نشو آزاد کا پیغام: نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
نشو آزاد کے والد سنجے آزاد پر حملہ کرنے والے درندے سوتنتر بھاردواج کی رسوا کن گرفتاری درحقیقت مودی کے ساتھ ساتھ یوگی کی بھی ذلت و پشیمانی ہے۔ سوتنتر بھاردواج نے ایک ویڈیو میں ڈینگ مار کر اپنے پیروں پر ہی نہیں بلکہ سرکار کی گردن پر کلہاڑی چلا دی ۔ نشو آزاد کا پورا خاندان مشہور دلت رہنما چندر شیکھر آزاد کا ایسا مداح ہے کہ اس نے بھی اپنے نام کے ساتھ آزاد لکھنا شروع کردیا ہے۔ اس کے باوجود جب چندر شیکھر آزاد سے نشو کی توقعات پوری نہیں ہوئیں تو اس نے اپنے رہنما کو مخاطب کرکےپوچھا کہ وہ اس کی مدد کو کیوں نہیں آئے؟ اس سے آگے بڑھ یزاری سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کل کو اس کی یا والد کی موت ہوجائے تو اپنی سیاست چمکانے کے لیے نہ آئیں ۔ اس کے بعد اس نے راہل گاندھی سے مدد کی گہار لگائی کیونکہ ایف آئی آر تک درج نہیں ہورہی تھی ۔ نشو آزاد نے یہ اقدام اس لیے کیا کیونکہ راہل گاندھی نے پچھلے دنوں جس طرح ۶؍ گھنٹے مظاہرہ کرکے پیلیٹ گن سے زخمی ہونے والے ساحل کی ایف آئی درج کروائی اس سے ملک کے نوجوانوں میں امید کی ایک کرن اجاگر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نشو آزاد ان کی جانب رجوع کرتی ہیں تو وہ کہتے ہیں ’’ گھبرانے کی ضرورت نہیں ‘‘، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں الزام عائد کیا کہ نشو آزاد کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ اپنے برادری کے لوگوں اور طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔
حزب اختلاف کے رہنما نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے دہلی پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ ایک جانب طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک دلت لڑکی کے والد سنجے آزاد کو مبینہ طور پر زخمی کرنے والا سوتنتربھاردواج آزاد گھوم رہا ہے۔راہل گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہ مبینہ حملہ آور کے خلاف کارروائی کب کی جائے گی؟ راہل گاندھی کے جواب: ’’نشو، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں‘‘ میں امید کی ایک کرن ہے۔ سچ تو یہ ہے نشو آزاد اور شاہین خان نے یہ ثابت کردیا کہ وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں بلکہ لڑنے والوں میں سے ہیں اس لیے کہ کامیابی و کامرانی اقتدار کے سائے میں ڈینگ مارنے والے سوتنتر بھاردواج جیسے بزدلوں کا نہیں بلکہ نشو اور شاہین جیسے دلیروں کے قدم چومتی ہے۔ راہل گاندھی کے اس بیان کا حزب اختلاف پر بھی یہ اثر ہوا کہ اگلے دن چندر شیکھر راون سمیت حزب اختلاف کی ساری جماعتیں نشو آزاد کا ایف آئی آر درج کرانے کی پارلیمنٹ اسٹریٹ کے پولیس تھا نے پہنچ گئی۔ سرکار نے گھبرا کر راہل کے گھر کو گھیر لیا تاکہ کہیں وہ ایف آئی آر درج کروانے کے پہلے کی طرح میدان میں نہ اتر جائیں اور گھبراہٹ میں بی جے پی نے سوتنتر بھاردواج کو اتر پردیش سے گرفتار کرلیا۔ کیونکہ بقول امیر مینائی؎
قریب ہے یارو روز محشر، چھُپے گا کُشتوں کا قتل کیونکر؟
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا
نشو آزاد کے معاملے میں دہلی کی ریکھا گپتا اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ کسی خاتون کے وزیر اعلیٰ بن جانے سے خواتین طاقتور ہوجاتی ہیں اور ان پر مظالم کم ہوجاتے ہیں بلکہ فی الحال تو اس میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ شاہین اور نفیسہ کے علاوہ د ارالحکومت دہلی میں رہنے والی دلت سماجی کارکن نشو آزاد کا واقعہ بھی اتفاق سے اسی دن منظر عام پر آگیا کیونکہ انہوں نے کاکرچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر زخمی ہونے والے ایک شخص کی بیٹی نے انصاف کی خاطر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی سے مدد طلب کرلی ۔ جمعرات ۳؍ستمبر کو شاہین خان کے ساتھ ساتھ نشو آزاد کی ویڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سوتنتر بھاردواج نامی ایک ایسے ہندوتوا نواز کی ویڈیو سامنے آئی ہے کہ جس میں اس نے از خود نشو کے والد سنجے آزاد پر حملہ کرنے کی بات تسلیم کرلی ہے۔ اس لیے انہوں نے اس شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا ۔ ا پنے پوڈ کاسٹ میں بھاردواج یہ ڈینگ مارتا ہے کہ پولیس نے اسے گرفتار کرنے کا ناٹک تو کیا مگر وہ باہر گھومتا رہا اور اگلے دن دہلی کے وزیر انصاف کپل مشرا کے فون نے ا سے آزاد کروادیا۔
بھاردواج نامی بدمعاش ویڈیو میں کہتا ہے کہ اس نے نشو کے والدکا سر پھوڑ دیا ، کئی ٹانکے لگے مگر اس کا بال بیکہ نہیں ہوا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی اس کے بڑے بھائی ہیں۔یعنی مودی کے چھوٹے بھائیوں کو ملک میں جبرو ظلم کی کھلی چھوٹ ہے ۔ اس معاملے میں راہل گاندھی کے علاوہ اروند کیجریوال اور ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا مگر مودی جی کی پر اسرا خاموشی ان کے جرم کا اعتراف ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے نشو آزاد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد وہ خود ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے ملے تھے اور مبینہ طور پر تشدد میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا لیکن اب تو وہ الزام اعتراف جرم میں بدل گیا ہے۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بھی اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ویڈیو میں حکومت پر سخت تنقید کی۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ کیا آزادی کے مجاہدین نے ایسی صورتحال کے لیے قربانیاں دی تھیں جہاں مبینہ طور پر طاقتور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔
دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 23 جولائی کو سی جے پی کے احتجاج سے متعلق پارلیمنٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس معاملے میں سورج کمار اور سوتنتر بھاردواج کو موقع سے حراست میں لیا گیا تھا اور قانون کے مطابق انہیں نوٹس جاری کیے گئے اور دونوں افراد سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ۔دہلی پولیس نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جلد ہی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آزاد کیوں گھوم رہے ہیں؟ دہلی پولیس نے سیاسی دباؤ یا مداخلت کے الزامات کو تومسترد کردیالیکن اگر بھاردواج نے پولیس کی بدنامی کی تو اس پر نیا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنا چاہیے ؟ پولیس پر تہمت لگانےوالے پر سخت کارروائی ہونی چاہیےمگر لیکن وزیر اعظم چھوٹے بھائی پر ہاتھ ڈالنے کا خطرہ کون مول لے گا؟ اس معاملےاہم پہلو یہ ہے کہ دہلی میں نظم نسق کے ذمہ دار وزیر داخلہ،خاتون وزیر اعلیٰ اور اٹلی جاکر میلونی کو ٹافی کھلانے والے وزیر اعظم کو چھوڑ کرنشو آزاد نے راہل گاندھی کے سامنے گہار کیوں لگائی ؟اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ظالموں کی پشت پناہی کرنے والی ڈبل انجن سرکار سے اس ملک کے نوجوان مایوس ہوچکے ہیں مگر انہیں حزب اختلاف سے امید ہے ۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے موجودہ سرکار کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے دو بڑے جھٹکے دئیے۔ان میں پہلا وزیر تعلیم دھرمیندر پر دھان کا استعفیٰ تھا ۔ وہ اس لیے اہم تھا کیونکہ موصوف احتجاج کرنے والے طلبا کو دہشت گرد قرار دے چکے تھے ۔ اس کے بعد استعفیٰ دینے کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ یاتو وزیر تعلیم نے کھلے عام جھوٹ بولا یا پھرموجودہ سرکار نے خود اپنے دارالخلافہ میں دہشت گردی کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور دونوں باتیں درست ہیں ۔ ملک کی اکثریت فی الحال بی جے پی کو بھارتیہ جھوٹی پارٹی سمجھتی ہے یہ اور بات ہے کہ ایسا سمجھنے والوں کی بھی بہت بڑی تعداد گوں ناگوں مفادات کی خاطرانتخاب میں کمل پر مہر لگادیتی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا اور نوجوان دہشت گرد تو ہر گز نہیں تھے مگر انہوں نے مودی سرکار کو بری طرح دہشت زدہ کردیا کیونکہ یہ رعونت زدہ لوگ آسانی سے استعفیٰ لینے والے نہیں ہیں۔ اس ذلت و رسوائی کے بعد سرکارحسبِ عادت اپنے وعدوں سے مکر کر مظاہرین کو ہراساں کرنے لگی۔ ان جھوٹے مقدمات کے خلاف جب نئے مظاہرے کی دھمکی آئی تووہ پھرسے ڈر گئے اورعدالتِ عظمیٰ میں اپنے تھوک کوچاٹ کرایف آئی آر ختم کرنے اجازت طلب کرنے لگے۔ اس طرح ایوان پارلیمان کے بعد عدالت میں ذلیل ہونے کے باوجود ان لوگوں نے کوئی سبق نہیں لیا ورنہ شاہین خان اور نشو آزاد پر زیادتی نہیں ہوتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ ’ہم نہیں سدھریں گے چاہے ذلیل و خوار ہو کر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑ ے ‘یہ احمق اس شعر کی مصداق ہیں؎
کھڑا سرہانے یہ کہہ رہا تھا سروش شانے ہلا ہلا کر
اٹھ اے قیامت کے سونے والے میں تھک گیا ہوں جگا جگا کر