اتراکھنڈ میں مدارس پر شکنجہ.
ضوابط کی آڑ میں اقلیتی تعلیمی حقوق کا محاصرہ
از قلم: افتخاراحمدقادری
اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف جاری سرکاری کارروائیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے کہ کیا کسی ریاست میں تعلیمی نظم و نسق قائم کرنے کے نام پر کسی مخصوص مذہبی اقلیت کے تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟ اگر تعلیمی اداروں کے لیے قوانین اور ضوابط ضروری ہیں تو ان کا اطلاق یکساں طور پر تمام اداروں پر ہونا چاہیے لیکن جب ضابطہ محض ایک مخصوص طبقے کے اداروں کے لیے شکنجہ بن جائے اور اسی ضابطے کی بنیاد پر مدارس کو بند، سیل یا غیر فعال کیا جانے لگے تو معاملہ محض انتظامی کارروائی نہیں رہتا بلکہ اس کے اندر امتیازی سلوک کا ایک نہایت سنگین پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔ دہرادون اور ہلدوانی میں مزید پانچ مدارس کے خلاف کارروائی کی اطلاعات نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد ریاست میں بند کیے گئے مدارس کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سترہ مدارس کو سیل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے جبکہ تین مدارس کی انتظامیہ سے مبینہ طور پر تحریری حلف نامے یا یقین دہانیاں حاصل کی گئی ہیں کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں موقوف کر چکے ہیں۔ اگر یہ تمام تفصیلات سرکاری ریکارڈ سے بھی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہیں تو یہ صورت حال محض چند اداروں کی انتظامی خامیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی اقلیتی تعلیمی پالیسی کے وسیع تر رخ پر سنجیدہ سوالات عائد کرتی ہے۔ دہرادون کی آزاد کالونی میں واقع مدرسہ جامعۃ السلام الاسلامیہ کو سیل کیے جانے کی کارروائی نے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے جو انہی اداروں میں دینی و عصری تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مدارس صرف اینٹ، پتھر اور در و دیوار کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ ہزاروں خاندانوں کی امیدیں، بچوں کا تعلیمی مستقبل، اساتذہ کی روزی اور ایک پوری تعلیمی روایت وابستہ ہوتی ہے۔ کسی مدرسے کو اچانک بند کر دینا محض ایک عمارت پر تالا لگانا نہیں بلکہ اس ادارے سے وابستہ طلبہ، اساتذہ اور ان کے خاندانوں کو ایک غیر یقینی صورت حال میں دھکیل دینا بھی ہے۔ ماجرا کی آزاد کالونی میں مدرسہ دارِ ارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کی انتظامیہ سے کام بند کرنے کی تحریری یقین دہانی حاصل کیے جانے کی اطلاعات بھی تشویش ناک ہیں۔ اگر کسی ادارے میں قانونی یا دستاویزی خامی موجود ہے تو حکومت کے پاس اصلاح، مہلت، سماعت، اپیل اور قانونی چارہ جوئی کے متعدد راستے موجود ہوتے ہیں۔ ایک مہذب جمہوری نظام میں انتظامی اختیار کا مقصد اداروں کو یک قلم ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں قانون کے دائرے میں لانا ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت واضح کرے کہ ان اداروں کو اپنی خامیاں دور کرنے کے لیے کتنا وقت دیا گیا، کیا انہیں مکمل سماعت کا موقع فراہم کیا گیا اور کیا ان کے خلاف کارروائی سے قبل مناسب قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا؟
ہلدوانی میں گوجا جالی نارتھ کے شنی بازار روڈ پر واقع مدرسہ جامعہ نوریہ برکاتِ آمنہ اور بن بھول پورہ کے اندرا نگر میں قائم ایک مدرسے کو مطلوبہ دستاویزات اور منظوری کے کاغذات پیش نہ کرنے کی بنیاد پر سیل کیے جانے کی اطلاع بھی اسی وسیع تر کارروائی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کے پاس مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں تھیں تو کیا اسے دستاویزات مکمل کرنے کے لیے معقول مہلت دی گئی؟ کیا انتظامیہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا پورا موقع ملا؟ کیا ایک ایسا شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا جس میں ادارے کے ذمہ داران اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے تھے؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں، کیونکہ قانون کی بالادستی صرف قانون نافذ کرنے کا نام نہیں بلکہ قانون کے منصفانہ اطلاق کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ریاستی حکام کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مقررہ شرائط پر پورا نہ اترنے والے مدارس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور کوئی بھی تعلیمی ادارہ ضوابط اور منظوری کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔ اصولی طور پر یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہر تعلیمی ادارے کو قانونی تقاضوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ مدارس بھی ریاست کے اندر قائم تعلیمی ادارے ہیں اور ان کے لیے بھی قانونی، حفاظتی اور تعلیمی معیار کا احترام ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون کی پاس داری کے نام پر اصلاح کے بجائے اخراج، معاونت کے بجائے محاصرہ اور انتظامی نگرانی کے بجائے یک طرفہ کارروائی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خاتمہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ضابطہ کاری کا مقصد تعلیمی معیار بلند کرنا، بنیادی سہولیات بہتر بنانا، طلبہ کے حقوق محفوظ کرنا، اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانا اور اداروں کو قانونی دائرے میں لانا ہوتا ہے۔ اگر ضابطے اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں معمولی یا قابلِ اصلاح خامیوں کی بنیاد پر پورے ادارے کا وجود ہی ختم کر دیا جائے تو پھر یہ سوال لازماً پیدا ہوگا کہ اصل مقصد اصلاح ہے یا اخراج؟
اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کی تحلیل اور اس کے بعد اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام نے بھی اسی بحث کو جنم دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سابقہ مدرسہ بورڈ کے نظام کو ختم کرکے اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ایک نیا ادارہ جاتی نظام نافذ کیا ہے۔ اس تبدیلی کے حامی اسے تعلیمی انتظام و انصرام کی نئی صورت قرار دے سکتے ہیں، لیکن ناقدین کے نزدیک اس کے نتیجے میں مسلم مدارس کی مخصوص شناخت اور خود اختیاری محدود ہوئی ہے۔ اس اختلاف کو محض سیاسی نعرے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا جائزہ آئینی اصولوں، قانونی دفعات اور زمینی حقائق کی روشنی میں لینا ضروری ہے۔ مدارس ہندوستانی معاشرے میں صدیوں سے دینی تعلیم کے مراکز رہے ہیں۔ ان اداروں نے مذہبی علوم، عربی و فارسی زبانوں، فقہ، تفسیر، حدیث اور اسلامی تہذیب کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آزادی کے بعد بھی مدارس نے ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں ایسے طلبہ بھی بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہوتے ہیں جن کے خاندان مہنگے نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیے مدارس کو محض مذہبی عمارتوں کے طور پر دیکھنا ان کے سماجی اور تعلیمی کردار کو محدود کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کے نظام میں اصلاح اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے۔ نصاب میں مناسب عصری مضامین کا اضافہ، طلبہ کی بنیادی تعلیمی ضروریات کی تکمیل، اساتذہ کی تربیت، انتظامی شفافیت، مالیاتی نظم و نسق، صحت و سلامتی کے تقاضے اور سرکاری قوانین کی پابندی جیسے امور کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے اہم ہیں۔ مدارس بھی ان تقاضوں سے مستثنیٰ نہیں۔ لیکن اصلاح کا راستہ بندش نہیں بلکہ معاونت، رہنمائی، تربیت اور مرحلہ وار بہتری سے گزرتا ہے۔ یہاں ہندوستانی آئین کی روح بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حقوق آئینی تحفظ رکھتے ہیں۔ دستورِ ہند کا آرٹیکل 30 اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم اور چلانے کا حق فراہم کرتا ہے۔ اس حق کا مطلب یہ نہیں کہ اقلیتی ادارے ریاستی قوانین سے بالاتر ہو جاتے ہیں، بلکہ ریاست کو معیارِ تعلیم اور انتظامی تقاضوں کے لیے معقول ضابطے بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم ضابطہ کاری ایسی نہیں ہونی چاہیے جو آئینی حق ہی کو عملاً بے معنی کر دے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی مدارس سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں اقلیتی تعلیمی حقوق، ریاستی ضابطہ کاری اور تعلیمی معیار کے درمیان توازن کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ آئینی دفعات کو باہم ہم آہنگ کرکے پڑھا جانا چاہیے۔ اس عدالتی فکر کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ریاست تعلیمی معیار کو منظم کر سکتی ہے، لیکن اقلیتوں کے آئینی حقوق کو غیر ضروری طور پر مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ریاستی ضابطہ کاری کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے اسے مطلق اختیار میں تبدیل نہیں کیا۔ ریاست اگر یہ کہتی ہے کہ مدارس میں تعلیمی معیار بہتر ہونا چاہیے تو اس مطالبے کو عملی اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔ اگر کسی مدرسے میں کاغذات نامکمل ہیں تو حکومت اسے مکمل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر عمارت کے متعلق قانونی مسئلہ ہے تو اس کی اصلاح کا راستہ دیا جا سکتا ہے۔ اگر حفاظتی معیار ناقص ہیں تو انتظامیہ کو مناسب مدت دے کر ان خامیوں کو دور کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس فوری سیل بندی آخری اقدام ہونا چاہیے، معمول کا انتظامی طریقہ نہیں۔ اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائیوں کا ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسے ماحول سے جوڑا جا رہا ہے جہاں مسلمانوں کے مذہبی و عائلی معاملات سے متعلق متعدد پالیسی فیصلے پہلے ہی شدید سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد بھی اقلیتی حلقوں کی جانب سے متعدد تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب ایک ہی ریاست میں مدارس کے خلاف مسلسل کارروائیاں ہوتی ہیں تو فطری طور پر مسلمانوں کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کے مذہبی اور تعلیمی ادارے ایک وسیع تر انتظامی دباؤ کی زد میں ہیں۔
جمہوری حکومتوں کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ اکثریت کے لیے کیا کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق اور تحفظات کے ساتھ کس قدر انصاف کرتی ہیں۔ اقلیتوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست ان کی مخالف نہیں بلکہ ان کی آئینی محافظ ہے۔ اگر کسی مسلمان شہری کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ اس کا مدرسہ صرف اس لیے نشانہ بن سکتا ہے کہ وہ ایک اقلیتی مذہبی ادارہ ہے تو یہ صورت حال ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کرتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے لیے سب سے بہتر راستہ شفافیت ہے۔ ہر بند کیے گئے مدرسے کے خلاف کارروائی کی مکمل قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھی جانی چاہیے۔ یہ بتایا جانا چاہیے کہ کس ادارے نے کون سا قانون توڑا، اسے کب نوٹس دیا گیا، جواب کے لیے کتنا وقت دیا گیا، سماعت کب ہوئی اور بندش کا حتمی حکم کس قانونی اختیار کے تحت جاری ہوا۔ اگر کسی ادارے نے واقعی سنگین قانونی خلاف ورزی کی ہے تو حکومت کو اس کا ثبوت پیش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اگر کارروائی صرف مبہم الزامات اور عمومی دعووں کی بنیاد پر ہو تو اس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہوں گے۔ ریاستی حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ مدارس کی بندش کے بعد وہاں زیر تعلیم طلبہ کے لیے متبادل تعلیمی انتظام کیا گیا ہے یا نہیں۔ ایک ادارہ بند کرنے کا فیصلہ صرف عمارت اور انتظامیہ تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے سب سے بڑے متاثرین طلبہ ہوتے ہیں۔ غریب خاندانوں کے بچوں کو اگر اچانک تعلیمی ادارے سے محروم کر دیا جائے تو ان کے تعلیمی سلسلے میں تعطل پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت واقعی طلبہ کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو ہر کارروائی کے ساتھ ان کے متبادل تعلیمی انتظام کی بھی ضمانت دینی چاہیے۔ مدارس کے بارے میں ایک متوازن قومی بحث کی بھی ضرورت ہے۔ نہ مدارس کو تنقید سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ انہیں شک کی نگاہ سے دیکھ کر ان کے پورے نظام کو مشتبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو ادارے قانون کی پابندی نہیں کرتے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے، لیکن جو ادارے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں اصلاح کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ ریاستی طاقت کا حسن یہی ہے کہ وہ کمزور کو کچلنے کے بجائے اسے قانون کے دائرے میں لا کر مضبوط کرے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مدارس کے خلاف کارروائی اگر واقعی تعلیمی اصلاح کے مقصد سے کی جا رہی ہے تو اس کا ثبوت بھی اصلاحی اقدامات کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔ محض سیل بندی، بندش، نوٹس اور حلف نامے اصلاح کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ اصلاح کے لیے مکالمہ، مشاورت اور تعاون ضروری ہے۔ مدارس کی انتظامیہ، علما، ماہرین تعلیم، اقلیتی نمائندوں اور سرکاری حکام کے درمیان بامعنی گفت و شنید سے ایک ایسا نظام وضع کیا جا سکتا ہے جس میں دینی شناخت بھی محفوظ رہے اور جدید تعلیمی تقاضے بھی پورے ہوں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ملک میں اقلیتی اداروں کا وجود جمہوری تنوع کی علامت ہے۔ مختلف مذاہب اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی آزادی ہی ہندوستانی آئینی نظام کی خوب صورتی ہے۔ اگر یہ تنوع انتظامی اختیارات کے ذریعے بتدریج محدود ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک مذہبی طبقے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک کے مجموعی جمہوری مزاج پر مرتب ہوں گے۔ اتراکھنڈ حکومت کے سامنے اس وقت ایک اہم موقع بھی موجود ہے۔ وہ چاہے تو مدارس کے معاملے کو تصادم کا موضوع بنانے کے بجائے اصلاح اور اعتماد سازی کی مثال بنا سکتی ہے۔ حکومت تمام مدارس کا شفاف سروے کرائے، قانونی دستاویزات کی جانچ کرے، خامیوں کی نشاندہی کرے، مناسب مہلت دے، تکنیکی و قانونی معاونت فراہم کرے اور صرف ان اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو مسلسل قانونی احکامات کی خلاف ورزی کریں۔ اس طریقۂ کار سے نہ صرف حکومت کے اقدامات پر اٹھنے والے سوالات کم ہوں گے بلکہ اقلیتی طبقے کے اندر اعتماد بھی پیدا ہوگا۔
مسلمانوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ مدرسہ انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنے اداروں کے تمام قانونی کاغذات مکمل رکھیں، عمارت، زمین، رجسٹریشن، طلبہ کے ریکارڈ، اساتذہ کی تفصیلات اور دیگر ضروری دستاویزات منظم انداز میں محفوظ کریں۔ قانونی تقاضوں سے لاعلمی کو مستقل عذر نہیں بنایا جا سکتا۔ مدارس کو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنی انتظامی شفافیت اور تعلیمی معیار کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ لیکن یہ ذمہ داری ریاست کو اپنے آئینی فرائض سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اگر غیر مسلم تعلیمی اداروں کو معمولی انتظامی خامیوں کی اصلاح کے لیے وقت دیا جاتا ہے تو مدارس کے ساتھ بھی یہی اصول اختیار کیا جانا چاہیے۔ اگر دیگر اداروں کو اپیل اور سماعت کا حق حاصل ہے تو مدارس بھی اسی قانونی تحفظ کے مستحق ہیں۔ اگر ضابطہ کاری کا مقصد تعلیم کا معیار بلند کرنا ہے تو اس کا پیمانہ ادارے کا مذہب نہیں بلکہ اس کی تعلیمی اور قانونی کارکردگی ہونی چاہیے۔ آج اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں کو اسی وسیع تر آئینی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی حکومت کا اختیار اس قدر وسیع نہیں ہونا چاہیے کہ وہ محض انتظامی ضابطوں کے ذریعے کسی اقلیت کے آئینی حق کو عملاً بے اثر کر دے۔ ریاست کو قانون نافذ کرنے کا حق ضرور ہے، مگر اسی کے ساتھ آئین کی پاس داری کی ذمہ داری بھی ہے۔ عدالتیں، قانون ساز ادارے اور انتظامیہ سب اسی آئینی بندو بست کے پابند ہیں۔ اگر واقعی کسی مدرسے میں سنگین بے ضابطگی ہے تو کارروائی کی جائے لیکن اگر معاملہ صرف کاغذات کی تکمیل یا تکنیکی منظوری کا ہے تو ادارے کو بند کرنا آخری راستہ ہونا چاہیے۔ حکومت کو اصلاح اور سزا کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ہوگا۔ تعلیمی ادارے بند کرنا آسان ہے لیکن ان اداروں سے وابستہ بچوں کے مستقبل کی تلافی آسان نہیں۔ ایک مدرسے پر لگائی گئی مہر صرف ایک دروازے کو بند نہیں کرتی بلکہ کئی بچوں کی تعلیم، کئی خاندانوں کی امید اور ایک طویل تعلیمی روایت کے تسلسل کو متاثر کر سکتی ہے۔ اتراکھنڈ کے موجودہ حالات اسی لیے ایک وسیع تر قومی سوال کی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ ہندوستان کا آئینی نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ اکثریت اور اقلیت دونوں قانون کے سامنے برابر ہوں اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کے حقوق محدود نہ کیے جائیں۔ مدارس کے معاملے میں بھی یہی اصول کارفرما ہونا چاہیے۔ ریاست اگر واقعی تعلیمی اصلاح چاہتی ہے تو اسے مدارس کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے ان کے ساتھ اصلاحی شراکت داری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ورنہ ضوابط کی آڑ میں مسلسل بندشیں، سیل بندی اور انتظامی شکنجے ایک ایسے تاثر کو جنم دیں گے کہ مقصد تعلیمی معیار کی بہتری نہیں بلکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کی گنجائش محدود کرنا ہے۔ جمہوری ریاست کے لیے اس سے زیادہ خطرناک صورت حال کوئی نہیں کہ اس کے شہری قانون کو تحفظ کے بجائے خوف کی علامت سمجھنے لگیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اتراکھنڈ حکومت مدارس کے خلاف کارروائیوں کا ازسرنو جائزہ لے، شفاف قانونی طریقہ کار اختیار کرے، متاثرہ اداروں کو مؤثر سماعت اور اپیل کا حق دے، طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنائے اور یہ ثابت کرے کہ قانون کسی خاص مذہبی طبقے کے خلاف ہتھیار نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں انصاف کا ذریعہ ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت کی حقیقی قوت اسی میں ہے کہ اختلاف، تنوع اور اقلیتی حقوق کو دبایا نہیں بلکہ آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ مدارس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے نصاب پر گفتگو کی جا سکتی ہے، ان کے انتظامی نظام میں اصلاح کی جا سکتی ہے، لیکن انہیں محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا یا ضابطہ کاری کے نام پر اجتماعی طور پر نشانہ بنانا نہ انصاف کا تقاضا ہے، نہ جمہوریت کا اور نہ ہی آئین کی روح کا۔ اتراکھنڈ حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرے گی یا اصلاح، شفافیت اور آئینی انصاف کا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستی طاقت وقتی طور پر دروازے بند کر سکتی ہے، مگر انصاف کے سوال کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتی۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com