ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی
اورمودی کی شاہ خرچی
ازقلم:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
جمہوریت میں عوامی نمائندوں اوراراکینِ پارلیمنٹ کا کردارمحض انتخابات جیت کرایوانوں تک پہنچنے کا نام نہیں،بلکہ ان لوگوں پر یہ بنیادی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کوسمجھیں،ان کی آواز بنیں،حکومت سے جواب طلب کریں اور قانون سازی کےعمل میں فعال کردار ادا کریں۔افسوس ہے کہ بھارت میں عوامی نمائندگی کا یہ بنیادی تصور رفتہ رفتہ کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔انتخابات کے دوران عوام سے بلند بانگ وعدے کیے جاتے ہیں،ترقی،روزگار،تعلیم،صحت،مہنگائی اوربنیادی سہولیات کے مسائل حل کرنے کے بڑے بڑے دعوے ہوتے ہیں، مگر انتخابی کامیابی کے بعد اکثر نمائندوں اور عوام کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہوجاتی ہے جسے پاٹنا آسان نہیں ہوتا۔عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکاری دفاتر اورلیڈران کے دروازوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں،جبکہ ان کے منتخب نمائندے سیاسی مصروفیات،جماعتی وفاداریوں اور انتخابی مفادات میں زیادہ الجھےنظر آتے ہیں،پارلیمنٹ اوراسمبلیاں دراصل سنجیدہ بحث،قانون سازی اورحکومت کے احتساب کے مراکز ہونے چاہئیں،لیکن اکثر یہ ایوان شور و ہنگامے،سیاسی الزام تراشی اور باہمی کشمکش کی نذرہوجاتے ہیں۔عوامی مسائل پر گہری اورنتیجہ خیز بحث کے بجائے سیاسی جماعتوں کی باہمی جنگ زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ جن لاکھوں ووٹروں نے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے ایوانوں میں بھیجا، کیا ان کی اصل آواز واقعی وہاں سنی جاتی ہے؟ آج ملک کوبے روزگاری، مہنگائی،معاشی ناہمواری، کسانوں کے مسائل،تعلیمی بحران،صحت کی سہولیات اورسماجی بے چینی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ایسے حالات میں عوامی نمائندوں سے توقع تھی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کی حقیقی صورتحال پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتے،حکومت سے سخت سوالات کرتے اور پالیسی سازی میں سنجیدہ کردار ادا کرتے۔مگر بدقسمتی سے بہت سے نمائندوں کی سرگرمیاں صرف انتخابی سیاست،جلسوں،نعروں اور سیاسی بیان بازی تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ عوام اپنے نمائندوں کی پارلیمانی کارکردگی سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔کتنے سوالات اٹھائے گئے؟ کتنی بحثوں میں شرکت کی گئی؟اپنے حلقۂ انتخاب کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟عوامی مسائل کے حل کے لیے کون سی کوششیں ہوئیں؟ یہ تمام سوالات ہرانتخاب سے پہلے عوام کو اپنے نمائندوں سے ضرور پوچھنے چاہئیں۔جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ مسلسل احتساب کا نظام ہے۔اگر عوام اپنے نمائندوں سے جواب طلب کرنا چھوڑ دیں تو نمائندگی کا پورا تصور کمزور پڑجاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام شخصیت،مذہب،ذات،برادری اورجذباتی نعروں سے بالاترہوکر اپنے نمائندوں کی حقیقی کارکردگی کا جائزہ لیں،بھارت جیسے وسیع اورمتنوع جمہوری ملک میں ایک فعال،باخبر اور ذمہ دار پارلیمنٹ ہی عوامی مسائل کے حل کی امید بن سکتی ہے،لیکن یہ کیسے ہوگا جہاں پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کسی جواب دہی کےلئے نہیں آتے،ادھر پارلیمنٹ چلتی رہتی اور حکمراں باہر ممالک کے ٹور پرہوتے ہیں یا پھر ملک میں رہ کربھی پارلیمنٹ کی کاروائی میں شریک نہیں ہوتے اورنہ اسےاہمیت دیتے ہیں،عوامی نمائندوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کی نشست کوئی اعزاز یا مراعات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں،بلکہ ایک عظیم عوامی ذمہ داری ہے،وقت آگیا ہے کہ ملک کی عوام اپنے نمائندوں سے صرف وعدے نہیں بلکہ کارکردگی کا حساب مانگیں۔ کیونکہ ایک مضبوط جمہوریت کا انحصار صرف اچھے حکمرانوں پر نہیں بلکہ ذمہ دار عوام اور جواب دہ نمائندوں پربھی ہوتا ہے۔
ہندوستان میں مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کورفتار دینے کے لیے 1993 میں رکن پارلیمنٹ مقامی علاقہ ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا تھا،اس منصوبے کے تحت ملک کے ہرمنتخب رکن پارلیمنٹ کو اپنے حلقے کی بنیادی ضروریات اورترقیاتی کاموں کے لیے ہرسال پانچ کروڑ روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے،اس کے قواعد واضح ہیں،یہ رقم صرف عوامی اثاثوں کی تعمیر،سرکاری زمین پر اورسرکاری کنٹرول والے اداروں کے لیے ہی خرچ کی جاسکتی ہے۔2011/12 سے ہررکن پارلیمنٹ کے لیے یہ رقم سالانہ پانچ کروڑ روپے مقرر ہے،لیکن کیا ہمارے اراکین پارلیمنٹ اس بھاری بھرکم فنڈ کا صحیح استعمال کررہے ہیں؟ حالیہ اعداد و شمار جو کہانی بیان کرتے ہیں وہ کافی حدتک مایوس کن ہیں،18ویں لوک سبھا(2024 تا 2029) اور راجیہ سبھا کے مجموعی طور پر 745 اراکین پارلیمنٹ کے لیے نظام میں کل مختص رقم 11.544 کروڑ روپے ہے،لیکن اس بھاری بھرکم بجٹ میں سے اب تک پورے ملک میں صرف تین ہزار 539.8 کروڑ روپے ہی خرچ کئے جاسکے ہیں،اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مجموعی مختص فنڈ کا صرف 30.7 فیصد حصہ ہی ترقیاتی کاموں پرخرچ ہوا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 18ویں لوک سبھا 27 مئی 2026 تک کے تمام 543 موجودہ اراکین کے لیے منصوبے کے تحت مجموعی 8.265 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،وزارت شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ نے اب تک مجموعی طور پر 88.790 عوامی کاموں کی سفارش کی ہے،جن کی مالیت تقریبا 4.787 کروڑ روپے ہے،ان میں سے 67.524 کاموں کومنظوری دی گئی ہے،جن کی مالیت 3.547 کروڑ روپے ہوتی ہے،لیکن صرف 21.807 کام ہی مکمل ہوسکے ہیں،جن کی مالیت ایک ہزار47 کروڑ روپے ہے،ایمپاورڈ انڈین کی رپورٹ کے مطابق 36 ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام خطوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہے،شمال مشرقی ریاستوں کے اراکین پارلیمنٹ نے فنڈ کا سب سے بہتر استعمال کیا ہے۔ناگالینڈ پورے ملک میں سرفہرست ہے،جہاں مختص رقم کا 82.3 فیصدحصہ 35.4 کروڑ میں سے 29.1 کروڑ روپے خرچ کیا جاچکاہے،اس کے بعدمیزورم 73.8 فیصد 31.9 کروڑ میں سے 23.5 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،سرفہرست پانچ ریاستوں میں میگھالیہ 63.9 فیصد،سکم 63.3 فیصد اور اروناچل پردیش 62.8 بھی شامل ہیں،بڑی ریاستوں کی صورتحال ہرگزحوصلہ افزا نہیں ہے،اتر پردیش نے اپنے فنڈ کا 45.8 فیصد استعمال کیاہے،جہاں 1.776.7 کروڑ میں سے 814.6 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں،جبکہ جھارکھنڈ نے 42.4 فیصد،بہار نے 39.7 فیصد،پنجاب نے 38.3 فیصد اورمدھیہ پردیش نے 37.3 فنڈ خرچ کیاہے،سب سے نچلے درجے والی بڑی ریاستوں میں اڈیشہ 13.2 فیصد،مہاراشٹرا 17.3 فیصد اور کیرالہ 17.3 فیصد کے ساتھ شامل ہیں،سب سے خراب کارکردگی مرکز کے زیر انتظام خطوں کی رہی ہے۔دادر۔نگر حویلی اور دمن و دیو میں فنڈ کا استعمال صفر فیصدرہا 39.2 کروڑ روپے کے فنڈ میں سے ایک روپے بھی خرچ نہیں ہوا،لداخ نے محض 3.7 فیصد،انڈومان ونکوبار نے6.9 فیصد،جبکہ ملک کی راجدھانی دہلی اور چندی گڑھ نے صرف 9.5 فیصد فنڈ استعمال کیاہے،انفرادی کارکردگی کی بات کریں توانتہائی حیرت انگیز اعداد و شمار سامنے آئے ہیں،54 اراکین پارلیمنٹ نے اپنے فنڈسے ایک روپے بھی خرچ نہیں کیا،جبکہ کئی سرکردہ اراکین پارلیمنٹ کا خرچ ایک فیصدسے بھی کم رہا،ایمپاورڈ انڈین کی رپورٹ کے مطابق سکندرآباد سے رکن پارلیمنٹ جی کشن ریڈی کو 14.7کروڑ روپے کا فنڈملا لیکن انہوں نے صرف چارلاکھ روپے یعنی 0.3 فیصد خرچ کئے،کلیان سے رکن پارلیمنٹ شری کانت ایک ناتھ شندے نے 14.7 کروڑ روپے میں سے صرف 3.25 لاکھ روپے یعنی 0.2 فیصد خرچ کئے،جودھ پور،راجستھان سے رکن پارلیمنٹ گجندرسنگھ شیخاوت نے 14.7 کروڑ روپے میں سے صرف 4.91 لاکھ روپے،0.3 فیصدخرچ کئے،بلڈھانہ سے پرتاپ راجہ دھو 0.8 فیصد اورہریانہ سے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کارتکے شرما 0.6 فیصد کی کارکردگی بھی انتہائی خراب رہی،اس کے برعکس اراکین پارلیمنٹ نے اپنے حلقوں میں 80 فیصد سے زیادہ فنڈخرچ کیا ہے،ان میں ارون کمارساگر87.3 فیصد،متھلیش کمار 87.1 فیصد،گیتاعرف چندر پربھا 85.5 فیصد اورجاویدعلی خان 81.1 فیصد شامل ہیں،میزورم کے ون لال وینا84.7 فیصد اورناگالینڈ کی ایس فانگون کونیاک 84.0 بھی سرفہرست کارکرگی دکھانے والوں میں شامل ہیں،قابل ذکر ہے کہ اس منصوبے کے تحت 12 زمروں میں 112 قسم کے کاموں کی اجازت ہے،اس کے باوجود اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ71 فیصد کام صرف تین اہم شعبوں تک محدود رہے،بجلی سب سے زیادہ 23.440سفارشات 26.4 فیصدتوانائی کے شعبوں میں کی گئیں،جن میں بیشتر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے متعلق ہیں،سڑکیں اورپل 21.475 کاموں 24.2 فیصد کے ساتھ سڑکیں دوسرے نمبر پر رہیں۔
ایک طرف تو عوامی نمائندے و اراکین پارلیمنٹ کی یہ افسوسناک اور مایوس کن کارکرگی ہے تودوسری طرف مودی کے غیرملکی دوروں پر ایک سال میں 74 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جارہے ہیں،رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے وزیراعظم نریندرمودی کےغیرملکی دوروں پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی ہیں،وزارت خارجہ نےپچھلے دنوں راجیہ سبھا میں بتایا کہ وزیراعظم کےغیرملکی دوروں پر رواں سال اب تک تقریبا 74.58 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں،راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اورسی پی آئی ایم کے ڈاکٹر وی شیوا داس نے وزیراعظم کےغیرملکی دوروں سے متعلق غیرنشان زدسوال نمبر 2172 پوچھا تھا،اراکین پارلیمنٹ نے 2021 سےاب تک ہرسال اور دوروں کے لحاظ سے ہونے والے اخراجات،دستخط کیے گئے معاہدوں اور ملک میں آنے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی تفصیلات مانگی تھیں،جس کے جواب میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ پوبترا مارگریٹا نے تحریری جواب میں بتایا کہ وزیراعظم مودی کے2021 سے جولائی 2026 تک کےغیرملکی دوروں پر 550 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے،جبکہ 2026 میں اب تک تقریبا 74.58 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں،مئی 2026 کے دورے میں ناروے کا سفر 17.46 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے مہنگارہا،اس کے بعد اسرائیل کے دورے پر 11.92 کروڑ،سیشلز پر 8.22 کروڑ،سویڈن پر 6.33 کروڑ،ملیشیا پر 5.57 کروڑ اور نیوزی لینڈ کے دورے پر 5.44 کروڑ روپے کا خرچ آیا ہے،2025 میں وزیراعظم کے دوروں پر کل 187.83کروڑ روپے کا خرچ آیا جوگزشتہ برسوں میں سب سے زیاہ ہے،اس سال مودی فرانس،امریکہ ماریشس،تھائی لینڈسمیت 23 ممالک کے دورے پرگئے ہوئے تھے۔
اراکین پارلیمنٹ میں اکثر ممبران مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں،بھارت میں 326 ارکان پارلیمنٹ (MPs) پرمجرمانہ مقدمات درج ہیں۔سپریم کورٹ میں ایمیکس کیوری (Amicus Curiae) سینئر ایڈوکیٹ وجے ہنساریا کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق،یہ تعدادمجموعی طور پر ملک کےتقریباً 45 فیصد بیٹھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے برابر ہے۔ایوان کے لحاظ سے مقدمات کا سامنا کرنے والے ارکان کی تفصیل درج ذیل ہے:لوک سبھا:543 ارکان میں سے251 ارکان (تقریباً 46 فیصد) پرمقدمات درج ہیں۔راجیہ سبھا: 233 ارکان میں سے 75 ارکان پرکیسز چل رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق،ان ارکان پارلیمنٹ پرسنگین اورعام جرائم سمیت مجموعی طور پر ”4,192 زیرالتوا مجرمانہ مقدمات“ چل رہے ہیں۔ان میں سے 210 ارکان ایسے ہیں جن پرانتہائی سنگین نوعیت کے الزامات (جیسے اقدام قتل،قتل،اغوا،اور خواتین کےخلاف جرائم) ہیں،جن میں جرم ثابت ہونے پر 5 سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔سیاسی جماعتوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بی جے پی (BJP) اور کانگریس (Congress) دونوں کے کئی منتخب ارکان ان مقدمات کاسامنا کررہے ہیں،22دسمبر 2025 تک درج ذیل سرگرمیاں انجام دی گئیں۔
یہ حال ہے پارلیمنٹ اور وہاں کے عوامی نمائندوں کا،اب وقت آگیا ہے کہ عوام خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی جمہوری ذمہ داری کوسنجیدگی سے ادا کریں۔صرف ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈال دینا کافی نہیں ہے،بلکہ منتخب نمائندوں کا مسلسل احتساب ضروری ہے۔عوام کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل یہ ہونا چاہیے،اپنے علاقے کے رکنِ پارلیمنٹ اور رکنِ اسمبلی کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔یہ دیکھا جائے کہ انہوں نے پارلیمنٹ یا اسمبلی میں کتنے سوالات اٹھائے، کن مباحثوں میں حصہ لیا اور اپنے حلقۂ انتخاب کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے،ہرعلاقے میں باشعور شہریوں،اساتذہ،وکلا،صحافیوں،نوجوانوں اور سماجی کارکنوں پرمشتمل غیرجماعتی عوامی فورم قائم کیے جائیں،جومقامی مسائل کی فہرست تیار کریں اور انہیں منتخب نمائندوں کے سامنے باقاعدہ طور پرپیش کریں،عوام اپنے نمائندوں سے وقتاً فوقتاً ملاقات،عوامی سماعت اورجواب دہی کے پروگراموں کا مطالبہ کریں۔نمائندے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ انتخابی کامیابی عوام سے تعلق ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ عوام کے سامنے مسلسل جواب دہ رہنے کی ذمہ داری ہے،سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ کوصرف سیاسی نعرے بازی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے عوامی مسائل،نمائندوں کی حاضری،کارکردگی اوروعدوں کے جائزے کے لیے استعمال کیا جائے۔ہربڑے وعدے کے ساتھ عوام کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ وعدہ کب پورا ہوگا اور اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟اسی طرح آئندہ انتخابات میں ووٹ ذات،مذہب، برادری،شخصیت پرستی یا جذباتی نعروں کی بنیاد پرنہیں بلکہ امیدوار کی دیانت، صلاحیت،عوامی خدمات اورسابقہ کارکردگی کو دیکھ کردیا جائے،نوجوانوں کو خاص طور پرسیاسی شعور اور آئینی حقوق سے آگاہ کیا جائے، کیونکہ ایک باخبر نسل ہی مستقبل میں بہتر قیادت کا انتخاب کرسکتی ہے۔جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔جب عوام سوال پوچھنا شروع کریں گے،وعدوں کا حساب مانگیں گے،نمائندوں کی کارکردگی کا ریکارڈ رکھیں گے اور ووٹ کوسوچ سمجھ کراستعمال کریں گے،تبھی عوامی نمائندگی اپنے حقیقی مقصد کی طرف واپس آسکے گی۔لہٰذا آج ہرعلاقے کے عوام کا مشترکہ عہد یہ ہونا چاہیے کہ ووٹ غوروفکر کے بعد دیں گے اورمنتخب نمائندے سے کام کا حساب لیں گے۔
(مضمون نگار،معروف صحافی،کالم نویس اورسیاسی تجزیہ نگار ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com