چراغ جلتا رہا…

چراغ جلتا رہا…

ازقلم:سیما شکور(حیدر آباد)

 

چراغ جلتا رہا ،بس جلتا ہی رہا،روشنی تاریکی کو شکست دیتی رہی…لیکن چراغ کبھی دل کی تاریک راہوں میں اجالانہیں بکھیرسکا موسم آتے جاتے رہے۔ وقت یونہی گزرتارہا، دل کی راہیں اندھیری ہی رہیں، معمولی سی کرن بھی دل کی گلیوں تک نہ پہنچ سکی، بظاہر مضبوط دکھائی دینے والا وجود اس قدر ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہے کہ اب سانس لینا بھی دشوار ہے۔ چراغ جلتا رہا، جلتا رہا… لیکن روح کی اندھیری وادیوں کو منورنہ کرسکا جس طرح بے نور آنکھوں کے لئے چراغ کی روشنی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ چراغ ہر طرف اجالا تو بکھیر سکتا ہے لیکن دل کی اداس اور ویران گزرگاہوں کو روشن نہیں کرسکتا۔ کبھی کبھی ہمارا حد سے زیادہ حساس ہونا بھی ہمارے لیے مشکلات کھڑی کردیتا ہے۔ حساس لوگ ہمیشہ لوگوں سے دھوکے کھاتے ہیں۔چونکہ حساس لوگوں میں منافقت نہیں ہوتی اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ سامنے والا جیسا دکھائی دے رہا ہے حقیقتاً وہ ویسا ہی ہے۔ جب وقت انہیں بے نقاب کردیتا ہے تو حساس لوگ اس تلخ حقیقت کو جان کر بکھر جاتے ہیں۔ جب متواتر دھوکے ملتے رہیںتو پھر انسان احتیاط کرنے لگتا ہے۔ لوگوں سے ملنا جلنا بہت کم کردیتا ہے۔اس لیے کہ اس قدر ٹھیس لگ چکی ہوتی ہے کہ اعتماد ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ تنہائی اچھی لگنے لگتی ہے۔ لوگ اس قدر پرفریب ہیںکہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنے ترکش میں کتنے تیر لیے پھررہے ہیں۔ لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا اور پھر اجنبی بن جانا ایسے لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے۔ مسلسل ٹھوکر پہ ٹھوکر جب لگتی ہے تو لاکھوں چراغ مل کر بھی دل کی راہوں کو جگمگا نہیں سکتے۔ بھروسہ جب ٹوٹتا ہے تو پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ اصل خوشی دل کی خوشی ہوتی ہے، جو سب کو نصیب نہیں ہوتی۔
اپنی آہوں اورسسکیوں کو دل کے نہاں خانوں میں دفن کردینا ہی بہتر ہے۔ منافق لوگوں سے دور رہنا بہتر ہے۔ منافق لوگوں سے دوستی کے بجائے تنہا رہنا زیادہ بہتر ہے۔ منافق لوگ بے حد زہریلے ہوتے ہیں،وہ بے وفا ہوتے ہیں۔ آپ کو مشکل میںدیکھ کر دور ہٹ جاتے ہیں۔ قول وفعل میں تضاد رکھنے والے لوگوں سے دور ہونے سے کم از کم آپ مزید دکھ اٹھانے سے بچ جائیںگے۔ ایک کے بعد ایک بھروسہ اور مان ٹوٹتا چلا جائے تو پھر لاکھوںفاصلہ رکھو ہر کسی سے کہ دکھوں کا بوجھ مزید نہ بڑھے سوائے اللہ کے کسی سے امید نہ لگائو ، کسی کے لئے کچھ کرسکتے ہوتو کرو مگر ذرا فاصلے رکھ کر ملو کیونکہ سراب ایک تلخ حقیقت ہے۔ سہارے تلاش نہ کرو، سہارا ضرور بن جائو، ٹوٹے پھوٹے لوگوں کے چہرے کبھی بے رونق نہیںہوتے، ایک لوسی آنکھوں میںجلتی دکھائی دیتی ہے بلا کی کشش اور روشنی چہرے پر دکھائی دیتی ہے لیکن… دل کی ویرانی چہرے کی روشنی کو کم نہیں کرسکتی۔صحرا نے کب کہا کہ میں پیاسا ہوں۔ چاند نے کب کہا کہ میں تنہا ہوں، گلابوںنے کب کہا کہ ان کی خوبصورتی مٹ جانے والی ہے اوروہ پتی پتی ہوکر بکھر جانے والے ہیں،دل میں اکثر یہ خیال تو آتا ہے کہ کاش اتنی حساسیت میرے وجود میں نہ ہوتی، میں بھی اوروں کی طرح کاش ایک پتھر ہوتی لیکن پھر …فوراً ہی دل سرزنش کردیتا ہے کہ پتھر بن کر جی لینا بھی کیا جینا ہے۔ آج کل کسی کو اپنا سمجھنے کی سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ لوگ اگرشہد کی طرح میٹھے ہوجائیں تو محتاط ہونا ضروری ہے۔اگر محتاط نہ رہے توپھر ایک اور زخم کھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دریا کی طرح خاموش رہنا سیکھئے دریابہت گہرا ہوتا ہے اور اتنا ہی خاموش۔ آنکھوں کی گہرائیوں میں ستاروں کو چھپا کر رکھیے اور ایک دلکش سی مسکان لبوں پہ سجا کر رکھیے۔ دل میں کتنے ہی طوفان پر زور نہ ہوجائیں کہیں اپنی ہمتوں کو جواں رکھیے نہ ٹوٹ کے برسیں آنکھوں سے ساون، ساون کو دل میں ہی برسنے دیجئے۔ آنکھوں سے نہ چھلکنے پائیں آنسو کہیں، دل کی مٹی پہ ہی برس جانے دو ان کو ، دل کی مٹی کو نم رہنے دو، ہمتوں کو جلا ملتی رہے گی۔ آنکھیں مسکرائیں گی اور غم ہار جائیںگے۔ تمہارے دل کے زخموں کو نہ کوئی جان پائے گا۔ راکھ بھی ہوجائے دل تو کیا ہوجائے گا…ہاں راکھ بھی ہوجائے دل تو کیا ہوجائے گا اس دنیا کے اطوار کہاں بدلیں گے۔ اس دنیا کے انداز کہاں بدلیںگے۔ پانی سے چراغ کب جلتے ہیں۔ شعلوں میں شبنم کہاں پلتی ہے۔ اپنے دل کو ذرا سمجھائو تم صحرا میں بارش کہاں ہوتی ہے…صحرا میںتو جلتے ہیں فقط ریت کے ذرے، ان ریت کے زروں کی قسمت میں کہاں لکھا ہے شبنمی ہوجانا، ان کو تو جلنا ہے بس جلتے ہی جانا ہے،ہاں! بس جلتے ہی جانا ہے۔
درد کو مہکنے دو، قرطاس بھی مہک جائیں گے، لفظ بھیگ جائیںگے، بھیگے بھیگے لفظوں کو پڑھیں گے جب پڑھنے والے تواشک آنکھوں سے گرجائیںگے…عارض کو بھگو جائیں گے۔ میں نے قطرہ قطرہ درد کو سمیٹا ہے، اس طرح کہ سمندر ہوگیا ہے سارا وجود … اس سمندر میں جو طوفان اٹھتے ہیں ان کو نہیں دیکھ پاتا کوئی بشر…وہ آنکھ کسی کے پاس ہے ہی نہیں، وہ نظر گرہوتی تو پھر بات ہی کیاتھی، بات ہی کیاتھی،آنکھوں کی زبان کو جو نہیںسمجھ پاتے وہ لفظوں کو کیا سمجھ پائیںگے… لفظوں کو شرمندہ نہ کرو خاموش ہی رہو، خاموش سے دکھ جو پلتے ہیں انہیں پلنے دو… کچھ کہہ کر اپنی توقیر نہ گرائو… نہ رسوا کرو لفظوں کو… اس طرح عزت نفس پہ چوٹ پڑتی ہے جو تمہارے ان کہے لفظوں کو نہ سمجھ سکے وہ کبھی تمہارا خیرخواہ نہیں ہوسکتا ، وہ کبھی تمہارا اپنا نہیں ہوسکتا۔ جو تمہاری تکلیف کو نہ سمجھ سکے اس سے کیسا رشتہ، کیسا ناطہ، توڑ ڈالو ایسے ہر رشتے کو جس سے ذہنی اذیت ہوتی ہو۔رشتے احساس سے جڑے ہوتے ہیں جب احساس ہی نہیں باقی تو پھر کیسا رشتہ کیسا ناطہ۔ ایسے رشتے مت بنائیے جو صرف وقت گزاری کے لیے ہوں، یہ آپ کے خلوص کی توہین ہے۔
چراغ جلتا رہا، بس جلتا رہا… طوفان پر طوفان آتے چلے گئے مگر میرے چہرے پر وہی سکون رہا… کبھی مجھ پر دکھ اتنا غالب نہ آسکا کہ مجھے توڑ کر رکھ دے۔ اندر ہی اندر سے ٹوٹ جائو تو کوئی بات نہیں۔ کبھی اس طرح نہ ٹوٹنا کہ تمہارا چہرہ سب کچھ عیاں کردے۔ ساتھ ساتھ چلنے والے بھی اکثر ساتھ ساتھ نہیں ہوتے، پھر ایسے لوگوں سے کیا شکوہ۔ جو ہمارے کبھی اپنے ہی نہ تھے۔ دکھ آنکھوں سے قطرہ قطرہ بہنے لگے تو سمجھ جانا کہ اب سنبھلنے کا وقت ہے۔ راستے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں اکیلے ہی سفر کرلینا ،کتنی ہی بھیڑ ہو تمہارے آس پاس اپنائیت کی تلاش مت کرنا، اپنائیت کہاں واقعی میں اپنائیت ہوتی ہے زیادہ تر تو صرف خودغرضی ہوتی ہے۔ ذرا سمجھا لینا دل کو کہ سنبھل جائے ورنہ بھروسے کا بار بارٹوٹنا تمہیںتوڑ کر ریزہ ریزہ کردے گا۔ اتنی بار ٹوٹا ہے بھروسہ کہ اب بھروسے کے نام سے ہی خوف آتا ہے کسی کو اپنا کہنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ تم اپنے آس پاس بڑی بڑی فصیلیں کھڑی کردو اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھ لو، تاکہ تمہارے بھروسے کا قتل نہ ہوسکے۔ محدود کرلو اپنی زندگی کو کہ بار بار مرنے سے بچ جائوگے۔تم کسی کا اصلی چہرہ دیکھوگے تو ڈر جائو گے، لوگ اپنے مطلب کے حساب سے روپ بدلتے ہیں۔ اپنائیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں اس لیے کہ تمہارا اعتماد حاصل کرسکیں پھر تمہیں استعمال کرکے اجنبی بن جاتے ہیں جیسے کبھی واسطہ ہی نہ تھا… اس لیے دیواروں سے کہہ لینا اپنے دل کی باتیں، ہمنوا بنا لینا اپنی تنہائیوں کو ، مگر کبھی کسی کو اپنا سمجھنے کی بھول مت کرنا، بعد میں رونے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی سنبھل جائیںہم۔بھروسہ کانچ کے برتن کی طرح ہوتا ہے ایک بار ٹوٹ گیاتو پھر کبھی نہیں جڑتا۔ جتنے بھی غم کے پہاڑ ہوں کبھی مت گھبرانا، خود سے دل کی بات کرلیناچٹان کی طرح مضبوط رہنا ، کبھی اپنے آپ کو بکھرنے مت دینا۔ تنہائیوں میں بیشک بکھر جانا۔ آنسو بہالینا لیکن کبھی کسی کے سامنے کبھی مت بکھرنا کہ اس دنیا کو کسی کے رونے دھونے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے نہ ہی کسی پر تمہارے آنسوئوں کا اثر ہونا ہے۔ مسکرائو کہ مسکراہٹ دکھوں کو شکست دینے کا ہنر رکھتی ہے۔ بہادر لوگ کبھی کسی کے سامنے اپنی کمزوری کا رونانہیں روتے۔ دکھ ان کو توڑ ضرور دیتے ہیں لیکن صرف اندر سے باہر سے وہ ناقابل تسخیر چٹان کی طرح مضبوط ہوتے ہیں۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے