مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج

مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج

مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ بنام لؤ جہاد قانون بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج
ہائی کورٹ سے قانون پر اسٹے دینے کی گذارش کی جائے گی، عرض گذار مولانا حلیم اللہ قاسمی

ممبئی 9/ ستمبر

صوبہ مہاراشٹر میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہورہے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیئے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے لؤ جہاد قانون بنام مہاراشٹر فریڈم آف ریلجن ایکٹ2026 کی آئینی حیثیت کو آج جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔یہ قانون حالانکہ پورے مہاراشٹر میں 28/ اگست سے نافذالعمل ہے لیکن قانون کتابی شکل میں پرنٹ نہیں ہونے کی وجہ سے وہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے پٹیشن داخل کرنے میں تاخیر ہوئی۔ اب جبکہ مراٹھی اور انگریزی زبانوں میں قانون کتاب کی شکل میں شائع ہوچکا ہے اسے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ایڈوکیٹ متین شیخ نے بامبے ہائی کورٹ میں مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے پٹیشن داخل کی ہے جس پر جلد سماعت متوقع ہے، بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ آف انڈیا اعجاز مقبول نے حتمی شکل دی ہے جبکہ ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ شاہدندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء نے اسے تیار کیا ہے۔پٹیشن میں تحریر ہے کہ جرم ثابت ہونے پر بہت سخت سزاؤں اور جرمانہ عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے کیونکہ آئین ہند نے ہندوستانی شہریوں کو مذہب پر قائم رہنے اور اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کی اجازت دی ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ لو جہاد قانون کو بنانے کا مقصد درحقیقت ہندو اور مسلمان کے درمیان ہونے والی بین المذہب شادیوں کو روکنا ہے جو کہ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور اس سے شخصی آزادی بھی مجروح ہوتی ہے،جس کا التزام آئین میں موجود ہے۔عرضداشت میں مزید کہا گیاہیکہ کہ ان قوانین کے ذریعہ مذہبی اور ذاتی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی ہے اور برادران وطن میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہذا عدالت کو اس قانون پر فوری اسٹے دینا چاہئے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن میں مزید تحریر ہے کہ یہ قانون غیر آئینی بنیادوں پر بنا ہوا ہے کیونکہ آئین ہند میں دیئے گئے بنیاد حقوق کو بالائے طاق رکھ کر اسے اقلیت دشمنی میں اکثریت کو خوش کرنے کے لیئے بنایا گیا ہے۔پٹیشن میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے حق رازداری پر دیئے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے حق رازداری کے تحفظ کے لئے رہنمایانہ اصول واضح کیئے ہیں جبکہ اس قانون میں مذہب تبدیل کرنے والے کو مجسٹریٹ سے اجازت لینا اور پبلک نوٹس کی بات کہی گئی ہے۔بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کیئے جانے کے بعد ممبئی میں مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اوراس قانون کے نفاذ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں شدید بے چینی ہے کیونکہ یہ قانون بغیر کسی ریسرچ یا اجتماعی مذہب تبدیلی کی خفیہ رپورٹ کے محض اقلیت دشمنی میں بنایا گیا ہے جس کی مہاراشٹر جیسی پر امن ریاست میں ضرورت نہیں۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ یہ قانون اتنا غیرآئینی ہے کہ اس نے ایف درج کرانے کا اختیار تیسرے فریق کو دے دیا ہے جو نا تو مذہب تبدیل کررہا ہے اور نا ہی کسی کا کرا رہاہے اسی طرح الزام ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہی ڈال دیا گیا ہے جب فوجداری مقدمات میں الزام ثابت کرنے کا بوجھ پولس پر ہوتا ہے۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ہندوستان کی 12/ ریاستوں کی جانب سے بنائے گئے تبدیلی مذہب قانون کی آئینی حیثیت کو جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا ہے نیز مہاراشٹر حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کو آج بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ابتک مبینہ جبراً تبدیلی مذہب کے خلاف اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، ارونا چل پردیش، ہریانہ،کرناٹک، اڑیسہ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر حکومتوں نے قانون بنائے ہیں۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آئین ہند کے آرٹیکل 32/ کے تحت مفاد عامہ کی پٹیشن سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی ہے جو زیر سماعت ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں پہلے گلزار اعظمی عرض گذار بنے تھے، گلزار اعظمی کے انتقال کے بعد نائب صد ر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید اسجد مدنی عرض گذار ہیں۔اس اہم آئینی مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے۔سپریم کورٹ میں زیر سماعت سول رٹ پٹیشن 40/2023/ پر ستمبر کے ماہ میں 2026کو چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی بینچ سماعت کرسکتی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کا نمبر رٹ پٹیشن 76759/2026ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے