آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ سے برطانیہ پہنچے تو وہاں بھی مخالفت نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ نیویارک میں ان کو شیئر کے میئر ظہران ممدانی کی مخالفت کا سامنا پڑا تو برطانیہ میں ان کو روکنے کے لیے لندن کے میئر صادق خان سے گہار لگائی گئی ۔ موہن بھاگوت اس موقع پر یہ تو سچ ہی رہے ہوں گے کہ آخر یہ مسلمان ان کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑت اور ساتھ سمندر پار اتنے اہم عہدوں پر کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر ایک ہندوستان کے رہنے والے ہندو کو فائز ہونے کا موقع ملا لیکن ان کی قیادت میں قدامت پسند پارٹی اپنی تاریخ کی سب سے بھیانک شکست سے دوچار ہوگئی ۔ اس طرح انہوں نے اپنے بعد ایشیائی امیدواروں کا دروازہ ایک طویل عرصے کے لیے بند کردیا۔ ویسے برطانیہ میں موہن بھاگوت کی مخالفت پاکستانی مسلمان نہیں بلکہ مقامی تنظیمیں اور حلقہ کررہے ہیں۔ اس شدید مخالفت میں بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔برطانوی لیبر رکنِ پارلیمنٹ نادیہ وٹوم نے حکومت کی پالیسی اور موہن بھاگوت کے دورے سےمنسلک خطرات کے تخمینے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
وطن عزیز میں بی جے پی والے اپنے علاوہ ہر کسی کی آمدنی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر آر ایس ایس کوئی حساب کتاب نہیں رکھتی اور یہ لوگ اس سے کبھی سوال نہیں کرتے۔ پرینک کھڑگے نے جب پہلی مرتبہ یہ سوال اٹھایا تو خود قانون سے اوپر سمجھنے والا سنگھ چراغ پا ہوگیا۔ اس نے رجسٹریشن کے خلاف یہ احمقانہ دلیل پیش کردی ہندو مذہب بھی رجسٹرڈ نہیں ہے حالانکہ کہاں ایک پانچ ہزار سال پرانا مذہب اور کہاں سوسال پرانی تنظیم ؟ ویسے امریکہ اور برطانیہ میں مقیم ہندوستانیوں کو موہن بھاگوت نے وہاں کے قانون سے وفاداری یعنی اس کی پاسداری کرنے کے لیے کہا مگر خود اپنے وطن میں وہ اپنے آپ کو کسی قانون و ضابطے کا پابند نہیں سمجھتی ۔ اس منافقت کے سبب دنیا میں سارے لوگ ان کی باتوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کوئی ان کے الفاظ پر بھروسا نہیں کرتا۔ امریکہ کے اندر موہن بھاگوت کی مخالفت صرف ظہران ممدانی اور آصف محمود نے نہیں بلکہ ہندوز فار ہیومن رائٹس نے بھی کی ۔ اس کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سراویا ت دیپلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’موہن بھاگوت ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ ایک انتہا پسند ہندو قوم پرست تحریک کی قیادت کرتے ہیں، جس نے اقلیتی برادریوں میں تشدد، اخراج اور خوف کو فروغ دیا ہے۔‘
سراویات دیپلی نے تو یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ’نیویارک کو آر ایس ایس کو ایسا پلیٹ فارم نہیں دینا چاہیے جہاں مذہبی قوم پرستی کو اتحاد کے طور پر نئی شکل میں پیش کیا جائے‘ ۔ ہندوستان کے اندر تو مودی سرکار آئے دن پابندی لگاتی رہتی ہے مگر چونکہ امریکہ کے اندر یہ ممکن نہیں تھا اس لیے دیپلی نے اعلان کیا تھا کہ و ہ سٹی ہال میں انڈیا کی حقیقی متنوع سوچ کے دفاع کے لیے جمع ہوں گے، جہاں کسی شخص کا مذہب یہ طے کرنے کی بنیاد نہ بنے کہ کون اس ملک کا حصہ ہے یا اقتدار پر کس کا حق ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور انڈین حکام کے خلاف پابندیوں پر غور کرے، جن میں موہن بھاگوت کو جاری کیا گیا ویزا منسوخ کرنا بھی شامل تھا۔ اس طرح یہ کہنا پڑے گا کہ موہن بھاگوت نے امریکہ جاکر ’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ‘۔موہن بھاگوت نے وزیر اعظم کےستمبر 2014 میں نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن کی سعی پر پانی پھیر دیا۔ اس وقت تقریباً 18,000؍ افراد سے خطاب کرتے ہوئے مودی نےپُرجوش انداز میں اعلان کیا تھاکہ ’میں آپ کے خوابوں کا انڈیا بناؤں گا۔‘12؍ سال کے بعد مودی نےخوابوں کا ایسا ہندوستان بنایا کہ اسی میڈیسن اسکوائر پر آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک کے خطاب عام کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بقول سیماب اکبر آبادی ؎
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت تمام تر عوامی مخالفت کے باوجود زیڈ پلس سرکاری تحفظ میں امریکہ گھوم آئے مگر آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سرکاری مخالفت کے سبب امریکہ نہیں جاسکے ۔سنگھ کے اشارے پر چلنے والی سرکار کے اس معاندانہ رویہ نے میڈیسن اسکوائر پر دئیے جانے والےموہن بھاگوت کے سارے بلند بانگ دعووں کی پول کھول دی ۔ اس نے بتا دیا کہ عام ہندوستانی کا ڈی این اے کثرت میں وحدت والا ہو نہ ہو سنگھ پریوار اور اس کی سرکار کا تو ہر گز نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موہن بھاگوت کے لیے تومودی سرکار سات سمندر پار جاکر سرخ قالین بچھا دیتی ہے مگر آندھرا پردیش کے منتخبہ وزیر اعلیٰ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں ۔ اترپردیش کے گنوار وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ اگر جاپان اور سنگا پور کے دورے پر جاسکتے ہیں تو ریونت ریڈی امریکہ کیوں نہیں جاسکتے؟ امسال فروری میں اگر یوگی آدتیہ ناتھ سنگاپور اور جاپان جا کر ریاست کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں تو ریونت ریڈی کوکیوں روکا جاتا ہے؟ اس لیے کہ مواقع اور امکانات تو یوپی سے کہیں زیادہ تلنگانہ میں ہیں ۔ یہ عجب تماشا ہے کہ سنگاپور جاکر یوگی گوگل کے کسی نامعلوم افسر سے تو مل سکتے ہیں مگر ریونت ریڈی امریکہ میں سند رپچائی سے ملاقات نہیں کرسکتے ؟
موہن بھاگوت نے نیویارک جاکر بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کا ڈی این اے ‘تنوع میں اتحاد’ کا حامل ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی سرکار کا ڈی این اے ہندوستانی نہیں ہے جو ریونت ریڈی کے تنوع کو برداشت نہیں کرسکا؟ مگر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل کو انہیں تاریخوں میں امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈا بھی جانے اجازت مل گئی۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل نے اگست 2026 میں امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کیا تاکہ جنوری 2027 میں ہونے والی "وائبرنٹ گجرات گلوبل سمٹ 2027” کے لیے عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور تکنیکی کمپنیوں کو مدعو کیا جاسکے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا اس کام کے لیے وزیر اعلیٰ کا خود قصد کرنا ضروری تھا ؟وہ اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ 17 اگست سے 26 اگست 2026 تک امریکہ و کینیڈامیں ٹورنٹو، سان فرانسسکو، واشنگٹن ڈی سی، اور نیویارک کی سیر کرتے رہے مگر میڈیا میں کوئی خبر تک نہیں بنی ۔سوال یہ ہے کہ اگربھوپندر پٹیل کا گوگل، مائیکرون ، اپلائیڈ مٹیریلز ، والمارٹ ، اور پرپلیکسٹی جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملنا گجرات کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے تو ریونت ریڈی کا ایسا کرنا تلنگانہ کے لیے کیوں نہیں؟ملک کے اندر سیمی کنڈکٹرز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ڈیٹا سینٹرزاورایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کا مرکز احمد آباد نہیں حیدر آباد ہے۔ ایسے میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کو روکنا عوام کی حق تلفی اور موہن بھاگوت کی دعوے کی تردید ہے۔ آر ایس ایس اور اس کے تحت چلنے والی مودی سرکار اگر عوامی نمائندوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کرپاتی تو مخالفین سے کیسے کرسکتی ہے؟
ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کا ایک مقصد مرکز کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت دنیا کی معروف یونیورسٹیز کو ہندوستان ، تلنگانہ اور حیدرآباد میں سرگرمیوں کے آغاز کی ترغیب دینا تھا ۔وہ مختلف یونیورسٹیز کے ساتھ ابتدائی مرحلہ کے مذاکرات مکمل ہوچکے تھے اور دنیا کی نامور آئی وی لیگ یونیورسٹیوں اور عالمی سطح کے تعلیمی اداروں سے معاہدات کا امکان تھا۔مرکزی حکومت کو کم ازکم ملک کی تعمیر اور نوجوانوں کے مستقبل کے معاملہ میں ہر کسی کو سیاست اور الیکشن سے بالاتر ہوکر سوچنا چاہئے ۔ملک کے نوجوان خصوصاً جین زی کو سوچنا چاہیے کہ ایک طرف ریونت ریڈی جیسا وزیر اعلیٰ برطانیہ میں آکسفورڈ ، کیمبرج ، لندن اسکول آف اکنامکس ، لندن بزنس اسکول ، یونیورسٹی آف لندن اور دیگر اداروں کا دورہ کرکےاسپورٹس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ کے شعبہ کے ماہرین سے ملاقات کرتا ہے اور دوسری جانب خودساختہ نظریاتی و ثقافتی تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ جاکر صنعت کاروں سےملاقات کرتے ہیں؟
ایک سوال یہ بھی ہے کہ موہن بھاگوت امریکہ یا برطانیہ کی کسی مشہور یونیورسٹی میں کیوں نہیں گئے؟ وہاں کے طلبہ سے بات چیت کیوں نہیں کی ؟ اس لیے کہ انہیں ڈر لگتا ہے یا نوجوانوں کے سوالات کا جواب ان کے پاس نہیں ہے ۔اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ موہن بھاگوت کے پاس توکوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔ وہ ریونت ریڈی کی طرح کسی صنعت کار کا کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکتے پھر بھی ان سے خفیہ میٹنگ کیوں کی؟ کیا یہ بیرونی چندہ جمع کرنے کی کوئی سازش تھی؟ کیا ایف سی آر آئی کا قانون اس چندے پر لاگوہوتا ہے؟ کیا وہ جئے شنکر کے الفاظ میں حکومت سے ان صنعتکاروں کی دلالی کریں گے؟ سلیکان ویلی کی معروف سرمایہ کار شخصیت آشا جڈیجا موٹوانی اگر نیویارک میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے اپنی ملاقات کا ذکر سوزیل میڈیا پرنہیں کرتیں تو لوگ سمجھتے کہ بیمار ہونے کے سبب موہن بھاگوت صرف ایک تقریر کرکے لوٹ آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ریونت ریڈی کو جو واقعی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے گئے تھے روکنا اور موہن بھاگوت کے لیے تمام سہولیات فراہم کرنا بتاتا ہے کہ سنگھ پریوار سمیت مودی سرکار کو صرف اورصرف اپنا ڈنکا پیٹنے میں دلچسپی ہے۔ اس سے زیادہ ان کو نہ کچھ آتا ہے اور نہ وہ کرسکتے ہیں۔ اپنی اس کمزوری کی پردہ داری کے لیے سنگھ پریوار چونکہ باہر چکنی چپڑی باتیں مگر ملک میں نفرت انگیزی کرتاہے اس لیے اس کی دونوں جگہ مخالفت ہوتی ہے۔