ملک وملت کے تقاضوں کے تحت نئے اقدامات کی ضرورت ہے :مولانا غیاث احمد رشادی
شہر تانڈہ کے عظیم الشان اجلاس عام میں مدرسہ تجوید القرآن کے طالب علم کی تہنیت
تانڈہ،8ستمبر.محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی معاون شعبہ نشر و اشاعت کے پریس نوٹ کے بموجب تانڈہ بادلی ضلع رام پور اتر پردیش کے زبیدہ میرج ہال جھنڈاچوک میں حضرت مولانا مفتی محمود عالم صاحب مظاہری مفتی مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور و امام شہر تانڈہ کی صدارت میں ایک عظیم الشان اجلاس عام عصر حاضر میں ملت کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں کا انعقاد میں آیا حافظ محمد شکیل قریشی رحمانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اس کے بعد حضرت مولانا نذیر احمد رشادی صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ تانڈہ شہر آ کر اجنبیت کا احساس ختم ہو گیا ہے یہاں علماء اکرام اور احباب نے جس محبت سے والہانہ استقبال کیا اور ملاقاتیں کی اور مہمان نوازی کی اس سے بڑی خوشی ہوئی مولانا نے کہا کہ ہم آپ کے پاس ایک فکر لے کر آئے ہیں جو وقت کا تقاضہ ہے اس کے لیے حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب ہندوستان بھر کے دورے کر رہے ہیں اور علماء و عوام کو منبر و محراب تحریک کا تعارف کرواکر کر اس کے مشن کو عام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں
،اس اجلاس عام سے حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب نے فرمایا کہ ہر زمانے کے تقاضے اور ضروریات علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں تاریخ اٹھا کر دیکھیے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس وقت جو حالات بدلے ہیں وہ بھی بدل جائیں گے مسلمان ملک کے ماحول کو دیکھتے ہوئے مایوس نہ ہوں علماء اکرام ملک کے حالات بدل سکتے ہیں انقلاب لا سکتے ہیں ملک میں جو فضا بنائی جا رہی ہے اس کے خلاف علماء کرام کو قوم کی رہبری کرنی ہے یہاں کے اکابرین نے سارے ملک کے لیے کام کیا تھا اب آپ کو دوبارہ وہی کام کرنا ہے اب حدود سے آگے بڑھ کر ملک و ملت کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک ملت کے تقاضوں کے تحت کام کرنا ہے نئے اقدامات کی ضرورت ہے اللہ آپ سب سے بے مثال کام لے گا پورے ملک میں 70 فیصد افراد دین سے دور ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کرنا ہمارے لیے جرم ہوگا ان 70 فیصد افراد تک دین پہنچانا انہیں دیندار بنانا ہماری ذمہ داری ہے اس کے علاوہ ائمہ کرام کو اپنی امامت کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا انہیں صرف مسجد کے امام نہیں بلکہ قوم کے امام بننا ہوگا اس کے ساتھ ہی خواتین کو دین دار بنانے کی فکر کریں ان کو تعلیم دیں نوجوان جو نکڑوں اور ہوٹلوں میں وقت برباد کر رہے ہیں ان سے ملاقاتیں کریں ان کی اصلاح کی کوشش کریں انشاء اللہ حالات سدھر جائیں گے
حضرت مولانا مفتی محمود عالم مظاہری امام شہر تانڈا نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب نے جو خطوط اور نقوش پیش کیے ہیں ان پر عمل کریں گے تو انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا اس وقت ملک میں جو بے دینی کا ماحول ہے اور جو سازشیں ہو رہی ہیں علماء حالات سے باخبر ہو کر جو نظام آپ کے سامنے مولانا نے پیش کیا ہے اس پر عمل شروع کریں اگر ایسا نہ کریں تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے مولانا نے دعا فرمائی کہ اس فکر اور مقصد کو حرز جاں بنا کر درد دل سے کام کرنے کی اللہ توفیق عطا فرمائے اس عظیم الشان اجلاس عام میں شہر تانڈا کے علماء کرام کی کثیر تعداد شریک تھی اور اکابر علماء کرام بھی موجود تھے
اس پرنور ماحول میں مدرسہ عربیہ تجوید القرآن گلبرگہ کے طالب علم محمد زید ولد قاری خالد مصطفی صاحب کی تکمیل حفظ قرآن پر شال پوشی اور تہنیت پیش کی گئی قاری خالد مصطفی صاحب مدرسہ تجوید القرآن کے استاد بھی ہیں اور شہر تانڈہ کے شہری بھی ہیں محمد زید کی تہنیت کے ساتھ ساتھ ان کے والد قاری خالد مصطفی صاحب اور نانا حضرت محمد اسلم صاحب مظاہری بانی و مہتمم دارالعلوم تانڈہ سمیت اس عظیم الشان اجلاس کے داعی و محرک حافظ و قاری عبدالرحمن صاحب قاسمی بانی جامعہ مسیح الابرار اور حضرت مولانامحمود عالم صاحب مظاہری امام شہر تانڈا کو بھی تہنیت پیش کی گئی یہ حسین منظر اور یادگار لمحات نہ صرف محمد زید اور ان کے والد قاری خالد مصطفی کے لیے قابل فخر تھے بلکہ مدرسہ تجوید القرآن کے لیے بھی خوشی کا باعث بنے اس موقع پر مدرسہ کے 10 سے زائد اساتذہ کرام بھی موجود تھے محمد زید کی اس شاندار تہنیت پر تمام اساتذہ کرام تمام علماء کرام اور تمام حاضرین نے مبارک باد دی اور دعاؤں سے نوازا۔اجلاس کے آخر میں حافظ و قاری عبدالرحمن صاحب قاسمی کو منبر و محراب فاوندیشن شہر تانڈہ کا کنوینر منتخب کیا گیا ۔اس اجلاس میں کژیر تعداد میں علماء کرام حفاظ عظام اور ائم کرام سمیت عمائدین شہر نے بھی شرکت کی۔