نوئیڈا–دہلی کے علاقے میں چلتی بس میں ایک نابالغہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر 2012 میں دہلی میں پیش آنے والے واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ واقعہ لامحالہ دسمبر 2012 کے نربھیا کیس کی یاد دلاتا ہے، جب چلتی بس کے اندر ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ہونے والی وحشیانہ اجتماعی زیادتی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اُس وقت میڈیا بھی واقعی آزاد ہوا کرتا تھا وہ جو کہنا چاہتا تھا کہتا تھا، صحیح ہو یا غلط، اور جو دکھانا چاہتا تھا دکھا دیتا تھا۔ میڈیا نے کئی دنوں تک اس واقعے کو ٹی وی اور پرنٹ میڈیا میں چوبیس گھنٹے دکھایا، اور اس کے نتیجے میں ایک بڑی تحریک نے جنم لیا۔
دونوں واقعات عوامی نقل و حمل سے جڑی مبینہ جنسی زیادتی سے متعلق ہیں۔ دونوں مسافروں کی حفاظت، ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی ذمہ داری اور ایسے جرائم کو روکنے میں انتظامیہ کی ناکامی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس کے باوجود آج ان دونوں واقعات کے حوالے سے عوام اور میڈیا کا ردعمل بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔
نربھیا کیس ایک قومی تحریک بن گیا تھا۔ کئی دنوں اور ہفتوں تک ٹی وی چینلز اور اخبارات میں مسلسل کوریج ہوتی رہی۔ پورا ملک تفتیش میں ہونے والی پیش رفت، متاثرہ لڑکی کی حالت اور بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ ہزاروں لوگ، خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات اور خواتین، دہلی اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ان مظاہروں نے حکومت اور سیاسی قیادت پر جواب دینے کا زبردست دباؤ ڈالا۔
نربھیا کا معاملہ محض ایک انفرادی فوجداری مقدمہ نہیں رہا تھا۔ یہ ایک بڑی قومی ناکامی کی علامت بن گیا تھا عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکامی کی علامت۔ اس غم و غصے کے نتیجے میں بالآخر اہم قانونی اصلاحات ہوئیں اور جنسی جرائم کی تفتیش و مقدمہ چلانے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں آئیں۔
موجودہ نوئیڈا–دہلی بس کیس بھی نہایت سنگین ہے۔ اسے میڈیا کوریج بہت کم ملی ہے، اور اس نے حفاظتی خامیوں کے حوالے سے زیادہ سوالات نہیں اٹھائے، نہ ہی کوئی بڑا ہنگامہ کھڑا کیا۔ اس معاملے میں تھوڑے بہت مظاہرے ہوئے ہیں اور کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ لیکن اب تک اس کیس نے نربھیا کے بعد جیسا مسلسل اور وسیع پیمانے پر قومی غم و غصہ اور تحریک پیدا نہیں کی۔ پتہ نہیں وہ لوگ کہاں چلے گئے جو خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سوال اٹھاتے تھے اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے تھے۔
ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ 2012 کے بعد سے بھارت بدل چکا ہے۔ ملک نے اس دوران کئی ہولناک جرائم دیکھے ہیں، اور لوگ اب ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے پریشان کن خبروں کے مسلسل سیلاب کی زد میں رہتے ہیں۔ بار بار تشدد کی خبریں دیکھتے رہنے سے ایک قسم کی ذہنی تھکن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ جو واقعہ کبھی پورے ملک کو ہفتوں تک جھنجھوڑ دیتا تھا، وہ اب کسی اور بڑی خبر کے آتے ہی چند دنوں میں عوامی گفتگو سے غائب ہو جاتا ہے، اور معاملہ دب جاتا ہے۔
موجودہ کیس کا سب سے تکلیف دہ پہلو متاثرہ لڑکی کے خاندان پر پڑنے والا اثر ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاندان نے بار بار ہونے والی پوچھ گچھ اور لوگوں کی آمد و رفت کے ساتھ ساتھ سماجی بدنامی کے خوف سے اپنا گھر بند کر کے گاؤں چھوڑ دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ متاثرہ خاندان کو میڈیا پر بھروسہ نہیں بلکہ خوف محسوس ہو رہا ہے، ہے ۔
انصاف حاصل کرنے کے لیے میڈیا کا سوال اٹھانا ضروری ہے۔ مضبوط رپورٹنگ کے بغیر کئی سنگین جرائم کی مناسب تفتیش یا عوامی جوابدہی کبھی ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگر رپورٹنگ ہی نہیں ہو گی تو معاملہ دب جائے گا۔ نربھیا کیس کو قومی مسئلہ بنانے اور سیاسی نظام کو جواب دینے پر مجبور کرنے میں میڈیا کا کردار نہایت اہم رہا تھا۔
لیکن حق اور انصاف کے لیے رپورٹنگ کرنے اور متاثرہ کی نجی زندگی میں دخل اندازی کرنے کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔
متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کو دوبارہ صدمے سے نہیں گزرنا چاہیے، چاہے یہ صحافیوں کی وجہ سے ہو، تجسس رکھنے والے آنے والوں کی وجہ سے ہو، یا معاشرے کے بار بار ان کی نجی زندگی میں دخل دینے کی وجہ سے ہو۔ میڈیا کو ان خامیوں کی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے متاثرین کی عزت اور رازداری کا تحفظ بھی کرنا چاہیے، جن کی وجہ سے ایسے جرائم ممکن ہو پاتے ہیں۔
متاثرہ کے گھر یا خاندان پر بار بار توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بڑے اور اصل سوالات پوچھے جانے چاہئیں۔ حفاظتی ضوابط کو مؤثر طریقے سے نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا سی سی ٹی وی کیمرے کام کر رہے تھے؟ کیا بسوں کی مناسب نگرانی ہو رہی تھی؟ کیا ڈرائیوروں اور عملے کی مناسب جانچ پڑتال کی گئی تھی؟ نربھیا کیس کے بعد جن حفاظتی اقدامات کا وعدہ کیا گیا تھا، ان کا کیا ہوا؟ اور سب سے اہم بات، اگر یہ نظام صرف کاغذوں پر ہی موجود رہے، تو اس کے لیے کسے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا؟
نربھیا سے ملنے والا سبق صرف یہ نہیں تھا کہ ایک ہولناک جرم کو وسیع میڈیا کوریج ملنی چاہیے۔ اصل سبق یہ تھا کہ ایک جرم معاشرے اور نظام کی گہری خامیوں کو بے نقاب کر سکتا ہے، اور عوامی دباؤ اصلاح پر مجبور کر سکتا ہے۔
چودہ سال بعد ہم کو یہ سوال پوچھنا ہو گا کہ کیا وہ اصلاحات واقعی زمینی سطح تک پہنچی ہیں۔ کیا زیادتی کے واقعات میں کمی آئی ہے؟ اگر ایک سنگین جرم دوبارہ مبینہ طور پر چلتی بس کے اندر ہو سکتا ہے، تو ملک کو نہ صرف ملزمان کی تفتیش کرنی ہو گی، بلکہ مسافروں کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں کی بھی جانچ کرنی ہو گی۔
موجودہ کیس فوری عوامی توجہ کا حقدار ہے اس لیے نہیں کہ متاثرہ کی شناخت یا اس کا خاندان عوامی تجسس کا موضوع بنے، بلکہ اس لیے کہ ایسے جرائم کے پیچھے چھپی خامیوں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں درست کیا جائے۔
یہ بھی نظر آتا ہے کہ نربھیا کیس کے بعد سے بھارت میں عوامی مزاج، میڈیا کا ماحول اور عوامی ردعمل کی نوعیت آج کافی بدل چکی ہے۔ آج بہت سے لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے میں خود کو کم قابل یا کم مائل محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے طویل برسوں کے دوران بننے والے سیاسی ماحول نے بڑے پیمانے پر عوامی اختلاف رائے کو مشکل بنا دیا ہے اور معاشرے کے کئی طبقوں میں ایک قسم کی احتیاط یا خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ساتھ ہی، معاشی تنگی، بے روزگاری اور گھریلو اخراجات چلانے کی روزمرہ کی جدوجہد عام آدمی کے پاس طویل عرصے تک چلنے والی عوامی تحریکوں کے لیے وقت، تحفظ یا توانائی بچنے ہی نہیں دیتی۔
مرکزی دھارے کے میڈیا کے حوالے سے بھی ایک اتنا ہی اہم سوال ہے ،کیا میڈیا ایسے واقعات کو اتنی ہی اہمیت اور مسلسل توجہ دے رہا ہے جتنی اس نے نربھیا کو دی تھی، یا اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کی دیانتداری سے پڑتال ہونی چاہیے۔ کوئی جرم صرف اس لیے کم سنگین نہیں ہو جاتا کہ اسے کم ٹی وی بحث یا سرخیاں ملتی ہیں۔
وجہ جو بھی ہو، یہ فرق واضح نظر آتا ہے۔ 2012 میں عوامی غم و غصہ ایک قومی تحریک میں بدل گیا تھا، جس نے سیاسی نظام کو جواب دینے پر مجبور کیا۔ آج، ایک ہولناک جرم بھی ویسا ہی عوامی غم و غصہ پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ نربھیا کو اصل خراجِ عقیدت محض ہر سانحے کے وقت اسے یاد کرنا نہیں ہے۔ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ معاشرہ، میڈیا اور اقتدار میں بیٹھے لوگ جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی ہمت برقرار رکھیں، اور حفاظت و انصاف کے وعدے واقعی زمینی سطح پر عملی شکل اختیار کریں۔ یہ سوال میڈیا سے، معاشرے سے، اہل اقتدار سے اور تمام لوگوں سے ہے کیا کچھ بدلا ہے، اور کیوں بدلا ہے؟
کیا کسی کے پاس جواب ہے؟