موہن بھاگوت کا سرخ قالین
اور ریونت ریڈی کے پیرکی بیڑی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آر ایس ایس کے سربراہ کاامریکہ دورہ تو ساری دنیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا قصور کیا تھا جو انہیں امریکہ جانے سے روک دیا گیا؟ ریونت ریڈی کو پہلے تو بدعنوانی کے معاملے میں پھنسایا گیا اور پھر ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرلیا گیا۔وزیر اعلیٰ کو دورہ کرنے سے قبل اول تو عدالت کے دروازے پر دستک دینی پڑی ۔ وہاں سے اجازت لینے کے بعد مرکزی سرکار کے آگے گہار لگانی پڑی۔ اس کے بعد مودی اور شاہ کے لیے دھرم سنکٹ کھڑا ہوگیا۔ ریاستی حکومت نے وزیر اعلیٰ کے برطانیہ اور امریکی دورہ کی مرکز سے سرکاری طریقہ کار اور پروٹوکول کے مطابق اجازت طلب کی تھی ۔ ابتداء میں برطانیہ دورہ کی اجازت دی گئی مگر امریکہ کی بابت خاموشی رہی ۔ سرکاری وفد جب برطانیہ کے دورے پر تھا تو اطلاع دی گئی کہ امریکہ کے دورہ کی اجازت نہیں ہے۔ کسی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک کرنا مرکزی حکومت کی خوفزدہ تنگ نظری کا مظہر ہے۔موہن بھاگوت کے لیے سرخ قالین بچھانے والوں کا عوامی نمائندے ریونت ریڈی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالنا شرمناک ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اس دورے کی تیاری ۹؍ ماہ قبل شروع کی تھی ۔ انہوں نے خود دسمبر 2025 میں امریکہ سے تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن پھر امریکہ کے تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق تنازع سے عالمی سطح غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ وہ کسی طرح قابو میں آئی تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اس تجویز کو عارضی طور پر مؤخر کر نا پڑا لیکن جون کے آتے آتے جب حالات میں نسبتاً بہتری آ ئی تو تلنگانہ کی حکومت نے اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے پھر پیش قدمی کی۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے 16 جون (2026)کو ریاست اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو اجاگر کرنے کے لیے حیدرآباد میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ایک اہم سڑک کا نام ’’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ رکھنے کااعلان کرکے بتایا کہ اس شاہراہ کا باقاعدہ افتتاح 23 جون کو ہو گا۔ اس تقریب میں دہلی سے امریکہ کے سفیر سرجیو گور سمیت متعدد اعلیٰ حکام نےشرکت کی۔ان لوگوں کی تفریح طبع کے لیے سفارتی کے ساتھ ثقافتی سرگرمیاں یعنی ناچ رنگ کا بھی انعقاد ہوا تاکہ امریکی یومِ آزادی(4 جولائی) کی تقریبات سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔
حکومتِ تلنگانہ نے اس پیش رفت کی بابت اعلان کیا کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کا نام صرف ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ یہ امریکہ اور حیدرآباد کے درمیان مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کا عکاس ہے۔سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے تلنگانہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نئی سرمایہ کاری لانے اور ریاستی معیشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت اس اقدام کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا کہ حیدرآباد بین الاقوامی کاروبار اور ٹیکنالوجی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔اس وقت یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ حکومت مستقبل میں بعض سڑکوں کو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ سے منسوب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ حیدرآباد کی شناخت ایک جدید، اختراع پر مبنی اور سرمایہ کاری دوست شہر کے طور پر مزید مضبوط ہو سکے۔آندھرا پردیش میں اگر ڈبل انجن سرکار ہوتی تو بی جے پی والے ان اقدامات کو خوب سراہتےمگر چونکہ کانگریس کی حکومت ہے اس لیے ان کے پیٹ میں در ہونے لگا۔
تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک امریکی صدر کے نام پر سڑک کا نام رکھنا کس حد تک مناسب ہے؟ ارے بھائی اگر وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے شہر بوسٹن جاکر انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ لگا سکتے ہیں اور انہیں کورونا کے خطرات کے باوجود اپنی کرم بھومی ا حمد آباد بلا کر ’نمستے ٹرمپ‘ کے لیے لاکھوں لوگوں کو جمع کرسکتے ہیں تو ایک سڑک کے نام کی کیا بساط؟ اس ملک میں زعفرانی اندھ بھگتوں نے توٹرمپ کی جیت کے لیےہوون تک کردیا تھا یہ اور بات ہےکہ تمام تر نوٹنکی کے باوجود وہ پچھلا الیکشن ہار گئے۔ رام چندر راو نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہیں تو پھر ریونت ریڈی کی جانب سے ’’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کا افتتاح ایک متضاد پیغام دیتا ہے۔انہوں نے کانگریس سے اس معاملے میں پارٹی کا اصل موقف واضح کرنے مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا یہ اقدام سیاسی مفادات کے تحت کیا جا رہا ہے یا واقعی بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے؟ یہ سوال وہ مودی جی سے متعلق نہیں پوچھ سکتے کیونکہ ساری دنیا انہیں ’جی حضوریا مانتی ہے۔
رام چندر راو کے سوال کاتلنگانہ سرکار نے جواب دیا کہ یہ امریکہ-بھارت اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم اور “تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ 2025” کے دوران کیے گئے وعدوں کے تسلسل ہے۔وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ان بین الاقوامی فورمز میں متعدد بار اس بات پر زور دیا تھا کہ عالمی کمپنیوں نے حیدرآباد کو بھارت کے نمایاں ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حکومت کے مطابق اس نوعیت کے علامتی اقدامات عالمی کاروباری اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ریاست کی بین الاقوامی شناخت کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ محض ہوا ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کی کئی بڑی فارچیون 500 کمپنیوں نے حیدرآباد میں اپنے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (GCCs) قائم کیے ہیں یا ان کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ان میں کوسٹکو ہول سیل، ایلی للی، ایچ سی اے ہیلتھ کیئر، میکڈونلڈز اور نیشن وائیڈ انشورنس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وینگارڈ، یو ایس بینکارپ، ٹی موبائل، ایل پی ایل فنانشل اور ریجینیرون فارماسیوٹیکلز جیسی کمپنیاں بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔
وطن عزیز کا سب سے بڑ ا مسئلہ فی الحال تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پھیلی ہوئی بیروزگاری ہے۔ ایسے میں تلنگانہ حکومت یوپی یا گجرات کی مانند ہندو مسلم کارڈ کھیل کر اپنی سیاست چمکانے کے بجائے ان عالمی اداروں کے اشتراک سے ریاستی معیشت کو مستحکم کرنے اور اس کے ذریعہ ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے تو مرکزی سرکار کو اس میں تعاون کرناچاہیے نہ کہ رکاوٹ ؟ صوبائی سرکار کی کوششوں کے سبب نہ صرف سافٹ ویئر بلکہ بینکنگ، مالیاتی خدمات اور انشورنس (BFSI) شعبے کے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز کا پسندیدہ مقام بھی حیدرآباد بن گیا ہے۔ناسکام جی سی سی لینڈ اسکیپ رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 کے دوران ملک میں قائم ہونے والے نئے BFSI گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز میں سے تقریباً نصف نے حیدرآباد کا انتخاب کیا۔ اس رجحان کی وجہ سے شہر میں دستیاب اعلیٰ معیار کی افرادی قوت، جدید انفراسٹرکچر اور تیزی سے ترقی پذیر کاروباری ماحول ہے۔اترپردیش یا گجرات میں دور دور تک ایسی فضا نہیں ہے۔
حیدرآباد کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے سب سے اہم ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری مراکز میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت مائیکروسافٹ، گوگل، ایمیزون، فیس بک اور دیگر عالمی کمپنیوں کے بڑے دفاتر کی شہر میں موجودگی ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی حوصلہ شکنی شرمناک بغض و عناد کی غماز ہے۔ حیدر آباد کے اندر ’’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ کے افتتاح پرخود امریکی صدر نے اظہار تشکر کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا، "حیدرآباد، انڈیا میں نیا ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو ۰۰اس طرح کا اعزاز پانے والا پہلا امریکی صدر۰۰ آپ کا شکریہ،” اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا اور ہندوستان میں امریکی ایلچی سرجیو گور کی سڑک کے نام کی رسمی تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی تھی ۔ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی استواری کا معاملہ لفظی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ اگست( 2026)کو حیدرآباد کے ترقی پذیر علاقے کوکاپیٹ کے گولڈن مائل روڈ پر ٹرمپ ٹاورز حیدرآباد کے نام سے دو بلند و بالا رہائشی ٹاورز تعمیر کے منصوبے کا اعلان ہوگیا۔
ٹری بیکا ڈیولپرز نے اِرا ریئلٹی کے اشتراک سے جنوبی ہندوستان میں ٹرمپ برانڈ کے رہائشی منصوبوں کے میدان میں پہلی بڑی پیش رفت کی۔ اس کے تحت دو65 منزلہ ٹاورز تعمیر کا کام شروع ہواجن کو 28ویں منزل پر ایک معلق پل کے ذریعے آپس میں جوڑا جائے گا۔ اس پل پر بننے والے ٹرمپ کلب سے حیدرآباد شہر کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کی خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی نیز450 سے زائد لگژری رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ ان تفصیلات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ کوئی ہوا ہوائی کام نہیں ہے کہ جعلی ایم او یو پر دستخط کرکے سرکاری امداد کو نگل لیا جائے جیسا کہ حال میں اترکھنڈ میں ہوا۔وزارت خارجہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے امریکی دورے کی اجازت سے انکار کو مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ تلنگانہ رائزنگ ٹیم کے دورۂ امریکہ کا منسوخ کرنا مرکز کی جانب سے سیاسی کینہ پروری ہے۔ تلنگانہ کے عوام آئندہ انتخاب میں بی جے پی سے انتقام لیں گے۔