مغربی بنگال میں تعلیمی یکجہتی، قومی وحدت اور حب الوطنی جیسے خوش نما نعروں کی آڑ میں جو تعلیمی منصوبہ بندی سامنے آ رہی ہے اس نے ریاست کے اقلیتی تعلیمی حقوق خصوصاً مسلم تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور ان کے تشخص کے حوالے سے نہایت گمبھیر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک جانب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تعلیمی تنظیم ودیا بھارتی کے تعلیمی نیٹ ورک کو وسعت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے اور دوسری جانب مدارس کے جداگانہ انتظامی ڈھانچے کو ختم کرکے تمام تعلیمی محکموں کو ایک نظام کے تحت لانے کی بات کی جا رہی ہے۔ بظاہر یہ اقدامات انتظامی یکسانیت اور تعلیمی ہم آہنگی کے عنوان سے پیش کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے مضمرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ ریاست کے تعلیمی منظرنامے میں ایک مخصوص نظریاتی رجحان کو غالب کرنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست میں ودیا بھارتی سے ملحق کم از کم ایک ہزار نئے اسکول قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ اس وقت ریاست میں اس تنظیم کے تقریباً تین سو اسکول موجود ہیں۔ اگر ایک طرف کسی مخصوص نظریاتی تنظیم سے وابستہ تعلیمی اداروں کے دائرہ کار کو غیر معمولی سرعت کے ساتھ وسعت دینے کا منصوبہ بنایا جائے اور دوسری طرف مسلم اقلیت کے صدیوں پرانے تعلیمی اداروں، بالخصوص مدارس کے انتظامی تشخص اور خودمختاری کو محدود کرنے کی تدبیریں کی جائیں تو اس صورت حال کو محض اتفاق قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری تشکیل کا سب سے مؤثر وسیلہ ہوتی ہے اس لیے تعلیمی اداروں کے قیام، نصاب، انتظام اور سرپرستی کے ذریعے نئی نسل کی فکری سمت متعین کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تعلیمی پالیسی میں کسی خاص نظریاتی رنگ کی آمیزش نمایاں ہونے لگے تو اس کے اثرات محض درس گاہوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے فکری مزاج کو متاثر کرتے ہیں۔
مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی علاقوں، بالخصوص مرشد آباد اور جنوبی 24 پرگنہ کو اس منصوبے میں خصوصی اہمیت دیے جانے کی اطلاعات نے معاملے کی حساسیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مرشد آباد میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور ایسے علاقے میں اگر نئے تعلیمی اداروں کے قیام کو مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں کے مقابلے حب الوطنی کے فروغ اور قوم پرستی کے استحکام سے جوڑا جائے تو یہ سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی مخصوص مذہبی آبادی والے علاقے کو پہلے سے ہی شبہ اور بدگمانی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے؟ اگر تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم، سائنسی شعور، اخلاقی تربیت اور شہری ذمہ داریوں کا فروغ ہے تو اس کے لیے کسی مخصوص مذہبی یا لسانی آبادی کو مشتبہ بنا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ حب الوطنی بلاشبہ ایک مثبت قدر ہے مگر حب الوطنی کو کسی خاص مذہبی شناخت، ثقافتی سانچے یا سیاسی نظریے کے ساتھ مشروط کرنا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب، کثیراللسان اور کثیرالثقافتی ملک میں حب الوطنی کی بنیاد آئین، قانون، مساوات، باہمی احترام اور ملک کی وحدت پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے مسلمانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کے درمیان حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے مخصوص نظریاتی تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے تو یہ طرزِ فکر خود اقلیتوں کے شہری کردار پر غیر ضروری سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔ مسلمان اس ملک کی تاریخ، تہذیب، آزادی کی جد وجہد اور تعمیرِ وطن میں ایک زندہ اور ناقابلِ انکار حصہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کی حب الوطنی کو کسی اضافی سند یا نظریاتی امتحان سے گزارنا نہ انصاف ہے اور نہ ہی تعلیمی حکمت۔ مرشد آباد کا حوالہ اس لیے بھی حساس ہے کہ گزشتہ برس وہاں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات کی صورت حال پیدا ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسے ماحول میں حکومت کی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ متاثرہ معاشرے میں اعتماد بحال کرے، قانون کی بالادستی یقینی بنائے، تمام طبقات کے تحفظ کا احساس مضبوط کرے اور تعلیمی اداروں کو نفرت کے بجائے مکالمے، رواداری اور باہمی احترام کا مرکز بنائے۔ اگر اسی ماحول میں ایک مخصوص طبقے کی آبادی والے علاقوں کو ملک دشمن سرگرمیوں سے جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ معاشرتی خلیج کو کم کرنے کے بجائے مزید گہرا کر سکتا ہے۔ ہندوستانی آئین اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق فراہم کرتا ہے۔ یہ حق محض کسی حکومت کی عطا نہیں بلکہ آئینی ضمانت کا حصہ ہے۔ چنانچہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو مرکزی دھارے میں لانے کے نام پر ان کے بنیادی تشخص، انتظامی اختیار یا مذہبی و ثقافتی خصوصیات کو کمزور کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس پر نہایت محتاط اور آئینی دائرہ کار میں رہ کر غور ہونا چاہیے۔ تعلیمی یکسانیت اگر معیار، شفافیت اور طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے ہو تو اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یکسانیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ادارے کی جداگانہ شناخت، تاریخی پس منظر اور آئینی حیثیت کو مٹا دیا جائے۔
شیاما پرساد مکھرجی کے نظریے ایک آئین، ایک نشان، ایک رہنما کا حوالہ دے کر تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک ہی نظام کی ضرورت پر زور دینا بھی اسی بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سیاسی نظریات اپنی جگہ لیکن ریاستی تعلیمی پالیسی کا بنیادی معیار آئین اور اس کے تحت حاصل حقوق ہونے چاہییں۔ کسی تاریخی سیاسی نعرے یا نظریاتی تصور کو اقلیتی اداروں کی آئینی حیثیت محدود کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ تعلیمی انتظام میں یکسانیت اور آئینی مساوات دو الگ تصورات ہیں۔ انتظامی نظام کو مؤثر، شفاف اور معیاری بنانا ایک بات ہے، جب کہ مختلف طبقات کو حاصل آئینی حقوق اور ادارہ جاتی خودمختاری کو ختم کرنا دوسری بات۔ ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما کنال گھوش کی جانب سے اس حکومتی منصوبے کو اقلیتی اداروں کے خلاف غیر آئینی سازش قرار دیا جانا بھی اسی سیاسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اقلیتوں کے جداگانہ تعلیمی ادارے غیر قانونی نہیں بلکہ آئین کے تحت محفوظ حق ہیں اور موجودہ حکومت سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ تفریق پیدا کر رہی ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کے اپنے مفادات اور بیانیے ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی سوال سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر آئینی اصولوں کا ہے۔ کسی بھی حکومت کو یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے بارے میں اس کی پالیسی کا مقصد واقعی تعلیمی معیار کی بہتری ہے یا ادارہ جاتی خودمختاری کو کمزور کرکے انہیں ایک مخصوص نظریاتی سانچے میں ڈھالنا۔ مدارس کے خلاف بیانیہ بھی اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں بائیں بازو کے سابق وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ کی جانب سے ریاست کے غیر الحاق شدہ مدارس میں مبینہ خفیہ سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی تھی اور بعض مدارس کو ملک دشمن عناصر کی آماجگاہ قرار دینے جیسے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مدارس کے بارے میں شبہات کا بیانیہ صرف موجودہ سیاسی ماحول کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی کچھ جڑیں سابقہ سیاسی ادوار میں بھی ملتی ہیں۔ تاہم کسی ادارے کے بارے میں عمومی الزام تراشی اور کسی مخصوص ادارے کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر قانونی کارروائی میں بنیادی فرق ہے۔ اگر کسی مدرسے میں واقعی غیر قانونی سرگرمی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے لیکن چند مبینہ واقعات یا الزامات کی بنیاد پر پوری مدرسہ برادری کو مشتبہ بنا دینا نہ قانونی انصاف ہے اور نہ ہی تعلیمی دیانت داری۔ بلا شبہ مدارس ہندوستانی مسلم معاشرے کے تعلیمی اور تہذیبی ڈھانچے کا ایک قدیم حصہ ہیں۔ ان میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ایسے طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے لیے یہ ادارے بنیادی تعلیمی سہولت کا ذریعہ ہیں۔ ان اداروں کی اصلاح، معیارِ تعلیم میں بہتری، جدید مضامین کی شمولیت اور انتظامی شفافیت پر گفتگو ضرور ہونی چاہیے مگر اصلاح اور انہدام کے درمیان جو باریک حد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اصلاح کے نام پر ادارے کی خودمختاری ہی ختم کر دی جائے تو پھر یہ اصلاح نہیں بلکہ ادارہ جاتی مداخلت بن جاتی ہے۔ اس معاملے میں مدرسہ بورڈز کے بجٹ میں رواں سال مبینہ طور پر چالیس فیصد تک کی کٹوتی کی اطلاعات بھی تشویش پیدا کرتی ہیں۔ ایک طرف مالی وسائل محدود کیے جائیں، دوسری طرف انتظامی انضمام کی منصوبہ بندی ہو اور تیسری طرف ایک مخصوص نظریاتی تعلیمی نیٹ ورک کے لیے بڑے پیمانے پر نئے ادارے قائم کرنے کی تیاری کی جائے تو پالیسی کے مجموعی رخ پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ مالی وسائل کسی بھی تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ مدارس کو وسائل سے محروم کرکے ان کی کارکردگی متاثر کرنا اور پھر اسی کمزوری کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر منصفانہ طرزِ عمل ہوگا۔
بنگال میں اگر واقعی تعلیمی اصلاح مطلوب ہے تو اس کا معیار تمام اداروں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ودیا بھارتی ہو یا مدرسہ، سرکاری اسکول ہو یا اقلیتی تعلیمی ادارہ، ہر جگہ تعلیمی معیار، اساتذہ کی اہلیت، طلبہ کی سہولت، بنیادی ڈھانچے، امتحانی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یکساں پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔ کسی ادارے کی نظریاتی وابستگی کو اس کے حق یا مخالفت کا واحد معیار بنا دینا تعلیم کے غیر جانب دار تصور کے منافی ہوگا۔ ریاستی حکومت اگر واقعی تعلیمی ترقی چاہتی ہے تو اسے اپنی تمام توانائیاں معیاری تعلیم، اساتذہ کی تربیت، جدید تعلیمی وسائل اور طلبہ کے بہتر مستقبل پر صرف کرنی چاہییں، نہ کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی و نظریاتی کشمکش کا میدان بنانا چاہیے۔ تعلیمی ادارے نسلوں کی فکری تعمیر کرتے ہیں۔ نصاب میں کیا پڑھایا جائے، کس تاریخ کو کس زاویے سے پیش کیا جائے، کن شخصیات کو مثالی قرار دیا جائے اور کس نوعیت کی قومی شناخت تشکیل دی جائے، یہ تمام امور براہِ راست نئی نسل کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی ریاست میں تعلیمی اداروں کا نظریاتی توازن نہایت اہم ہوتا ہے۔ اگر بھگوا کرن کی اصطلاح اس عمل کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جس میں تعلیم کے میدان میں ایک مخصوص مذہبی و نظریاتی فکر کا غلبہ بڑھایا جا رہا ہو، تو حکومت کو اس تاثر کا ازالہ محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی شفافیت سے کرنا ہوگا۔ مغربی بنگال کا سماجی ڈھانچہ کثیر الجہتی ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان اور دیگر برادریاں طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ ایسی ریاست میں تعلیمی پالیسی کا مقصد معاشرتی فاصلے بڑھانا نہیں بلکہ انہیں کم کرنا ہونا چاہیے۔ اگر مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم مدارس اور مسلم تعلیمی اداروں کو مستقل شک کی نگاہ سے دیکھا جائے اور ان کے مقابلے میں ایک مخصوص نظریاتی ادارہ جاتی نیٹ ورک کو فروغ دیا جائے تو اس سے تعلیمی مساوات کے بجائے معاشرتی بے اعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ریاستی اقتدار کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اکثریت اور اقلیت دونوں کے حقوق کو یکساں تحفظ فراہم کرے اور کسی طبقے کو اپنے ہی وطن میں مسلسل صفائی پیش کرنے پر مجبور نہ کرے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مدرسہ اصلاح کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی قانون، شفافیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہو۔ مدارس سے متعلق اگر حکومت کے پاس کوئی قابلِ اعتماد ثبوت، انتظامی خامی یا قانونی خلاف ورزی کا معاملہ ہے تو اسے مخصوص ادارے کے خلاف مخصوص کارروائی کرنی چاہیے۔ اجتماعی الزام، عمومی بدنامی اور ایک پورے تعلیمی طبقے کو مشکوک قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح اگر حکومت ودیا بھارتی یا کسی دوسری تنظیم کے ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ان اداروں کے نصاب، انتظام اور نظریاتی اثرات کے حوالے سے کون سے غیر جانب دار معیارات نافذ ہوں گے۔ بنگال میں اس وقت اصل ضرورت ایک ایسے تعلیمی نظام کی ہے جو بچوں کو اچھا شہری بنائے، ان میں قانون پسندی، انسانی احترام، سائنسی مزاج، قومی یکجہتی اور معاشرتی ذمہ داری پیدا کرے۔ حب الوطنی کا مطلب کسی ایک طبقے کی ثقافت کو دوسرے پر مسلط کرنا نہیں، بلکہ ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا ہے۔ قوم پرستی کا مطلب اختلاف رکھنے والے شہری کو مشتبہ سمجھنا نہیں، بلکہ مختلف شناختوں کے باوجود مشترکہ ہندوستانی مستقبل کی تعمیر کرنا ہے۔ اگر تعلیم ان بنیادی اصولوں سے محروم ہو جائے تو اسکول عمارتیں تو رہیں گے، مگر ان میں حقیقی معنوں میں تعلیم کا چراغ مدھم پڑ جائے گا۔ بنگال کے موجودہ تعلیمی منظرنامے میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ حکومت اپنے تمام اقدامات کو آئینی کسوٹی پر پرکھے۔ مدارس کی اصلاح ہو تو شفاف طریقے سے ہو، ان کے مالی معاملات میں بہتری لانی ہو تو مناسب وسائل فراہم کیے جائیں، نصاب بہتر بنانا ہو تو ماہرین تعلیم اور متعلقہ طبقات سے مشاورت کی جائے اور اگر نئے اسکول قائم کرنے ہوں تو ان کا مقصد سیاسی یا مذہبی غلبہ نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی ترقی ہو۔ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کو کمزور کرکے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کے آئینی حقوق محفوظ ہیں۔ بنگال میں تعلیمی اداروں کا بھگوا کرن محض اسکولوں کی تعداد بڑھانے یا انتظامی محکموں کو ایک جگہ جمع کرنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کے تعلیمی فلسفے، اقلیتی حقوق اور آئینی مساوات سے متعلق بنیادی سوال ہے۔ اگر تعلیمی یکجہتی کے نام پر اقلیتوں کے جداگانہ اداروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی اور حب الوطنی کے نام پر مخصوص مذہبی و نظریاتی تصور کو نئی نسل کے ذہنوں پر غالب کرنے کی تدبیر اختیار کی گئی تو اس کے نتائج نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان کی اصل قوت اس کی یکسانیت میں نہیں بلکہ اس کے تنوع میں مضمر ہے۔ اس لیے بنگال کی تعلیمی پالیسی بھی ایسی ہونی چاہیے جو تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ قومی قوت سمجھے، اقلیتوں کے آئینی حقوق کو رکاوٹ نہیں بلکہ جمہوری ضمانت تصور کرے اور تعلیم کو نظریاتی غلبے کا وسیلہ بنانے کے بجائے نسلِ نو کی آزاد، متوازن اور تعمیری فکری تربیت کا ذریعہ بنائے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)