ٹوٹتے دل کا آخری سہارا . جب دنیا چھوٹ جائے اور ربّ مل جائے

ٹوٹتے دل کا آخری سہارا . جب دنیا چھوٹ جائے اور ربّ مل جائے

ٹوٹتے دل کا آخری سہارا
جب دنیا چھوٹ جائے اور ربّ مل جائے

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہر زخم انسان نہیں بھر سکتا۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا، کچھ خلشیں ایسی ہوتی ہیں جو مسکراہٹوں کے پیچھے چھپ تو جاتی ہیں مگر دل کے کسی گوشے میں خاموشی سے زندہ رہتی ہیں۔ انسان اپنے دکھ کی داستان ہر شخص کو نہیں سنا سکتا؛ بعض تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ کا لباس پہنانا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پر ایک عظیم حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ جب دنیا کے سہارے کمزور پڑ جائیں تو اللّٰہ کا سہارا پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے۔

بعض اوقات زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اپنے بیگانے محسوس ہونے لگتے ہیں، جن سے امید ہوتی ہے وہی مایوسی کا سبب بن جاتے ہیں، وعدے وقت کی گرد میں گم ہوجاتے ہیں، تعلقات اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور دعائیں بھی بظاہر خاموش آسمان کی طرف اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ آنکھیں رات کی تنہائی میں آنسو بہاتی ہیں اور دل اپنے ہی سوالات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ ایسے میں انسان سوچتا ہے کہ آخر کس کے سامنے اپنا دکھ رکھے؟ کس سے فریاد کرے؟ کس کے سامنے اپنے دل کا بوجھ اتارے؟

تب دل کے اندر سے ایک آواز آتی ہے: اللّٰہ کے سامنے! کیونکہ وہ ربّ ہے جو دلوں کے بھید جانتا ہے، وہ آنسو بھی دیکھتا ہے جو آنکھوں سے نکلنے سے پہلے دل میں اتر جاتے ہیں، وہ ان دعاؤں کو بھی سنتا ہے جنہیں زبان ادا نہیں کر پاتی۔ قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے: وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔ "اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں” (سورۃ ق: 16)۔ یہ قربِ الٰہی انسان کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔ دنیا کی قربتیں فاصلے میں بدل سکتی ہیں، مگر اللّٰہ کی قربت کبھی کم نہیں ہوتی۔

ہم عموماً تکلیف کو صرف تکلیف سمجھتے ہیں، حالاں کہ ایمان کی نگاہ سے دیکھا جائے تو بعض آزمائشیں انسان کی روحانی تعمیر کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ کبھی اللّٰہ تعالیٰ کسی انسان، تعلق، خواہش یا سہارے کو ہماری زندگی سے اس لیے ہٹا دیتا ہے کہ ہم اُس سہارے کو پہچان لیں جو کبھی ہم سے جدا نہیں ہوتا۔ ہم جن دروازوں کو زندگی کی کامیابی سمجھ کر کھٹکھٹاتے رہتے ہیں، کبھی وہ دروازے بند ہو جاتے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ اصل دروازہ کہاں ہے۔ کبھی انسان لوگوں سے مانگ مانگ کر تھک جاتا ہے، تب اسے دعا کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ کبھی وہ محبت کی تلاش میں دربدر ہوتا ہے، تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے کامل محبت اُس ربّ کی ہے جو اپنے بندے کی کمزوریوں کے باوجود اسے اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتا۔ کبھی انسان دنیا کے سامنے مضبوط دکھائی دیتے دیتے اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، تب اسے سجدے میں وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کسی مجلس میں نہیں ملتا۔ اسی لیے بعض زخم بظاہر دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ربّ تک پہنچنے کے راستے بن جاتے ہیں۔

زندگی میں آنے والی ہر مشکل کو اللّٰہ کی ناراضی سمجھ لینا درست نہیں۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں گواہ ہیں کہ اللّٰہ کے محبوب بندے بھی آزمائشوں سے گزرے۔ حضرت ایوبؑ نے طویل بیماری اور ابتلا برداشت کیا، حضرت یعقوبؑ نے جدائی کا غم سہا، حضرت یوسفؑ نے کنویں سے زندان تک کا سفر کیا، اور رسولِ اکرمﷺ نے بھی زندگی میں بے شمار مصائب، غموں اور آزمائشوں کا سامنا فرمایا۔ اس لیے آزمائش کبھی کبھی انسان کی تحقیر نہیں بلکہ اس کی تربیت، تطہیر اور بلندی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر مشکل کا مطلب یہ نہیں کہ اللّٰہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے؛ بعض اوقات مشکل کے اندر ہی اللّٰہ کی خصوصی تربیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے” (سورۃ الشرح: 5-6)۔ غور کیجیے، قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، بلکہ فرمایا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جب آزمائش آتی ہے تو اللّٰہ کی رحمت بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتی ہے؛ البتہ ہماری نگاہ اکثر دکھ پر ٹھہر جاتی ہے اور رحمت کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہے۔

انسان کا دکھ دو راستے اختیار کرسکتا ہے: وہ اسے شکایت بنا کر دل کو مزید بوجھل کر دے، یا اسے دعا بنا کر ربّ کے سامنے رکھ دے۔ شکایت انسان کو اندر سے توڑتی ہے، مگر دعا انسان کو ربّ سے جوڑتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے جذبات کو دبا دے یا اپنے دکھ کا اظہار نہ کرے۔ اسلام انسان کو پتھر بننے کا درس نہیں دیتا۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے غم کا اظہار کیا اور فرمایا: "میں تو اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللّٰہ ہی سے کرتا ہوں” (سورۃ یوسف: 86)۔ یہی توکل کی روح ہے: درد کو محسوس کرنا، آنسو بہانا، مگر دل کا رخ اللّٰہ کی طرف رکھنا۔ انسان رو سکتا ہے، ٹوٹ سکتا ہے، تھک سکتا ہے؛ مگر اسے اپنے ربّ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

ہر آنسو کمزوری کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض آنسو انسان کی روح کی زبان ہوتے ہیں۔ وہ آنسو جو تنہائی میں اللّٰہ کے سامنے بہتے ہیں، وہ انسان کے اندر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔ رات کی خاموشی میں جب سب سو رہے ہوں اور ایک بندہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہو، اپنی بے بسی بیان کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، اپنے مستقبل کے لیے دعا کرے اور اپنے دل کا بوجھ سجدے میں رکھ دے، تو وہ لمحہ بظاہر دنیا کی نگاہ میں معمولی ہوسکتا ہے، مگر اللّٰہ کے ہاں اس کی قدر بہت بڑی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے مومن کے لیے تنہائی بھی نعمت بن سکتی ہے، اگر وہ تنہائی اسے اللّٰہ سے ملا دے۔

انسانی تعلقات زندگی کی خوبصورتی ہیں، مگر ان سے وہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں جو صرف اللّٰہ کی ذات پوری کرسکتی ہے۔ انسان بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، تعلقات بدلتے ہیں؛ مگر اللّٰہ کی رحمت نہیں بدلتی۔ لوگ ہماری ضرورت کے وقت ساتھ نہ دیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ شاید اللّٰہ ہمیں اپنے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ کوئی شخص ہمیں چھوڑ دے تو یہ ضروری نہیں کہ ہماری زندگی ختم ہوگئی؛ ہوسکتا ہے اللّٰہ ہمیں ایسے تعلق سے نکال رہا ہو جو ہمارے لیے بہتر نہیں تھا۔ اس لیے دل کو لوگوں کے ہاتھ میں رکھنے کے بجائے اللّٰہ کے حوالے کرنا چاہیے۔ جس دل کا سہارا اللّٰہ ہو، وہ لوگوں کے رویوں سے زخمی تو ہوسکتا ہے، مگر بکھرتا نہیں۔

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان درد محسوس ہی نہ کرے۔ صبر یہ ہے کہ درد کے باوجود انسان اپنے ربّ سے جڑا رہے۔ حالات خلاف ہوں مگر حلال راستہ نہ چھوڑے؛ دعا قبول ہونے میں تاخیر ہو مگر دعا ترک نہ کرے؛ دل تھک جائے مگر امید کا چراغ بجھنے نہ دے۔ صبر دراصل دل کا وہ عزم ہے جو کہتا ہے: "مجھے ابھی سمجھ نہیں آرہا کہ اللّٰہ کیا کر رہا ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ اللّٰہ جو کر رہا ہے، حکمت کے ساتھ کر رہا ہے”۔ یہی توکل ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں؛ بلکہ اپنی پوری کوشش کرنا، اسباب اختیار کرنا، پھر نتیجہ اللّٰہ کے سپرد کردینا ہے۔

رات کتنی ہی طویل ہو، صبح کو روک نہیں سکتی۔ اسی طرح زندگی کا کوئی غم ہمیشہ نہیں رہتا۔ جو آج ناقابلِ برداشت محسوس ہورہا ہے، ممکن ہے کچھ عرصے بعد وہی انسان کی شخصیت کا سب سے قیمتی سبق بن جائے۔ جو دروازہ آج بند دکھائی دے رہا ہے، ممکن ہے کل اس کے بند ہونے کی حکمت سمجھ آجائے۔ جو شخص آج اپنی تنہائی پر رو رہا ہے، ممکن ہے کل اسی تنہائی کو اپنی روحانی زندگی کا سب سے خوبصورت دور قرار دے۔ زندگی ہمیں ہر سوال کا جواب فوراً نہیں دیتی۔ بعض جواب وقت کے پردے کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر مشکل گھڑی میں یہ یقین زندہ رکھنا چاہیے:
اللّٰہ ابھی بھی میرے ساتھ ہے۔
میری دعا ابھی بھی سنی جارہی ہے۔
میری تکلیف بےمعنی نہیں۔
میرا ربّ میری حالت سے بےخبر نہیں۔

دنیا ہمیں سکون کے بہت سے راستے دکھاتی ہے: دولت، شہرت، تعلقات، کامیابی، آسائش اور اقتدار۔ لیکن یہ سب چیزیں انسان کو وقتی سہارا دے سکتی ہیں، دائمی اطمینان نہیں۔ قرآن نے سکون کا اصل راز ایک ہی جملے میں بیان کردیا: خبردار! اللّٰہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں” (سورۃ الرعد: 28)۔ دل کا سکون حالات کے مکمل طور پر درست ہوجانے کا نام نہیں؛ دل کا سکون یہ یقین ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، میرا ربّ میرے ساتھ ہے۔ یہی ایمان انسان کو طوفان میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔

اگر دل زخمی ہے تو اسے نفرت سے نہ بھریں۔
اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو اپنے کردار کو خراب نہ ہونے دیں۔ اگر کسی نے آپ کو چھوڑ دیا ہے تو اللّٰہ کو نہ چھوڑیں۔ اگر دعائیں دیر سے قبول ہورہی ہیں تو دعا کرنا نہ چھوڑیں۔ اگر راستے بند ہیں تو ربّ کے دروازے پر دستک دیتے رہیں۔ اپنے زخموں کو اپنی شناخت نہ بنائیں؛ انہیں اپنی تربیت بنائیں۔ اپنے آنسوؤں کو مایوسی نہ بننے دیں؛ انہیں دعا بنائیں۔ اپنی تنہائی کو محرومی نہ سمجھیں؛ اسے اللّٰہ سے راز و نیاز کا موقع بنائیں۔ اپنی آزمائش کو شکست نہ سمجھیں؛ اسے اپنے ایمان کی تعمیر کا مرحلہ سمجھیں۔

زندگی کا سفر ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ کہیں خوشی ہے، کہیں غم؛ کہیں وصال ہے، کہیں جدائی؛ کہیں کامیابی ہے، کہیں ناکامی؛ کہیں پھول ہیں اور کہیں کانٹے۔ مگر مومن کی اصل قوت یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کبھی دکھ نہیں آتا، بلکہ یہ ہے کہ دکھ آنے کے بعد بھی اس کا تعلق اپنے ربّ سے نہیں ٹوٹتا۔ لوگ چھوڑ سکتے ہیں، اللّٰہ نہیں چھوڑتا۔ لوگ بھول سکتے ہیں، اللّٰہ نہیں بھولتا۔ لوگ ہماری خاموشی کو نظر انداز کرسکتے ہیں، اللّٰہ ہمارے دل کی ہر آہ سنتا ہے۔ لوگ ہمارے زخم نہیں سمجھ سکتے، اللّٰہ ہمارے زخموں سے بھی واقف ہے۔ لہٰذا جب زندگی بہت بھاری محسوس ہو، جب دل کسی کے سامنے اپنا حال بیان کرنے سے عاجز ہوجائے، جب آنکھیں خاموشی سے بھیگ جائیں، تو وضو کیجیے، دو رکعت ادا کیجیے، سجدے میں جائیے اور اپنے ربّ سے بات کیجیے۔

اسے اپنے الفاظ میں بتائیے کہ آپ تھک گئے ہیں۔ اسے بتائیے کہ آپ کو دکھ ہے۔ اسے بتائیے کہ آپ کو راستہ نہیں مل رہا۔ اور پھر اپنا دل اس کے حوالے کردیجیے۔ کیونکہ بعض زخم دوا سے نہیں، دعا سے بھرتے ہیں۔ بعض فاصلے انسانوں سے نہیں، اللّٰہ سے قربت سے ختم ہوتے ہیں۔ اور بعض راتیں صرف اس لیے طویل ہوتی ہیں کہ ان کے بعد آنے والی صبح ہمیں یہ سکھا سکے کہ جس ربّ نے اندھیرے میں ہمیں سنبھالا، وہ روشنی میں بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ یہی توکل ہے، یہی صبر ہے، یہی ایمان ہے، اور یہی دل کا حقیقی سکون۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے