نیپال کا سیلاب: قدرتی آفت یا انسانی چشم پوشی کا نتیجہ؟

نیپال کا سیلاب: قدرتی آفت یا انسانی چشم پوشی کا نتیجہ؟

نیپال کا سیلاب: قدرتی آفت یا انسانی چشم پوشی کا نتیجہ؟

از قلم: محمد صادق
جامعہ دار الہدیٰ اسلامیہ، کیرالا

جب انسان اس حد تک مفاد پرست بن جاتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر تمام تر چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے اہداف کے حصول میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ وہ تمام حقائق سے کورا بن جاتا ہے، لیکن انسانیت نے جب بھی قدرت کے انتباہات کو نظر انداز کیا ہے یا ان سے چشم پوشی کی ہے، اس کا نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا کہ بڑے خمیازے بھگتنے پڑے ہیں۔ 26 اگست 2026 کو نیپال میں درپیش آنے والا سیلاب اسی چیز کی عکاسی کرتا ہے، جس میں سیکڑوں خواب چند لمحوں میں ملبے تلے دفن ہو گئے، بے شمار گودیں پل بھر میں ویران ہو گئیں اور ہزاروں بستیاں اس سیلاب کا شکار ہو گئیں ۔ اس تباہی نے صرف انسانوں کے گھر اور بستیاں ہی نہیں اجاڑیں، بلکہ بے زبان جانوروں کے مسکن بھی چھین لیے اور نیپال کی حسین وادیوں اور قدرتی حسن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ۔ نیپال کا یہ سیلاب محض قدرتی آفت نہیں، بلکہ انسانی چشم پوشی، ماحولیاتی غفلت اور بے قابو ترقی کے نتائج کی بھی ایک زندہ مثال ہے۔
نیپال دنیا بھر میں اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے نہایت حساس ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ بلند پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، تیز بہتی ندیاں، پگھلتے گلیشیئر اور دشوار گزار وادیاں; جہاں اسے سارے عالم میں قدرت کی خوبصورتی کا حسین امتزاج سمجھا جاتا ہے، وہیں اسے قدرتی آفات کا منبع بھی قرار دیا جاتا ہے، جہاں وقتاً فوقتاً مختلف قدرتی آفات آتی رہتی ہیں۔ 2024 کے سیلاب نے نیپال میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جبکہ 2026 کے اس سانحے نے ایک بار پھر ملک کو گہرے نقصان سے دوچار کر دیا
اس پُرالم سانحے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب 7,245 میٹر بلند لانگ ٹانگ لیرونگ چوٹی پر تقریباً 5,000 میٹر کی بلندی سے گلیشیئر اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا، تقریباً 1.5 کلومیٹر چوڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر نیچے جا گرا۔ یہ تودہ تقریباً 1,000 میٹر کی گہرائی میں جا کر اس شدت سے زمین سے ٹکرایا کہ اس کے پیدا کردہ ارتعاش کو عالمی زلزلہ پیما آلات نے 5.2 شدت کی زلزلہ نما لہروں کے طور پر ریکارڈ کیا۔ شدید رگڑ اور تصادم کے باعث برف بڑی تیزی سے پگھل کر بے پناہ پانی میں تبدیل ہوگئی، جو مٹی، ریت اور دیوہیکل چٹانوں کے ساتھ مل کر لِہڈے کھولا دریا میں جا داخل ہوئی۔ اس اچانک اور تباہ کن ریلے نے تقریباً 300 فٹ بلند پانی اور ملبے کی ایک خوفناک دیوار کی شکل اختیار کر لی، جو انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھی۔
یہ سانحہ چند لمحوں میں ایک وسیع تباہی میں بدل گیا۔ 1,200 سے 1,300 افراد جاں بحق، 5,000 لاپتا اور 100,000 بے گھر ہوگئے، جبکہ بھارتی وزارتِ خارجہ (MEA) مطابق، نیپال میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب کے بعد 275 بھارتی شہری تاحال لاپتا ہیں یا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ سیلاب اپنے ساتھ تقریباً 2.2 ملین ٹن ملبہ بہا لے گیا، جس نے آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو تہس نہس کر دیا۔
توانائی کے شعبے میں 14 پن بجلی منصوبے تباہ یا شدید متاثر ہوئے اور 431 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہوگئی، جبکہ 930 سے زائد کارکن لاپتا یا محصور ہوگئے۔ بیتراوتی کے تقریباً 90% گھر و بازار تباہ ہوئے اور تقریباً 100 کلومیٹر کے علاقے میں پل، سڑکیں اور شاہراہیں شدید متاثر ہوئیں۔
اس تباہی سے ہونے والا مجموعی مالی نقصان تقریباً 2.56 بلین امریکی ڈالر تک پہنچا، جس نے اسے نیپال کی حالیہ تاریخ کی انتہائی تباہ کن قدرتی آفات میں شامل کر دیا۔ مزید برآں، ملبے سے بننے والی عارضی جھیلوں اور دریاؤں کے بدلے ہوئے راستوں نے مستقبل میں مزید سیلاب کا خطرہ بھی پیدا کر دیا۔
اگرچہ تباہی کا آغاز ایک بڑے برفانی اور چٹانی تودے کے گرنے سے ہوا، لیکن بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے ایسے خطرناک حالات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نیز اگر عالمی درجہ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو صرف نیپال نہیں بلکہ سارا عالم تباہی کا آئینہ دیکھے گا۔ عالمی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا جا رہا ہے اور ماحولیات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے اور اس تیز رفتار سے بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے پیچھے سیکڑوں انسانی مفادات ہیں، جہاں جنگلات کا بے دریغ خاتمہ، تیز رفتار اور بے قابو صنعتی ترقی، بے ہنگم تعمیرات، پہاڑوں کی بے رحمانہ مسماری، دریائی اور سمندری نظام میں مداخلت، بے تحاشا کان کنی اور پیٹرولیم کا بے حساب استعمال اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال اور متعدد اقسام کے کیمیکلز کا استعمال، جو نہایت جان لیوا ہے، عام ہو چکی ہیںحیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ خطرات اب محض پیش گوئیاں نہیں رہے، بلکہ حقیقت بن کر سامنے آ چکے ہیں، لیکن عالمی ضمیر ابھی تک عملی بیداری کا ثبوت نہیں دے سکا۔ اگرچہ یہ سرگرمیاں وقتی طور پر انسان کے معاشی مفادات کو پورا کرتی ہیں، لیکن طویل مدت میں یہی اس کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں ۔ دنیا کا ماحول اس قدر بگڑ گیا ہے کہ آج کئی ترقی یافتہ شہروں میں سانس لینا بھی دشوار اور مشکل ہو گیا ہے۔
اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ آج انسان ترقی کے نام پر قدرت کے اصولوں سے جنگ چھیڑے ہوئے نظر آتا ہے۔ وہ مفادات کے شور اور ہجوم میں اس کی آواز کو دبا دیتا ہے، لیکن جب قدرت اپنی شدت کا اظہار کرتی ہے تو تمام انسانی تدبیریں، منصوبے اور تعمیرات بیکار اور ناکام ثابت ہو جاتے ہیں۔ UNDP کی تحقیق کے مطابق ہمالیہ میں 47 ایسی خطرناک جھیلیں موجود ہیں جو مستقبل میں تباہ کن سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان میں 25 چین، 21 نیپال اور ایک ہندوستان میں واقع ہے۔ لہٰذا آج حکومتوں، عالمی تنظیموں، صنعت کاروں اور عام انسانوں سمیت پوری انسانیت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر قدرت کے انتباہات کو مزید نظر انداز نہ کرے، بلکہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے اسباب کو کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے