتھ سے بھی نکلتی جارہی ہے۔ ہر گزرتا ہوا سال گزشتہ سال کے بگاڑ کو شرمندہ کرتا ہے، اور ہر آنے والا سال پچھلے سال سے زیادہ نئی، غیر ضروری اور ناقابلِ دفاع چیزیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔
اب وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ صرف اپیلیں کافی نہ سمجھی جائیں؛ جس جواز کو حدود کے ساتھ بیان کیا گیا تھا، اس کی حدود کو عملاً نافذ بھی کیا جائے۔ کیونکہ جب ایک عمل اپنی اصل صورت سے نکل کر ایسی شکل اختیار کرلے کہ اس میں بے حیائی، ناچ گانا، تماشہ، راستوں کی بندش اور غیروں کی نقالی شامل ہوجائے، تو پھر یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’ہم نے تو اس کی اجازت نہیں دی تھی۔‘‘ جنہوں نے جواز دیا تھا، انہیں اب اسی جواز کی حدود کی حفاظت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا؛ ورنہ ہر نیا سال صرف میلاد کا نیا موقع نہیں، بلکہ اسلام کے نام پر ہونے والی نئی بے اعتدالیوں کا نیا باب بنتا جائے گا۔
اصلاح کا راستہ بھی مشکل نہیں۔ مذہبی اجتماعات میں قرآن کی تعلیم، سیرت کا مطالعہ، درود و سلام، ذکر، صدقہ، خدمتِ خلق، صلہ رحمی اور اخلاقی تربیت کو مرکز بنایا جائے؛ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سمجھایا جائے کہ دین کی طاقت ہجوم کی کثرت نہیں بلکہ کردار کی قوت ہے منتظمین پروگرام سے پہلے شرعی حدود طے کریں؛ خواتین کے لیے الگ اور باپردہ انتظام ہو؛ مردوں کے لیے الگ انتظام ہو؛ نماز کے اوقات محفوظ رکھے جائیں؛ صوتی آلات کو ضرورت کی حد میں رکھا جائے؛ راستے اور عام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے؛ اور ہر ایسی سرگرمی ترک کی جائے جس کے جواز پر شرعی اطمینان نہ ہو۔
یہاں ریالیوں کے ذمہ داروں کی کی ذمہ داری خاص طور پر اہم ہے۔ نوجوان نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اسلامی غیرت کا مطلب دوسروں کو خوف زدہ کرنا نہیں، اسلامی حمیت کا مطلب بازار میں شور مچانا نہیں، اور عشقِ رسول ﷺ کا مطلب سنت کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنا نہیں۔ نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زبان، نگاہ، لباس، معاملات، عبادات اور اخلاق میں نبوی تعلیمات کو جگہ دے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ» ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6018؛ صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: 47)
لہٰذا ہمارے لیے جشن کی اصلاح کا بہترین راستہ یہ ہے کہ شور کم اور شعور زیادہ ہو، نمائش کم اور عبادت زیادہ ہو، ہجوم کم اور مقصدیت زیادہ ہو، اشتعال کم اور دعوت زیادہ ہو، اور اپنی قوت دکھانے کے بجائے اپنے کردار کی قوت دکھائی جائے۔
اگر کوئی جشن ایسا ہو کہ اس کے اختتام پر مسجدیں آباد ہوں، دلوں میں اللہ کا شکر پیدا ہو، سیرت کا علم بڑھے، نوجوان نماز کے پابند ہوں، والدین کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو، پڑوسی اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں، دکان داروں کا حق محفوظ رہے، راستے عام شہریوں کے لیے کھلے رہیں اور برادرانِ وطن مسلمانوں کے اخلاق سے مطمئن ہوں، تو یہ خوشی معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لیکن اگر جشن کے نام پر نمازیں ضائع ہوں مسجد میں نمازیں چل رہی ہوں اور مسجد کے باہر ڈی جے بج رہا ہو ، پردہ پامال ہو، مرد و زن کا اختلاط ہو، رقص و فحاشی ہو، ڈی جے اور فلمی انداز غالب ہو، سڑکیں بند ہوں، کاروبار متاثر ہو، پڑوسی پریشان ہوں اور مذہبی نعروں کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو خوف زدہ کیا جائے تو محض ’’جشن‘‘ کا عنوان ان خرابیوں کو پاک نہیں کرسکتا۔
اسلام ہمیں خوشی سے نہیں روکتا؛ اسلام ہماری خوشی کو بھی اللہ کی رضا کا پابند بناتا ہے۔ ہماری مسرت ایسی ہو جو شکر پیدا کرے، ہماری آواز ایسی ہو جو خیر پھیلائے، ہمارا اجتماع ایسا ہو جس سے امن بڑھے، اور ہماری دینی نسبت ایسی ہو جس سے رسول اللہ ﷺ کی سنت نمایاں ہو۔
سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنا بڑا جشن منایا؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری خوشی سے اللہ کتنا راضی ہوا، سنت کتنی زندہ ہوئی اور بندوں کے حقوق کتنے محفوظ رہے۔
یہی اسلامی جشن کا میزان ہے، یہی اس کی حد ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر مسلمان اپنی خوشی کو شریعت، سنت، حیا، شکر اور رحمت کا مظہر بنا سکتا ہے۔اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے