ٰاپنے اساتذہ سے استفادہ کرنے والے طلبہ ہی بہتر زندگی گزار پاتے ہیں:محمدیوسف رحیم بیدری .
یاران ِ اد ب اور عائشہ جیوتی سوسائٹی بیدر نے املاپو ر، راج گیرا، بھنگور اور مرکندا کے طلبہ وطالبات میں ہزارہاکاپیاں تقسیم کیں
بیدر۔ 4؍ستمبر (راست ) جمعرات 3؍ستمبر کو بیدر کی معروف ادبی ، تعلیمی اور فلاحی تنظیم یارانِ ادب اور 18؍سالہ قدیم عائشہ جیوتی سوسائٹی بیدر کے اشتراک سے بیدراسمبلی حلقہ شمال اور جنوب کے مختلف 11اردو اور کنڑا اسکولوں کے طلبہ وطالبات میں ان کے اسکول پہنچ کر ان میں کاپیاں تقسیم کی گئیں تاکہ سرکاری اردو؍کنڑا اسکولوں کے داخلوں میں اضافہ ہو۔ جناب حیدرعلی ای سی او برائے دفتر BEOبیدر کی رہنمائی میں مذکورہ دونوں این جی اوز کے ذمہ داران محمدیوسف رحیم بیدری اور عبدالسلیم اسد نے سب سے پہلے املاپورکے سرکاری اردوایم پی ایس ، سرکاری کنڑا ہائی اسکول ، سرکاری کنڑا ہائیرپرائمری اسکول کو اسکول کے احاطہ میں جمع کرکے ٹواِں ون کاپیوں کی تقسیم عمل میں آئی۔ جناب ریاض قریشی صدرمعلم سرکاری اردوایم پی ایس اسکول املاپور کی زیرصدارت تینوں افراد کے علاوہ صدرمعلم کنڑا ہائی اسکول کی شالپوشی اور گلپوشی کے بعد ایک تقریب منعقد ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے جناب اسدسلیم نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے نعرہ لگوایاکہ ’’علم حاصل کرو، دنیا کی امامت کرو‘‘ محمدیوسف رحیم بیدر ی نے اپنے خطاب میں بتایاکہ ہمارے آباء واجداد نہایت ہی بہاد ر،اور جری تھے۔ وہ ہر حال میں زندگی کیاکرتے تھے۔ آج صورتحال الٹ گئی ہے۔ لڑکیاں کمار رہی ہیں اور لڑکے گھر وں میںکھانا بنانے ،اور بچوں کے پیمپر بدلنے میں لگے ہیں۔ طلبہ اورنوجوانوں کے لئے ہمارے یہاں شراب اور نشہ جیسی لت سے دور رہنے کاکوئی اہتمام نہیں ملتا۔ حد تو اس وقت ہوتی ہے جب چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوجوان بچے ہی نہیں گھرگرہستی چلانے والے شوہر اور بیوی بھی بچوں سمیت خودکشی کرلیتے ہیں۔ جب کہ بچے ہمارے ملک کامستقبل ہیں ، میری ان والدین اور بچوں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ زندگی گزاریں کیوں کہ زندگی بے حد خوبصورت ہوتی ہے۔آپ کے گھروالوں ہی کو نہیں ، اس سماج کو اور ملک کو آپ تمام کی ضرورت ہے۔جناب حیدرعلی سوداگرنے بھی کنڑی زبان میں خطاب کیااوربتایاکہ سرکاری اسکولوں میں داخلے بڑھانا ضروری ہے تب ہی سرکاری اسکول بچیں گے ،استادوں کی سرکاری نوکریاں بچ سکتی ہیں ورنہ نہیں۔گاؤں والوں کو بھی سرکاری اسکول کوبچانے کیلئے آگے آنا چاہیے۔ اس موقع پر مذکورہ تمام اردو وکنڑا مدارس کے صدرمعلم اور مددگار معلم ومعلمات موجودتھیں۔ طلبہ نے یاران ِا دب اور عائشہ جیوتی کا اجتماعی طورپر شکریہ اداکیا۔ اس کے بعد راج گیرا دیہات کے سرکاری اردو اورکنڑا میڈیم اسکولوں میں کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ دونوں اسکولوں میں صدرمعلم اور ماتحت معلمین کی جانب سے شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ تینوں افراد کاپرتپاک استقبال کیاگیا۔ طلبہ نے کاپیوں کی تقسیم کے لئے شکریہ اداکیا۔جب کہ سرکاری اردو اسکول میں تینوں افراد کے لئے ریفرشمنٹ کا بھی اہتمام دیکھنے کوملا۔ بعدازاں بھنگور کے کنڑا ہائی اسکول ، اردو اور کنڑا ہائیرپرائمری اسکول میں ٹواِن ون کاپیوں کی تقسیم عمل میں آئی،مذکورہ تینوں افراد کے ساتھ یہاں عبدالقدیر لشکری بھی موجورہے۔ جناب میرؔبیدری نے بھنگور کے طلبہ کے لئے لکھی گئی نظم طلبہ کے سامنے پیش کی ۔بھنگورکے بعد مرکندہ سرکاری کنڑا Hrpsمیں کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ بعدازاں سرکاری اردو ہائی اسکول RMSA، اور سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول RMSAمرکندہ میں یاران ِا دب اور عائشہ جیوتی کے ذمہ داران کی آمد پراسکول ہی کے احاطہ میں ایک خوبصورت تقریب منعقد ہوئی۔خصوصاً طالبات کامنظم طورپر بیٹھنا مہمانوں کو متاثر کرگیا۔ اس تقریب کے مرکزی مہمان جناب حیدرعلی سوداگر ای سی او تھے۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے شاعر وادیب جناب محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے کہاکہ ’’اپنے اساتذہ سے استفادہ کرنے والے طلبہ ہی بہتر زندگی گزار پاتے ہیں۔ ترقی کرنے والے ہونہار طلبہ کو اپناگاؤں اور اپنے رشتہ دار اوردوست احباب یادرہتے ہیں۔ مرکندہ وہ گاؤں ہے جہاں کی ایک شاعرہ ریحانہ بیگم ریحانہ ؔ نے کافی نام کمایا ۔بیدر میں رہتی تھیں۔ کورونا کے دوران وہ فوت ہوگئیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائے ‘‘موصوف نے ہائی اسکول پڑھنے کے بعد کالج پہنچ کر کالج کی تعلیم کو سنجیدگی سے لینے کی تلقین کرتے ہوئے طلبہ سے کہاکہ ’’آپ کامستقبل آپ کے ہاتھ ہے۔ سنجیدگی سے علم کا حصول آدمی کو انسان بناتاہے۔ یہ بھی درست ہے کہ آج مسلمان غزہ میں مارے جارہے ہیں ،دنیا کے دیگر ممالک میں ان کازوال جیسامنظر ہے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام دنیا کی ہر بڑی اورہر چھوٹی عمارت میں پہنچ کررہے گا۔ گویا مسلمانوں کوخوشخبری ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لئے آیاہے ۔اوروہ ایک دن پوری دنیا پر غالب ہوکر رہے گا۔ انھوں نے اپناکلام ترنم سے پیش کیا۔ ان کے کلام کاطلبہ وطالبات نے تالیاں بجاکر خیرمقدم کیااور پسند کیا۔جناب حیدرعلی سوداگر ای سی او نے مرکندہ اردو اسکول ہائیرپرائمری اور ہائی اسکول کے ٹیچرس کی محنت کو سراہتے ہوئے ہرایک کانام لے کر کہاکہ مجھے یقین ہے کہ آپ تمام اساتذہ کی محنت اور منصوبہ بندی کی بدولت مرکندا اردوہائی اسکول کے طلبہ ساری ریاست میں اول نمبر پر آئیں گے۔ جناب حیدرعلی نے یوسف رحیم اور اسدسلیم کے کام کوسراہا۔ خصوصیت کے ساتھ وظیفہ یاب صدرمدرس جناب اسدسلیم کی مسلسل کاوشوں کوسراہاکہ وظیفہ کے بعد وہ گھر میں نہیں بیٹھے بلکہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی ترقی میںدن رات لگے ہوئے ہیں۔ مہمانوں کے علاوہ اردو صحافی جناب عبدالقدیر لشکری کابھی اسکول کی جانب سے استقبال پھولوں کے ضخیم ہاروں سے کیاگیا۔ طلبہ وطالبات نے قرأت کلام پاک ، حمد اور نعت پیش کی۔ جب کہ تقریب کی کارروائی ادب سے بھرپور لب ولہجے میں محترمہ بلقیس فاطمہ مدرگارمعلمہ نے چلائی۔ تقریب کی صدارت محترمہ روبینہ نازنین صدرمعلمہ سرکاری اردو ہائی اسکول RMSAمرکندانے کی اور ان ہی کے خطاب کے بعد تقریب اپنے اختتام کوپہنچی۔ تمام طلبہ وطالبات میں کاپیاں تقسیم ہوئیں جنہیں پاکروہ نہایت ہی خوش تھے۔مرکندا تشریف لانے پر طالبات نے شاعرمحترم میرؔبیدری کاعلیحدہ سے شکریہ اداکیا۔ ویسے یہاں پہنچ کر پتہ چلاکہ سرکاری اردو ہائی اسکول RMSA مرکندہ میں گذشتہ کئی سال سے مستقل صدرمعلم ؍ صدرمعلمہ نہ ہونے سے طلبہ وطالبات کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے۔ ٹیچرس کی کمی کا بھی شکویٰ سامنے آیا۔عبدالقدیرلشکری نے تیقن دیاکہ وہ رکن اسمبلی ڈاکٹر شیلنڈر بیلداڑے سے اس گاؤں کے ہائی اسکول کیلئے مستقل صدرمعلم اورتمام ٹیچرس کی تعیناتی کے لئے صحافتی نمائندگی کریں گے۔