کلکٹریٹ سہارنپور کی مسجد کے انہدام کے پس پشت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کا منصوبہ تھا؟
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کا سہارنپور کا دورہ، قانونی و انتظامی صورتِ حال کا جائزہ
نئی دہلی: 9/ ستمبر 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سہارنپور کا دورہ کرکے کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع قدیم مسجد کے انہدام کے واقعے کا جائزہ لیا۔ وفد نے مسجد کے انہدام کے پسِ پشت قانونی و انتظامی صورتِ حال، زمین کی ملکیت، وقف کی حیثیت اور آئندہ کی قانونی حکمتِ عملی پر متعلقہ افراد اور وکلاء سے تفصیلی مشاورت کی۔
وفد میں بورڈ کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی ، ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عبد المالک مغیثی، ایڈووکیٹ محمد زاہد فلاحی اور محمد عارف اخلاق شامل تھے۔
وکلاء اور مسجد کے ذمہ داران سے ملاقاتیں
وفد نے ضلعی سطح پر مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلاء، ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء، مسجد کے متولی ایڈووکیٹ تنویر احمد اور شہر قاضی ندیم اختر سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں مسجد کے انہدام، زمین کی ملکیت، وقف رجسٹریشن، انتظامیہ کی کارروائی اور آئندہ کی ممکنہ قانونی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مشاورت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مسجد کی تعمیر والی زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت کا باقاعدہ تعین ضروری ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ بتائی جاتی ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات سے ہونا باقی ہے۔ وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زمین کی ملکیت سے متعلق تمام دستاویزات اور وقف ریکارڈ آئندہ قانونی کارروائی میں عدالت کے سامنے پیش کئے جائیں۔
انہدام کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ
دستیاب معلومات کے مطابق 16/ جولائی کو حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا تھا، جو 24 /جولائی کو جاری ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ 2/ ستمبر کو مذکورہ حکمِ امتناعی واپس لئے جانے یا منسوخ کئے جانے کے بعد مسجد کو منہدم کردیا گیا۔
وفد نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ دستیاب معلومات کی حد تک بظاہر کسی مجاز عدالت نے مسجد منہدم کرنے کا براہِ راست حکم جاری نہیں کیا تھا۔ تاہم وفد نے واضح کیا کہ معاملے کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالتی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کے مکمل جائزے کے بعد ہی متعین کی جاسکتی ہے۔
وفد کے مطابق انتظامی کارروائی کا جائزہ قانونی طریقۂ کار، حقوقِ ملکیت، قانونِ وقف اور آئینی تحفظات کی روشنی میں لیا جانا چاہئے۔ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ حکام نے اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا یا اختیارات کا نامناسب استعمال کیا۔
ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ
وفد کی مشاورت میں انتظامیہ کی کارروائی کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے نئی قانونی کارروائی شروع کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ قانونی ٹیم مسجد کی حیثیت، زمین کی ملکیت، وقف ریکارڈ، متعلقہ عدالتی احکامات اور انتظامی کارروائی سے متعلق تمام دستیاب دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔
ممکنہ قانونی مطالبات میں، حقائق اور قانون کی روشنی میں، اسی مقام پر مسجد کی دوبارہ تعمیر، ذمہ دار افسران یا دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی، شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست، زمین کی ملکیت کا تعین اور وقف دستاویزات کا جائزہ شامل ہوسکتا ہے۔ ان مطالبات پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت یا مجاز اتھارٹی کرے گی۔
فوری قانونی معاونت کے لئے مستقل سیل کی تجویز
شہر قاضی ندیم اختر نے وفد کو بتایا کہ مسجد کے انہدام کی رات چیف جسٹس آف انڈیا، صدرِ جمہوریہ، گورنر اور دیگر متعلقہ حکام کو فوری طور پر ای میل ارسال کی گئی تھی۔ ان پیغامات میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ عدالتی کارروائی کے دوران انتظامیہ مسجد کو منہدم کرسکتی ہے۔
انہوں نے مستقبل میں مساجد، وقف املاک اور مذہبی اداروں سے متعلق ایسے معاملات میں فوری قانونی معاونت فراہم کرنے کے لئے بورڈ کے تحت ایک مستقل سیل، پلیٹ فارم اور ہیلپ لائن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
پُرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
بورڈ کی جانب سے ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی نے میڈیا سے گفتگو کی۔ وفد نے شہر قاضی، مسجد کے متولی اور دیگر متأثرہ افراد کو ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور تنظیمی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاملے کو پُرامن، آئینی اور قانونی ذرائع سے آگے بڑھایا جائے گا اور مسجد و وقف املاک کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کئے جائیں گے۔